اخبار الجماعت 27-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

اخبار الجماعت 27-2019


اخبار الجماعہ

یورپ میں اسلام کے بارے میں بڑی حد تک لا علمی پائی جاتی ہے۔ پروفیسر ساجد میر
اسلام تلوار سے نہیں‘ افکار سے پھیل رہا ہے۔ مغربی ممالک میں اسلامو فوبیا کی بڑی وجہ مسلمانوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔
ٹورنٹو ( پ ۔ر )مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میرd نے اسلام فوبیا کے مقابلے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات کی روک تھام اور مختلف تہذیبوں کے مابین پر امن بقاء باہمی کے معیارات کی تقویت کے لیے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔اسلام فوبیا کی سب سے بڑی وجہ غیر مسلموں کا اسلام میں داخل ہونا اور مسلمانوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹورنٹو میں پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
پروفیسر ساجد میرd نے کا کہنا تھا کہ مغرب میں مسلم آبادی ایک زندہ حقیقت ہے اسے  عالم مغرب اور عالم اسلام کے درمیان بہتر سیاسی، معاشی اور ثقافتی تعلقات قائم اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔بدقسمتی سے یورپ میں اسلام کے بارے میں بڑی حد تک لاعلمی پائی جاتی ہے۔ منفی پروپیگنڈا کے زیر اثر اسلام کو بنیاد پرستی انتہا پسندی یا دہشت گردی کے ہم معنی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔یورپ میں مقیم مسلم برادری، مقامی قوانین کا احترام، ملکی معاملات میں مؤثر، مثبت دلچسپی اور احترام انسانیت کے زریں اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔ اسلام فوبیا کے علی الرغم بعض مغربی ممالک کے افراد انصاف و باہمی احترام کے جذبوں سے انتہا پسندعناصر کے خلاف متاثر مسلمان آبادیوں او رمساجد ومدارس کے ساتھ اظہار یکجہتی کابھرپو رمظاہرہ کرتا ہے جو خوش آیند بات ہے۔اسلامی ثقافتی اقدار کی منتقلی، اسلامی تشخص کو محفوظ رکھنے، اسلامی عائلی قوانین، اسلامی اسکولوں اور مدارس میں بچوں کی تعلیم، اسکولوں، ہسپتالوں، جیلوں میں حلال کھانے کا انتظام، مسلمانوں کی تدفین کے انتظامات، مسلم خواتین کے حجاب اور نقاب کا استعمال پر ناروا پابندیوں کا خاتمہ جیسے اُمور پر فی الفور توجہ دی جائے۔یہ بنیادی انسانی حقوق اور انفرادی آزادی کالازمی حصہ ہے۔وہ تمام قسم کے قومی یا گروہی عصبیت سے بالاتر ہوکراپنے عمل و اخلاق کے ذریعے، پوری دنیا میں رسول اکرمe کی سیرت مطہرہ اور اسلامی اقدار کو بہترین انداز میں متعارف کروائیں۔ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکر اپنی اجتماعی ذمہ داریاںادا کریں اور یورپ کی اجتماعی زندگی میں بھرپور شرکت کریں تاکہ انسانی فلاح و بہبود کے مشترکہ مقصد کے حصول کی تکمیل ممکن ہو۔ مغربی ممالک کے جمہوری اداروں میں منتخب مسلمان نمائندگان کی تعداد میں روز افزو ں اضافہ خوش آیند ہے، ان نمائندگان کو بنیاد ی انسانی حقوق کے حق میں آواز بلند کرتے رہنا چاہیے۔
پروفیسر ساجد میرd نے کہا کہ  اسلام فوبیا کے شکار، انتہاپسند عناصر کی جانب سے مساجد پر حملے، گستاخانہ خاکے، نعوذ باللہ توہین رسالتe اور قرآن کریم کی بے حرمتی جیسے واقعات کو اظہار رائے آزادی کا نام دیکر مسلم امہ کے خلاف نفرت کو پروان چڑھانے کا موقع مغرب نے خود فراہم کیا، جس کے بعد ان ممالک میں پڑھے لکھے عوام نے ازخود اسلام کا مطالعہ شروع کیا اور روشنی حاصل کرنے والوں کو اللہ تعالی نے راستہ دکھایا کہ اب یہ کہا جارہا ہے، اگلے چند سالوں میں یورپ مسلمانوں کے زیر نگیں اس لیے ہو جائے گا کیونکہ اسلام تلوار سے نہیں بلکہ افکار سے تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف یکطرفہ پروپیگنڈا کرکے انہیں شدت پسند، انتہا پسند اور دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے بار بار مسلم ممالک میں مہم جوئی کی جاتی ہے لیکن جتنی قوت سے مغرب استعماری قوتیں جارحیت کرتی ہیں انہیں اسی شدت کے ساتھ شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔پروفیسر ساجدمیر نے کہا کہ پاکستان میں جب کسی اقلیت کے خلاف کسی مسلم شخص یا گروہ کے خلاف دانستہ یا نادانستہ کوئی کاروائی ہوجاتی ہے تو سول سوسائٹی سمیت سیاسی و مذہبی جماعتیں تک مذمت میں اتنا آگے چلے جاتے ہیں کہ انھیں پوری دنیا میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم تک دکھائی نہیں دیتے۔صرف پوائنٹ اسکورنگ کے لیے یا مغرب کی خوشنودی کے لیے اپنی حدود تک پھلانگ جاتے ہیں۔کسی شخص کے انفرادی فعل کو پوری مسلم امہ پر تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے اور رائی کا پہاڑ بنا کر اسلام مخالف قوتیں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کسی کو بھی اور کسی بھی واقعے کو استعمال کرتی ہیں۔ استقبالیہ تقریب سے جناب بشیر انصاری اور خالد انصاری نے بھی خطاب کیا ۔
آہ! علم حدیث کا ایک اور روشن ستارہ غروب ہو گیا
میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی سے بیک واسطہ اجازہ حدیث کے حامل شیخ الحدیث مولانا حکیم محمد اسرائیل ندوی سلفی ہریانہ نہ رہے ۔ بڑے ہی رنج والم کے ساتھ یہ خبر دی جارہی ہے کہ جماعت اہل حدیث ہند کی ایک بزرگ اور معتبر شخصیت شیخ الحدیث مولانا حکیم محمد اسرائیل ندوی سلفی، جھانڈہ ہریانہ (انڈیا) آج بتاریخ ۲جولائی ۲۰۱۹ء بروز منگل صبح سویرے اللہ کو پیارے ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللھم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ۔
مرکز تاریخ اہل حدیث ممبئی وبڑھنی کے دستاویزی ریکارڈ کے مطابق آپ کی پیدائش سنہ ۱۹۲۴ء کو ہریانہ کے ضلع فریدآباد کے ایک مشہور گاوں جھانڈہ میں ہوئی۔ آپ کے والد حاجی محمد ابراہیم متوفی ۱۹۸۴ء ایک صالح اور پرہیزگار آدمی تھے۔ ابتدائی تعلیم جھانڈہ، شکراوہ اورکوٹ میں حاصل کی، عربی اور دینیات کی اعلیٰ تعلیم جامعہ سلفیہ شکراوہ میوات، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ، اور دارالعلوم دیوبند اور دہلی کے مشاہیر اہل علم سے حاصل کی، آپ کے اساتذہ میں (۱) شیخ الحدیث مولانا عبدالجبار شکراوی، تلمیذ شیخ الحدیث مولانااحمد اللہ پرتاپ گڑھی۔  (۲)شیخ الحدیث مولانا عبدالحکیم زیوری‘ تلمیذ میاں سید نذیر حسین محدث دہلوی ہیں۔ موصوف مصنف کتب کثیرہ اور بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔ رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ وہ مولانا مرحوم کی بشری لغزشوں سے در گذر فرمائے۔ ان کی حسنات کو شرف قبولیت بخشے اور دین ومسلک کے لیے ان کی جملہ مساعی کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین! (ادارہ)
استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث مولانا محمد رفیق سلفی انتقال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
بقیۃ السلف شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد رفیق سلفی (شیخ الحدیث جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ) آج 10 جولائی بروز بدھ علی الصبح داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انہیں گذشتہ روز دل کا دورہ پڑا اور ہسپتال داخل کرائے گئے لیکن جانبر نہ ہو سکے۔
مولانا مرحوم کا انتقال عظیم سانحہ ہے۔ موصوف بہت بڑے صاحب علم وفضل‘ انتہائی خوش اخلاق اور ملنسار انسان تھے۔ ان کی علمی‘ ادبی‘ سماجی اور انسانی خدمات مدتوں یاد رہیں گی اور ان کا خلاء کبھی پورا نہ ہو گا۔
مرحوم کی نماز جنازہ الفتح مسجد پیپلز کالونی گوجرانوالہ میں ادا کی گئی جس میں علماء وطلبہ کے علاوہ شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا  فرمائے۔ ان کے ورثاء‘ تلامذہ اور جماعتی احباب کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین! (ادارہ)
معروف سکالر پروفیسر عبدالرزاق ساجد کو صدمہ!
گذشتہ دنوں ممتاز سکالر‘ جماعت کے معروف مبلغ وخطیب محترم جناب پروفیسر عبدالرزاق ساجد (فاضل مدینہ یونیورسٹی) کی والدہ محترمہ طویل علالت کے بعد فیصل آباد م یں انتقال کر گئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
مرحومہ نیک صالحہ‘ شب بیدار اور عبادت گذار خاتون تھیں۔ ان کی نماز جنازہ جامعہ سلفیہ میں ادا کی گئی۔ جنازہ میں علماء وطلبہ سمیت جماعتی احباب اور پروفیسر صاحب کے عقیدت مندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کر دیا گیا۔دعا ہے کہ رب ذوالجلال مرحومہ کی خطاؤں سے درگذر فرما کر انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے اور جملہ لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق دے۔ آمین!
مولانا عبدالحمید نشاطی (فاضل جامعہ سلفیہ ومدینہ یونیورسٹی) کی رحلت
مولانا حکیم عبدالحمید نشاطی (فاض جامعہ سلفیہ‘ مدینہ یونیورسٹی) 26 جون 2019ء بروز بدھ علالت کے بعد وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!  مرحوم مدینہ یونیورسٹی سے فراغت کے بعد دوبارہ الریاض سعودیہ چلے گئے تھے۔ آپ کتابوں کی دنیا سے منسلک ہوئے اور کاروبار کرنے لگے۔ طب وحکمت سے بھی وابستہ رہے اور ریاض میں پنسار سٹور اور دواخانہ بنا رکھا تھا۔ آپ گاہے بگاہے نشاط آباد فیصل آباد میں اپنے عزیز واقارب سے ملنے آتے رہتے تھے۔ ابھی رمضان میں پاکستان تشریف لائے تھے کہ علیل ہو گئے اور یہی علالت جان لیوا ثابت ہوئی۔ مرحوم خوش اخلاق‘ ملنسار اور بے شمار اوصاف کے مالک تھے۔ ان کی نماز جنازہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں ادا کی گئی۔ جنازہ میں عزیز واقارب‘ علماء واساتذہ اور طلبہ کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ دعا ہے کہ رب ذوالجلال ان کی بشری لغزشوں سے درگذر فرما کر اعلیٰ علیین میں جگہ عنایت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق دے۔ آمین!
مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ضلع لاہور کے زیر اہتمام عید ملن پارٹی
مرکزی جمعیۃ اہل حدیث ضلع لاہور کے زیر اہتمام لاہور کے پر فضا وپرکشش بر لب نہر پکنک پوائنٹ پر واقع قابل دید ایشیاء پیلس میں 23 جون بروز اتوار بعد نماز عصر علماء‘ خطباء اور جماعتی ذمہ داران پر مشتمل عید ملن پارٹی منعقد ہوئی۔ قائد ملت سلفیہ جناب پروفیسر سینیٹر ساجد میر حفظہ اللہ امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان مہمان خصوصی تھے۔ حاضرین کی بڑی تعداد کا جوش وخروش‘ ایشیاء پیلس کے مالک جناب حاجی عبدالوحید صاحب کی طرف سے خصوصی طور پر ہال کی تزئین وآرائش اور مہمانوں کے شایان شان نشست وبرخواست کے لائق تحسین اہتمام نے پروگرام کو چار چاند لگا دیئے۔ حضرت الامیر نے انتہائی خوشی کا اظہار فرمایا اور نہایت شفقت سے فرمایا کہ جن حالات میں مولانا مشتاق احمد فاروقی‘ ڈاکٹر پروفیسر محمد ابراہیم سلفی اور ان کے رفقاء نے کام کا آغاز کیا نہایت کٹھن تھے مگر اتنے تھوڑے عرصہ میں اہداف کو حاصل کرنا قابل تحسین ہے۔ اس عظیم مجلس میں جناب پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشد‘ محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر حافظ شہباز حسن‘ محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر مطیع اللہ باجوہ‘ محترم حافظ عبدالوحید‘ محترم جناب مولانا حافظ محمد یونس آزاد اور محترم جناب مولانا محمد یوسف پسروری نے بھی جماعتی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر مبنی خطابات فرمائے۔ محترم جناب مولانا حافظ محمد مصطفی صادق‘ مولانا عبدالباری ذوق‘ مولانا ابوبکر صدیق سلفی‘ مولانا حافظ محمد اشرف قمر‘ مولانا عبدالرحمن زاہد‘ مولانا مفتی مبشر رشید‘ مولانا رائے محمد ابراہیم‘ جناب شاہد رسول‘ مولانا عابد ربانی‘ مولانا صمصام بخاری‘ مولانا قاری محمد دین‘ مولانا حبیب الرحمن بھٹوی‘ قاری حفیظ الرحمن عامر‘ حافظ ممتاز حسین‘ مولانا حافظ عبدالرزاق ربانی سمیت 200 کے قریب علماء وزعماء جماعت نے شرکت فرمائی۔ جناب ڈاکٹر محمد ابراہیم سلفی ناظم ضلع لاہور نے کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ اب تک 150 کے قریب کامیاب تبلیغی پروگرام منعقد ہوئے ہیں۔ متعدد مرتبہ کابینہ وعاملہ کی اہم میٹنگز ہو چکی ہیں۔ مرکز کی طرف سے پیغام TV اور دیگر اخراجات کے لیے ضلع لاہور جماعت کے ذمہ مبلغ 5 لاکھ روپے لگائے گئے جو امیر محترم کو ادا کر دیئے گئے۔ 4مقامات پر حج تربیتی نشستیں منعقد کی گئی ہیں۔ عنقریب ضلعی کانفرنس کی تاریخ اور مقام کا اعلان کیا جانے والا ہے۔ آخر میں امیر محترم نے اپنے دست مبارک سے کارکردگی کے حامل کارکنان وذمہ داران میں حسن کارکردگی ایوارڈ تقسیم کیے اور ضلع لاہور کی جانب سے بدست محترم جناب مولانا ابوبکر صدیق سلفی اور جناب ڈاکٹر شہباز حسن بخدمت عالیہ امیر محترم جناب پروفیسر علامہ ساجد میر حفظہ اللہ جماعت کے لیے دیرینہ خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ پیش کیا گیا۔ بعد ازاں پر تکلف کھانے کے بعد امیر محترم کی امامت میں نماز مغرب ادا کی گئی اور امیر وناظم ضلع کی طرف سے تمام مہمانوں کا بھر پور شکریہ ادا کیا گیا۔
جمعیۃ اساتذہ پاکستان کا دورۂ ننکانہ
جمعیۃ اساتذہ پاکستان کے مرکزی وفد نے ضلع ننکانہ کا 7 جولائی 20419ء بروز اتوار ایک بھر پور تنظیمی وتبلیغی دورہ کیا۔ وفد میں پروفیسر عتیق اللہ عمر صدر جمعیۃ اساتذہ‘ پروفیسر حافظ عثمان ظہیر صدر صوبہ پنجاب‘ حافظ عطاء الرحمن عامر چیئرمین مجلس عاملہ‘ مولانا نور اللہ واثق سرپرست شمالی پنجاب‘ پروفیسر حافظ عثمان خالد شیخوپوری سیکرٹری جنرل وسطی پنجاب‘ مولانا فاروق محمدی صدر لاہور ڈویژن‘ محمد طارق جاوید ناظم دفتر اور قدیر احمد بھٹی ناظم دورہ جات شامل تھے۔ مذکورہ وفد ظہر کی نماز کے وقت جامع مسجد رحمانیہ ننکانہ پہنچا تو ضلع ننکانہ کے امیر مولانا سلیمان اظہر نے استقبال کیا۔ نماز ظہر کے بعد باقاعدہ اجلاس شروع ہوا۔ اجلاس میں مختلف تحصیلوں اور علاقوں سے اساتذہ کرام پہنچے۔ جمعیۃ اساتذہ ضلع کے صدر عرفان اللہ طاہر نے اجلاس شروع کرایا۔ تلاوت قرآن پاک کے بعد تعارفی نشست ہوئی۔ صدر مجلس پروفیسر عتیق اللہ عمر نے اجلاس اور دورے کی غرض وغایت بیان کی۔ بعد میں پروفیسر حافظ عثمان ظہیر نے استاد کی ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کیا اور کہا کہ ہمیں معلم انسانیت کے طریقہ کے مطابق چلنا چاہیے۔ ان کے بعد پروفیسر عثمان خالد شیخوپوری نے اپنے بیان میں کہا کہ چونکہ ہر شخص ذمہ دار ہے اور اس سے ذمہ داری کے بارے میں سوال ہو گا۔ لہٰذا ہمیں اپنی تدریسی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے پورا کرنا چاہیے۔ مولانا نور اللہ واثق نے کہا کہ ہم نے گوجرانوالہ ڈویژن اور سیالکوٹ کو منظم کیا ہے تو میں چاہتا ہوں ننکانہ بھی متحرک ہو جائے۔ حافظ عطاء الرحمن عامر نے کہا کہ ہمیں غیبت سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مولانا فاروق محمدی نے کہا کہ اپنے طلبہ اور اپنی اولاد کی تربیت پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کے بعد راقم نے بھی معلم اور مبلغ کی ذمہ داریوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ یہ معاشرے کے نہایت ہی اہم افراد ہیں۔ اس موقع پر پروفیسر عتیق اللہ عمر نے میرے والد مرحوم ماسٹر رحمت اللہ کی جماعتی خدمات کو سراہا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی اور ساتھ ہی اساتذہ کرام کو اپنا کردار اعلیٰ بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے تنظیم سازی پر زور دیا اور کہا کہ جس طرح فرد واحد کی نماز ایک ہے اور باجماعت ستائیس گنا ہے‘ اسی طرح جب مل کر کام کریں گے تو برکت زیادہ ہو گی۔ انہوں نے اساتذہ کو تفریحی دورے کی دعوت دی اور کہا کہ کم از کم پانچ افراد تیار ہوں تو وہ تیار ہو گئے۔ اس موقع پر انہوں نے ضلعی صدر کے طور پر مولانا عرفان اللہ گل کو بھر پور محنت سے کام کرنے کی تاکید کی اور محمد عمران ڈاہر کو سیکرٹری جنرل نامزد کیا۔ نائب صدر کے طور پر مولانا عبدالواحد کو نامزد کیا اور کہا کہ بہت جلد تحصیلوں کی تنظیم سازی مکمل کر کے لسٹیں مرکز ارسال کریں۔ مولانا سلیمان اظہر کی دعا کے ساتھ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ تمام احباب کو کھانا کھلایا گیا اور واپسی ہوئی۔
مظفر آباد آزاد کشمیر میں علماء ومبلغین کا اجلاس
ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہل حدیث آزاد جموں وکشمیر دانیال شہاب مدنی نے کہا ہے کہ ختم نبوتﷺ کا قانون اللہ نے نافذکیا ہے ،حکمرانوں کو اللہ کے قانون کے ساتھ ہر گز کھلواڑ کی آزادی نہیں دی جا سکتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہل حدیث جامعہ محمدیہ میں علماء کرام ومبلغین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہل حدیث آزاد جموں وکشمیر دانیال شہاب مدنی نے مزید کہا کہ پاکستان کے معاشرے کو مذہبی و لبرل ازم کی بنیاد بنا کر تقسیم کیا جا رہا ہے اور یہ باور کروانے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستان کو مذہبی طبقہ سے شدید خطرات کا سامنا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی طبقہ کی وجہ سے ہی پاکستان کو اقوام عالم کے شر سے تحفظ حاصل ہے، پاکستان میں موجودہ بجٹ جس میں پاکستان کی معیشت کو غیر مستحکم کر کے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے،کیا ایسے اقدامات کسی اور ملک نے بھی اپنے لیے پسند کیے ہیں،جوکچھ اپنے عوام کو تکلیف پہنچانے کے  لیے ہمارے حکمران کر رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ہمیشہ سے آئی ایم ایف کی شرائط پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہیں،پاکستان میں خوشحالی نہ آنے کی بنیادی وجہ پاکستان کا نظام حکومت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اپنی نیتیںدرست کریں اور اپنی طرز حکمرانی کا دوہرا معیار تبدیل کریں،جب تک پاکستان میں اسلام کو عزت نہیں ملے گی،پاکستان کے لیے مسائل بڑھتے رہیں گے۔
AYF ضلع لیہ کا اہم اجلاس
مورخہ 27 جون بروز جمعرات صبح 10:30 بجے ضلعی دفتر AYF لیہ‘ ماڈل سٹی فیصل آباد روڈ چوک اعظم میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت مولانا اکرم شہزاد ضلعی صدر AYF لیہ نے کی۔ اجلاس میں ضلعی وتحصیلی ذمہ داران سمیت ضلع بھر سے کثیر تعداد میں کارکنان نے شرکت کی۔ اجلاس میں سابق کارکردگی‘ موجودہ جماعتی تنظیمی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا گیا۔ خصوصی طور پر تبلیغی پروگرامز اور رکنیت سازی مہم کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ضلع  لیہ کے زیر اہتمام رمضان پروگرامز
رمضان المبارک کی بابرکت ساعات میں مرکزی جمعیت کے زیر اہتمام 66 تبلیغی پروگرامز زیر سرپرستی حافظ محمد اشتیاق امیر ضلع لیہ منعقد ہوئے۔ جن میں خطبات جمعہ ودروس قرآن وحدیث شامل ہیں۔ ان پروگرامز میں مختلف علماء کرام نے ایمان افروز خطبات ودروس ارشاد فرمائے‘ اللہ تعالیٰ علماء کرام کی محنتوں کو قبول فرمائے۔


No comments:

Post a Comment