اداریہ 27-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

اداریہ 27-2019


اسلام  اور اس کے تقاضے

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اگر انہیں احاطہ شمار میں لانا چاہیں تو نہیں لا سکتے۔ رسول اللہe کی بعثت اور ان کی تعلیمات بہت بڑا احسان ہے۔ بلاشبہ اسلام دنیا کا واحد دین ہے جس نے انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا ہے۔ اس نے خالق کائنات اور اس کی کرم فرمائیوں سے انسان کا براہ راست رشتہ استوار کیا ہے اور ان تمام جعلی واسطوں کو یکسر ختم کر دیا جو ذہن انسان  کی پیداوار تھے۔ وہ انسان جو شجر وحجر اور آفتاب وماہتاب کی پرستش کیا کرتا تھا اسے اس کی عظمت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ یہ شب وروز‘ آفتاب وماہتاب‘ شجر وحجر‘ آگ اور پانی غرضیکہ کائنات کی ہر چیز انسان کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ پھر اس انسان سے بڑھ کر نادان اور حق ناشناس کون ہو سکتا ہے جو اپنے ہی خدمت گاروں کے آگے سجدہ ریز ہو اور انہیں اپنی عقیدتوں کا مرکز ومحور قرار دے۔ جبکہ وہ خود مسجود ملائکہ اور خلیفۃ اللہ فی الارض ہے۔
یہ اسلام کا فیضان تھا جس کی بدولت اونٹوں اور بھیڑوں کے چرواہے دنیا کے رہبر بن گئے۔ زمین اور ٹوٹی پھوٹی چٹائیوں پر سونے والے قیصر وکسریٰ کے حکمران بن گئے۔بات بات پر لڑنے والے خود مہر ومحبت اور عفو ودرگزر کا درس دینے لگے اور ان کی زندگیوں میں ایسا صحت مند انقلاب برپا ہوا جس نے فکر ونظر کے زاویے بدل دیئے۔ عقیدت کی سمتیں بدل گئیں۔ حق وباطل کے معیار بدل گئے اور انسانیت نشاۃ ثانیہ سے ہمکنار ہوئی جس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔
اسلام دین فطرت ہے جو مکمل ضابطۂ حیات رکھتا ہے‘ اس کی تعلیمات پوری زندگی پر محیط ہیں۔ زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جو اسلام کے نور ہدایت سے منور نہ ہو۔ اسلام کی تعلیمات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم مکمل طور پر اسلام میں داخل ہو کر اس کے تقاضوں کو پورا کریں۔ اسلام جس طرح ہماری آخرت کی زندگی میں سرخروئی اور کامیابی کا ضامن ہے اسی طرح وہ دنیا کی زندگی کو خوشگوار بنانے کا ذمہ دار ہے۔ بالفاظ دیگر یوں کہہ سکتے ہیں کہ اسلام نے دین ودنیا کی کامیابی اور سربلندی کے لیے عقیدہ وعمل میں پاکیزگی کو ضروری قرار دیا ہے۔ قرآن مجید کا یہی ارشاد ہے: {قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰہَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰہَا}
اسلام نے صحت مند معاشرہ کی تشکیل کے لیے اخلاقیات کو بڑی اہمیت دی ہے۔ رسول اللہe کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ آپ حسن اخلاق کی تکمیل کریں۔ ان حقائق کے اعتراف میں مشہور مغربی فلاسفر ’’کانٹ‘‘ نے کہا تھا کہ ’’زندگی میں توازن اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے اخلاقیات کا وجود ضروری ہے اور اخلاقیات میں وزن پیدا کرنے کے لیے خدا اور حیات بعد الموت کا تصور ضروری ہی نہیں بلکہ ناگزیر ہے۔ کیونکہ ان تصورات کے بغیر ہم اپنے اخلاقی قوانین کا نفاذ مستحکم طریقے سے نہیں کر سکتے۔‘‘
یاد رکھیے کہ اسلامی طرز حیات کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ سکون قلب‘ امن عالم‘ اصلاح معاشرہ اور فلاح انسانیت کی واحد راہ ہے جس پر چل کر انسانیت بہاروں سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک انسان نے بے شمار نظامہائے زندگی وضع کیے مگر وہ ناکام رہے۔ آج بھی دنیا میں کہیں سوشلزم ہے۔ کہیں زرپرست سرمایہ داری ہے۔ کہیں ہندو کی گاؤ پرستی اور کہیں ماؤ کے نظریات زیر عمل ہیں۔ ان میں کوئی نظام بھی انسانیت کی فلاح کا ضامن نہیں۔ ہمیں یہ تسلیم ہے کہ انہوں نے ایٹم کی دنیا سے نکل کر خلا کی وسعتوں میں قدم رکھا ہے لیکن ایسی ترقی ننگ انسانیت ہے جس میں اس کی بھلائی کی بجائے ہلاکت کے سامان مضمر ہوں۔ یہ بڑی طاقتوں کی ہی حماقتوں کا نتیجہ ہے کہ چشم کائنات دو عالمگیر جنگوں کے روح فرسا مناظر دیکھ چکی ہے۔ ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے کھنڈرات آج بھی انسانیت کا ماتم کر رہے ہیں۔ آج بھی امریکہ مجبور ومقہور مسلمانوں کو اپنے انسانیت سوز بموں کا نشانہ بنا رہا ہے۔
آج دنیا ایک نظریاتی اور معاشی کشمکش میں مبتلا اور اخلاقی انحطاط کا شکار ہے‘ سکون قلب عنقا ہو چکا ہے بے اطمینانی اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔ ان حالات میں دنیائے انسانیت اگر فلاح وکامرانی‘ سکون قلب اور امن وامان کی طلبگار ہے تو اسے اسلام کے دامن سے وابستہ ہو جانا چاہیے۔ کیونکہ اسلام ہی نوع بشر کو ان تباہ کن خطرات اور حوادث سے نجات دلا سکتا ہے جو اس وقت پوری انسانیت کو لاحق ہو رہے ہیں۔


No comments:

Post a Comment