ٹک ٹاک، فحاشی کا ایک بڑا ذریعہ 27-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, July 14, 2019

ٹک ٹاک، فحاشی کا ایک بڑا ذریعہ 27-2019


ٹک ٹاک ... فحاشی کا ایک بڑا ذریعہ

تحریر: جناب مولانا نعیم الغفور
اسلام میں سب سے زیادہ اخلاق حسنہ پر زور دیا گیا ہے۔نبی کریمe خود مجسم اخلاق تھے،آپ اخلاق کے اعلیٰ درجے پر فائز تھے۔ قرآن کریم نے اس بات کی گواہی {وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ} کے ذریعہ دی حتی کہ آپe نے خود بھی فرمایا کہ ’’بیشک میں اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں۔‘‘ اخلاق کو ہی ایمان کے لئے معیار بنایا گیا ہے۔ مومنوں کی صفات میں سے ایک صفت اخلاق والا ہونا بھی شامل ہے ۔حدیث کی رو سے کامل مومن وہ ہے جو اخلاق کے لحاظ سے اچھاہو۔ بداخلاقی مومن میں نہیں پائی جا سکتی ،مومن لغویات،فضولیات ،بے ہودگی اور فحش گوئی کے قریب سے بھی نہیں گذرتا۔
حسن اخلاق میں سب سے زیادہ حیاء کو اساسی حیثیت حاصل ہے، حیاء ساری خوبیوںکی جڑ ہے۔ حدیث شریف میںایمان کو حیاء سے تعبیر کیا گیا ہے، کہیں ایمان اور حیا ء کو ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم قرار دیا گیاہے، حدیث نبوی کے مطابق جس آدمی سے حیاء رخصت ہوجاتی ہے اس کے لئے برائیوں کے سارے دروازے کھل جاتے ہیں۔ مشہور کہاوت ہے: ’’بے حیاء باش وہر چہ خواہی کن‘‘
’’حیاء سے محروم انسان ہر قسم کی فحاشی اور بے حیائی کا عادی ہوجاتا ہے۔‘‘
اس و قت اسلام دشمنوں کا نشانہ حیاء کا سرمایہ ہے، دشمن مسلمان نسل سے حیاء کو کھرچ دینا چاہتے ہیں، اس کے لئے نت نئی تدبیریں اختیارکی جارہی ہیں۔ اس وقت انٹر نیٹ بے حیائی کے فروغ کا سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہورہا ہے، اس دو دھاری تلوار کا استعمال خیرکے لئے کم اور شر کے لئے زیادہ ہورہا ہے۔ انٹرنیٹ کی عادی نسل آئے دن بے حیائی وفحاشی کی دلدل میں گلے تک پھنستی جارہی ہے۔موبائل فون کا رواج نئی نسل کے لئے بے حیائی کی چراگاہ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے، اس وقت سوشل میڈیا کی شکل میں نوجوانوں کو ایک ایساہتھیار مل چکا ہے جس سے نوجوان نسل کے اخلاق تباہ ہورہے ہیں۔ واٹس ایپ، فیس بک اور سوشل میڈیاکے دیگر ذرائع وہ طوفان بدتمیزی برپا کررہے ہیں جس کا تصور بھی نہیںکیا جاسکتا۔ آج کل نوجوانوں اور بچوں میںایک نئی ایپ TIK Tok خوب مقبول ہورہی ہے۔ ٹک ٹاک اورمیوزیکلی در اصل وقت کے ضیا ع اور نئی نسل کو حیاء باختہ بنانے کا سامان ہیں، ان سے وقت کے ضیاع اور فحاشی کے فروغ کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ، اس قسم کی ایپس میں فلمی ڈائیلا گ پر ایکٹینگ کی جاتی ہے۔ 
گانے گائے اور سنے جاتے ہیں، یہ ہمارے نوجوان نسل کو برباد کرنے کا سوچا سمجھا حربہ ہے۔ حیرت ہے کہ اس قسم کی ایپس کو استعمال کرکے نوجوان لڑکے لڑکیاں، کم عمر بچے حتی کہ بڑی عمر کے لوگ بھی ادا کاری کے جوہر دکھا نے لگے ہیں۔ ٹک ٹاک اور میوزیکلی جیسی ایپس معصوم ذہنوں کوتیزی کے ساتھ دیمک لگارہے ہیں۔ اب گندی اور نیم برہنہ ویڈیوز بھی آنے لگی ہیں، والدین اسے ایک شرارتی عمل سمجھ کر نظر انداز کررہے ہیں جبکہ بچے گندی ویڈیوز دیکھ کر کسی ایک کی نقل کرتے ہیںپھر وہ ویڈیوسب کو شیئرکی جاتی ہے۔ والدین کو پتہ نہیں کہ ان کا بچہ جس ویڈیو کو گیم سمجھ کر دیکھ رہا تھا وہ آئندہ چند ماہ میںاسے کس قدر نقصان دے گی۔ اس وقت نوجوانوں اور بچوں میںٹک ٹاک کا خوب شور ہے۔ ٹک ٹاک ایک خطرناک فتنہ ہے۔ ایک ویڈیو کسی ناچ گانے کی آتی ہے آپ آگے بڑھیں تو کوئی نیم عریاں ویڈیو آجاتی ہے، پھر مقدس مذہبی مقامات کی ویڈیو آتی ہے۔ یہ کیسی بے حیائی ہے۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک یوزرز فحاشی وعریانیت میں بالی وڈ کی فلم ایکٹرز سے بھی آگے بڑھ چکے ہیں۔یہ ایک ایسی وبا ہے جس میں بوڑھے سے لیکر بچے تک ہونٹ ہلا کر ڈانس کرکے مشہور ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اس میںمسلم باحجاب لڑکیاں پیش پیش نظرآرہی ہیں۔ با حجاب لڑکیاں ایسے ایسے شرمناک مناظر پیش کررہی ہیںکہ آدمی سر پیٹ کر رہ جائے، محض چند فالورز اور لائک پانے کے لئے ہر قسم کی فحاشی اور عریانیت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔
ٹک ٹاک ۲۰۱۶ء میںلانچ ہوا، صرف دوسال کے اندر اسے اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ فیس بک بھی اتنے کم عرصہ میںشہرت کی بلندیوں کو چھو نہ سکا، دو سال کے عرصہ میںا س کے یوزرز کی تعداد پانچ سو ملین سے متجاوز ہوچکی ہے۔ دنیا کے۱۵۰ ممالک میں لوگ اسے استعمال کررہے ہیں، اگرچہ اس ایپ کا استعمال تمام مذاہب کے لوگ کرتے ہیں لیکن مسلم خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے، مسلم خواتین بن سنور کر ہر ہفتہ کپڑے پہن کر اس طرح سامنے آتی ہیں جیسے انہوں نے شرم وحیاء کو نیلام کرنے کا تہیہ کر لیاہو۔ ٹک ٹاک کے فتنے کا شکار صرف مسلم لڑکیاں ہی نہیں  بلکہ بچہ بچہ اس کا دیوانہ نظر آتا ہے۔
ٹک ٹاک اور اس جیسی ایپس کے نقصانات بے شمار ہیں۔ سب سے بڑا نقصان وقت کاضیاع ہے۔ وقت اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے‘ اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ وقت کو فضول کاموں میں گذارنے والے اللہ کی نگاہ میں مجرم ہیں۔ زندگی کے قیمتی لمحات اللہ نے اس لئے عطا کئے تاکہ آخرت کی تیاری کی جائے، خدا کی عبادت وبندگی کے علاوہ انسانی فلاح وبہبود کے کاموں میں صرف کیا جائے۔ کل قیامت کے دن وقت کے بارے میں اللہ بازپرس کریں گے۔ حدیث نبوی کے مطابق ابن آدم اس وقت تک اللہ کے سامنے سے ہل نہیں سکے گا جب تک وہ پانچ سوالات کا جواب نہ دے۔ پہلا سوال زندگی سے متعلق ہو گا کہ تو نے اسے کن کاموں میںصرف کیا۔ دوسرا سوال جوانی سے متعلق ہوگا کہ جوانی کن کاموں میں لگائی۔ (سنن ترمذی حدیث:۲۴۱۶)
فضولیات میں وقت کو ضائع کرنا قیامت کے دن رسوائی کا سبب بنے گا، آدمی کے اسلام کی خوبی یہ بتائی گئی کہ وہ لایعنی چیزوں کو ترک کرے۔ (ترمذی حدیث:۲۳۱۷)
قرآن مجید میں بھی ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو لغوکاموں سے اعراض کرتے ہیں۔ (المومنون:۳) آقائے رحمتe نے خالی اوقات کو غنیمت جاننے کی تلقین فرمائی، ارشاد نبویe ہے:
’’پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت جانو۔ جوانی کو بڑھاپے سے پہلے۔ صحت کو بیماری سے پہلے۔ مالداری کو تنگ دستی سے پہلے۔ فراغت کو مشغولیت سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے۔‘‘ (مستدرک حاکم حدیث:۷۸۴۶)
انسان اس دنیا میں جو کچھ کرتا ہے وہ سب خدا کے پاس ریکارڈ ہوتا ہے۔ چاہے ہم فحش کاریوں، فلمی ڈائیلاگ اور رومانس بھرے اسٹیٹس لگانے میں ہی مشغول ہوں یا یوٹیوب اور دیگر سائٹس پر فحش چیزیں پھیلانے میں لگے ہوں ہماری ہر چیزیکارڈ ہورہی ہے، دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم اپنے قیمتی اوقات کو برے کاموں سے محفوظ رکھیں۔
ٹک ٹاک اور اس جیسی ایپس کا سب سے خطرناک نقصان موسیقی سے لگاؤ اور بے حیائی کی لت کی شکل میں ہوتا ہے۔ گانا اور موسیقی شریعت میں ممنوع ہے، نبی رحمتe موسیقی سے سخت نفرت کرتے تھے، نافع کہتے ہیں کہ ابن عمرؓ نے ایک باجے کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں اور راستے سے دور ہوگئے اور مجھ سے کہا اے نافع! کیا تمہیں کچھ سنائی دے رہا ہے میں نے کہا نہیں تو آپ نے اپنی انگلیاں کانوں سے نکال لیںاور فرمایا:
’’میں نبی کریمe کے ساتھ تھا اس جیسی آوازسنی تو آپ eنے بھی اسی طرح کیا۔‘‘ (سنن ابواداود حدیث:۴۲۹۴)
نبی کریمe نے پشین گوئی فرمائی تھی کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا کاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنالیں گے۔ کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر(اپنے بنگلوں میںجائیں  گے)چرواہے ان کے مویشی صبح وشام لائیں گے اور لے جائیں گے، ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کے جائے گا تو وہ  اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن ا للہ رات کو ان کو ہلاک کردے گا، پہاڑ کو ان پر گرادے گا۔ ان میں سے بہت سوں کو قیا مت تک کے لئے بندر اور سور کی صورتوں میںمسخ کردے گا۔ (صحیح بخاری:۵۵۹۰)
ٹک ٹاک اور میوزیکلی سے بے حیائی وفحاشی عام ہورہی ہے، ان ایپس کا سہارا لیکر عورتیں بے پردگی کا خوب مظاہرہ کرتی ہیں، خوب بن سنور کر ویڈیو بناتی ہیںپھرپھیلاتی ہیں اور لوگوں کو دعوت نظارہ د یتی ہیں جبکہ قرآن مجید میں اس سے منع کیاگیا ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہے: 
’’اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم جاہلیت کے زمانہ کی طرح اپنے بناؤکا اظہار نہ کرو، کتاب وسنت میںبے پردگی اور بد نظری سے منع کیا گیاہے۔‘‘ (الاحزاب: ۳۳) 
ٹک ٹاک جیسی ایپس کے ذریعہ بے پردگی کو ہوا دی جارہی ہے، جبکہ خواتین کے لئے پردہ شرعی فریضہ ہے، نوجوان بچیاں غیر مسلم لڑکوں سے اشتراک کرکے خوب بے پردگی کا مظاہرہ کرتی ہیں ، اسلام میں مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کاحکم ہے اور خواتین کو پردہ کی تاکید ہے، وہ ماں باپ کس قدر بے غیرت ہیں جو اپنی بچیوں کو ٹک ٹاک جیسی ایپس پر بے پردگی کی اجازت دیتے ہیں۔
ٹک ٹاک علانیہ گناہ کا آلہ ہے، گناہ خود ایک سنگین چیزہے، اس کی اس وقت سنگینی اور بڑھ جاتی ہے جب آدمی کسی گناہ کا علانیہ اظہار کرتا ہے، یہ گناہ پر جرأت ہے، ٹک ٹاک کے ذریعہ بے پردگی وبے حیائی کا مظاہرہ کرنے والی بچیاں کھلے عام گناہ کا مظاہرہ کرتی ہیں۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
’’جو لوگ اہل ایمان کے درمیان فحاشی پھیلانا پسند کرتے ہیں ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔‘‘ (سورۃ النور:۱۹)
ٹک ٹاک پر بے پردگی کا مظاہرہ گناہوں کی تبلیغ  ہے۔ یہ در اصل ایمان والوں میں فحاشی پھیلانا ہے جو کہ دردناک عذاب کا باعث ہے۔
اس کے علاوہ یہ خدا کے دین اور شریعت کا مذاق ہے۔ ایک مسلمان جانتے ہوئے ایسی حرکت کرتا ہے تو وہ دین کا مذاق اڑا رہا ہے اور جان بوجھ کر کسی دینی حکم کا استہزاء آدمی کو کفر تک پہنچا دیتا ہے۔
قارئین کرام! ٹک ٹاک گناہوں کا پٹارہ ہے، اس سے تہذیب اسلامی کا جنازہ نکلتا ہے اور پاکیزہ انسانی قدریں دم توڑتی ہیں۔، دین واخلاق کا لہلہاتا چمن مرجھا جاتاہے، بے حیاء اولاد والدین کی نافرمان بن جاتی ہے، کیاآپ کو منظور ہے کہ آپ کی اولاد فحاشی کی دلدل میں گلے تک پھنس جائے؟ کیا آپ کی غیرت گوارا کرے گی کہ آپ کی جوان بیٹیاں غیرمسلم جوانوں کے شانہ بشانہ فحاشی کا مظاہرہ کرتی رہیں؟ اگر آپ کو اپنی اولاد کی بھلائی محبوب ہے تو دیر نہ کیجئے‘ ان کی تنہائی کی حرکات پر نظر رکھئے، سوشل میڈیاکے آزادانہ استعمال پر روک لگائیے، اور اپنے لاڈلوں کو بتایئے کہ ایسی حرکتوں سے دین وایمان رخصت ہوجاتا ہے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats