داعیان اسلام کے اوصاف وخصائل 27-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, July 14, 2019

داعیان اسلام کے اوصاف وخصائل 27-2019


داعیان اسلام کے اوصاف وخسائل

تحریر: جناب مولانا محمد الیاس اثری
نوع انسانی کو صراط مستقیم پر گامزن کرنے کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے پیغام ربانی کو ہر ممکنہ طریقے سے آگے پہنچانا، نسل نو کو ہدایات ربانیہ سے روشناس کرنا۔ دعوت دین واحد راستہ ہے امت مسلمہ کی کامیابی کا، اسی سے امت کی بقا ہے اور اسی سے رب تعالیٰ کی مخلوق پر اس کی حکمرانی قائم کی جاسکتی ہے۔ معاشی احوال کی بہتری، معاشرتی امور کی اصلاح اور دین اسلام کے استحکام کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ ہے دعوت وتبلیغ ۔افراد سازی اور اخلاق کی درستگی بھی اسی طریق سے ممکن ہے۔
حقوق اللہ کی پاسداری اور حقوق العباد کا لحاظ بھی دین اسلام کا پیغام آگے پہنچاکرہو سکتا ہے۔
اس عظیم مشن سے منسلک اہل ایمان کے کچھ اوصاف و خصائل ہیں جن کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ انہیں ملحوظ رکھنے کی صورت ہی میں دعوت دین کی ذمہ داری سے حقیقی معنوں میں عہدہ برآ ہوا جاسکتا ہے اور ان اوصاف کے ہوتے ہوئے ہی دعوت کے کامل ثمرات و فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
اخلاص:
دعوت جیسے عظیم منصب سے منسلک اہل ایمان کے لیے اخلاص اسی قدر اہم ہے جس طرح زندگی کے لیے پانی ناگزیر ہے۔ اس کے بغیر کوئی عمل بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ہوتا، اخلاص خلوص اور خالص سے ہے۔ جس کا مطلب ہے ہر نیک عمل سے مقصود صرف رضائے الٰہی ہواور دعوت و تبلیغ کا مقصد صرف پروردگار عالم کی خوشنودی ہو۔ لوگوں کی رضا مندی مد نظر نہ ہو، شہرت مطلوب نہ ہو، مادی منفعت کا حصول ملحوظ خاطر نہ ہو، نیکی والے امور اور گناہ کے کاموں سے آگاہ کرتے ہوئے نمود و نمائش کا خیال تک بھی نہ ہو۔
قبول اسلام میں اخلاص نہ ہونا نفاق کہلاتا ہے اور امور اسلام بجا لانے میں اخلاص نہ ہونا ریاکاری ٹھہرتا ہے اور یہ دنوں ہی اعمال کی بربادی کا سبب ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے تمام امور میں خلوص ہی کا اہل ایمان کو پابند کیا ہے ، اسی کااپنے حبیب کو حکم دیا ہے اور اسی کے ذریعہ شیطان کے شر سے بچا جاسکتا ہے۔ انبیاء ورسل جیسی پاکباز ہستیاں بھی اس وصف سے متصف تھیں۔
راہ خدا میں خرچ کرنے والے مالدار کو اور دن رات قرآن کریم کی تعلیم دینے والے کو قابل رشک ٹھہرایا گیا ہے۔ (صحیح البخاری:۷۳)
جبکہ شہادت جیسے عظیم منصب پر فائز ہونے کی خواہش خود رحمت دو جہاں نے بھی کی ہے۔ (صحیح البخاری:۳۶)
لیکن انہی امور میں عدم خلوص اور ریاکاری کی وجہ سے ایسے عظیم عمل کرنے والوں کو بھی الٹا منہ گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم بن الحجاج،صحیح مسلم:۱۹۰۵)
اسی طرح جو بھی علم اس لیے حاصل کرتا ہے تاکہ اہل علم سے بحث و مباحثہ کیا کرے، نادانوں کو نیچا دکھایا جاسکے اور لوگوں کی توجہ حاصل کی جاسکے تو اسے بھی جہنم رسید کیا جائے گا۔ (سنن الترمذی:۲۶۵۴)
خلوص اور رضائے الٰہی کی خاطر کیے ہوئے عمل کی اثر پذیری اور افادیت کسی سے مخفی نہیں۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
 صدق وامانت:
داعیان اسلام کا صدق و امانت کا پیکر ہونا بھی ضروری ہے۔ صدق و امانتداری کا تعلق عمل و کردار سے بھی ہے اور تبلیغ و نصیحت سے بھی۔ قول و عمل میں بھی مسلمان صدق گوئی اور امانتداری کا بے مثل نمونہ ہو اور پیغام ربانی لوگوں تک پہنچانے میں بھی اس کا دامن ان صفات سے لبریز ہو۔ داعی ا عظم جناب محمد کریمe صدق وامانت کے بے مثال اسوہ تھے۔ صدق کا مطلب ہے ظاہر و باطن میں مطابقت ہونا اور خبر کا حقیقت پر مبنی ہونا ۔اس کے برعکس جھوٹ اور کذب ہے۔ جبکہ امانت داری کا مطلب ہے بطور امانت رکھی ہوئی چیز میں بغیر اجازت تصرف نہ کرنا۔ راست گوئی اللہ عزوجل کی صفت اور پیغمبرانہ خوبی ہے۔ انبیائے کرام سب سے بڑھ کر صدق وامانت کے پیکر ہوتے ہیں۔ وارثین انبیاء کا بھی ان عظیم صفات سے متصف ہونا انتہائی ضروری ہے۔ راست بازی اور امانتداری ذریعہ نجات ہیں۔ انہی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے اور انہی سے حصول جنت کا امکان ہے۔
رسول اللہe قبل از بعثت بھی صادق و امین کے لقب بے مثل سے مشہور تھے۔ دوست دشمن سبھی آپ کی انہی خوبیوں کے معترف تھے۔ عبداللہ بن سلام t ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، یہودی عالم تھے،ہجرت مدینہ کے موقع پر قبا میں قیام کے دوران یہ بھی دیگر لوگوں کی طرح آپ کی زیارت کی غرض سے آئے تھے۔ آپ کا چہرہ پر انوار دیکھتے ہی پکار اُٹھے تھے :
[اِنَّ وَجْھَہُ لَیْس ِبوَجہٍ کَذَّابٍ] (ترمذی:۲۴۸۵ وابن ماجہ:۱۳۳۴)
’’ایسے پرانوار چہرے والی ہستی جھوٹی نہیں ہوسکتی۔‘‘
آپ ہی نے اپنی امت کو [علَیِکُمْ بِالصّدقِ] کی تلقین فرمائی اور اسی کو ذریعہ نجات اور حصول جنت کا زینہ قرار دیا جبکہ امانتداری کے بارے میں فرمایا: [لَاایْمَان لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہٗ] (مسند احمد: ۱۲۳۸۳) بددیانت کا تو ایمان ہی نہیں۔ اسی طرح آپ نے امانت میں خیانت کرنے کو نفاق کی علامت قرار دیا ہے۔
 قول وعمل میں مطابقت:
داعی جس اسلامی انقلاب کی دعوت دے رہا ہو وہی انقلاب اس کے جسم و وجود پر بھی نظر آئے، جس دعوتِ اسلام کے نفاذ کی تلقین و تبلیغ ہواور انہی امور کا نفاذ داعیان اسلام پر بھی دکھائی دے ۔داعی سب سے پہلے اپنے عمل کے ذریعہ اپنے قول کی تصدیق کرتا ہے۔قول و عمل میں یکسانیت ضروری ہے۔ کردار و گفتار میں موافقت ناگزیر ہے۔ اسلامی تعلیمات اور ہدایات ربانیہ کا درس دینے والا خود بھی امور خیر وبھلائی کا عملی نمونہ ہو۔ اسلامی اخلاق و عادات کی نصیحت کرنے والا خود بھی اخلاق حسنہ کا پیکر ہو۔ صدق و وفا، شرم و حیا، امانت و دیانتداری کی تلقین کے ساتھ خود داعی بھی اسلامی اوصاف و کمالات کا مجسمہ اور عملی نمونہ ہو۔ حقوق و فرائض کی تعلیم بھی ہو اور عملاً ان کا خود پابندبھی ہو۔ کردار کی بجائے صرف گفتار کے غازی شریعت کی نظر میں قابلِ مذمت اور مطعون ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{یٰٓاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لاَ تَفْعَلُوْنَ٭ کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لاَ تَفْعَلُوْنَ٭} (الصف:۶۱/۲،۳)
’’اے ایمان والو! تم کیوں وہ کچھ کہتے ہو جو تم خود نہیں کرتے ۔ اللہ عزوجل کے نزدیک یہ انتہائی معیوب ہے کہ تم ان امور کی تلقین کرو جو تم خود نہیں کرتے۔‘‘
اس کے ساتھ ہی اللہ عزوجل نے کردار و گفتار کے غازیوں اور عملاً شریک جہاد ہونے والوں کو اپنا محبوب قرار دیا ہے۔ تعمیل کے بغیر صرف تعلیم و تدریس کے داعیان کو اس گدھے کی مِثل قرار دیا گیا ہے جو خود پر لدی کتابوں اور علمی دستاویز سے متاثرہی نہ ہو۔ (الجمعۃ:۶۲/۵)
اللہ عزوجل نے کردارو گفتار میں فرق کرنے والوں کو بے عقل قرار دیتے ہوئے فرمایا:
{اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَ اَفَلَا تَعْقِلُوْن} (البقرۃ:۲/۴۴)
’’کیا تم لوگوں کو امورخیر کا حکم دیتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو حالانکہ تم کتاب کے قاری بھی ہو۔ کیا تمہیں عقل نہیں۔‘‘
 قول و عمل میں عدم مطابقت اور مخالفت شرعا جرم اور معیوب تو ہے ہی ایسا کرنا عقلی طور پر بھی کسی طرح قابل ستائس اور اچھا نہیں۔
روز قیامت جہنم میں ایک آدمی کی انتڑیاں باہر نکلی ہوں گی۔انتڑیوں کے گرد آدمی چکر لگا رہا ہوگا۔ جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے۔اہل نار اکھٹے ہوکر اس پر تعجب کریںگے اور کہیں گے کہ او فلاں! یہ کیا ماجرا ہے، کیا تو ہمیں نیکی کا حکم نہ دیا کرتا تھا اور گناہوں سے منع نہ کیا کرتا تھا؟! وہ آگے سے جواب دے گا:
[کُنْتُ آمُرکُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَاآتِیہِ وَاَنْھَاکُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَآتِیْہِ۔] (بخاری: ۲۳۶۷ ومسلم:۲۹۸۹)
’’میں تمہیں تو نیکی کا حکم دیا کرتا تھا لیکن خود نہ کرتا تھا اور تمہیں گناہوں سے باز رہنے کی تلقین بھی کرتا تھا لیکن خود کر گزرتا تھا۔‘‘
رسول اللہe نے علانیہ دعوت کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے اپنا عمل و کردار پیش کیا جس پر سب نے بیک زبان جواب دیا:
[مَاجَرَّبْنَا عَلَیْک اِلَّا صِدْقا۔] (البخاری:۴۳۹۷)
’’ہم نے تو آپ کو ہمیشہ راست باز ہی پایا ہے۔‘‘
خود رسول اللہe نے اپنے بارے میں فرمایا:
{اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ} (الانعام:۶/۱۶۳)
’’اولین مسلمان تو میں خود ہوں۔‘‘
عمل و قول میں مطابقت انتہائی ضروری ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے:
[الْعَمَلُ اَبْلَغُ مِنَ الْقَوْلِ۔]
’’گفتار سے زیادہ کردار کا اثر ہوتا ہے۔‘‘
 صبر وتحمل:
اسلام کی سربلندی کے لیے جستجو کرنا اور توحید ورسالت کا پیغام لوگوں تک پہنچانا انتہائی عظیم عمل ہے اور مشکل بھی ۔خاص کر جب اسلام کو چند عبادات و اخلاقیات کی بجائے ایک مکمل نظام حیات کے طور پر پیش کیا جائے۔ ایسے میں معبودان باطلہ کی تردید بھی ہوگی، ادیان باطلہ پر ضرب بھی لگے گی۔ ملحدین کے لیے ایسی دعوت باعث تشویش ہوگی۔ تمام طرح کے نظام ہائے معیشت و معاشرت اور سیاست ایسی دعوت گوارہ نہیں کریں گے۔ طاغوت کی تردید و نفی پر مبنی دعوت کو کبھی پھیلنے نہیں دیا جائے گا۔ جتنا دعوت کا وژن بڑا ہوگا اسی قدر مخالفین کی طرف سے شدید مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جدید الحاد سیکولرزام جو معیشت و معاشرت اور تعلیم و سیاست میں مذہب کی دخل اندازی قطعاً برداشت نہیں کرتا۔ یہ اسلام کی  دعوت کوایک مکمل نظام حیات کی صورت میں کبھی گوراہ نہیں کرے گا۔ دعوت دین کی وجہ سے جس کے مفاد اور عقائد و نظریات پر بھی زد پڑے گا مخالفت ہوگی ۔اس لیے دعوت کے رستہ پر گامزن اہل ایمان کا صبرو استقلال کا پیکر ہونا بہت ہی ضروری ہے ۔ یہ صبر جمیل مستقل ہونا چاہیے اور اللہ کی رضا کے لیے ہونا چاہیے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ }  (النحل:۱۶/۱۲۷)
’’آپ صبرکیا کریں اور آپ کا صبر اللہ ہی کے لیے ہونا چاہیے۔‘‘
مزید فرمایا:
{فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنْ الرُّسُلِ} (الأحقاف:۴۶/۳۵)
’’آپ صبر کا دامن تھامے رہا کریں جس طرح اوالعزم پیغمبر صبر کرتے رہے ہیں۔ ‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ صبرو ثبات شیوہ پیغمبر ی ہے اور یہ کام عزم و ہمت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ صبرو برداشت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ رب تعالیٰ نے فرمایا :
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ اِنَّ اللَّہَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ} (البقرۃ:۲/۱۵۳)
’’اے ایمان والو! نماز اور صبر کے ذریعے مدد حاصل کیا کرو۔بلاشبہ اللہ تو صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘
سورت عصر میں جن چار امور کو فلاح و کامیابی کا ضامن قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے ایک صبرو تحمل کی باہم تلقین کرنا بھی ہے۔ صبر شیوہ پیغمبری ہے۔ سیدنا اسماعیل، سیدنا یونس اور سیدنا ذوالکفل o کاتذکرہ کرنے کے بعد فرمایا:
( کُلٌّ مِّنَ الصّٰبِرِیْنَ) (الأنبیاء:۲۱/۸۵)
’’یہ تمام ہی صبرو برداشت کے پیکر تھے۔‘‘
سیدنا ایوب u کی صفت بھی صابر بیان کی گئی ہے۔ تمام کی طرح آزمائشوں میںکامیابی کی ضمانت بھی صبر کرنے والوں کے لیے ہے، حقیقی نیکو کار اہل ایمان کی خوبی مصیبت و پریشانی ، تنگ دستی، بدحالی، میدان جنگ اور رزم حق و باطل میں صبر کرنا بھی بیان کی گئی ہے، صابرین کو بغیر حساب اجر و ثواب سے نوازے جانے کی نوید بھی سنائی گئی ہے۔ اللہ عزوجل نے زمین میں اقتدار و غلبہ کی ضمانت بھی انہی کو دی ہے جو صبر و تحمل کے کو ہ گراں ہوں، فرمایا:
{وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اَئِمَّۃً یَہْدُونَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَکَانُوا بِآیَاتِنَا یُوقِنُونَ} (السجدۃ:۲۳/۲۴)
’’ہم نے انہیں اپنے احکامات کے مطابق فیصلوں کے لیے حکمرانی تب دی جب انہوں نے کمال درجہ کا صبر کر کے دکھایا اور ان کا ہماری آیات پر ایمان بھی تھا۔‘‘
مخالفینِ اسلام کی سازشوں اور ان کی ریشہ دوانیوں سے بچنے کاحل بھی صبرو تقویٰ بتلایا گیا ہے، فرمایا:
{وَاِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُھُمْ شَیْئًا} (آل عمران:۳/۱۲۰)
’’اگر تم صبر سے کام لو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی منصوبہ سازیاں تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں۔‘‘
 آغاز اسلام سے لے کر تاوفات رسول اللہe کی حیات طیبہ اسی صبرو تحمل کی آئینہ دار ہے۔نبی رحمت نے قریش مکہ کی دست درازی پر صبرفرمایا ، ان کی تکذیب و تحقیر پر صبراور ان کی سب و شتم پر صبر و تحمل کا مظاہرہ فرمایا۔شعب ابی طالب کی تین سالہ محصوری اور سوشل بائیکاٹ آپ کے صبرو تحمل کی بے نظیر مثال ہے۔ آپ ہی کا فرمان ہے کہ
[الْمُؤْمِنُ یُخَالِطُ النّاسَ وَیَصْبِرُ عَلیٰ اَذاَھُمْ اَعْظَم اَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِیْ لَا یُخَالِطُ النَّاسِ وَلَا یَصْبِرُ عَلیٰ اَذاَھُمْ] (الترمذی:۲۵۰۷، ابن ماجہ:۴۰۳۲)
’’ جو مومن لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکلیف و الم پر صبر کرتا ہے وہ اجر میں اس سے کہیں بہتر ہے جو نہ تو میل جول رکھتا ہے اورنہ ہی لوگوں کی طرف سے لاحق مصیبت و پریشانی پر صبر کرتا ہے۔ ‘‘
دعوت و تبلیغ جیسے پیغمبرانہ عظیم مشن پر گامزن اہل ایمان کو بھی صبرو استقامت کا کوہ گراں بننا ہوگا اور مخالفین کے ظلم و ستم پررب کی رضاکی خاطر بے مثل صبر کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
 تواضع وانکساری:
تواضع وانکساری‘ غرور و تکبر کے برعکس ہے۔ تواضع کا مطلب ہے اپنے منصب اور مرتبہ و مقام کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کسی کی عزت و تکریم کرنا اور جاہ مرتبہ میں اپنے سے کم تر کی بھی دل سے عزت کرنا جبکہ امور دین میں تواضع کا مفہوم ہے بغیر کسی اعتراض اور چوں چراں کیے احکام خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم کردینا۔ پروردگار عالم کے دین کے داعی کے لیے تواضع سے متصف ہونا بہت ہی ضروری ہے جبکہ غرور و تکبر کثیر نقصانات اور روحانی امراض کا موجب ہے۔ تواضع کے ذریعے مشکل سے مشکل لمحات کا آسانی سے مقابلہ کیاجاسکتا ہے اور بڑے سے بڑے مسائل کو بخوبی سلجھایا جاسکتا ہے ۔اسی سے مخالفین کے ہاں مرتبہ و مقام حاصل ہوتا ہے اور لوگوں کو گرویدہ کیا جاسکتا ہے۔
رسول اللہe کا فرمان ہے:
[مَاتَوْاضَعَ اَحَدٌ لِلَّہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ] (مسلم:۲۵۸۸)
’’جو بھی رضائے الٰہی کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے اللہ عزوجل اسے رفعت وبلندی عطا کرتا ہے۔‘‘
اسی طرح سے آپ ہی کا فرمان ذی شان ہے کہ جو بھی استطاعت و طاقت کے باوجود صرف اللہ عزوجل کی خاطر بطور تواضع مفاخرانہ لباس ترک کردیتا ہے روز قیامت اللہ عزوجل اسے تمام مخلوقات کے سامنے اختیار دیں گے کہ وہ جو بھی جنتی لباس پہنناچاہتا ہے پہن لے۔ (سنن الترمذی:۲۴۸۱وسلسلۃ الصحیحۃ:۷۱۸)
سیدنا عدی بن حاتمt قبول اسلام کی غرض سے آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتے ہیں۔ آپ ان کا ہاتھ تھامے اپنے کاشانہ نبوت میں لے جاتے ہیں۔ راستے میں ایک بوڑھی عورت کافی دیر اپنی ضرورت کے حوالے سے آپe سے بات چیت کرتی رہی، گھر تشریف لے گئے توآپ نے بیٹھنے کے لیے گدیلا سیدنا عدیt کو دیا اور خود زمین پر ہی بیٹھ گے، آپ کی اسی تواضع وانکساری کو دیکھ کر سیدنا عدیt خود سے کہنے لگے:
[مَا ھَذَا بِمَلَک؟] (ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ: ۴/۱۲۵، سیرت ابن ہشام:۲/۵۸۰)
’’اللہ کی قسم! بادشاہ تو یوں نہیں کیا کرتے۔‘‘
گویا تواضع و انکساری پیغمبرانہ خوبی ہے۔ اعلیٰ ظرف اور رضائے الٰہی کے متلاشی ہی اس خوبی کے حامل ہوسکتے ہیں۔ غرور تکبر شیطان اور شیطان صفت لوگوں کی عادت ہے جبکہ رحمان کے بندے عجز و انکساری کے حامل ہوتے ہیں اور اسی کے داعی۔ یہ رب تعالیٰ کے محبوب بندوں کی علامت ہے جسے پروردگار عالم نے یوں سے بیان فرمایا:
{وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُونَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا} ( الفرقان:۲۵/۶۳ )
’’رحمان کے بندے تو زمین پرانتہائی انکساری سے چلتے ہیں ‘‘۔
تواضع کے کثیر فوائد و ثمرات میں سے یہ بھی ہیں: آنحضرت کے حقیقی امتی ہونے کا ثبوت پیش کرنا۔ رضائے الٰہی کا حقدار قرار پاتا ہے۔ حسن اخلاق اور اسلامی معاشرت کا اعلیٰ نمونہ دکھائی دینااوراسی سے اسلامی تہذیب و ثقافت اور معاشرتی اعلیٰ اقدار کو رواج دیا جاتا ہے۔ اللہ عزوجل نے اپنے اسی طرح کے بندوں کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا:
{تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًا وَ الْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ} ( القصص:۲۸/۸۳)
’’آخرت کا یہ گھر ہم انہیں عطا کرتے ہیں جو زمین میں بلندی اور فتنہ فساد کے خواہاں نہیں ہوتے‘‘۔
 عفو ودرگذر:
اشاعتِ اسلام کی جستجو کرنے والے داعیان اسلام اور مبلغین اہل ایمان کی دعوت پر لوگ ان کے  قافلہ دعوت و تبلیغ میں شامل بھی ہوں گے اور مخالفت کرنے والے بھی ہوں گے۔ ایسے تمام طرح کے افراد سے عفودرگزر کرنا اور قابل معافی خطائوں کو دل سے معاف کرنا بھی ایک داعی کی خوبی ہونی چاہیے۔ مفاد عامہ کی خاطر چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے درگزر کرنا انتہائی مفید ہوتا ہے۔
اللہ عزوجل نے اپنے حبیب کو حکم دیتے ہوئے فرمایا:
{خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَ} (الأعراف:۷/۱۹۹)
’’آپ معاف کرتے رہا کریں، نیکی کا حکم دیتے جائیں اور جاہلوں سے اعراض برتیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں کی یہی صفت بیان کی ہے،فرمایا:
{وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ} (آل عمران:۳/۱۳۴)
’’وہ تو غصہ پی جاتے اور لوگوں کو معاف کردیتے ہیں اور ایسے ہی احسان کرنے والے اللہ کے محبوب ہوتے ہیں۔‘‘
عفودروگزر کا فائدہ سرکار دوعالم نے یوں بیان فرمایا کہ
[وَمَا زَادَ اللہُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا۔] (مسلم:۲۵۸۸)
’’معاف کرنے سے اللہ بندے کی عزت و مقام میں اضافہ ہی فرماتے ہیں۔‘‘
اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر معاف کرنا وسیع ظرف اہل ایمان کا شیوہ ہے اور یہ عمل باعث اجرو ثواب بھی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہُ عَلَی اللّٰہِ} (الشوریٰ:۴۲/۴۰)
’’ہر معاف کرنے والے اور صلح صفائی کرنے والے کو بارگاہ الٰہی سے اجرو ثواب سے نوازا جاتا ہے۔‘‘
ام المومنین سیدہ عائشہr سرتاج رسل اور ہادی عالم کے بارے بیان کرتی ہیں کہ
[مَاانْتَقَمَ رَسُولُ اللّٰہِ لِنَفْسِہِ۔] (مسلم:۲۳۲۷)
’’رسول اللہ e نے اپنی ذات کی خاطر تو کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔‘‘
کتب سیر و تاریخ میں اس کی لاتعداد مثالیں موجود ہیں۔ ایک دفعہ ایک دیہاتی نے آپ کی چادر مبارک اس زور سے کھینچی کہ آپ کی گردن مبارک پر نشانات پڑگے۔پھر وہ بولا کہ
[یا محمدُ! مُرلِی مِن مَالِ اللّٰہِ الّذِی عِندَکَ۔]
’’محمد ! آپ کے پاس اللہ تعالیٰ کا جو مال ہے اس سے مجھے بھی دیں۔‘‘
آپ e نے اس کی بد اخلاقی اور ضرر رسانی پر کچھ بھی نہیں فرمایابلکہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرادیتے ہیں اور اسے نوازے جانے کا حکم فرماتے ہیں۔
فتح مکہ کے موقع پر آپ نے عفودر وگزر کی ایسی مثال پیش کی کہ دنیا اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ تمام طرح کا ظلم و ستم کرنے والے مشرکین مکہ کو معاف کردیا۔ اپنے محبوب چچا سیدنا حمزہt کے قاتل کو پروانہ معافی عطا کیا۔ امت کو بھی اپنے مخالفین سے یہی سلوک کرنا چاہیے، تبھی جاکر اسلام کی حقیقی تصویر پیش کی جاسکتی ہے۔
 جودو سخا:
بغیر کسی عوض اور معاوضے کے کسی کو بطیب خاطر نوازنا جو دوسخا کہلاتا ہے۔ سخاوت معنوی اور حسی دونوں طرح ہوسکتی ہے۔ جیسے کسی کی خوشی کے لیے مسکرا دینااور کسی پر خرچ کرنا۔ خرچ کرنے سے باہمی اخوت و محبت بڑھتی ہے۔ دنیا کی محبت سے انسان محفوظ رہتا ہے۔ اسلامی معاشرہ تشکیل پاتا ہے اوریہی  ہمدردی اور بھائی چارہ رضائے الٰہی کے حصول کا موجب بنتا ہے۔ رہبر کامل نبی مکرمe کی سخاوت بے مثل تھی۔
سیدنا علی بن طالبt بیان کرتے ہیں کہ
[کَانَ رسُولُ اللّٰہِ اَجْوَدَ النَّاسِ۔] (البخاری: ۶ ومسلم: ۲۳۰۷)
’’رسول اللہe توتمام نوع انسانی سے بڑھ کر سخاوت کیا کرتے تھے۔‘‘
حدیث مباکہ میں
[مِنَ الرِّیْحِ الْمَرْسَلَۃِ] (صحیح البخاری:۱۹۰۲)
کے الفاظ بھی ہیں جس کا مطلب ہے کہ آپ تیزوتند آندھی سے بھی تیز سخاوت کیا کرتے تھے۔رسول اللہe کے انفاق کا تو یہ عالم تھا کہ آپ کے پاس اتنا مال کبھی جمع ہی نہیں ہوا جس پر زکاۃ فرض ہو، اُدھر سے مال و متاع آتا اِدھر سے راہ خدا میں خرچ کرڈالتے۔ آپ e نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر مثلِ اُحد پہاڑ بھی مجھے سونا مل جائے تو میں سوائے قرض کی ادائیگی کے تمام کا تمام تین دن سے بھی پہلے خرچ دوں۔ (صحیح البخاری:۲۳۸۹)
ایک دفعہ دوران نمازآپe کو خیال آیا کہ گھر میں کچھ سونا پڑا ہے، نماز کے فوراً بعد خلافِ معمول جلدی سے گھر تشریف لے گئے اور اسے خرچ کرنے کا حکم فرما آئے۔ (صحیح البخاری:۸۵۱)
آپ نے اپنے ماننے والوں کو بھی اسی کی تعلیم دی ہے کہ
[مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِن مَّالِِ] (مسلم: ۲۵۸۸ وترمذی:۲۰۲۹)
’’صدقہ خیرات کرنے سے مال میں کمی واقع نہیں ہوتی۔‘‘
ایک خاتون نے سپیشل دست کاری کر کے آپeکو ایک چادر تحفہ دی۔ اس کی آپ کو ضرورت بھی تھی۔لیکن ایک آدمی نے آپ سے وہ چادر مانگی تو آپ نے اسے عنایت کردی۔ (بخاری:۱۲۷۷ وابن ماجہ:۳۵۵۵)
رحمت دوجہاں کی سخاوت کا تو یہ عالم تھا کہ سیدنا جابر t بیان کرتے ہیں :
[مَاسُئِلَ النَّبِیُّﷺ عَن شَیء قُطُّ فَقَال: لاَ] (البخاری: ۶۰۳۴ ومسلم:۲۳۱۱)
’’نبی کریمe نے کسی چیز کے سوال کیے جانے پر کبھی ’’نہیں ‘‘نہیں فرمایا۔‘‘
جودوسخاوت سے مخالفین کم جبکہ چاہنے والوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ لوگوںکے ہاں مرتبہ و مقام میں اضافہ ہوتا ہے اور رب العالمین کا قرب نصیب ہوتا ہے۔ پروردگار عالم کافرمان عالی شان ہے:
{اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّھَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْن} (البقرۃ:۲/۲۷۴)
’’دن رات‘ علانیہ پوشیدہ اپنے اموال خرچ کرنے والوں کے لیے اپنے رب کے ہاں اجر عظیم ہے ،نہ توہی انہیں خوف ہوگا اور نہ ہی یہ غمگین ہوں گے۔‘‘
 اخلاقِ حسنہ:
اخلاق  خَلق سے ہے جس کے معنی فطرت کے ہیں۔ کوئی بھی اچھی صفت اور خوبی آدمی کی یوں عادت بن جائے جیسے اس کی فطرت اور مزاج کا حصہ ہواور بغیر قصد وارادے کے اس سے اس خوبی کا اظہار ہوتا رہے۔ اخلاق حسنہ اس قدر وسیع مفہوم کا حامل لفظ ہے کہ تمام اسلام تک کو شامل ہے۔
ام المومنین سیدہ عائشہr سے جب کسی نے آنحضرتe کے اخلاق کے بارے پوچھا تو سیدہ نے جواب دیا تھاکہ
[کَانَ خُلُقُہُ الْقُرْآنَ۔] (مسند احمد: ۲۴۶۰۱ وصحیح الجامع:۴۸۱۱)
’’قرآن آپ کا اخلاق ہی تو ہے۔‘‘
قرآن کریم میں جتنے بھی خصائل حمیدہ اور اوصاف جمیلہ کا تذکرہ ہے آپ e ان سب کے حامل و عامل تھے ۔ آپ قرآنِ مجسم تھے۔ نبی کریم رسول e اخلاق حسنہ کا پیکر تھے۔ اللہ رب العزت نے آپ کے اخلاق کریمہ کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا:
{وَاِِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ } ( القلم:۶۸/۴)
’’بلاشبہ! آپ تو خلق عظیم کے مالک ہیں۔ ‘‘
سیدنا انس بن مالک t آپ کے اخلاق حسنہ کے بارے یوں گواہی دیتے ہیں۔ بیان کرتے ہیں کہ
[کَانَ النَّبِیُّﷺ اَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا۔] (بخاری:۶۲۰۳ ومسلم:۶۵۹)
نبی کریمe تمام لوگوں سے بڑھ کر حسن اخلاق کے مالک تھے۔حضرت ابو سفیانt نے قبول اسلام سے پہلے شاہِ روم کے دربار میں آپ e کی یہ اعلیٰ صفات بیان کی تھیں: نماز کا حکم دینا، صدق گوئی، پاکدامنی، وعدے کی پاسداری اور امانتداری۔(صحیح البخاری:۲۶۸۱)
ام المومنین سیدہ خدیجہr نے آپ e سے شادی کی تھی تو اس کی وجہ آپ کی قرابتداری ، خاندانی شرف و مرتبہ، امانتداری، حسن اخلاق اور راست باز ی تھی، آپ کی یہ بلند پایا صفات سیدہ نے خود بیان کی تھیںاور کہا تھا کہ آپ کی ان خوبیوں کی وجہ سے میں خود کو آپ کے حبالہ عقد میں دیناچاہتی ہوں۔(سیرت ابن ہشام:۱/۱۸۹وسیرت ابن کثیر:۱/۲۶۳)
آغاز وحی کے موقع پر جب آپ گبھرائے ہوئے گھر تشریف لائے تھے تو تب سیدہ نے آپ کے اخلاق حسنہ کو اس طرح سے بیان کیا تھا کہ اللہ کی قسم! اللہ عزوجل کبھی بھی آپ کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑے گا۔ آپ تو صلہ رحمی کرتے ہیں۔ سچ بولتے ہیں۔ اوروں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں۔ ضرورت مند کو کما کر کھلاتے ہیں۔ مہمان کی ضیافت کرتے ہیں اور مشکلات میں گرفتار لوگوں کی نصرت ومدد کرتے ہیں۔(صحیح البخاری:۴۹۵۳ وصحیح مسلم:۱۶۰)
رسول اللہe کا فرمان ہے:
[إِنَّمَا بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ صَالِحَ الْاَخْلَاقِ] (مسند احمد:۸۹۵۲ والسلسلۃ الصحیحہ:۴۵)
’’مجھے بھیجا ہی اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے گیا ہے۔‘‘
حسن اخلاق کو آپ نے ا چھائی کا معیار قرار دیتے ہوئے فرمایا:
[إِنَّ مِنْ خِیَارِکُمْ اَحْسَنُکُمْ اَخْلاَقًا] (بخاری:۳۵۵۹ ومسلم:۲۳۲۱)
’’تم میں اچھا تو وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہے۔‘‘
حسن اخلاق کی اہمیت آپ نے یوں بھی اجاگر فرمائی کہ مومن اپنے حسن اخلاق کی بدولت شب بیدار اور روزے دار کے مرتبہ کو بھی حاصل کرسکتا ہے۔ (احمد بن حنبل، المسند :۲۴۳۵۵وصحیح الجامع:۱۶۱۷)
 وسیع علم ومطالعہ:
داعیانِ دین کے لیے بنیادی اور اہم ترین چیز گہرا مطالعہ، مضبوط علم اور ہمہ گیر معلومات ہونا بھی ہیں۔ اصولِ شریعت سے مکمل آگہی ، نصوص کے فہم میں کامل دسترس اور استنباطِ احکام میں غیر معمولی مہارت بھی اسی میں شامل ہے۔ حالات حاضرہ سے واقفیت اور سیرت و تاریخ کا فکری، انقلابی مطالعہ بھی کسی سے کم اہمیت کا حامل نہیں۔ لوگوں کی نفسیات کا گہرا مطالعہ ،حالات و ظروف کا باریک بینی سے جائزہ اور قرآن وحدیث کی تفہیم میں مہارت حصول علم کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
تعلیم اور تعلم کی ضرورت و اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اولین وحی میں اسی کا درس دیا گیا اور اس وحی کا پہلا لفظ بھی ’’اِقرا‘‘ تھا۔اسی طرح قرآن کریم کی ابتدائی سورت بقرۃ کا آغاز بھی لفظ الکتاب سے ہوتا ہے۔
علم کے بغیر نہ تو خالق و مخلوق کی معرفت حاصل ہوسکتی ہے،نہ انسان اور حیوان میں فرق ممکن ہے اور نہ ہی انسان اپنے پالنہار کی بندگی بجالاسکتا ہے۔ اسی علم کی وجہ سے انسان کو فرشتوں پر بھی برتری حاصل ہوئی اور اسی کی وجہ سے انسان مسجود الملائکہ قرار پایا اور اسے زمین میں خلیفہ نامزد کیا گیا۔
مضبوط اہل علم ہی ضلالت و گمراہی سے خود محفوظ رہ سکتے ہیں اور دوسروں کو بدعت و ضلالت سے بچا سکتے ہیں۔ حقیقی اہل علم ہی کو خشیت الٰہی کے وصف سے متصف بتلایا گیا ہے اور اہل ایمان اصحاب علم کو دیگر لوگوں سے زیادہ اجرو ثواب اوربلند درجات سے نوازے جانے کی نوید سنائی گئی ہے۔
آنحضرتe نے فرمایاہے کہ خالی عبادت گزار پر صاحب علم کو یوں فضیلت حاصل ہے جس طرح ماہ تمام کو ستاروں پر فضیلت ہوتی ہے۔ (الترمذی:۲۶۸۲ وابی دواد:۳۶۴۱)
یہی نہیں بلکہ آپ e نے حقیقی صاحب علم کی فضیلت یوں سے اجاگر کی کہ فرمایا:
[فَضْلُ العَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِی عَلَی اَدْنَاکُمْ۔] (سنن الترمذی:۲۶۸۵، وصحیح الجامع:۴۲۱۰)
’’عالم کو عابد پر یوں فضیلت حاصل ہے جس طرح میں تم میں سے ادنیٰ ترین آدمی سے افضل ہوں۔‘‘
وہ صاحب علم ہی ہے جس کے لیے جنت کا راستہ آسان ہوجاتا ہے۔ اس کے احترام میں فرشتے بھی اپنے پر جھکا دیتے ہیں۔ آسمان و زمین کی مخلوق اور سمندر کی تہہ میں موجود مچھلیاں بھی اس کے لیے دعا کرتی ہیں اور انہی کو انبیائے کرام جیسی عظیم ترین ہستیوں کا وارث قرار دیا گیا ہے۔ (سنن الترمذی:۲۶۸۲وسنن ابن ماجہ:۲۲۳)
 داعیانہ صفات کا حصول کیونکر ممکن ہے؟
آخر میں فطری ساسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ داعیان اسلام کے لیے بیان کردہ اوصاف وخصائل کا حصول کس طرح ممکن ہے؟
اس حوالے سے گزارش ہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں اس بارے بھی مکمل رہنمائی موجود ہے۔ کچھ چیزیں  کَسبی ، علاقائی ، خاندانی اور جغرافیائی ہوتی ہیں اور کچھ وہبی۔ وہبی میں آدمی کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ وہبی خداداد ہوتی ہیں لیکن ان میں بہتری اور کمال محنت ، جستجواور مشق سے انہیں حاصل کیا جاسکتا ہے، جیسے جراء ت و بہادری ، جوودسخااور علم و ہنر۔ رسول اللہe کا فرمان اس بارے یوں رہنمائی کرتا ہے کہ
[إِنَّمَا الْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ، وَإِنَّمَا الْحِلْمُ بِالتَّحَلُّمِ، مَنْ یَتَحَرَّی الْخَیْرَ یُعْطَہُ، وَمَنْ یَتَّقِ الشَّرَّ یُوقَہُ۔] (المعجم الأوسط للطبرانی: ۲۶۶۳، والسلسلسۃ الصحیۃ: ۳۴۲)
’’علم سیکھنے سے آتا ہے اور حلم و برد باری خود کو حلم کا عادی بنانے سے پیدا ہوتی ہے، خیر و بھلائی کے طلب گار کو خیر سے نواز ہی دیا جاتا ہے اور برائی سے بچنے کی کوشش کرنے والے کو شر سے بچا ہی لیا جاتا ہے۔‘‘
حلم و برد باری ، جودوسخا، عفودر گزر ،اخلاق حسنہ، صدق و امانت اور تواضع وانکساری جیسی اعلی صفات کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ ان امور بارے آگہی حاصل کی جائے، قرآن و حدیث میں ان کے متعلق ہدایات سے واقفیت ہو، اچھی صفات کا خود کو عادی بنانے کے پیہم مشق اورمسلسل جستجو کی جائے۔ اعلی اخلاق وکردار کے حامل لوگوں کی صحبت اختیار کی جائے ۔عمدہ صفات اور خصائل حمیدہ کے اجرو ثواب بارے معلوم ہو اور ان کے برعکس بری عادات کی صورت میں لاحق مصائب وآلام اور ان کے گناہ بارے بھی پتہ ہو۔
اسی طرح سیرت نبوی اورسیرت اسلاف کا فکری اور شعوری مطالعہ ہو۔ رموزِ شریعت اور اسرار دین  بارے آگہی ہو۔ شریعت کے لطائف اور کمالات بارے غیر معمولی واقفیت ہو۔ حالات حاضرہ پر دلائل شرعیہ کا انطباق، حالات حاضرہ بارے مکمل واقفیت، مسلم اور غیر مسلم سے تعامل کی نوعیت و طریقہ کار بارے علم ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ دشمن کی ریشہ دوانیوں، مخالفین کی چیرہ دستیوں اور اعدائے اسلام کے طریقہ واردات بارے شناسائی کی اہمیت کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔دین و دنیا کی عدم تفریق پر کامل ایمان اور دین اسلام سے کامل فکری وابستگی کی بنا پر ہی احساس کمتری، اور معاشرے میں اجنبیت محسوس کرنے جیسی بیماریوں سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
اس طرح کے مضبوط فکری مطالعہ کی صورت ہی میں بندہ مومن داعیانہ اعلی صفات سے متصف ہوسکتا ہے اور یوں دعوتِ دین کا عظیم فریضہ بطریق احسن ادا کیا جاسکتا ہے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats