ابوالاشبال مولانا شاغف البہاری 27-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, July 14, 2019

ابوالاشبال مولانا شاغف البہاری 27-2019


ابوالاشبال مولانا شاغف البہاری رحمہ اللہ

(دوسری وآخری قسط) تحریر: جناب صاحبزادہ برق التوحیدی
بخاری شریف وصاحب بخاریؒ سے محبت:
امام بخاریa اور ان کی الجامع الصحیح سے ان کی وابستگی بڑی جذباتی تھی۔ اس پہلو میں موصوف بسا اوقات بڑے جذباتی ہو جاتے ، بعض حضراتِ احناف کا حدیث ، کتب حدیث بالخصوص صحیحین اور شیخین کے متعلق جو رویہ ہے اس پر موصوف فرماتے ہیں:
پس احناف کی درسگاہوں میں کتب احادیث کا دورہ صرف دو وجہ سے ہوتا ہے … ایک غرض تو یہ کہ ان احادیث کی تاویل اور رد طلبہ کو سمجھا دیا جائے جو حدیثیں احناف کے مسلک کے خلاف ہیں۔ دوسری غرض یہ کہ عوام کے اندر اس کو عالم سمجھا جاتا ہے جو کتب احادیث کو پڑھا ہو ، گویا عالم کہلانے اور دستار بندی کے لیے کتب احادیث کا دورہ ضروری ہے۔ اب بتائیے جن کتب کے درس کے بعد وہ عالم کہلاتے ہیں اور دستار ِ فضیلت اپنے سروں پر باندھتے ہیں انہی کتب کے مصنفین محدثین امام بخاری، مسلم، ابودائود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ وغیرھم کو فقہ سے عاری ، عطار وغیر کے القاب سے یاد کرتے ہیں۔ یہ احسان فراموشی کی انتہا ہے جن کی بدولت ان کو عزت ملی انہی کو گالیاں دیتے ہیں‘ شرم نہیں آتی ۔
ایک زمانہ تھا کہ حکیم عبدالرحیم اشرف کے قائم کردہ جامعہ تعلیمات اسلامیہ لائل پور (فیصل آباد) میں ایک سال بطور مدرس تھا‘ ان کی درسگاہ میں حنفی عالم بڑے عہدے پر تھے۔ شیخ الحدیث کا عہدہ بھی ایک حنفی عالم کے سپرد تھا‘ وہ حنفی عالم اکثر طلبہ کو کہتا تھا کہ میں امام بخاری کو امام ابوحنیفہ کی جوتیوں کے برابر نہیں سمجھتا ، قصہ مختصر یہ کہ جس کو امام ابوحنیفہ کی جوتیوں کے برابر نہیں سمجھتا اس کی تصنیف کردہ کتاب صحیح بخاری پڑھانے پر اس کو شیخ الحدیث کا لقب ملا ہے پھر بھی نا شکری ، کیا کسی حنفی عالم کو جو کتب فقہ کا ماہر ہو اور کتب فقہ کا درس دیتا ہو ، شیخ الحدیث کسی بھی دور میں کہا گیا ہو کوئی حنفی ثابت کر سکتا ہے ؟ـ ٹھیک ہے ۔تم حنفی ہو ، حنفی فقہ پر عمل کرو، اسی کو پڑھو پڑھائو ، کتب احادیث کو کیوں پڑھتے پڑھاتے ہو ، جب ان پر عمل کرنا نہیں چاہتے ، اپنی درسگا ہوں سے دورہ حدیث کو خار ج کر دو، احسان فراموشی سے بچ جائو گے۔ (مقالات شاغفِ: ص ۲۳۱۔۲۳۲)
ہمارے ممدو ح مرحوم نے جامعہ تعلیمات اسلامیہ کے متعلق جس مشاہدہ کا ذکر کیا ہے وہاں کے ایسے حدیث دشمن ماحول کا راقم الحروف کو بھی مشاہدہ ہے۔ شاید وہاں کے ایسے ماحول ہی کی بنا پر بعض حضرات مولانا عبدالرحیم اشرف مرحوم کی اہلحدیثیت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں، بہرحال اس کی تفصیل کا یہ موقعہ نہیں‘ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حدیث بالخصوص صحیحین کے متعلق ممدو ح مرحوم بڑے نازک جذبات رکھتے تھے جس کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگائیے:
ایک اہل حدیث ڈاکٹر جو خاندانی اہل حدیث تھے ایک روز میرے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے کہ آج کل میں بخاری شریف کا ترجمہ پڑھ رہا ہوں اور اس کی دو جلدیں پڑھ چکا ہوں اور بہت ساری باتیں کاپی میں لکھ رہا ہوں جو اہل حدیث حضرات کے یہاں معروف و متداول ہیں اور بخاری شریف میں اس کے خلاف روایتیں موجود ہیں بلکہ بعض حدیثوں کا تو اہل حدیث حضرات غلط معنی و مفہوم بیان کرتے ہیں۔ یہ سن کر میرا خون گرم ہو گیا لیکن میں نے اپنے غصے پر قابو رکھتے ہوئے ان سے نرم لہجے میں کہا … میں نے کہا : چلیے اور مقامات سامنے لائیے‘ آج میں اس وقت تک آپ کے پاس بیٹھوں گا جب تک مترجم صاحب کے سارے ’’ کارناموں‘‘ کا تسلی بخش جواب نہ ہو جائے ۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا : اب مجھے کچھ پو چھنے کی ضرورت نہیں بقیہ مقامات میں خود سمجھ لوں گا۔ (مقالاتِ شاغف: ص ۳۸۹۔۳۹۱))
حضرت ممدو ح مرحوم سے کئی مرتبہ ملا قات کا اتفاق ہوا‘ کبھی ان کے دولت خانہ پر تو کبھی خانہ خدا میں ، ایک مرتبہ حرم مکی کے باب بلال پر نماز جمعہ کے بعد تشریف فرما تھے تو برصغیرکے اہل حدیث علماء متقدمین اور معاصر علماء کی آراء میں اختلاف زیر بحث آیا تو فرمایا:
یاد رکھیے بلا شبہ جدید مراجع شائع ہو چکے ہیں اور ہر روز نئی تحقیقات سامنے آرہی ہیں مگر برصغیر کے علماء متقدمین کا علم سلف صالح کی طرح الہامی تھا اور ان کی تحقیقات کو چیلنج کرنا بہت مشکل ہے۔
ان علماء متقدمین سے ان کی مراد حضرت الامام نواب صدیق حسن خاں ، سید الطائفہ سید نذیر حسین محدث دہلوی ، حضرت مولانا شمس الحق محدث ڈیانوی اور حضرت مولانا عبدالرحمن محدث مبارکپوریS تھے۔ چنانچہ اگر آج کی تحقیقات جدیدہ اور ان متقدمین کے نتیجہ فکر کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو بشری استثناء کے باوجود فی الواقع موصوف ممدوحa کی بات بالکل درست ہے کہ ان متقدمین علماء اہل حدیث کی تحقیقات او ر نتیجہ فکر کو چیلنج کرنا آسان نہیں اور علمی میزان میں ان کا پلڑا بھاری ہے۔
اسی تناظر میں علامہ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ سے ان مکالمات یا انتقادات کو بھی دیکھا جا سکتا ہے‘ موصوف مرحوم متقدمین تو کجا معاصرین کاذکر بھی نہایت احترام و اکرام سے کرتے اور ان کے علم و فضل کا اعتراف کرنے کے باوجود ادب واخلاق کے دائرہ میں اظہار اختلاف بھی کرتے۔ چنانچہ آپ کے معاصرین میں علامہ البانیa کا ایک بڑا نام بھی ہے۔ ایک حدیث کی تصحیح پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ہاں! شیخ البانی یا دوسرے محدثین نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے ان سے سہو واقع ہوا ہے‘ ابن حبان اور حاکم اور شیخ احمد شاکر کا تساہل تو شیخ البانی کے نزدیک بھی معروف ہے، رہے ابن خزیمہ تو وہ اگرچہ متسا ہلین میں سے تو نہیں لیکن اس حدیث کی تصحیح میں ان سے سہو واقع ہوا ہے۔ شیخ البانی نے خود ابن خزیمہ کی تعلیق میں بہت سی حدیثوں کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ان کے علاوہ کسی قابل قدر محدثین کی تصحیح تو مجھے معلوم نہیں اگر کسی نے اس کی تصحیح کی ہوگی تو تقلیداً ہو سکتا ہے۔ میری یہ رائے ہے کہ شیخ البانی اگر خود میری ان گزارشات پر غور کریں تو شاید میری موافقت کریں کیونکہ جہاں تک مجھے معلوم ہے حق قبول کرنے میں انہیں کوئی شئے مانع نہیں ہوتی۔ (مقالات شاغف  ص: ۳۵۱)
موصوف مرحوم مزید لکھتے ہیں:
شیخ البانیa کی خدمات اظہر من الشمس ہیں جو شخص کچھ کرتا ہے اسی سے سہو و نسیان کا وقوع ہوتا ہے ، لیکن جس نے کچھ کیا ہی نہیں اس سے خطا کی تلاش عبث ہے … چند سال قبل میرے پاس دو صاحبان تشریف لائے … مسئلہ یہ تھا کہ ان کا رشتہ دار اہل حدیث تھا اور وہ بھی اہل حدیث تھے۔ لیکن چند سالوں میں جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ امام کے پیچھے چھوڑ دیتا تھا، وجہ یہ کہ شیخ البانی نے صفۃ الصلوٰۃ میں  (اس کے نزدیک )ایسی صحیح حدیثیں پیش کی ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جہری نماز وں میں سورہ فاتحہ مقتدی کو نہیں پڑھنی چاہیے ۔ جب میرے پاس آئے تو سب سے پہلا سوال مجھ سے یہ کیا کہ شیخ البانی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ میں نے کہا : وہ اس دور کے بڑے علماء میں سے ہیں ، اُنہوں نے احادیث نبویہ کی خدمت کا بار گراں اپنے کندھوں پر لیا ہے اور اسے حتی الامکان کرنے میں منہمک ہیں۔
تو نووارد نے کہا کہ اس کا مطلب یہ کہ وہ جو کچھ لکھ دیں حق ہوگا ؟ میں نے کہا : آپ نے کس طرح سمجھ لیا ، کتنا بھی بڑا عالم ہو گا اس سے غلطیوں کا امکان موجود ہے ۔ آپ أئمہ اربعہ میں سے کس کی اتباع کرتے ہیں؟ کہنے لگے : کسی کی نہیں، میں نے کہا : میں بھی شیخ البانی کی اتباع نہیں کرتا ، ان کو ایک عالم دین مانتا ہوں‘ ہمارے اور ان کے درمیان بہت سے مسائل میں اختلاف ہے‘ خاص طور سے قرأت فاتحہ خلف الا مام کے باب میں ان کی رائے صحیح نہیں …
نیز شیخ البانیa سے میں نے دو بدو اسی مسئلہ پر گفتگو کی ہے‘ ان کے پاس کوئی دلیل جسے صحیح دلیل قرار دیا جائے نہیں۔ ہمارے اعتراض کو شیخ البانی پچھلے سال اپنے ساتھ لے گئے اور جواب دینے کا وعدہ کر گئے لیکن اب تک جواب موصول نہیں ہوا۔ (مقالات شاغف ص:۳۵۴۔۳۵۵)
حضرت ممدو ح مرحوم دراصل جس طرح مصدر تلقی میں سلف کے پیرو کار تھے اسی طرح مہنج تلقی میں سلف کے سختی سے کار بند تھے مگر جس طرح متقدمین کی تقلید کی بجائے دلیل کو حجت مانتے تھے اسی طرح معاصرین کی تحقیقات کو دلیل و حجت کے معیار پر پر کھتے تھے ، چنانچہ علامہ البانیa سے غالیا محبت و عقیدت رکھنے والوں کے رویہ کے تناظر میں فرماتے ہیں:
کتاب و سنت کی خدمت أئمہ اربعہ کے مقلدین بھی کرتے ہیں اور اہل حدیث بھی ، لیکن ہر ایک کی خدمات کے اندر نمایا ں فرق ہے۔ اہل حدیث محدثین کی خدمات سے فائدہ اُٹھاتے ہیں لیکن دلیل کی روشنی میں تقلید کسی کی نہیں کرتے جبکہ آج کل جماعت اہلحدیث کی ایک ایسی کھیپ تیار ہو چکی ہے جو ناصر الدین البانیa کی تقلید کو واجب سمجھتی ہے‘ جو کچھ ناصر الدین البانیa نے لکھ دیا ان کے نزدیک حرف آخر کی حیثیت سے من و عن قابل قبول ہے جس کی ایک مثال یہاں نقل کروں گا…
لیکن شیخ ناصر الدین البانیa نے خر ق اجماع کیا یا اتفاق امت مسلمہ کو پارا پارا کرنے کی کوشش لا شعوری طور پر خدمت حدیث کے نام پر کرتے ہوئے صحیحین کی حدیثوں کو ضعیفہ و موضوعہ کے اندر داخل فرما کر جہلائے عصر کے لیے راہ ہموار کر دی کہ وہ صحیحین کی حدیثوں کو بھی قبول کرنے کے لیے ناصر الدین البانی کی تصحیح کو ضروری سمجھنے لگے۔ بعضوں نے بلوغ المرام کی تخریج کرتے ہوئے صحیحین کی حدیثوں کے ساتھ بھی ’’ صححہ البانی ‘‘ کی تک بندی کو ضروری خیال کیا وغیرذلک ۔
ناصر الدین البانیa سنت کی خدمت کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے ’’مقلدین‘‘ کی ایک جماعت تیار کر دی جو ان کے خلا ف کوئی بات سننا گوارا نہیں کرتی۔ (مقالاتِ شاغف: ص ۲۶۶)
اس پس منظر میں ممدو ح مرحوم بسا اوقات دفاع صحیحین میں جذباتی بھی نظر آتے ہیں اور وہ اپنے موقف کی صحت پر غیر متزلزل یقین و اعتماد کی بنا پر بسا اوقات تحدی کرتے ہیں۔ چنانچہ ایک جگہ لکھتے ہیں:
بڑے لوگوں کی غلطیاں بھی بڑی ہوتی ہیں: آ ج میں شیخ البانی کی بعض غلطیوں کی نشاندہی کرنے پر اس لیے مجبور ہوں کہ ہندو پاک کے بعض ان پڑھ اور نا سمجھ اہلحدیث اور دنیا بھر میں ان کے اکثر معتقدین اس زعم میں مبتلا ہیں کہ امام بخاریa بھی شیخ البانی سے کم درجہ علم رکھتے تھے ۔ بقیہ کتب ستہ کے مصنفین کے متعلق نہ معلوم ان لوگوں کی رائے کیا ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے … میں نے شیخ البانیa کے الفاظ اور مفہوم کو نقل کر دیا … اس عبارت کا اسلوب علی الا علان کہہ رہا ہے کہ یہ قول صحیح نہیں کیونکہ منذری نے ’’ وقد قیل ‘‘ کہہ کر اپنی گردن بچالی ، نیز وہ غیر واحد کون ہیں ان کا کچھ پتہ نہیں، آگے جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے وہ سب منذری کے بعد والے ہیں جیسے ابن تیمیہ ، ابنِ قیم ، ابنِ حجر، ابراہیم ناجی ، لہذا عین ممکن ہے کہ منذری نے جن لوگوں سے نقل کیا ہے ان ہی سے ان حضرات نے بھی نقل کیا ہو یا منذری ہی کے کلام کی صدائے بازگشت ہو، لہٰذا  قائلین اولین کا کچھ پتہ نہ تو منذری نے بتایا اور نہ ہی محدث عصر علامہ البانیa نے، لہٰذا  وہ سب اب تک مجا ہیل ہی ہیں‘ اگر کسی میں دم خم ہو تو ان کا پتہ چلا کر بتائے۔  (مقالاتِ شاغف: ص ۳۶۲۔۳۶۵)
موصوف کی اس تحدی میں جہاں ان کا اپنے علم ومطالعہ پر اعتماد اور یقین جھلگتا ہے وہاں یہ بھی عیاں ہوتا ہے کہ موصوف کو کسی سے معاصرانہ علمی پر خاش یا معاصرانہ چشمک نہ تھی بلکہ وہ دلیل و حجت کے مقابلہ میں تقلید کے مخالف تھے اور کسی صورت بھی تقلید کو قبول نہ کرتے تھے۔ اُنہوں نے اپنے مقالات میں جا بجا اور مختلف پیرانہ میں تقلید کی بجائے دلیل و حجت کی پیروی پر زور دیا ہے او ر تقلید کی حقیقت کا انکشاف کیا ہے۔ اس سلسلہ میں صرف ایک دلچسپ واقعہ سنیے، لکھتے ہیں:
اس وقت میرے سامنے مولانا ارشاد الحق اثری صاحب کی تازہ ترین تصنیف ’’مسلک احناف اور مولانا عبدالحي لکھنوی‘‘ ہے جس میں مولانا عبدالحيلکھنوی حنفی کی تصنیفات سے ان مسائل کو جمع کیاگیا ہے جن میں مولانا عبدالحي لکھنوی حنفی نے اپنے مسلک حنفی کو چھوڑ کر کتاب و سنت کے سہارے دوسرے ائمہ مثلاً امام شافعی وغیرہ کے مسلک کو ترجیح دی ہے اور ہمارے اہل حدیث حضرات اس خوش گمانی میں مبتلا ہو گئے کہ اُنہوں نے اپنا مسلک چھوڑ کر کتاب و سنت کو اپنا لیا حالانکہ یہ بالکل غلط ہے کہ اُنہوں نے اپنا مسلک چھوڑ کر کتاب و سنت کو اپنا لیا ، ایک مقلد سے اس قسم کی امید رکھنا عبث ہے۔ مولانا عبداللہ شولا پوری مدنی (جن کا خاندان مدینہ طیبہ سے ہندوستان جا بسا تھا ) سے میں نے ایک واقعہ خود ان کی زبان سے سنا ہے ، وہ بیان کرتا ہوں تاکہ ہمارے بھائیوں کو عبرت حاصل ہو۔ ایک روز میں مسجد میں ان کے پاس بیٹھا تھا اور وہ اپنی زندگی کے واقعات سنا رہے تھے … اچانک مسکراتے ہوئے فرمایا کہ مجھے ایک دفعہ کئی روز مسلسل دورہ کرنا پڑا اور جگہ جگہ تقریر یں ہوئیں‘ دور دراز تک کوئی اہلحدیث نظر نہیں آیا ۔ آخر ایک دن مغرب کی نماز میں میرے بغل میں ایک شخص کھڑا تھا‘ اس کی زبان سے آمین کی آواز سنی بڑی خوشی ہوئی ، سلام کے بعد میں نے اس سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر ، تو اس شخص نے جواباً کہا کہ تم وہابی ہو ، میں نے کہا : حضرت آمین تو آپ نے بھی زور سے کہی تو اس شخص نے فوراً کہا کہ میں امام شافعی کا مقلد ہوں۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ حقیقت کا انکشاف ہوگیا کہ کوئی مقلد اگر اپنے مسلک سے انحراف کرتے ہوئے کسی حدیث پرعمل کرتا ہے تو اس پر عمل کرنے کے لیے مذاہب اربعہ میں سے کسی مذہب کا اس پر عمل معلوم کرنے کے بعد کرتا ہے۔ (مقالاتِ شاغف ص: ۲۲۳) 
تقلید کے متعلق موصوف مرحوم نے جو کچھ بھی لکھا ہے اس کے پس منظر میں یہی جذبہ صادقہ کا ر فرما نظر آتا ہے کہ معصوم عن الحظاء صرف رسول اکرم e کی ذات اقدس ہے باقی سب سے غلطی ممکن ہے ، لہذا ممکن الحظاء کی بجائے یقینی الصواب کی اتباع کرنی چاہیے یعنی دلیل اور حجت کی پیروی کرنی چاہیے۔ جس طرح کسی سے غلطی ہو جانا اس کی تنقیص و تحقیر کا موجب نہیں اسی طرح کسی کی تحقیق اس کی تقلید کا موجب نہیں‘ اصل معیار و مدار حق دلیل اور حجت ہے۔ چنانچہ دیکھیے ایک طرف موصوف مشورہ دیتے ہیں:
ہمارے بعض اساتذہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ مقدمہ فتح الباری اور مقدمہ تحفۃ الا حوذی کو بار بار پڑھنا اور ان دونوں کتابوں سے استفادہ کرنا‘ بعد میں التنکیل آئی اور میں نے جب اس کو پڑھا تو میں ہر شخص کو مشورہ دیتا ہوں کہ مقدمہ فتح الباری اور مقدمہ تحفۃ الا حوذی اور التنکیل کو بار بار پڑھو اور ان کتابوں سے محدثین کرام کے اصولوں کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ (مقالاتِ شاغف ص: ۹۴)
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
اب ایسا دور آگیا ہے کہ جو کچھ خطیب ، ابن الصلاح، ابن حجر وغیرہ نے لکھ دیا ہے وہی حق ہے بلکہ اس وقت اساتذہ کی ایک ایسی کھیپ تیار ہے کہ وہ ان کتب کو بھی کما حقہ سمجھنے سے قاصر ہے تو ان کی دسائسوں کو کیسے سمجھ سکتے ہیں۔ (مقالاتِ شاغف ص: ۱۹۹)
ان حوالہ جات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ممدو ح مرحوم کے دل میں نسل نو کی تعلیم و تربیت کا کس قدر درد تھا کہ ہمارے نو نہال علم و عمل اور عقیدہ و عقیدت میں منہج سلیم اپنا کر روشن مستقبل کی ضمانت بن سکیں۔ یقینا آج ضرورت ہے کہ مرحوم کے احساسات و جذبات کو پیش نظر رکھ کر ہم اپنے عقیدہ و عقیدت کی اصلاح و تحفظ میں نظام اور نصاب تعلیم و تربیت کی اصلاح کریں۔
خدمات
حضرت مولانا ممدو ح مخدوم ابو الا شبال صغیر احمد شاغف بہاریa کو اگرچہ قسام ازل نے بہت سی علمی وعملی صلاحیتوں سے نوازا تھا ۔ خصوصاً حفظ و اتقان کا حظ وافر نصیب ہوا او ر ان صلاحیتوں کو موصوف مرحوم نے خدمت دین کے لیے خوب استعمال فرمایا ۔ چنانچہ ابتدائی دور میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ وعظ و ارشاد کا کوئی یا باقاعدہ سلسلہ شروع رکھا کہ نہیں تاہم گزشتہ سطور میں ذکر کر دہ شادی کے واقعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف تدریس و تحریر کے ساتھ تقریر کا بھی خوب سلیقہ اور ڈھنگ رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں آپ نے رابطہ عالم اسلامی سے وابستہ ہو کر جو علمی تحقیقات بطور شاہکار چھوڑیں ان کا تو صحیح اندازہ نہیں تاہم اپنی خصوصی دلچسپی اور شوق سے جو تخلیقی آثار علمیہ چھوڑے ان میں رجال بخاری ، نواب صدیق حسن خاں رحمہ اللہ تعالیٰ کی شر ح بلوغ ابرام کی تلخیص ، اتحاف المھرہ کی تخریج ، تحفہ الاشراف کی تلخیص ، تقریب التہذیب پر کام ، زبدۃ تعجیل المنفعہ ، الا ستدراک علی تحفۃ الا شراف للمزی ، الخطاء والصواب فی تحفۃ الا شراف ، بعض الا ستد راک علی محقق منہاج السنۃ ، بعض الا ستد راک علی تحقیق کتاب الد عاء للطبرانی ، بعض الا ستدراک علی کتاب دراسۃ حدیث نضراللہ امرأ سمع مقالتی ، بعض الا ستدراک علی المحققین للکتاب اللآلی والدررفی المحاکمۃ بین العینی وابن حجر، المصباح المنیر تجرید التفسیر لابن کثیر (عربی ) السراج المنیر تنقیح تفسیر ابن کثیر (اردو) وغیرہ جیسی مختصر مگر جامع اور وقیع تالیفات بالخصوص قابل ذکر ہیں۔
اس کے علاوہ مختلف رسائل و جرائد میں علمی مقالات و مضامین اور بعض کتب پر تقاریظ اور مقدمات ان تصنیفی خدمات کے علاوہ ہیں جن کو ’’ مقالات شاغف‘‘ کی طرز پر جمع کیا جائے تو ضخیم کتاب معرض وجود میں آسکتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب ذوق کو توفیق عطا فرمائے کہ موصوف کے ان قیمتی قلمی رشحات کو یکجا کر پائے جو بہت بڑی علمی و دینی خدمت ہوگی ۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز۔
بہرحال ہمارے مشفق و مہر بان علم و فضل کے ماہ تاباں بلکہ قرآن و حدیث کی کرنیں بکھیرنے والا یہ نیر تاباں ۷۷ سال تک تحقیق و تدقیق اور علوم و فنون کی ضوء افشانی کے بعد ۳۰ مئی ۲۰۱۹ء بروز جمعرات مکہ مکرمہ میں غروب ہوگیا ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اللھم اغفرلہ وارحمہ وادخلہ الجنۃ الفردوس!


No comments:

Post a Comment

View My Stats