عمرہ کا مسنون طریقہ 27-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

عمرہ کا مسنون طریقہ 27-2019


عمرہ کا مسنون طریقہ

تحریر: جناب ڈاکٹر محمد یٰسین
رسول اللہ e کا فرمان ہے:
{لِتَاْخُذُوْا مَنَاسِکَکُمْ}
’’تم مجھ سے حج و عمرہ کے طریقے سیکھ لو۔‘‘
عمرہ کے تین ارکان ہیں:
1 احرام باند ھنا                 2 بیت اللہ کا طواف           3 صفااورمروہ کی سعی
واجبات عمرہ:
Ýمیقات سے نیت کرنا         Þ حلق یا قصر
عمرہ کے اعمال:
1          غسل اور جسمانی طہارت حاصل کرکے احرام باندھ لیں
2          مرد حضرات ان سلے کپڑوں میں احرام باندھیں، جبکہ عورتوں کا احرام عام لباس ہی میں ہوگا۔
3          میقات سے عمرہ کی نیت کریں:
[لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ عُمْرَۃً] اس کے بعد [إن حبسنی حابسٌ فمحلی حیث حبستنی]
یہ الفاظ کہیں: ’’اگر کوئی رکاوٹ پیش آئی تو میں اپنا احرام کھول دوں گا /گی۔‘‘
4          بلند آواز سے تلبیہ پکاریں۔ تلبیہ کے کلمات یہ ہیں:
[لَبَّیْکَ اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ  اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَاشَرِیْکَ لَکَ۔]
مرد بلندآواز سے اور خواتین آہستہ آواز میں تلبیہ پڑھیں۔
5          باوضو مسجد حرام میں داخل ہوں۔ مسجد میں داخل ہونے کی مسنون دعا:
[بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔]پڑھیں۔
اس کے بعد چاہیں تو اپنے لیے، عزیزواقارب، والدین اور ملک و قوم کے لیے دعا کرسکتے ہیں۔
6          طواف سے پہلے تلبیہ بند کر دیں ۔ حجراسود کے سامنے دیوار پر سبز لائٹ لگی ہوئی ہے  وہاں سے طواف کی ابتدا کریں۔
7         طواف شروع کرنے سے پہلے حجرِاسود کا استلام کرنا (استلام کے معنی ہیں:بوسہ دینایا ہاتھ یا چھڑی وغیرہ لگا کر اسے چومنا یادورسے اشارہ کرنا)۔
8          استلام کے وقت حجراسود کی طرف صرف دایاں ہاتھ اُٹھا کر بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَر کہیں اور باقی چکروں میں اَللّٰہُ اَکْبَر کہیں۔ ۷ چکروں میںسات بار استلام ہوگا۔
9          حجرِاسود کو بوسہ دیتے وقت دوسروں کو تکلیف نہ دی جائے بلکہ حجرِ اسود کے پاس بھیڑ کرنا،دھکے دینا بھی دوسروں کو تکلیف دینے کے مترادف ہے۔
0          طواف قدوم کے سات چکروں میں اضطباع کرنا (اپنی چادر دائیں کندھے کے نیچے سے نکال کر بائیںکندھے کو ڈھانپ لیں اس سے دایاں کندھا ننگا ہو جائے گا )۔
!          طواف قدوم کے پہلے تین چکروں میں رمل کرنا، یعنی بقدر امکان ذرا تیز اور اُچھل اُچھل کر پہلوانوں کی طرح چلنا ۔
@          طواف کے دوران رکن یمانی کو چُھونا مسنون ہے، البتہ ر کنِ یمانی کو چھو کر ہاتھ کو چومنا مسنون عمل نہیں۔ اگر ہجوم ہو تو رُکن یمانی کو چُھوئے بغیر گزر جائیں۔
#          رُکن یمانی اور حجراسود کے درمیان ہر چکر میں یہ دعا پڑھنا مسنون ہے:
[رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔]
$          طواف کے چکر مکمل کرکے اپنا دایاں کندھا ڈھانپ لیں اور آیت: {وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰھِیْمَ مُصَلّٰی} پڑھتے ہوئے جائیں اور مقام ابراہیم کے پیچھے جہاں جگہ ملے دورکعت نماز ادا کریں ۔ پہلی رکعت میںسورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ الکافرون اور دوسری رکعت میں سورہ ٔاخلاص پڑھنا مسنون ہے ۔
%          دو رکعت ادا کرکے آب زم زم پئیں۔ آب زم زم خوب پیٹ بھر کر پینا چاہیے اور یہ دعاـ پڑھ سکتے ہیں:
[اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْمًا نَّافِعًا وَّرِزْقًَا وَّاسِعًا وَّشِفَائً مِّنْ کُلِّ دَائٍ]
’’اے اللہ! میں تجھ سے نفع مند علم، فراخ رزق اور ہر بیماری سے شفا طلب کرتا ہوں۔‘‘
^          آب زم زم پی کر صفا اور مروہ کے لیے جائیں ۔صفا پہاڑی پر چڑھتے ہوئے یہ آیت پڑھیں: {اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ…} اس کے بعد یہ الفاظ کہیں: [اَبدَاُبِماَ بَدَاء اللہُ بِہ]
&          صفاپہاڑی پر کھڑے ہو کر بیت اللہ کی طرف  مُنہ کرکے یہ کلمات پڑھیں:
[اَللّٰہُ اَکْبَرُ اللّٰہُ اَکْبَرُ اللّٰہُ اَکْبَرُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ. لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ، اَنْجَزَ وَعْدَہٗ، وَنَصَرَعَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ]
                یہ کلمات تین بار کہیں اور ان کے درمیان دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعائیں مانگیں۔
*          صفاسے مروہ کی طرف جائیں ۔ درمیان میں سبز لائٹوں والی جگہ پر دوڑیں ۔  بوڑھے ،خواتین یا جن کے ساتھ خواتین ہوں آرام سے چل سکتے ہیں۔
(          مروہ پر بھی سابقہ طریقے کے مطابق مذکورہ کلمات پڑھیں اور دعائیں مانگیں۔ [رب اغفروارحم انک انت الاعز الاکرام۔]
)          صفاسے مروہ پہنچنے تک ایک چکر مکمل ہوگا اور مروہ سے صفا پہنچنے تک دوچکر ہوں گے۔ اس طرح ساتواں چکر مروہ پر جا کر مکمل ہو گا۔
مسجد سے باہر نکلنے کی دعا:
[بِسْمِ اللّٰہِ وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ، اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ.]
`          سعی کے سات چکر مکمل کرکے حلق یا قصر کروائیں ۔ حلق اُسترے سے بال مُونڈنے کو کہتے ہیں اور قصر قینچی یا مشین وغیرہ سے بال کاٹنے کو کہتے ہیں۔ رسول اللہ e نے حلق کروانے والے کیلئے تین بار اور قصر کر وانے والے کیلئے ایک بار رحمت کی دعا کی۔
 ممنوعات احرام کی وضاحت:
1          احرام کی حالت میںخوشبو استعمال نہ کریں، بال اور ناخن بھی نہ کاٹیں، نیزمرد اپنا سرنہ ڈھانپیں۔
2          عورتیں دستانے نہ پہنیںاور نقاب بھی نہ کریں، البتہ غیر محر م کی موجودگی میں چہرے پر کپڑا  لٹکالیں۔چہرہ ڈھانپنا واجب ہے
3          سیدہ اسماء بنت ابی بکرw فرماتی ہیں کہ ہم (صحابیات) حالت احرام میں اجنبی مردوں سے اپنے چہرے ڈھانپ لیتی تھیں۔ (مستدرک حاکم، حدیث: ۱۶۶۸)
4          سیدہ عائشہr سے روایت ہے کہ ’’حجۃ الوداع کے سفر میں ہم لوگ بحالت احرام مکہ کی طرف جا رہے تھے جب مسافر ہمارے سامنے سے گزرنے لگتے تو ہم عورتیں اپنے سر سے چادریں کھینچ کر مُنہ پر ڈال لیتی تھیں۔‘‘ (سُنن ابی دائود، حدیث: ۱۸۳۳)
5          حالت احرام میں نکاح کرنایا کرانا، نکاح کا پیغام دینا اور نکاح کے دیگر متعلقات سب منع ہیں۔میا ں بیوی کے تعلقات بھی عارضی طور پر منع ہو جاتے ہیں۔
6          حج، عمرہ کا سفر عورتیں اپنے محرم یا خاوند کے ساتھ کریں۔ دوسروں کو اپنافرضی یا جعلی محر م بنا کر لے جانے سے عبادت ضائع ہو نے کا خدشہ ہے۔
7          حجراسود کو بوسہ دیتے وقت وہاں رش نہ کریں ، نہ کسی کو دھکا دیں۔
8          موبائل فون کا استعمال انتہائی مناسب ہو۔دوران طواف تصاویر بنانے سے پرہیز کریں۔ بے جا استعمال سے کہیں آپ کی عبادت حج و عمرہ ضائع نہ ہو جائے۔
9          بیمار ،کمزور اور بوڑھے لوگ وہیل چیئر کا استعمال کرسکتے ہیں اور یہ سہولت وہاں حرم کے اندر میسر ہے۔ بس اپنی کوئی علامت پاسپورٹ وغیرہ جمع کروا کر وہیل چیئر حاصل کر سکتے ہیں۔
0          دورانِ حج یا عمرہ کوئی ایمرجنسی پیش آجائے تو حج کے عملے کو ضرور اطلاع کریں۔
!          ویزااور پاسپورٹ کی ایک ایک فوٹو کاپی آپ اپنی جیب یا بیلٹ میں اور ایک کاپی بیگ میں رکھیں۔
@          حاجی صاحبان اپنے اپنے وطن کے سفیر ہوتے ہیں، لہٰذا دیار حرم میں اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں۔
#          نمازی کے آگے سے گزرنے سے پرہیز کریں۔ رسول اللہe کا فرمان ہے کہ اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو اس کی سزا معلوم ہو جائے تو وہ چالیس سال تک ٹھہرارہنے کو بہتر سمجھے۔ حدیث کے راوی کہتے ہیں کہ مجھے یا د نہیں رہا کہ آپ ؐ نے چالیس سال، چالیس مہینے یا چالیس دن فرمایا۔اس لئے راستوں سے ہٹ کر ستون یا دیوار کی آڑ میںنماز پڑھیں یا سترا کا استعمال کریں۔
$          مکہ یا مدینہ کی گری پڑی چیز اُٹھانا یا کسی کے جوتے پہننا منع ہے۔
%          حرم کے کبوتروں کو دانہ ڈالنا ، دانے کو بیت اللہ کی دیواروں سے ملنا ، کفن کو آب زم زم میں دھوکر لانایا خاک شفالانایہ سب سنت سے ثابت نہیں۔
^          مسجد الحرام اور مسجد نبویؐ کی صفائی کا خاص خیال رکھیں
&          جن لوگوں کو پیشاب قطرہ قطرہ آتا ہو یا بواسیر کی شکایت ہو تو وہ حالت احرام میں بھی انڈروئیر یا پیمپر پہن سکتے ہیں۔ [اَلطَّہُوْرُ شَطْرُالْاِیْمَانِ] ’’طہارت ایمان کا حصہ ہے‘‘ کے لحاظ سے پیشاب کے قطرے گرنے سے جگہ پلید ہو جاتی ہے ،اس لیے ایمر جنسی میں اس کی ضرورت ہے ۔
*          عمرہ کا طریقہ نہ سیکھنے کی وجہ سے کچھ حاجی صاحبان حلق یا قصر کروانے سے پہلے احرام کھول دیتے ہیں جس کے لیے دم، یعنی ایک بکرے کی قربانی واجب ہو جاتی ہے ۔اگرکوئی سعی کرنا ہی بھول جائے توواپس مکہ آکر سعی کرے اور اپنی عبادت مکمل کرے۔
(          رسول اللہe نے سیدنا عمرt کو خاص طور پر تاکید فرمائی تھی کہ دیکھو تم قوی آدمی ہو حجراسود کے استلام کے وقت لوگوں سے مزاحمت نہ کرنا اگر ممکن ہو تو بوسہ لینا ورنہ صرف استقبال کرکے تکبیر و تہلیل کہہ لینا۔
)          اضطباع صرف طواف قدوم میں ہے۔ طواف کے بعد کندھا ڈھانپ لیں۔ رسول اللہe کا فرمان ہے کہ کندھا ستر میں شامل ہے اگر کندھا ننگاہو گا تو نماز نہیں ہوگی۔
`          عورتوں کا مردوں کے آگے یا برابر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا سنت کے خلاف ہے۔
~          بیت اللہ شریف میں نماز یا طواف کیلئے کو ئی مکروہ وقت نہیں۔ (سنن ابودائود ۱۸۹۳)
-          حائضہ اور نفاس والی عورت طہارت کے بعد عمرہ کا طواف کرے گی۔
_          بعض لوگ طواف قدوم میں (دورانِ طواف )کعبہ کی طرف دیکھنا، حجراسود کو چھونا اور طواف کے بعد ملتزم سے چمٹ کر دعاکرنے کو ناجائز قرار دیتے ہیں اس کی کوئی دلیل نہیں۔
وطن واپس آنے سے پہلے طواف وداع کریں:
 حیض اور نفاس والی خواتین اس سے مستثنیٰ ہیں۔


No comments:

Post a Comment