آب زمزم 27-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, July 14, 2019

آب زمزم 27-2019


آبِ زمزم

تحریر: جناب قاری نصیر احمد ناصر
سیدنا اسماعیلu کے ایڑیاں رگڑنے کی جگہ،حضرت جبریلu کے (ھُزْمَہ)پَرمارنے سے سینکڑوں میل دورتک پڑنے والی دراڑوں سے بہنے والا چشمہ ،جسے سیدہ ہاجرہt نے زمزم کا نام دیا، جو فِیہِ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ کا ثبوت ہے۔
یہ وہ ربانی معجزہ ہے جسے رحمت عالمe نے بھوکے کی غذا اور بیمار کی شفاء قرار دیا۔
سیدنا ابو ذرغفاریt نے جس پانی پر ایک ماہ گزارہ کیا ،اسکے علاوہ کچھ کھایا نہ پیا اور وہ پہلے سے زیادہ صحت مند ہو گئے ۔
رسول اقدسe نے فرمایا: ’’زمزم جس مقصد کے لیے پیا جائے وہ پورا ہوگا۔‘‘
دنیا کا مُقَدَّس ومُطَہَّر اور بے شمار خوبیوں کا حامل یہ پانی چار ہزار سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد آج بھی اپنی آب وتاب سے بہہ رہا ہے ،کروڑوں افراد اسے پی رہے ہیں لیکن کیا مجال کہ ذرا بھی اس میں کمی آئی ہو، ہزاروں چشمے بہے اور خشک ہو گئے لیکن زمزم کا چشمہ سیل رواں کی طرح اب بھی بہہ رہا ہے۔
آج کے سائنسی دور میں نت نئی ایجادات کی طرح زمزم پر بھی تحقیقات ہو رہی ہیں ،صرف مسلمان ہی نہیں غیر مسلموں نے بھی تحقیقات کیں جن کے حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں۔ آئیے! آپ کو اس کی ایک جھلک دکھاتے ہیں:
ڈاکٹر یحییٰ کوشک نے انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کر رکھا ہے، فیزیوتھراپی میں بھی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ۱۹۷۹ میں زمزم کے کنویں میں اترنے کے بعد آپ نے آب مُرْوِیَہ کے متعلق لمبے عرصے تک تحقیق کی ہے وہ فرماتے ہیں:
زمزم کا کنواں دیگر کنووں سے یکسر مختلف ہے ، اس کے پھوٹنے کی اساس اورمنبع وادی نہیں بلکہ اس کا اصل مصدر اور منبع مکہ کے ارد گرد پہاڑوں میں پڑی دراڑیں ہیں جن سے پانی بہہ کر کنویں میں جمع ہوتا رہتا ہے۔‘‘
آب زمزم کا ذائقہ دوران سال تبدیل ہوتا رہتاہے، جب وہاں بارشیں ہوتی ہیں تو آب زمزم میٹھا ہوتا ہے اور بارشیں نہ ہوں تو مٹھاس کم ہو جاتی ہے۔
اکثر لوگوں کو اس معاملہ کا پتا نہیں ہوتا تو وہ کہتے ہیں،آپ زمزم میں فلاں پانی ملا تے ہو۔حالانکہ زمزم میں کبھی کوئی اور پانی نہیں ملایا جاتا۔
وہ بارشیں جو مکہ کے ارد گرد پہاڑوں پر برستی ہیں۔اسی وجہ سے سال بھر آبِ زمزم میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔چنانچہ اس کنویں کا مقصد سب سے پہلے تو سیدنا إسماعیل علیہ السلام کو بچانا اور پھر مکہ کی سنگ بنیاد رکھنا تھا۔ چنانچہ مکہ کی ابتداء زمزم کے کنویں سے ہوئی۔
ہم نے آب زمزم کے اصل ماخذ اور منبع کا سراغ لگانے کی کوشش کی تو ہمیں کچھ بھی معلومات نہ مل سکیں۔ لہٰذا ہم نے خود تحقیق شروع کی۔ بئرِ زمزم کی پیمائش کی تو وہ ۱۸ میٹر گہرا تھا۔ پھر ہم نے پانی کا اصل مصدر جاننے کے لیے کچھ غوطہ خور کنوے میں اتارے تاکہ وہ اندازہ کر سکیں کہ پانی کس جانب سے آتا ہے؟ جب غوطہ خورا س میں اترے تو عجیب بات یہ تھی کہ قطب نما چہار اطراف متعین ہی نہ کر سکا ۔گویاقطب نما کا م نہیں کر رہا، غوطہ خوروں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب! لگتا ہے یہ خراب ہے۔ ہم نے انہیں دوسرا قطب نما دے دیا۔لیکن دوسری مرتبہ بھی یہی معاملہ پیش آیا، ہم بڑے حیران ہوئے کہ یہ کیا معاملہ ہے، قطب نما کام کیوں کام نہیں کرتا؟پھر ہم نے گہرائی میں دیکھنے والاکیمرہ منگوایا تاکہ ہم جائزہ لے سکیں کہ نیچے کیا ہے۔ ہم نے جب ویڈیو کیمرہ نیچے بھیجا تو ہمیں پتہ چلا کہ نیچے بہت سی اشیاء گری ہوئی ہیں۔ ہم نے ان چیزوں کو نکالنا شروع کیا توہمیں یہ تو معلوم نہ ہو سکا کہ اس کنویں کی گہرائی کتنی ہے لیکن یہاں سے ہم ۵۰ سینٹی میڑ مزید گہرائی میں جاتے تو ہم پچاس سال پیچھے چلے جاتے۔ بالآخر تمام اشیاء نکال کر پتہ چلا کہ پانی کا بہت بڑا چشمہ کعبہ کے حجر اسود والے کونے سے پھوٹ رہا ہے۔
ایموتو مسارو مشہور جاپانی غیر مسلم سائنسدان ہیں، ہاروڈ نامی ایک علمی تحقیقی مرکز کے مینیجر ہیں‘ واٹر کرسٹلائیزیشن کے نظریے کے بانی ہیں۔ پانی کے متعلق ان کی کئی کتابیں ہیں جن میں سب سے مشہور کتاب  زمزم کے متعلق ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ پانی ہر اس چیز کا اثر قبول کرتا ہے جو اس کے قریب ہو، چاہے وہ کوئی تصویر ہو یا آواز۔
ان کی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انسانی افکار اور کلام کے اثرات پانی پر مرتب ہوتے ہیں۔ انسانی حرکات وسکنات، افکار، موسیقی، دعا اور عبادت کا پانی کی ایٹمی توانائی پر اثر ہو تا ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ آب زمزم کئی معدنیات پر مشتمل ہے، لہذا یہ طاقتور پانی ہے، خالص زمزم کے ذروں کو جانچانہیں جا سکتا کیونکہ نمکیات کا تناسب اس میں بہت زیادہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم آب زمزم کو ہلکا کرنے کے لیے ایک قطرے میں ہزار قطرے ملاتے ہیں تو پھر ذرات کی تصویر کا عمل ممکن ہوپا تا ہے۔
آب زمزم کا ایک قطرہ عام پانی کے ایک ہزار قطروں میں ملا دیا جائے تو زمزم کی خصوصیات اس ہزار قطرے میں بھی نظر آنے لگتی ہیں۔
ڈاکٹر زغلول النجار علم ارضیات کے ماہر ہیں، اسلامی دنیا کی معتبر ،،کمیٹی برائے قرآن وسنت نبوی کے سائنسی معجزات کے مینیجر ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں، تصنیفات کی تعداد ۷۵ سے زیادہ ہے، جن میں سے اکثر کا دیگر زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
وہ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں رب العالمین کا ارشاد ہے :
{اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّۃَ مُبَارَکًا وَّہُدًی لِّلْعَالَمِینَ فِیہِ اٰیٰتٌ بَیِّنَاتٌ مَّقَامُ اِبْرَاہِیمَ٭}
میں کہتا ہوں کہ اس آیت کا ہر کلمہ تاریخی، دینی یا معنوی معجزہ ہونے سے پہلے علمی معجزہ ہے۔
{فِیہِ اٰیٰتٌ بَیِّنَاتٌ} کے متعلق میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان نشانیوں میں سے حرم مکی میں پہلی واضح نشانی بئر زمزم ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ جو شخص مکہ مکرمہ کے گرد آبادیوں کو جانتا ہے اس کو پتہ ہے کہ مکہ آتش فشاں چٹانوں سے بنے پہاڑوں پر قائم ہے ۔ اوّل تو آتش فشاں چٹانوں میں مسام نہیں ہوتے۔ دوسرا یہ کہ لاوا پھٹنے کی وجہ سے جب ان کی ہئیت بدل جاتی ہے تو اگر کچھ مسام ہوں بھی تو وہ بھی ختم ہو جاتے ہیں، کیونکہ لاوا پھٹنے کی وجہ سے یہ تقریبًا مائع بن جاتے ہیں‘ پھر جب وہ دوبارہ پتھر کی شکل اختیار کرتے ہیں تو ان کے اجزا بالکل ٹھوس ہو جاتے ہیں۔
چٹانوں کا یہ ڈھیر جس پر مکہ مکرمہ قائم ہے یہ ایسا ڈھیر ہے جو مسام سے بالکل خالی ہے۔ تو ان میں پانی کیسے ہو سکتا ہے؟ اور کیسے ممکن ہے کہ ایسا کنواں یہاں سے نکل آئے اور وہ ۴۰۰۰ ہزار سال سے زائد عرصہ تک بہتا ہی رہے؟
یہ اس جگہ کی کرامت کی طرف پہلا اشارہ ہے اور مادی اورظاہری دلائل اس کی کرامت پر دلیل ہیں، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ بئر زمزم کی موجودگی مکہ مکرمہ کی کرامت کی پہلی دلیل ہے۔
زمزم کے اس پانی کے مصدر اور منبع کا پتا نہ چل سکا، جب تک مکہ مکرمہ کے پہاڑوں میں سرنگیں نہ کھودی گئیں۔چنانچہ جب یہ سرنگیں نکالی گئیں تومزدوروں اور انجینئرز نے دیکھا کہ چٹانوں میں انتہائی بریک دراڑیں ہیں جن سے ایسا پا نی بہہ رہا ہے جس میں زمزم والی صفات پائی جاتی ہیں۔
سو ہمیں رسول اکرمe کی حدیث فورًا ہی سمجھ آگئی۔ آپ نے فرمایا: ’’یہ جبریل کا ھُزمَہ اور اسماعیل کے لیے پینے کا انتظام ہے۔‘‘ ہزمہ زوردار ضرب کو کہتے ہیں۔ یعنی یہ ایک بڑے فرشتے کی ضرب کی وجہ سے اتنی زیادہ دراڑیں پڑ گئیں جو ہزار ہا کلومیڑ تک موجود ہیں۔یہ دراڑیں ہی پانی کا اصل مصدر ہیں۔ انہی سے ہوتاہوا پانی بالآخر آکر بئر زمزم میں جمع ہو جاتا ہے۔ بئر زمزم کی کوئی خاص گہرائی بھی نہیں۔
کنویں کی گہرائی تقریباً ۳۰ میڑ ہے، جس میں ۱۳ میٹریا اس سے کچھ کم وادی کی مٹی اور گارا وغیرہ ہے، جسے اب پکّا کر دیا گیا ہے۔ اس میں سے کوئی پانی نہیں بہتا۔ اس سے نیچے تقریباً ۱۷ میٹر ایسی مضبوط اور باہم جڑی ہوئی چٹانیں ہیں جن سے پانی نہیں بہہ سکتا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ اسی میں سے آبشاروں کی طرح پانی بہتا چلا آ رہا ہے۔ لمبی لمبی دراڑوں سے گزرتا ہو ا کنویں تک پہنچتا ہے۔ تاہم ہمارے پروردگار نے اس پانی میں ایسی خصوصیات پیدا کر دی ہیں جو روئے زمین پر اس کے علاوہ کسی دوسرے پانی میں نہیں پائی جاتیں۔ یہ پانی ان چٹانوں میں بہت لمبا سفر طے کر تا ہواآتا ہے اور ان چٹانوں سے وہ ایسی معدنیات جذب کرکے، جو اللہ کی مشیئت کے مطابق انسانی جسم اور نفسیات کے لیے بہت مفید ہوتی ہیں، اس کنویں میں جمع ہو جاتا ہے۔
جب سیدنا ابراہیمuکو حکم ملا کہ اپنی بیوی سیدہ ہاجرہr اور دودھ پیتے بچے اسماعیل کو اس علاقے میں چھوڑ دیں، جہاں انسان تھے نہ حیوان، درخت تھے نہ پانی اورنہ کوئی اور چیز، سوائے چند کھجوروں اور تھوڑے سے پانی کے توسیدہ ہاجرہr نے سیدنا ابراہیمu کے پیچھے دوڑ کر آوازیں دیں کہ ابراہیم! ہمیں کس کے سپرد کر کے جا رہے ہو؟ تو وہ کوئی جواب نہ دیتے تھے۔ ابراہیم! ہمیں کس کے سہارے چھوڑ کے جا رہے ہو؟ میں سوچتا ہوں کہ اس وقت سیدنا ابراہیمu کا دل پھٹ رہا ہو گا، جب عمر طویل کے بعد ملنے والے اکلوتے بیٹے اور اپنی بیوی کو کہ جس نے اس حسین بچے کو جنم دیا تھا اور خود بھی بالکل نوجوان تھیں، ان دونوں کو چھوڑ کر جا رہے تھے۔ ظاہر ہے آپ u ان دونوں کو اللہ کے حکم کی بجا آوری کرتے ہوئے چھوڑ رہے تھے۔ یہاں سیدہ ہاجرہr کو احساس ہو گیا تھا چونکہ ان کے خاوند اولو العزم پیغمبروں میں سے تھے۔ تو وہ سمجھ گئیں کہ ان کے خاوند اللہ کے حکم پر ایسا کر رہے ہیں۔ تو تین مرتبہ یہ پوچھنے کے بعد کہ ہمیں کس کے حوالے کر کے جا رہے ہو؟ جب کوئی جواب نہ پایا تو کہنے لگیں کہ آیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ تو ابراہیمu نے رخ مبارک کو پیچھے موڑتے ہوئے فرمایا: ہاں! یہ کہہ کر آگے چل دئیے۔ تو اس عظیم عورت نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر عجیب یقین ظاہر کرتے ہوئے کہا: اگر ایسا ہے تو پھر ’’اللہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا۔‘‘ صرف اسی جملہ کی تکریم کی خاطر اللہ نے جبریلu کو بھیجا تاکہ اپنی ایڑی سے زمین پر ضرب لگائے اور پانی کا چشمہ پھوٹ پڑے۔
امام نوویa فرماتے ہیں کہ آب زمزم جس مقصد کے لیے بھی پیا جائے وہ پورا ہو گا۔ والی حدیث دنیا و آخرت کے ہر مقصد کے لیے ہے اورعلماء یہ راز بخوبی جان گئے۔
چنانچہ اما م شافعی رحمہ اللہ اس نیت سے زمزم پیتے کہ وہ دنیا کے بڑے عالم بن جائیں، امام ابو حنیفہa اس نیت سے زمزم پیتے تھے کہ وہ وقت کے سب سے بڑے فقیہ بن جائیں‘ سوا ن کے ارادے پورے ہو گئے۔
لہٰذا زمزم کو اس نیت سے پیو کہ آپ کے بلند اور بڑے عزائم پورے ہو جائیں۔ اللہ کے فضل و کرم، احسان ور حمت سے اور اس پانی میں موجود برکت سے آپ کے مقاصد ضرور پورے ہو ں گے۔
رسول اللہe نے سچ فرمایا: ’’آب زمزم جس مقصد کے لیے بھی پیا جائے وہ پورا ہو گا۔‘‘
قارئین کرام! یہ زمزم کے چند فوائد اور کچھ لوگوں کی تحقیقات ہیں‘ کیا ہی اچھا ہو کہ مسلمان کولڈ ڈرنک اور مصنوعی طاقتور مشروبات کے بجائے زمزم کو گھر کی زینت اور زندگی کا حصہ بنائیں‘ مہمانوں کو پیش کریں ۔
اللہ تعالی ہمیں زمزم کی قدر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین!



No comments:

Post a Comment

View My Stats