ڈاکٹر عبدالکریم رحمہ اللہ 27-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, July 14, 2019

ڈاکٹر عبدالکریم رحمہ اللہ 27-2019


میرے والد گرامی ... ڈاکٹر عبدالکریم رحمہ اللہ

تحریر: جناب ڈاکٹر محمد منیر اظہر
والد گرامی ڈاکٹر عبدالکریم صاحب ۲۶ مئی ۲۰۱۹ء، رمضان المبارک کی اکیسویں شب سوموار کی رات تقریبا پونے دس بجے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! اللہ تعالی اس ماہ مبارک میں ان کی وفات کو مبارک بنا دے اور ان کی مغفرت کا سامان کر دے۔
والد گرامی نے تقریبا چوراسی برس کی عمر پائی اور محنت و لگن سے بھر پور سادہ اور صاف شفاف زندگی گزاری، ۲۰۱۴ء میں وہ ٹی بی کے مرض میں مبتلاء ہوئے جس سے صحت یاب ہوگئے تھے لیکن طبیعت میں کمزوری مسلسل باقی رہی، اڑھائی ماہ بستر پر گزارے لیکن آخری وقت تک یاد داشت قائم رہی ، نماز باقاعدگی سے ادا کرتے رہے اور اکثر وقت استغفار میں گزارتے تھے۔
والد گرامی نے گاؤں امی والا ، تحصیل زیرہ، ضلع فیروز پور سے پرائمری تک تعلیم حاصل کی اور پھر یہیں سے ۱۹۴۷ء میں ہجرت کی، اپنے گاؤں اور ہجرت کے حالات ان کو یاد تھے۔ پاکستان ہجرت کرتے ہوئے جو کرب ناک واقعات پیش آئے ،ان میں سے کئی ایک کے وہ چشم دید گواہ تھے ۔ ہجرت کے بعد چک نمبر ۱۲/۸۸ ایل، نزد اوکانوالہ بنگلہ ضلع ساہیوال میں آباد ہوئے، ہجرت کی تلخیوں کی بنا پر پڑھائی جاری نہ رکھ سکے لیکن معمولی تعلیم کے باوجود ان کا خط بہترین اور حساب زبردست تھا ، بعد ازاں عبدالحکیم شہر میں ہمارے تایا جان ڈاکٹر خوشی محمد اس وقت ایک ماہر اور سینئر ڈاکٹر تھے، ان کے پاس جا کر ایک عرصہ طب کا پیشہ سیکھا‘ اس کے بعد وہاں سے گاؤں 7/8-AR (کرملی والا) تحصیل میاں چنوں ضلع خانیوال میں منتقل ہو گئے، اس وقت وہ اس گاؤں کے منفرد طبیب تھے ، نہایت سستے داموں لوگوں کو علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کرتے تھے۔پیشہ طب کے ساتھ ساتھ زمین داری کا شُغل بھی جاری رکھا۔
والد گرامی شروع سے ہی عقیدہ توحید کے حامل اور مسلک اہل حدیث پر کاربند تھے ، عقیدہ توحید پر نہایت راسخ قسم کے نظریات کے حامل تھے اور شرک و بدعت سے کوسوں دور تھے۔ عبدالحکیم شہر اور پھر ہمارے گاؤں میں ان کو بہت سے علماء کی صحبت حاصل رہی اور انہوں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ۔ ہمارے گاؤں میں اس وقت جامعہ سعیدیہ کے  نام سے دینی علوم کی عظیم درس گاہ کا فیض جاری و ساری تھا، اس لیے طلبہ اور علماء کرام سے رابطہ رہتا تھا، اس وقت ان کا مطب بھی مسجد کی جگہ میں ہی تھا۔
وہ اکثر اپنی گفتگو میں صوفی ولی محمد، مولانا عبدالقادر روپڑی اور مولانا احمد دین گگھڑوی، مولانا عبدالقادر زیروی، مولانا عبداللہ گورداس پوری اور مولانا محمد حسین شیخوپوریS کا تذکرہ فرماتے تھے اور ان کی باتیں اور مقولے نقل کرتے اور واقعات سنایا کرتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق بر سر اقتدار آئے توان کی دینی فکر اور اصلاحات سے بہت متاثر تھے حتی کی چھوٹے بھائی کا نام بھی ضیاء الحق رکھا، مولوی غلام رسول کی شمع محمدی اور مولانا عبدالستار کی قصص النبیٖن پنجابی کتب کا ایک معتبر حصہ ان کو زبانی یاد تھا اور خوبصورت پنجابی لے میں اسے پڑھا کرتے تھے۔
وہ خود بھی پابند صوم و صلاۃ تھے اور بچپن سے ان کویہ توفیق حاصل تھی ، اپنی اولاد و اقرباء پر بھی اس سلسلے میں سختی کرتے تھے۔یہ ان کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ آج ہم دین اور دینی علوم سے وابستہ ہیں۔ آپ عقیدہ توحید پر ہمیشہ کاربند رہے۔ ۱۹۸۸ء میں برادر اکبر محمد نعیم بہت زیادہ بیمار ہوگئے لیکن اس دوران بھی جھوٹے عاملوں کے پاس جانے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ انہوں نے اپنی اولاد کو ہمیشہ دین اسلام اورخصوصا نماز کی پابندی کرنے اور جھگڑے اور اختلاف سے بچنے کی وصیت کی، زندگی بھر رزق حلال کا اہتمام کرتے رہے ، اللہ تعالی ان کی قبر منور فرما دے۔
والد گرامی رحمہ اللہ نے پس ماندگان میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں ،ان کے دو بیٹے محمد سلیم، راقم الحروف اور کئی پوتے وغیرہ حافظ قرآن اور دین کے عالم ہیں، الحمد للہ! سب بیٹے بیٹیاں اپنے اپنے گھر وں میں آسودہ حال اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے بہرہ مند ہیں۔
والد گرامی رشتے میں استاذ الحفاظ حافظ عبدالستار صاحب کے ماموں تھے ۔ حافظ صاحب کے ساتھ پوری زندگی کا بڑا گہرا تعلق اور ہمہ وقت کا ساتھ تھا۔ ہر جگہ، سفر وحضر اور تمام معاملات میں دونوں اکٹھے نظر آتے تھے‘ مسجد اہل حدیث اور مدرسہ کے معاملات میں ہمیشہ حافظ صاحب کے لیے پُشتیبان اورمثل سائبان رہے۔ انہوں نے گاؤں کے سماجی ومعاشرتی معاملات میں ہمیشہ حافظ صاحب کے مشورے سے فعال اور بہترین کردار ادا کیا۔
ابا جان کی وفات سے ان کی اولاد و احفاد کے ساتھ ساتھ حضرت حافظ صاحب کو بہت بڑا صدمہ پہنچا جس پر وہ بہت کبیدہ خاطر اور رنجیدہ ہیں، یقینا ہر انسان کی آخری منزل یہی ہے،ہم اللہ تعالی کی رضا پر راضی ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ان کی حسنات کو قبول فرمائے اور لغزشوں سے درگزر فرما کر ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا ء فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats