حج بیت اللہ کی فضیلت 27-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

حج بیت اللہ کی فضیلت 27-2019


حج بیت اللہ کی فضیلت

تحریر: جناب مولانا امیر افضل اعوان
خالق کائنات کی بڑی کرم نوازی ہے کہ اس نے ہمیں دین حق پر پیدا کیااور امت محمدی پر اجرء ثواب، رحمت، بخشش، برکت وفضیلت کے در کھول دیئے۔ اسلام کی عمارت جن ستونوں پر استوار ہے حج اس میں چوتھے درجہ پر اورتمام عمر میں ایک مرتبہ ہر اس مسلمان عاقل بالغ شخص پر فرض ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اتنی مالی کشادگی دی ہو کہ وہ حرمین شریفین آنے جانے پر نہ صرف قادر ہو بلکہ واپسی تک اپنے اہل وعیال کے مصارف بھی برداشت کر سکتا ہو۔ لغوی اعتبار سے کسی عظمت والی جگہ یا چیز کا بار بار قصد و ارادے کو حج کہتے ہیں۔ جب کہ شریعت کی اصطلاح میں مخصوص اعمال کے ساتھ بیت اللہ شریف کی زیارت و قصد کو حج کہا جاتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو بخوبی علم ہوتا ہے کہ حج کا رواج اگرچہ سیدنا سیدنا ابراہیمu کے زمانے سے ہے مگر اس وقت فرضیت کا حکم نہ تھا، حج کی فرضیت امت محمدی کے لئے خاص تحفہ خداوندی ہے۔ خانہ کعبہ کی تعمیر بھی سیدنا ابراہیمu اور سیدنا اسماعیلu نے کی اور قرآن کریم میں ذکر ہے کہ جب آپؑ دونوں خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو آپؑ نے اللہ پاک سے دعا کی کہ
’’اے ہمارے رب! ہمیں اپنا فرمانبردار بنا دے اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک جماعت کو اپنا فرمانبردار بنا اور ہمیں ہمارے حج کے طریقے بتا دے اور ہماری توبہ قبول فرما بیشک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔‘‘ (سورہ البقرہ)
خانہ کعبہ کی تعمیر کے دوران یہ دونوں پیغمبر‘ باپ بیٹا ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کر رہے تھے کہ الٰہی! ہماری یہ خدمت قبول فرما اور اپنا مطیع فرماں بنا، اور ہماری اولاد میں سے ایک مسلم قوم پیدا کر، مسلم وہ ہوتا ہے جو اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کر دے‘ اپنے آپ کو کلیتاً اللہ کے سپرد کر دے‘ اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق دنیا میں زندگی بسر کرے، اس عقیدے اور طرز عمل کا نام اسلام ہے اور یہی تمام انبیاء کا دین رہا ہے۔
مسلمانوں پر حج ہجرت کے بعد ۹ ہجری کے آخر میں فرض ہوا‘ اس وقت حج کا زمانہ نہ ہونے کی وجہ سے حضور اکرم e نے اگلے سال دس ہجری کو حج ادا فرمایا اس کو حجتہ الوداع بھی کہتے ہیں‘ اس کے بعد آپ e دنیا کو داغ مفارقت دے گئے۔ حج کی فرضیت قرآن مجید احادیث مبارکہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ قرآن مجیدمیں متعدد مقامات پر اس کا ذکر موجود ہے کہ
’’ اللہ نے کعبہ کو جو بزرگی والا گھر ہے لوگوں کے لیے قیام کا باعث کر دیا ہے اور عزت والے مہینے کو اور حرم میں قربانی والے جانور کو بھی اور جن کے گلے میں پٹہ ڈال کر کعبہ کو لے جائیں‘ یہ اس لیے ہے کہ تم جان لو کہ بیشک اللہ کو معلوم ہے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور بیشک اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔‘‘ (سورہ المائدہ)
اسی طرح قرآن کریم میں ایک اور مقام پر خالق کائنات ارشاد فرما ہے کہ
’’اس میں ظاہر نشانیاں ہیں‘ مقام ابراہیم ہے اور جو اس میں داخل ہو جائے وہ امن والا ہو جاتا ہے اور لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا اللہ کا حق ہے جو شخص اس تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو اور جو انکار کرے تو پھر اللہ جہان والوں سے بے پروا ہے۔‘‘ (آل عمران)
یہاں واضح کردیا گیا کہ حج کرنا اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور جو مالی لحاظ سے کشادگی کے باوجود حج نہ کرئے تو اس کا وبال اسی کے سر ہوگا ۔
قرآن کریم کے ساتھ ساتھ احادیث مبارکہ میں بھی حج کی فرضیت بارے تاکید کی گئی، ایک حدیث مبارکہ میں منقول ہے‘ سیدنا ابن عمرw سے روایت ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
’’اسلام (کا قصر پانچ ستونوں) پر بنایا گیا ہے، اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد (e) اللہ کے رسولe ہیں، نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا، حج کرنا، رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘ (صحیح بخاری)
یہاں آپ e نے بیان فرمادیا کہ کلمہ، نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے ساتھ ساتھ حج اسلام کا بنیادی رکن ہے کہ جس پر دین کی عمارت قائم ہے، حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے سے انسان کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں گویا وہ آج ہی دنیا میں آیا ہو۔ اس حوالہ سے ایک حدیث مبارکہ میں ذکر ہے‘ سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم e کو فرماتے ہوئے سنا کہ
’’جس نے اللہ کے لئے حج کیا اور اس نے نہ فحش بات کی اور نہ گناہ کا مرتکب ہوا تو اس دن کی طرح (گناہ سے پاک وصاف) ہوگا جس دن سے اس کی ماں نے جنا تھا۔‘‘ (صحیح بخاری)
اس حدیث میں حج کرنے والے انسان کو ماں کے پیٹ سے جنے جانے کی مثالی دی گئی مگر یہاں یہ امر قابل توجہ ہے کہ اس کے بعد وہ کوئی گناہ نہ کرئے۔ ایک اور حدیث میں اس کی وضاحت یوں کی گئی
سیدنا منصورt سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت منقول ہے اور ان ساری حدیثوں میں ہے کہ جس آدمی نے حج کیا اور پھر نہ تو کوئی بیہودہ باتیں کیں اور نہ ہی کوئی گناہ کا کام کیا۔‘‘ (صحیح مسلم)
ہمارے معاشرہ میں یہ سوچ تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے کہ حج کرلیا تو پچھلے گناہ بخش دیئے گئے اور اب ہم آئندہ کے لئے آزاد ہیں۔ متذکرہ بالا احادیث کی روشنی میں بخوبی علم ہوتا ہے کہ ہماری یہ سوچ دراصل ہمارے بیمار معاشرے کی عکاس ہے‘ اس کا حقیقت اور دین سے کوئی تعلق نہیں۔
حج کی فرضیت کے لئے بنیادی طور پر جو شرائط بیان کی جاتی ہیںان میں اول مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ مالی استطاعت رکھنا، اس کے بعد ذی شعور، آزاد، بالغ اور حج کی فرضیت سے باخبر ہونا شامل ہے۔ مالی طور پر استطاعت کا مطلب یہاں یہ ہے کہ یہ سرمایہ اہل وعیال کے حج سے واپسی تک کے اخراجات سمیت دوا دارو، سواری، اپنے پیشے کے آلات، مرمت مکان و دیگر ضروریات سے فاضل و زائد ہو لہٰذا اگر مکان، زمین، مال، تجارت اور آلات پیشہ وغیرہ ضرورت سے زائد ہوں تو ان کو فروخت کرکے حج کا ادا کرنا ضروری ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں منقول ہے‘ سیدنا عبداللہ بن عباسt سے روایت ہے کہ رسول کریم e نے فرمایا:
’’جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ حج کرنے میں جلدی کرے، (یعنی تاخیر نہ کرے ہو سکتا ہے بعد میں موقع نہ ملے)۔‘‘ (ابوداؤد)
اسلام میں حج کو ایمان لانے کے بعد جہاد کے بعد سب سے افضل عمل قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث پا ک میں آتا ہے‘ سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ
نبی کریمe سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ e نے فرمایا: ’’اللہ اور اس کے رسول (e) پر ایمان لانا۔‘‘ پوچھا گیا اس کے بعد کون سا؟ آپ e نے فرمایا: ’’اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا۔‘‘ پوچھا گیا پھر کون سا؟ آپ e نے فرمایا کہ ’’حج مقبول۔‘‘ (صحیح بخاری)
مگر خواتین کے لئے ایمان لانے کے بعد سب سے افضل عمل حج ہی ہے۔ اس باب میں ایک حدیث مبارکہ میں منقول ہے‘ سیدہ عائشہr روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ e سے جہاد کی بابت اجازت طلب کی تو آپ e نے فرمایا کہ ’’تم لوگوں کا جہاد تو حج ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
ان احادیث مبارکہ کی روشنی میں حج کی فرضیت کے ساتھ ساتھ اس کی شرعی اہمیت کو بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباسw سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت آئی اوراس نے عرض کیا‘ اللہ کے رسول! اللہ نے اپنے بندوں پر حج فرض کیا ہے‘ لیکن میرا باپ بہت بوڑھا ہوگیا ہے‘ وہ سواری پر ٹھہر نہیں سکتا تو کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپ e نے فرمایا: ’’ہاں اور یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
اس حدیث میں وضاحت کی جارہی ہے کہ آپ اپنے اہل خانہ کی طرف سے بھی حج کرسکتے ہیں۔ ایک حدیث میں مذکور ہے کہ حج مقبول کی جزا جنت ہے۔
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’ایک عمرہ دوسرے عمرے تک ان گناہوں کے لئے کفارہ ہوتا ہے جو دو عمروں کے درمیان ہوئے ہوں، اور حج مقبول کی جزا جنت ہے۔‘‘ (صحیح بخاری)
یہاں یہ بھی بیان کردیا گیا کہ دو مرتبہ عمرہ کرنا درمیانی عرصہ کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور ابن آدم پر اللہ پاک کی کرم نوازی اس درجہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے اس کے گذشتہ عمر کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ (صحیح مسلم) میں سیدنا عمرو بن العاصt کے قبول اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے زبانی وضاحت کی گئی ہے کہ
جب اللہ نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈالی تو میں نے رسول اللہ e کی خدمت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ e کے ہاتھ پر بیعت کروں، آپ e نے فرمایا: اے عمرو! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک شرط ہے‘ آپ e نے فرمایا: ’’کیا شرط ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ یہ شرط کہ کیا میرے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے؟ آپ e نے فرمایا: ’’اے عمرو! کیا تو نہیں جانتا کہ اسلام لانے سے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور ہجرت سے اس کے سارے گذشتہ اور حج کرنے سے بھی اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔‘‘
اسلام میں حج کا طریقہ بھی بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے مگر کسی بھی بھول چوک پر جیسے دین کے دیگر معاملات میں رعائت دی گئی اسی طرح مناسک حج کے دوران اگر کوئی عمل رہ گیا ہو تو یاد آنے پر ادا کیا جاسکتا ہے جس کی بابت اس حدیث مبارکہ میں ذکر موجود ہے کہ
سیدنا عبداللہ بن عمر وبن العاصw سے روایت ہے کہ رسول اللہ e حجۃ الوادع میں لوگوں کے لئے منیٰ میں ٹھہر گئے، اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ نادانستگی کی وجہ سے میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا‘ آپ e نے فرمایا: ’’اب ذبح کرلے کچھ حرج نہیں۔‘‘ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا کہ نادانستگی میں میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کرلی ہے۔ آپ e نے فرمایا: ’’اب رمی کرلے، کوئی حرج نہیں۔‘‘ سیدنا عبداللہ بن عمرw کہتے ہیں کہ (اس دن) آپ e سے جس چیز کی بابت پوچھا گیا، خواہ مقدم کردی ہو یا مؤخر کردی گئی، تو آپe نے یہی فرمایا کہ کرلے کچھ حرج نہیں۔‘‘ (صحیح بخاری)
متذکرہ بالا آیات و احادیث میں حج کی فرضیت وفضیلت کا تفصیلی ذکر موجود ہے جس کی روشنی میں ہم دین کے اس اہم فریضہ کی اہمیت کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطاے فرمائے، آمین ثم آمین!


No comments:

Post a Comment