احکام ومسائل 27-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 14, 2019

احکام ومسائل 27-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

عورت طلاق کے بعد خاوند کے حق رجوع کو نہیں مانتی
O ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی‘ پھر دوران عدت رجوع کر لیا‘ اب عورت اس رجوع پر گھر آباد کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ کیا خاوند کے رجوع کرنے پر بیوی کو یہ حق ہے کہ وہ خاوند کے گھر آباد ہونے سے انکار کر دے؟!
P طلاق‘ ہمارے معاشرہ کا ایک سلگتا ہوا موضوع ہے کہ اس پر درد دل سے غور وفکر کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صبر وہمت عطا فرمائے کہ ہم استقامت کے ساتھ خاندانی نظام کو مضبوط سے مضبوط تر کر سکیں۔ اگر بیوی کو یقین ہو جائے کہ میرا خاوند میرے حقوق کا پاسدار اور میری غیرت وناموس کا محافظ ہے۔ اسی طرح اگر خاوند کو اعتماد میں لے لیا جائے کہ اس کی بیوی وفادار‘ تقویٰ شعار اور اس کے مال واولاد کی نگران ہے تو خاندان کے ٹوٹنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ اسلامی خاندانی نظام میں چونکہ مرد عورتوں کے معاملات کے ذمہ دار‘ پورے گھر کے منتظم اور خرچ واخراجات برداشت کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں اس لیے طلاق اور رجوع کا حق صرف مرد کو دیا گیا ہے۔ عورت اسے مانتی ہے یا نہیں مانتی اس سے طلاق اور رجوع کے مؤثر ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
صورت مسئولہ میں ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر دوران عدت رجوع کر لیا تو اس نے اپنے شرعی حق کو استعمال کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’(طلاق کے بعد) اگر ان کے خاوند عدت کے دوران پھر سے تعلقات استوار کرنے پر آمادہ ہوں تو وہی انہیں زوجیت میں واپس لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔‘‘ (البقرہ: ۲۲۸)
دوران عدت‘ خاوند نے رجوع کر لیا ہے۔ اب وہ ’’مطلقہ بیوی‘‘ رجوع کے بعد اس کی زوجیت میں آچکی ہے‘ اسے چاہیے کہ وہ واپس آکر اپنے گھر کو آباد کرے۔ اگر وہ اس کے ہاں نہیں رہنا چاہتی تو شریعت نے اس کے لیے خلع کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ اس کے ذریعے وہ اپنے خاوند سے چھٹکارا حاصل کر سکتی ہے۔ البتہ اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے خاوند کے گھر آباد ہونے سے کیوں انکاری ہے؟ خاندان کے باشعور حضرات اس کے با عزت حل کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں۔ اگر خاوند کا کوئی قصور ہے تو اسے سمجھائیں بصورت دیگر وہ بیوی کو اپنا گھر آباد کرنے پر آمادہ کریں۔ واللہ اعلم!
نکاح کے لیے عمر کی تحدید
O قرآن کریم میں ہے ’’تم یتیم بچوں کی آزمائش کرتے رہو تا آنکہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں۔‘‘ نکاح کے قابل عمر کی تحدید کیا ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں۔
P سوال میں ذکر کردہ آیت کریمہ بنیادی طور پر نادانوں کو وراثت میں ملنے والے مال کے متعلق ہے کہ انہیں ان کا مال کب واپس کیا جائے؟ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تم نادانوں کو ان کے مال واپس نہ کرو جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ذریعہ حیات بنایا ہے۔ البتہ ان کے مال سے انہیں کھلاتے پلاتے رہو اور لباس وغیرہ کا بھی بندوبست کرتے رہو۔ نیز جب ان سے بات کرو تو اچھی بات کرو اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو تا آنکہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں پھر تم ان میں اہلیت معلوم کرو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو۔‘‘ (النساء: ۵ـ۔۶)
اس آیت کریمہ کی رو سے نادانوں کو ان کا مال واپس کرنے کی دو شرطیں بیان ہوئی ہیں: ایک بلوغت اور دوسری رشد یعنی مال کو صحیح طور پر استعمال کرنے کی اہلیت۔ جب تک یہ دونوں شرطیں نہ پائی جائیں ان کا مال ان کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔ اس وضاحت کے بعد ہم سائل کے سوال کی طرف آتے ہیں۔ شریعت نے نکاح کے لیے عمر کی کوئی تحدید نہیں کی۔ البتہ بلوغ کے بعد شادی کو بہتر قرار دیا گیا ہے۔ بلوغ کے لیے بھی عمر کی کوئی حد مقرر نہیں۔ گرم ممالک میں لڑکے لڑکیاں جلد بالغ ہو جاتے ہیں جبکہ سرد ممالک میں بلوغت دیر سے آتی ہے۔ پھر ماحول اور حالات بھی بلوغت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ البتہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے کچھ ایسی علامات ضرور ہیں جو ان کے بالغ ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ مثلاً لڑکوں میں احتلام ہونا اور لڑکیوں کو حیض آنا اور ان کی چھاتیوں کا ابھر آنا خاص علامات ہیں۔ اس کے علاوہ زیر ناف بالوں کا اُگنا اور عقل داڑھ کا آنا‘ دونوں میں مشترک علامتیں ہیں۔ نیز لڑکوں کے لیے داڑھی اور مونچھ کے بال آنا بھی ان کے بالغ ہونے کی علامت ہے۔
البتہ قانونی طور پر اٹھارہ سال سے کم عمر میں شادی کرنا جرم ہے۔ ہمارے رجحان کے مطابق شادی کے لیے اس قسم کی شرائط لگانا انتہائی محل نظر ہے۔ اسی طرح بالغ ہونے کے بعد نکاح کی قید لگانا بھی درست نہیں۔ واللہ اعلم!
والدین کی زیارت اور حج وعمرہ کا ثواب
O ہمارے ہاں واعظین اور خطباء حضرات والدین سے حسن سلوک کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ والدین کو محبت بھری نگاہ سے دیکھنا بہت بڑی سعادت ہے‘ اس سے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملتا ہے۔ اس حدیث کی استنادی حیثیت کیسی ہے؟!
P والدین سے حسن سلوک کرنے کے متعلق بہت سی قرآنی آیات اور مستند احادیث مروی ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے جہاں اپنا حق عبادت اور حق توحید بیان کیا ہے وہاں ساتھ ہی والدین کی اطاعت اور ان سے حسن برتاؤ کا ذکر کیا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل آیات میں ہے:
\          جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہنا۔ (البقرہ: ۸۳)
\          آؤ! میں تمہیں ایسی چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر واجب کی ہیں‘ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین سے اچھا برتاؤ کرو۔ (الانعام: ۱۵۱)
\          تمہارے رب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ (الاسراء: ۲۳)
\          ہم نے انسان کو تاکید کی ہے کہ اپنے والدین سے اچھا برتاؤ کرتے رہو۔ (لقمان: ۱۳)
اسی طرح رسول اللہe نے بھی اس سلسلہ میں بہت تاکید کی ہے۔ مثلاً:
\          جس نے والدین کو یا دونوں میں سے کسی کو بڑھاپے کی حالت میں پایا پھر ان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کی‘ اس کی ناک خاک آلود ہو۔ (مسلم‘ البر والصلہ: ۵۹۷۱)
\          اللہ تعالیٰ نے ماؤں کی نافرمانی کرنے کو تم پر حرام کر دیا ہے۔ (بخاری‘ الادب: ۵۹۹۰)
\          اللہ کی خوشنودی والدین کی رضا مندی ہے اور اللہ کی ناراضگی والدین کی ناخوشی میں ہے۔ (ترمذی‘ البر والصلہ: ۱۸۹۹)
اس کے متعلق متعدد احادیث کتب حدیث میں مروی ہیں۔ اگر کوئی ان کو جمع کرنا چاہے تو ایک مستقل کتاب تالیف ہو سکتی ہے۔ اس قدر قرآنی آیات اور صحیح احادیث ہونے کے باوجود والدین سے حسن سلوک بیان کرنے کے لیے خود ساختہ احادیث اور من گھڑت واقعات کا سہارا لینا بہت عجیب معاملہ ہے۔
سوال میں جس حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے وہ درج ذیل ہے:’’سیدنا ابن عباسw سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’نیک بچہ جب والدین کو نظر رحمت سے دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر بار دیکھنے کے بدلے میں اس کے لیے حج مبرور کا ثواب لکھ دیتا ہے۔‘‘ … صحابہ کرام نے عرض کیا‘ اللہ کے رسول! اگرچہ وہ ہر روز سو مرتبہ دیکھے؟ تو آپ e نے فرمایا: ’’ہاں! اللہ تعالیٰ بہت بڑا اور ہر نقص سے پاک ہے۔‘‘ (شعب الایمان: ج۱۳‘ صفحہ ۵۵۷۔ حدیث نمبر: ۷۴۷۲)
اس حدیث کے متعلق علامہ البانیa فرماتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق یہ حدیث خود ساختہ ہے۔ (حاشیہ مشکوٰۃ حدیث نمبر ۴۹۴۴)
اس کی سند میں ایک راوی نہشل بن سعید کذاب ہے۔ نیز اس میں محمد بن حمید بھی ضعیف ہے۔ علامہ البانیa نے ضعیف الجامع الصغیر میں بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ (ج۵‘ ص ۱۱۷)
اسی سلسلہ میں مزید روایات بھی بیان کی جاتی ہیں:
\          ’’والدین کو دیکھنا عبادت ہے۔ کعبہ مشرفہ کو دیکھنا بھی عبادت ہے۔ قرآن مجید کو دیکھنا بھی باعث ثواب ہے اور اپنے دینی بھائی کو محبت بھری نظر سے دیکھنا بھی عبادت ہے۔‘‘ (شعب الایمان‘ ج۱۳‘ ص ۵۵۹۔ حدیث نمبر ۷۴۷۶) … اس روایت کے متعلق بھی محققین کا فیصلہ ہے کہ انتہائی کمزور ہے۔ (حوالہ مذکور شعب الایمان)
\          ایک اور حدیث بھی بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جس نے اپنی والدہ کی پیشانی کا بوسہ لیا وہ قیامت کے دن جہنم سے آڑ ہو گا۔‘‘ (شعب الایمان‘ حدیث نمبر ۷۴۷۷)
یہ حدیث بھی خود ساختہ ہے کیونکہ اس کی سند میں ابوصالح الحبری نامی راوی کذاب ہے جیسا کہ شعب الایمان کے محقق نے اس کی وضاحت کی ہے۔
ان خود ساختہ احادیث کی وضاحت کرنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ والدین سے اچھا برتاؤ نہ کیا جائے کیونکہ اس سلسلہ میں متعدد قرآنی آیات اور بے شمار احادیث مروی ہیں‘ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں‘ صرف ان احادیث کی استنادی حیثیت بیان کرنا مقصود تھا۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment