خطبہ حرم 27-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, July 14, 2019

خطبہ حرم 27-2019


حجۃ الوداع سے حاصل ہونے والے دروس

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر اُسامہ خیاط d
حمد و ثناء کے بعد!
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! اسے یاد رکھو! اس کی طرف جانے والا راستہ تلاش کرو۔ اس کی سزا سے ڈرو۔ اسے ناراض کرنے والے کاموں سے بچو اور اس کو خوش کرنے والے کام کرو۔
اللہ کے بندو! رسول اللہe نے جو حج کیا تھا اور جس کا نام جحۃ الوداع رکھا گیا، اس کے اتنے عظیم اثرات ظاہر ہوئے کہ اسے ایک چلتی پھرتی جامعہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک چلتا پھرتا ادارہ ہے، متنقل مدرسہ ہے، جس میں جاہل علم سیکھ لیتا ہے، غفلت میں پڑنے والا بیدار ہو جاتا ہے، کمزوری کا شکار ہونے والے کو طاقت مل جاتی ہے۔ اس میں راہ ہدایت کی چھپی علامات پھر سے واضح ہو جاتی ہیں، کامیابی اور سعادت کے چھپے اور پوشیدہ راستے عیاں ہو جاتے ہیں۔ اس حج کے موقع پر رسول اللہe نے امت کی رہنمائی فرمائی، انہیں دنیا کی بھلائیوں کی راہ دکھائی، آخرت میں اچھی عاقبت والے کاموں کی ترغیب دلائی۔ انہیں وہ راستہ دکھایا جس پر چل کر وہ ٹھوکروں سے محفوظ ہو جائیں گے، دنیا کی زیب وزینت اور پر فتن زندگی میں گھرنے سے بچ جائیں گے۔ جس پر چل کر وہ سیدھی راہ اور صراط مستقیم کو پا لیں گے، راہِ حق سے گمراہ نہیں ہوں گے اور ہدایت کے راستے سے نہیں بھٹکیں گے۔
اس رہنمائی کا عظیم حصہ رسول اللہe کے ان خطبوں میں نظر آتا ہے جو آپe نے عرفات کے میدان میں اور عید کے دن ارشاد فرمائے تھے۔ ان میں آپe نے اصول دین وضع کیے۔ عدالت کے اصول بیان کیے۔ انسانی حقوق واضح کیے۔ عصبیت، جاہلیت اور فساد برپا کرنے والے نعروں کو ختم کیا، جن سے معاشرے کا ربط ٹوٹ جاتا ہے اور اس کا شیرازہ بکھر جاتا ہے، اختلاف پیدا ہو جاتا ہے، صفیں الگ الگ ہو جاتی ہیں اور شگاف بڑھ جاتا ہے۔ آپe نے ان خونی اور اقتصادی مسائل کو ختم کرنے کا اعلان کیا جو جاہلیت کے دور میں بڑے مسائل اور پریشانیوں کی وجہ تھے۔ آپe نے حرام مہینے کی ہیر پھیر کو ختم کیا، جن سے شریعت اسلامیہ کے احکام سے کھیلا جاتا تھا۔ آپe نے عورتوں کے متعلق نصیحت کی، ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی اور جاہلیت کے طور طریقے ختم کیے، جاہلیت کے دور میں عورتوں کے حقوق ضائع کیے جاتے تھے، ان کا انکار کیا جاتا تھا، عورتوں کے ساتھ سخت رویہ اپنایا جاتا تھا۔ اجمالی طور پر یہ دو خطبے ہیں جنہوں نے اسلامی منہج اور اسلامی طریقہ واضح کیا۔ قواعد وضوابط بیان کیے اور اصول واضح کیے۔
اللہ کے بندو! عرفات کے دن رسول اللہe وادی عرنہ میں اپنی اونٹنی پر بیٹھے اور لوگوں کے اس عظیم اجتماع سے مخاطب ہوئے جنہوں نے آپe کے ساتھ حج کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ جب لوگوں کے دل متوجہ ہو گئے، آنکھیں آپ پر ٹک گئیں، کان پوری توجہ کے ساتھ سننے لگے اور لوگ علم وہدایت اخذ کرنے کے لیے تیار ہو گئے، تو آپe نے اپنا خطبہ ایسی بات سے شروع کیا کہ لوگوں کے جذبات متحرک ہو گئے اور پریشان ہو گئے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے لوگوں کی مکمل توجہ اور اہتمام اپنی طرف کھینچ لیا۔ جیسا کہ امام مسلم نے اپنی کتاب صحیح مسلم میں روایت کیا ہے کہ آپe نے فرمایا: لوگو! میری بات سنو! مجھے معلوم نہیں کہ اس سال کے بعد میں آپ سے کبھی ملوں گا یا نہیں! پھر آپe دنیا وآخرت میں لوگوں کے احوال کی اصلاح کا منصوبہ بیان کرنے لگے، آپe نے اس کامیابی کے اسباب پر روشنی ڈالی اور اس پر قائم رہنے کی تلقین کی۔ پہلے لوگوں کی جانوں کے بارے میں بات کی اور انہیں ایک سخت حصار کے اندر محفوظ کر لیا، جس کے اندر کسی کو یہ جرأت نہیں ہو سکتی کہ وہ کسی کی جان پر ہاتھ ڈالے۔ نا حق کسی کو قتل کرے، بغیر وجہ کے کسی کا خون کرے۔ جانوں کی حفاظت میں ہی امت کی فلاح وبہود ہے، اسی سے معاشرہ صحیح معنوں میں قائم ہو سکتا ہے۔ آپe نے فرمایا: لوگو! تمہاری جانیں اور تمہارے مال، امام نسائی کی سنن کبریٰ والی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ
تمہاری جانیں اور تمہارے مال اور عزت وآبرو قیامت کے دن اللہ سے ملنے تک ایک دوسرے کے لیے یوں ہی محترم ہیں جس طرح اس مہینے اور اس شہر میں یہ دن محترم ہے، اسی طرح بڑی عید کے دن آپe کے خطبے میں یہ الفاظ آتے ہیں: تمہاری جانیں، تمہارے مال اور عزت وآبرو ایک دوسرے کے لیے یوں ہی محترم ہیں جیسے اس شہر اور اس مہینے میں یہ دن محترم ہے۔ آپe نے ان الفاظ کو بار بار دہرایا۔ (بخاری)
جانوں اور مال کا احترام تو ان پانچ بنیادی ضروریات میں سے ہے جن کے بغیر کوئی چارہ نہیں، جن کے بغیر لوگوں کی زندگی درست نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے جانوں کی حرمت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ناحق کسی کی جان پر ہاتھ ڈالنا انتہائی بڑا گناہ ہے۔ اسے سخت وعید سنائی گئی جس سے زندہ دل رکھنے والوں کے دل لرز اٹھتے ہیں۔ فرمایا:
’’رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اُس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اس پر اللہ کا غضب اور اُس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔‘‘ (النساء: ۹۳)
آپe نے فرمایا: قیامت والے دن اپنے رب کو ملنے تک ایک دوسرے کے لیے محترم ہیں‘ یہاں آپe نے بتایا کہ جانوں اور اموال کی حرمت ہمیشہ رہنے والی ہے، کسی شرعی ضرورت یا حد کے بغیر یہ احترام کبھی ختم نہیں ہوتا۔ شرعی حد سے مراد قاتل کو قتل کرنا، یا شادی شدہ زانی کو سزا دینا، یا کنجوسی کرنے والے سے جبرًا زکوٰۃ وصول کرنا ہے جیسا کہ صحیح اور ثابت احادیث میں آیا ہے۔
اس خطبے میں ایک دوسرے کے مال کے احترام کے حوالے سے جو بات آئی ہے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شریعت اسلامیہ نے جائز ذرائع سے مال کو اپنی ملکیت میں کرنے کو جائز ٹھہرایا ہے۔ شرط یہ ہے کہ کمائی کے ذرائع درست ہوں۔ اسی طرح ہر انسان کو اپنے مال میں تصرف کرنے کی اجازت دی ہے، مگر ان حدود کے اندر رہتے ہوئے جن کی شریعت نے اجازت دی ہے۔ اسی طرح ملکیت کے ذرائع بیان کیے گئے ہیں اور اس کی ایسی شرائط بیان کی گئی ہیں جن سے لوگوں کے معاملات اور لین دین میں عدل قائم رہ سکے۔ جس طرح انسان کو اپنے مال میں تصرف کی اجازت دی ہے اسی طرح اسے دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی تلقین بھی کی ہے۔ کسی شخص کو کسی قسم کا نقصان پہچانا جائز نہیں۔ اگر کوئی کسی کا نقصان کرتا ہے تو اس پر تاوان بھرنا یا نقصان پورا کرنا ضروری ٹھہرایا ہے۔ یہ اس صورت میں کہ کوئی کسی کے مال کو ضائع کر دے یا ناحق طور پر اسے غصب کر لے۔ اللہ کے بندو! اس اصول کی بنیاد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضامندی سے۔‘‘ (النساء: ۲۹)
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے:
’’اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔‘‘ (البقرۃ: ۲۷۵)
لوگوں کے مال کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے  چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا نازل کی ہے، دھوکہ فریب اور دوسروں کے مال کو ضائع کرنے سے منع کیا ہے، اسی طرح دوسروں کا مال ضائع کرنے والے پر نقصان بھرنا لازمی ٹھہرایا ہے۔ نابالغ اور ناسمجھ شخص کے مال میں تصرف سے روکا گیا ہے۔ سود کو حرام کیا گیا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو تمام طرح کے نقصان سے محفوظ کیا ہے۔ جس طرح نبی اکرمe نے فرمایا:
’’کسی کو نقصان نہ پہنچانے کی نہ ابتدا کرو اور نہ انتقام کے طور پر کسی کو نقصان دو۔‘‘ (مسند احمد‘ ابن ماجہ سیدنا ابن عباسw سے صحیح سند کے ساتھ۔)
آپe نے اپنے خطبے کے اس حصے کو ایسے الفاظ پر ختم کیا کہ لوگ اللہ کی ملاقات سے ڈر گئے اور اس کے یہاں حساب کتاب سے اور اس کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈر گئے۔ فرمایا: تم اپنے پروردگار سے ملو گے اور وہ تمہیں تمہارے کاموں کے بارے میں سوال کرے گا، میں نے تو پیغام پہنچا دیا۔
پھر آپe نے امانتیں ادا کرنے کی تلقین فرمائی، اہل ایمان کے حقوق محفوظ کرنے کی نصیحت کی، انفرادی حقوق اور عہد وپیمان کی حفاظت کرنے کا حکم دیا، تاکہ لوگوں کا باہمی اعتماد قائم رہے۔ فرمایا: جس کے پاس کسی کی امانت ہو، وہ اسے صاحب امانت تک لوٹا دیاس حدیث کی تاکید اس آیت سے بھی ہوتی ہے:
’’مسلمانو! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو۔‘‘ (النساء: ۵۸)
پھر انفرادی معاملات کے بعد آپe نے تعامل کی ایک ایسی قسم پر بات کی جو انتہائی خطرناک ہے اور جس پر جاہلیت کے لوگ قائم تھے اور جسے سب جانتے تھے۔ یہ سودی تعامل ہے۔ آپe نے فرمایا: دورِ جاہلیت کی تمام عادات میرے قدم کے نیچے ہیں، جاہلیت کا سود بھی ختم کر دیا گیا ہے اس قانون پر عمل درآمد بھی آپe نے اپنی اسی جگہ پر شروع کر دیا۔ آپe نے سب سے پہلے اپنے قبیلے کا سود ختم کیا، تاکہ دوسروں کے لیے نمونہ بن جائیں، اور دوسرے آپ کی پیروی کریں۔ نبی اکرمe نے فرمایا: وہ پہلا سود جسے میں ختم کرتا ہوں، وہ میرے چچا عباس بن عبد المطلب کا سود ہے، یہ سارا سود ختم ہو گیا، اس طرح آپe نے ذمہ داری ادا کر دی، اس گندی کمائی سے دور ہو گئے جسے کھانے والے کو سخت ترین وعید سنائی گئی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ اور اسکے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے‘ اب بھی توبہ کر لو (اور سود چھوڑ دو) تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو‘ نہ تم ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔‘‘ (البقرۃ: ۲۷۸۔۲۷۹)
جس طرح آپe نے دورِ جاہلیت کے سود کے خاتمے کی ابتدا اپنے گھر سے کی ، اسی طرح آپe نے جاہلیت کے ان خونوں کا بدلہ بھی ساقط کر دیا جس کی وجہ سے معاشرہ عدم استقرار اور جنگ کی لپیٹ میں رہتا تھا۔ اس کا آغاز بھی آپe نے اپنے گھر سے کیا۔ فرمایا: جاہلیت کے دور کے تمام خونوں کا بدلہ ساقط کر دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے میں ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کے خون کا بدلہ ساقط کرتا ہوں۔ جنہوں نے قبیلہ بنی سعد میں دودھ پیا تھا تو قبیلہ ہذیل نے انہیں قتل کر دیا تھا۔ یہ سب سے کامیاب ذریعہ ہے، اور سب سے کارگر طریقہ ہے اور سب سے زیادہ حکمت والا طریقہ ہے کہ قانون بنانے والا سب سے پہلے قانون کا اطلاق اپنے اوپر اور اپنے متعلقین پر کرے۔
پھر آپe نے امت کا حال بیان کیا جسے اللہ تعالیٰ نے آپe کے ذریعے اکٹھا کر دیا تھا، سب کے دل جوڑ دیے تھے، تفرقہ ختم کر دیا تھا۔ بتایا کہ اب شیطان اس چیز سے ناامید ہو چکا ہے کہ لوگ اِس سرزمین پر اُس کی عبادت کریں۔ پھر آپe نے وحدت اور اجتماعیت کے بعد خانہ جنگی، شیطان کی اطاعت اور معصیت میں اس کی پیروی سے خبردار کیا۔ اس کی اتباع سے روکا۔ گناہ اور غلطیاں در حقیقت کفر کا طریقہ ہیں، گمراہی کا راستہ ہیں۔ انسان کے دین اور ایمان کے لیے خطرناک ترین چیزیں ہیں۔ اس حوالے سے رسول اللہe نے فرمایا: لوگو! شیطان اب اس چیز سے مایوس ہو چکا ہے کہ آپ کی اِس سرزمین پر اُس کی عبادت کی جائے، مگر اس سے کم گناہ پر اس کی بات مان لی جائے تو وہ اس پر بھی راضی ہے، خاص طور پر ان اعمال کے بارے میں جنہیں تم حقیر سمجھتے ہو۔ تو اپنے دین کو اس سے بچانے کی فکر کرو، پھر آپe نے نسیء کا ذکر کیا، اس کی حرمت کا بیان کیا۔ نسیء یہ ہے کہ حرمت والے مہینے کو مؤخر کر دیا جائے۔ حرام مہینوں کا احترام سیدنا ابراہیمu کے دین کا وہ بقیہ حصہ تھا جس پر ابھی تک لوگ قائم تھے، لیکن جب جنگ کا موقع آتا تو وہ اسے ان محترم مہینوں کے بعد تک مؤخر کرنا برداشت نہ کرتے، اور مہینے کو مؤخر کر لیتے۔ یعنی محترم مہینے کی جگہ کسی اور مہینے کو ایک سال کے لیے محترم بنا لیتے۔ اس طرح اپنی خواہشات اور احوال کے مطابق محترم مہینوں کو آگے پیچھے کرتے رہتے، یہاں تک کہ باری باری سارے مہینے ہی محترم بن جاتے۔ ایک سال کسی مہینے میں حج کرتے اور دوسرے سال کسی اور مہینے میں۔ لیکن رسول اللہe نے ذو الحجہ میں حج کیا اور لوگوں کو بتایا کہ محترم مہینوں کو آگے پیچھے کرنا اہلِ جاہلیت کی گمراہی کا نتیجہ تھا، جس سے وہ کفرِ مزید کے مرتکب ہوتے تھے۔ بتایا کہ اب معاملہ ویسا ہی ہو گیا ہے جیسا ان کی ہیر پھیر سے پہلے تھا۔ مہینے اسی حالت میں لوٹ آئے ہیں جس حالت میں اللہ تعالیٰ نے انہیں بنایا تھا۔ فرمایا: زمانہ گھومتے ہوئے اب اسی حالت پر آ گیا جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے تب بنایا تھا جب زمین وآسمان کو پیدا کیا تھا۔ اللہ کے نظام کے مطابق سال کے مہینے بارہ ہی ہیں، جن میں سے چار محترم ہیں۔ تین مسلسل آتے ہیں، ذو القعدہ، ذو الحجہ، محرم اور چوتھا رجب، وہ مہینہ جسے قبیلہ مضر والے محترم مانتے ہیں، جو جمادیٰ اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ! تو گواہ رہنا۔
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اللہ کے بندو! خطبہ حجۃالوداع میں آپe نے عورتوں کو بھی نصیحت فرمائی، ان کے حقوق بیان کیے، واضح کیا کہ ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا چاہیے جس سے محبت قائم رہے، الفت باقی رہے، پیار ہمیشہ بچا رہے، جس سے اچھا برتاؤ قائم ہو جائے۔ نبی اکرمe نے فرمایا:
’’لوگو! تمہاری بیویوں پر تمہارا حق ہے اور تم پر ان کا حق ہے۔ تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی اور کو نہ لائیں، جسے تم نا پسند کرو، اسے وہ تمہاری اجازت کے بغیر تمہارے گھروں میں داخل نہ کریں، اگر وہ ایسا کریں تو اللہ نے آپ کو اجازت دی ہے کہ تم انہیں نصیحت کرو اور ان سے بستر الگ کر لو اور ہلکی سزا دو، یعنی: جو شدید اور دردبھری نہ ہو۔اگر وہ آپ کی بات مان لیں اور فرماں بردار ہو جائیں تو ان کا حق یہ ہے کہ تم بھلے طریقے سے انہیں نان نفقہ اور لباس دو۔ میں آپ کو عورتوں کے متعلق نصیحت کرتا ہوں، وہ آپ کے ما تحت ہوتی ہیں۔ اپنے معاملے میں کسی چیز کی مالک نہیں ہوتیں۔ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے طور پر لیا ہوتا ہے، اور انہیں اللہ کے نام سے اپنے لیے حلال کیا ہوتا ہے، تو عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ میں تمہیں عورتوں کے متعلق نصیحت کرتا ہوں۔ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ! تو گواہ رہنا۔‘‘
اس عظیم اور جامع وصیت سے رسول اللہe نے عورت کے حقیقی احترام کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔ واضح کیا کہ اسلام کے آنے کے بعد عورت کی وہ رسوا کن صورت حال نہیں رہی جو جاہلیت کے دور میں تھی۔ جس میں اسے ملکیت عام سمجھا جاتا تھا۔ جس کی کوئی کرامت، کوئی احترام، کوئی رائے اور کوئی حیثیت نہیں ہوتی تھی۔ اسلام آنے کے بعد وہ مرد کا ساتھی بن گئی۔ اس کے بھی ویسے ہی حقوق رکھے گئے جیسے مرد کے رکھے گئے۔ اس پر بھی ویسے ہی واجبات عائد کیے گئے جیسے مردوں پر کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’بالیقین جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں، مومن ہیں، مطیع فرمان ہیں، راست باز ہیں، صابر ہیں، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں، صدقہ دینے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں، اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے۔‘‘ (الاحزاب: ۳۵)
خطبے کے آخر میں رسول اللہe نے اسلام کے عظیم دستور پر قائم رہنے کی تلقین فرمائی، کیونکہ اسی سے لوگوں کے احوال درست ہوتے ہیں اور آج تک ہوتے آئے ہیں۔ آپe نے فرمایا: میں نے تمہارے درمیان ایسی چیزیں چھوڑی ہیں جن پر اگر تم قائم رہے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے، اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔ عید کے دن والے عظیم اور جامع خطبے کی بعض روایات میں یہ الفاظ بھی نقل ہوئے ہیں:
لوگو! میری بات سنو! تم جانتے ہو کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ کسی کے لیے دوسرے کا مال جائز نہیں، اِلّا یہ کہ وہ خود خوش دلی کے ساتھ اسے دے دے۔ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ! تو گواہ رہنا۔ لوگو! تمہارا پروردگار بھی ایک ہے، تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنا تھا۔ اللہ کے یہاں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر تقویٰ کے سوا کوئی فضیلت نہیں۔ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ! تو گواہ رہنا۔ تمہیں میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا جواب دو گے؟ لوگوں نے کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے پیغام پہنچا دیا۔ امانت ادا کر دی، امت کو نصیحت کر دی۔ آپe نے اپنی شہادت والی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہنا۔ اے اللہ! تو گواہ رہنا۔ اے اللہ! تو گواہ رہنا۔ یہ جملہ آپe نے تین مرتبہ فرمایا۔
اللہ کو گواہ بنا کر آپe نے لوگوں کی توجہ اس عظیم ذمہ داری کی طرف پھیر دی، جو آپe نے امت کی تمام نسلوں پر ڈالی ہے۔ کیونکہ اس خطبے میں ہدایت کے جتنے راستے بیان ہوئے ہیں، اصلاح کے جتنے طریقے واضح ہوئے ہیں وہ کسی ایک دور کے لیے نہیں ہیں، بلکہ وہ قیامت تک ساری نسلوں اور سارے ادوار کے لیے ہیں۔ اللہ کو گواہ بنا کر آپe نے ان لوگوں پر بھی حجت قائم کر دی جو راہ راست سے بھٹک گئے، صراط مستقیم سے دور ہو گئے، اس نصیحت سے منہ موڑ گئے، اللہ کی کما حقہ قدر نہیں کی، اس کی گواہی کو عظیم نہیں سمجھا، خطبے کے اس حصے میں ضمنی طور پر ان لوگوں کے لیے وعید بھی آ گئی جو اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں اور خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور جن کا معاملہ افراط وتفریط پر مبنی ہے۔
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! کوشش کرو کہ تم آج بھی اپنے حج میں ان ہی چیزوں پر جمع ہو، جن پر تمہارے بزرگ‘ عظیم حج، حجۃالوداع میں اکٹھے ہوئے تھے۔ اس خطبے میں آنے والے تمام تر ارشادات پر عمل کرو اور اس میں بیان ہونے والے ہدایت کے راستے، بہترین انجام تک لیجانے والے طریقے، اچھے خاتمے کا ذریعہ بننے والے منہج اور بہترین انجام کار کے موجب اعمال پر قائم رہو۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats