حقانیت مسلک اھل حدیث 28-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 21, 2019

حقانیت مسلک اھل حدیث 28-2019


حقانیّتِ مسلک اہل حدیث

تحریر: جناب مولانا عمر فاروق
’’اہل حدیث‘‘ یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔ پہلا لفظ ’’اہل‘‘ ہے جس کے معنی ہیں والے، صاحب۔ دوسرا لفظ ہے ’’حدیث‘‘ حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام الرسولe کا۔ قرآن کو بھی حدیث کہا گیا ہے اور نبیe کے اقوال و افعال کے مجموعے کا نام بھی حدیث ہے۔ پس اہل حدیث کے معنی ہوئے‘ قرآن و حدیث والے۔ لہٰذا جماعت اہل حدیث نے جس طریقے پر حدیث کو اپنے پروگرام میں شامل کیا ہے کسی اور نے نہیں کیا۔ اس لئے اس کا حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہلائے۔ جماعت اہل حدیث ایک قدیم جماعت ہے جس کے امام و مرشد اور قائد صرف رسول اللہe ہیں۔ صحابہ کرام] کے دور سے آج تک یہ جماعت موجود ہے۔
اہل حدیث وہ لوگ ہیں جو حدیث سے استدلال کرتے ہیں، جو حدیث کو رشد و ہدایت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ جو فرمان رسولؐ کے سامنے رائے اور قیاس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ خیرالقرون میں صرف اہل حدیث ہی تھے۔ کوئی حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی نہ تھا۔ اس زمانے میں تمام مسلمان قرآن و حدیث پر عامل تھے اور یہی ان کا عقیدہ تھا۔ اس پر عمل کرنے کی وصیت رسول اللہe نے اپنی زندگی کے آخری دور میں فرمائی تھی۔ لہٰذا وہ سب کے سب اہل حدیث تھے، انہیں اس زمانے میں اہل حدیث کہا جاتا تھا۔
مولانا ادریس کاندھلوی حنفی اپنے رسالہ ’’اجتہاد و تقلید‘‘ میں لکھتے ہیں کہ اہل حدیث تو تمام صحابہ کرام تھے۔ صحابہ کرام اور تابعین کے زمانے میں جماعت اہل حدیث موجود تھی، امام محمد بن مسلم بن شہاب زہریؒ (متوفی ۱۲۴ھ) ایک دن باہر نکلے تو پکار کر کہا: اے اہل حدیث! تم کہاں ہو؟ پھر انہیں چار سو احادیث پڑھائیں۔ (تذکرہ)
حنفی مذہب کے رکن عظیم محمد بن حسنؒ شیبانی (متوفی ۱۸۹ھ) اپنی مشہور کتاب الموطا صفحہ ۳۶۳ باب الیمین مع الشاھد میں فرماتے ہیں: ’’فکان ابن الشھاب علم عند اھل الحدیث بالمدینۃ من غیرہ فیھا‘‘ یعنی ’’امام ابن شہاب زہریؒ مدینہ منورہ کے اہل حدیث کے نزدیک سب سے زیادہ عالم تھے۔ ‘‘
واضح ہوا کہ دوسری صدی ھجری میں مدینہ طیبہ جماعت اہل حدیث کا مرکز تھا، کوئی بھی مقلد نہیں تھا۔ احناف کے دوسرے رکن قاضی ابو یوسفؒ (متوفی ۱۸۲ھ) ایک دن باہر نکلے اور انہوں نے اہل حدیث کو دیکھ کر فرمایا: زمین پر تم سے بہتر کوئی نہیں کیوں کہ تم صرف رسول اللہe کی احادیث سنتے اور سیکھتے ہو۔
امام ابن غیاثؒ (متوفی ۱۹۴ھ) فرماتے ہیں:
’’خیر اھل الدنیا‘‘
یعنی ’’پوری دنیا میں بہترین جماعت اہل حدیث ہے۔‘‘ ابوبکر بن عیاشؒ (متوفی ۱۷۰ھ) فرماتے ہیں: [انھم خیر الناس] یعنی ’’سب سے بہتر لوگ یہی ہیں۔‘‘ (معرفت علوم الحدیث للحاکم)
علامہ ابن خلدونؒ عمرانیات کے ماہر تاریخ اور فلسفہ کے بہت بڑے مصنف ہیں۔ وہ مقدمہ ابن خلدون میں صحابہ کرامؓ کے بعد کے دور سے متعلق فرماتے ہیں:
[وانقسم الفقہ فیھم الی طریقتین طریقۃ اھل الرأی والقیاس وھم اھل العراق وطریقۃ اھل الحدیث وھم اہل الحجاز وکان الحدیث قلیلا فی اھل العراق لما قدمنا] (مقدمہ صفحہ ۲۷۲، فضل فی علم الفقہ)
یعنی ان میں فقہ دو طریقوں میں منقسم ہو گئی، ایک طریقہ اہل رائے والقیاس کا ہے اور وہ اہل عراق ہیں۔ دوسرا طریقہ اہل حدیث کا ہوا اور وہ اہل حجاز ہیں۔ اہل عراق میں علم حدیث کم تھا۔ اس کے بعد وہ اس فصل میں لکھتے ہیں:
((ولم یبق الامذھب اھل الرأی من العراق واھل الحدیث من الحجاز)) (مقدمہ صفحہ ۲۷۳)
یعنی ’’اہل رائے کا مذہب عراق میں اور اہل حدیث کا حجاز میں دنیا میں باقی رہا۔ ‘‘
اب اس سلسلے میں حضرت پیر عبدالقادر جیلانیa کا فرمان بھی سنیئے جو ۴۹۱ھ میں پیدا ہوئے اور ۵۶۱ھ میں بغداد میں فوت ہوئے۔ وہ اپنی مشہور کتاب ’’غنیۃ الطالبین‘‘ کے بعض مقامات میں ’’اہل اثر‘‘ اور بعض میں ’’اہل حدیث‘‘ کا ذکر کرتے ہیں اور اہل بدعت کی علامات کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
فعلامۃ اھل البدعۃ الوقیعۃ فی اھل الاثر (صفحہ ۱۹۸، مطبوعہ مرتضوی دہلی)
یعنی ’’اہل بدعت کی علامت یہ ہے کہ وہ ’’اہل حدیث کی بدگوئی کرتے ہیں۔ یہاں ’’اہل اثر‘‘ سے مراد اہل حدیث ہیں۔ اہل حدیث کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ وہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قول و فعل پر کسی امتی کی رائے، قیاس اور اجتہاد کو مقدم نہیں کرتے۔ جبکہ اہل بدعت کی علامت یہ ہے کہ تمام معاملات میں قولِ امام کو حتمی سمجھتے ہیں۔ نبی اکرمe نے فرمایا:
[لا تزال طائفۃ من امتی منصورین لایضرھم من خذلھم حتی تقوم الساعۃ قال ابن المدینی ھم اصحاب الحدیث۔] (رواہ الترمذی وقال ھذا حدیث حسن صحیح)
’’میری امت کا ایک گروہ اعداء دین پر ہمیشہ غالب رہے گا، جو بھی ان سے نصرت و تعاون کو چھوڑے گا ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔ امام ابن مدینیؒ جو کہ امام بخاریؒ کے استاذ ہیں فرماتے ہیں کہ اس طائفہ سے مراد ’’اہل حدیث‘‘ ہیں۔ ‘‘
امام احمدؒ نے فرقہ ناجیہ یعنی نجات پانے والی جماعت کے بارے میں فرمایا: ’’ان یکونوا اہل الحدیث فلا ادری من ھم‘‘ اگر یہ اہل حدیث نہیں تو پھر میں نہیں جانتا کہ وہ کون لوگ ہیں…؟؟  (شرف اصحاب الحدیث ص:۱۵)
امام اوزاعیa (۱۵۷ ھ) فرماتے ہیں: [علیک بآثار من السلف وان رفضک الناس وایاک رأی الرجال وان ذخرفوہ بالقول فان الامر ینجلی وانت علی طریق مستقیم] یعنی تو سلف (محدثین) کے آثار کو لازم پکڑ، اگرچہ تجھے لوگ چھوڑ دیں، تو (بدعتی) لوگوں کی آراء سے بچ، اگرچہ وہ ان کو باتوں کے ساتھ مزین کریں کیونکہ بلاشبہ معاملہ صاف ہے اور تو صراط مستقیم پر ہے۔ (شرف اصحاب الحدیث للخطیب)
اہل حدیث کا وہی عقیدہ ہے جو محدثین کرام کا عقیدہ تھا، یہ سر مو بھی اس سے انحراف نہیں کرتے۔ اس لئے ان سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ اہل حدیث، قرآن و حدیث، اجماع امت اور اجتہاد شرعی کو حق مانتے ہیں۔ ان کے نزدیک قرآن و سنت کا وہی فہم معتبر ہے، جو صحابہ کرام کا فہم اور جو تابعین و محدثین کا فہم ہے۔ آج اگر کوئی اٹھ کر قرآن و سنت کا معنی اپنی طرف سے پیش کر دے تو وہ ہر گز معتبر نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{أَطِیْعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَکُمْ} (سورہ محمد:۳۳)
’’اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد مت کرو۔‘‘
دوسرے لفظوں میں قرآن و حدیث ہی اسلام کی بنیاد اور اساس ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ تقلیدی مذہب اس مرکز رشد و ہدایت سے ادھر ادھر ہی ہو کر بنے ہیں۔ عہد صحابہ سے لے کر تبع تابعین تک کسی تقلیدی مذہب کا وجود تک نہ تھا اور اسی دور مبارکہ کے مسلمانوں کا طریقہ عرف عمل بالحدیث تھا۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں: تو جان لے کہ لوگ چوتھی صدی ہجری سے قبل کسی خاص مذہب کی تقلید پر جمع نہ تھے۔ (حجۃ اللہ البالغہ) ۳۱ مئی ۲۰۰۷ء الحمرا ہال میں امام کعبہ الشیخ عبدالرحمن السدیسd نے جماعت اہل حدیث کے متعلق فرمایا کہ جماعت اہل حدیث سلف صالحین کے منہج کی داعی ہے۔ اس زمانے میں جب بدعتیں کثرت سے سر اٹھانے لگیں، نت نئی چیزیں رونما ہوئیں اور شریعت مطہرہ کی مخالفت عام ہوئی اور ہر رائے رکھنے والے کو اپنی رائے ہی بھلی معلوم ہونے لگی۔ ہر چند یہ شرف و وقار اور باعث عزت ہونے کے ساتھ ساتھ مسئوولیت اور جوابدہی کا باعث بھی ہے۔ حدیث‘ سنت اور سلف صالحین کا طرز عمل کسی پر اپنی رائے مسلط کرنے کا درس نہیں دیتا بلکہ ہمیں چاہیے کہ سب مسلمانوں کو ان کے تمام قوانین، ضابطوں، جماعتوں اور افکار و خیالات سمیت دلائل اور محبت سے یہ دعوت دیں کہ وہ اسی راہ حق پر اکٹھے ہوں اور اسی گھاٹ سے ایک ساتھ سیراب ہوں‘ یہ کہ ہم سب ایک ہی امت بن جائیں۔
أھل الحدیث هم آل النبیؐ
وإن لم یصحبوا نفسه أنفاسه صحبوا
سلامی علی أھل الحدیث فإننی
نشأت علی حب الأحادیث من مھد
ھم نشروا فی الکون سنة أحمدؐ
بلا سدر منھم فیھا ولا ورد
حقیقتاً اہل حدیث ہی آل رسولؐ ہیں‘ ہر چند کہ وہ نبیe کی صحبت حاصل نہیں کر سکے، تاہم وہ رسالت مآبe کے معطر سانسوں سے مرکب الفاظ سے (مسلسل) مستفید ہوتے آ رہے ہیں۔ میرا سلام ہو اہل حدیث پر کیونکہ میں بچپن سے احادیث کی محبت کی فضا میں پروان چڑھا ہوں، یہ وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے چار دانگ عالم میں سنت رسول اللہe کا ڈنکا بجایا ہے اور اس میں ان کی جانب سے ہر گز کوئی کمی یا بیشی نہیں ہوئی۔ 


No comments:

Post a Comment