دوسری شادی سے متعلق قانون سازی 28-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Sunday, July 21, 2019

دوسری شادی سے متعلق قانون سازی 28-2019


دوسری شادی سے متعلق نئی قانون سازی

تحریر: جناب پروفیسر عاصم حفیظ
دوسری شادی کے خلاف باقاعدہ قانون سازی‘ پہلی بیوی کی اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل کی کڑی شرط‘ بغیر بتائے کرنے پر لاکھوں کے بھاری جرمانے اور مہینوں کی قید کے چرچے عام ہیں۔ ایک محاذ میڈیا اور این جی اوز کے پاس ہے جس پر وہ خوب محنت کر رہے ہیں۔ ان واقعات کو خوب اچھالنے کے ساتھ ساتھ دوسری شادی ’’ناقابل معافی جرم‘‘ کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے آج ہی پاکستان کے حوالے سے دو ویڈیوز جاری کی ہیں، ایک میں نکاح نامے کی شقوں کا تذکرہ کرکے طلاق کا حق استعمال کرنے پر زور دیا گیا ہے جبکہ دوسری ویڈیو کراچی کی ایک ایسی خاتون کی ہے جس نے خود ہی طلاق لی اور وہ اب دوسروں کو طریقہ سکھا رہی ہے۔ غیر ملکی ایجنڈے کے تحت چلنے والی اس پروپیگنڈا مشینری اور ہمارے ہاں کے نام نہاد لبرل و سیکولر طبقے کی منافقت کی انتہا دیکھیں کہ وہ دوسری شادی پر تو سخت قانون سازی کا حامی ہے۔ اسے معاشرتی مسائل یاد آجاتے ہیں، خواتین کے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے لیکن اگر یہی اصول گھر سے بھاگ کر، والدین کی مرضی کے خلاف کورٹ میرج کرنیوالے جوڑوں پر لاگو کئے جائیں۔ یعنی مصالحتی کونسل کا کردار تو ان کی چیخیں آسمان تک سنائی دیتی ہیں۔ آپ ذرا تصور کریں کہ اگر کوئی بیوی بیماری‘ بے اولادی‘ موذی مرض یا کسی بھی اور بڑی وجہ سے اپنے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت دے تو یہ لبرل وسیکولر این جی اوز مارکہ طبقہ اسکا کوئی حق تسلیم نہیں کرتا۔ اسے باشعور، اپنا فیصلہ خود کرنے کا حق سمیت کوئی بھی فائدہ دینے کو تیار نہیں۔ اس پر کہا جاتا ہے کہ مصالحتی کونسل کی اجازت لی جائے جو کہ ناممکن بنا دی گئی ہے۔ جیسا ماحول بنایا جا رہا ہے اس میں مصالحتی کونسل کی اجازت کو ایسا ہی سمجھیں کہ جیسے کسی ’’چوری ڈاکے‘‘ یا خودکشی سے پہلے مقامی تھانے کی اجازت لی جائے۔ مصالتی کونسل اس وجہ سے اجازت نہیں دے گی کیونکہ اسے ڈر ہو گا کہ پہلی بیوی زندگی میں کبھی بھی اپنے بیان سے مکر گئی تو دباؤ کا الزام لگا کر کونسل ارکان کے خلاف قانونی کارروائی ہونے کا ڈر رہے گا۔ بس ذرا سی کسی این جی او کی مدد اور میڈیا کی ایک دکھ بھری سٹوری کی ضرورت پڑے گی۔
اسی طرح اگر کوئی مرد اور عورت اپنے ہوش و حواس اور باشعور فیصلے کے تحت پہلی بیوی کو بتائے بغیر دوسری شادی کرتے ہیں تو ریاست اور این جی اوز سمیت لبرل وسیکولر طبقہ انہیں بھی کسی بھی قسم کا حق دینے کو تیار نہیں۔ انہیں اپنا فیصلہ خود کرنے کے حق سے محروم سمجھا جاتا ہے۔ یہ باقاعدہ جرم قرار دیکر اس پر لاکھوں کا جرمانہ اور مہینوں کی قید کی سزا پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ دونوں صورتوں میں دلیل یہی دی جاتی ہے کہ ایک عورت کا حق متاثر ہو رہا ہے اور معاشرتی مسائل پیدا ہوں گے جس کی وجہ سے ایسے دوسری شادی کے مرتکب جوڑے کسی بھی رعائیت کے مستحق نہیں ہیں۔
 کورٹ میرج کے شاخسانے:
اب ہم کورٹ میرج کی صورت حال کو دیکھتے ہیں کہ جب ایک لڑکا لڑکی گھروالوں سے چھپ کر‘ بھاگ کر عدالت کے ذریعے شادی کرتے ہیں۔ انہیں ہر طرح کا مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ان کا اپنا فیصلہ خود کرنے کا حق بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہیں باشعور بھی سمجھا جاتا ہے حتی کہ بعض اوقات عمر کی مقررہ حد تک کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس کورٹ میرج سے ہونیوالے معاشرتی مسائل کو بھی یکسر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لڑکی پر کسی بھی قسم کے دباؤ‘ ڈرانا دھمکانا‘ جھوٹے وعدے‘ لالچ یا کسی بھی اور امکان کو یکسرتسلیم نہیں کیا جاتا۔ اس معاملے کو مصالحتی کونسل میں لے جانے کی بھی کوئی پابندی نہیں حالانکہ اس سے کہیں بڑے پیمانے پر معاشرتی مسائل پیدا ہو رہے ہوتے ہیں۔ دونوں خاندانوں کے حقوق‘ ان کی معاشرتی عزت سمیت کسی بھی چیز کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ اکثر تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ کورٹ میرج کرنیوالے دونوں اپنے رشتے توڑ کر اور بھاگ کر شادی رچاتے ہیں لیکن اس عمل سے متاثر ہونیوالے منگیتروں کی اذیت کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ اس صورتحال میں والدین اور خاندان کی بجائے صرف جوڑے کی ذاتی سوچ کو اہمیت دی جاتی ہے۔ حالانکہ ایسے ہزاروں کیسز موجود ہیں۔ دارالامان ان لڑکیوں سے بھرے پڑے ہیں اور ان کے علاوہ بھی بڑی تعداد میں دکھ بھری کہانیاں ہیں کہ جب لڑکے نے وقتی جذبات کے تحت شادی کے لئے لالچ دیا۔ ڈرا دھمکا کر یا دباؤ سے لڑکی کو ساتھ بھاگنے پر مجبور کیا اور بہت جلد حالات کا اندازہ ہوتے ہی اس لڑکی کو بے آسرا وسہارا چھوڑ دیا۔ ہمارے معاشرتی ماحول میں لڑکے تو پھر بھی کسی نہ کسی طرح دوبارہ خاندان میں ایڈجسٹ ہو جاتے ہیں لیکن گھر سے بھاگ کر شادی کرنیوالی لڑکیوں کی زندگی عذاب بن جاتی ہے۔
یہ صرف ایک جملہ نہیں اس کی ہزاروں زندہ مثالیں موجود ہیں‘ کچھ تو اتنی بھیانک کہ آپ لرز کر رہ جائیں کہ جب ایسی کسی لڑکی کو گناہ کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا جائے۔ تب کوئی عدالت‘ کوئی ریاست‘ کوئی این جی او‘ کوئی لبرل و سیکولر دانشور اس لڑکی کی مدد کو نہیں آتا اور اسے یہ عذاب بھری زندگی خود ہی گزارنا ہوتی ہے۔ کوئی ملکی قانون اس لڑکے کو پکڑنے کے لیے موجود نہیں۔ کوئی سخت سزا نہیں‘ کوئی جرمانہ نہیں کہ جس نے ایک لڑکی کی ہنستی بستی زندگی کو اجاڑ کر رکھ دیا۔ وہ انتہائی آسانی سے طلاق دیکر اپنی آزاد زندگی گزارتا ہے۔ این جی اوز اور لبرل طبقہ کورٹ میرج پر کسی بھی قسم کی پابندی‘ مصالحتی کونسل یا کوئی اور قدغن لگانے کو تیار نہیں کیونکہ اس سے ان کی دکانداری متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس پر انہیں خواتین کے کوئی حقوق بھی یاد نہیں آتے اور یہی سب سے بڑی منافقت بھی ہے۔ ایسے کیسز میں طلاق کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔
اس سے بڑھ کر منافقت اور کیا ہو گی کہ کورٹ میرج کرکے ایک لڑکی کی زندگی برباد کرنیوالا جب اسے طلاق دیکر دوسری شادی کرتا ہے تو اس کے حوالے سے بھی قانون خاموش ہے ۔ اس کیلئے کسی مصالحتی کونسل کی ضرورت نہیں اور نہ ہی یہ کوئی جرم۔
مطلب سیدھا سادہ ہے کہ حلال طریقے سے آپ کو دوسری شادی کی ہرگز اجازت نہیں ۔ پہلی کو طلاق دیں پھر دوسری رچا لیں تو پھر ٹھیک ہے۔ اگر پہلی کو طلاق دینا مشکل ہے تو پھر چاہے کئی کئی ’’خفیہ تعلقات‘‘ رکھیں البتہ کسی کے ساتھ باقاعدہ شادی کرکے اس کے ساتھ ایک مقدس بندھن جوڑنے کی اجازت نہیں۔
دراصل ’’دوسری شادی‘‘ اور طلاق کے حوالے سے اس بحث کا معاملہ کوئی پہلی کاوش نہیں۔ یہ ایک بڑے ’’معاشرتی پیکج‘‘ کا صرف چھوٹا سا جزو ہے۔ ’’دوسری شادی‘‘ کے نام پر بحث کا مقصد خواتین میں اس حوالے سے پائی جانیوالی جذباتیت کو استعمال کرکے اپنے ایجنڈے کو پورا کرنا ہے ۔ اس سے پہلے کورٹ میرج کے حوالے سے قانون سازی، غیرت کے نام پر قتل، حدود آرڈینس، تحفظ خواتین ایکٹ ، گھریلو تشدد کے قوانین، شادی کی عمر بڑھانا اور بہت سے ایسے قوانین بن چکے ہیں جن کا مقصد پاکستانی معاشرے کے خدوخال بدلنا ہے۔ یہ صرف دوسری شادی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک پورا پیکج ہے جس کے تحت طلاق کو آسان ترین بنانا اور شادی کو مشکل بنا کر معاشرے کی ہیت مغربی طرز زندگی میں ڈھالنا ہے جہاں شادی کا تصور ہی دقیانوسی بنا دیا گیا ہے۔ شادی کی عمر میں آہستہ آہستہ اضافہ کیا جا رہا ہے، گھریلو تشدد، شوہروں کو کڑے پہنانا، پولیس تھانوں میں خصوصی ڈیسک کے قیام اور بہت سے ایسے اقدامات ہیں جن کے تحت یہ کوشش ہو رہی ہے کہ شادی کرنا، شادی نبھانا اور شادی کے بارے سوچنا ہی مشکل بنا دیا جائے۔ دوسری جانب طلاق کو بطور پالیسی پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ رکاوٹیں عبور کی جا رہی ہیں، پہلے گھر سے بھاگ کر شادی کو تحفظ دیا گیا، پھر شادی کی عمر بڑھائی گئی، خواتین کو گھروں سے نکالنے اور صنعتی مشینری کا حصہ بنانے کے لئے ان کے لئے مراعات متعارف ہوئیں، گھریلو زندگی کے حوالے سے مہم چلائی گئی اور کسی بھی چھوٹے مسئلے کے لئے قانونی طریقے مثلا تحفظ نسواں ایکٹ اور بہت سے اقدامات اٹھائے گئے۔ یہ سب معاشرتی خدوخال بدلنے کی کاوشیں ہیں۔ اس کے پیچھے اربوں کی سرمایہ کاری اور غیر ملکی طاقتوں کا ایجنڈا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی مضبوطی کے لئے خاندانی نظام کی تباہی ضروری ہے۔ اگر یقین نہ آئے تو مغربی طرز معاشرت میں دیکھ لیں۔ مختلف مسائل سے جڑی ’’جذباتیت‘‘ کو استعمال کرکے اپنے بڑے مقاصد حاصل کرنے کی کامیاب کوششیں کی گئی ہیں۔ لیکن سوال صرف یہی ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں یہ مغربی ماڈل فٹ بیٹھ سکے گا۔ اس قدر طاقت اور دولت کے انبار سے معاشرہ بدل دیا جائے گا۔ سوال ہمارے ہاں کی عورتوں سے ہے کہ کیا وہ مغربی عورت کا کردار پسند کریں گی۔ شادی کے رشتے کا خاتمہ کیا‘ ان کے مسائل کا حل ہے ؟ کیا طلاق کو پروموٹ کرنا ان کی خوشیوں کا باعث ہے۔ انہیں جذباتیت کے تحت اس ایجنڈے کا حصہ بننا ہے یا اپنی خاندانی و معاشرتی روایات کا تحفظ کرنا ہے ؟ سوال تو ہمارے اہل اقتدار سے بھی ہے کہ وہ بیرونی امداد اور دباؤ پر ایسی قانون سازی تو کر رہے ہیں لیکن کیا ان کے پاس ابھرتے معاشرتے مسائل کا حل بھی ہے ۔ شادی کے بغیر بڑھاپے تک پہنچنے والی خواتین ، طلاق کے بعد اکیلی رہ جانیوالی لڑکیوں، دوسری شادی کے شک یا خواہش پر خاوند کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دینے والی عورتوں کے مستقبل کے حوالے سے کیا کوئی پالیسی موجود ہے ۔ مغربی طرز معاشرت بچوں کو ڈے کئیر سینٹرز اور بڑھاپے میں سرکاری اولڈ ہاؤسز میں الاؤنس کے سہارے زندگی گزارنے کی سہولت دیتا ہے ۔ کیا ہماری حکومت نے بھی ایسے انتظامات کر لئے ہیں ۔ مغربی طرز زندگی جوانی کو باسہولت بناتی ہے ، شادی کی بجائے آزاد زندگی کا درس دیتی ہے کیونکہ اسی میں سرمایہ دارانہ نظام کا فائدہ چھپا ہے ، اس سے ورک فورس اور ماڈرن لائف اسٹائل کو استعمال کرنیوالے صارفین ملتے ہیں ، ان سے منافع کمایا جاتا ہے لیکن پھر ڈھلتی عمر میں کوئی سہارا نہیں بنتا اور زندگی کے وہ لمبے ایام تنہائی میں کسمپرسی میں گزارنے ہوتے ہیں ۔ سوال خواتین سے ہے کہ جانے انجانے میں مغربی فکر ، لبرل و سیکولر ایجنڈے کو قبول کرتے ہوئے کیا کبھی انہوں نے اس بارے بھی سوچا ہے کہ خاندانی نظام کی تباہی ان کی زندگیوں کو کیسا بنا دے گی؟
حاصل کلام یہ کہ اس ساری صورتحال سے آپ بہتر انداہ لگا سکتے ہیں کہ کس طرح ہمارے معاشرتی خدوخال بدلنے کی کوششیں ہو رہی ہیں ، کن چیزوں کو پزیرائی دی جا رہی اور کس اقدام کو ناقابل معافی جرم بنا کر اسے روکا جا رہا ہے ۔ ، عمر کی قید ، مختلف قوانین مصالحتی کونسل اور نت نئی پابندیاں ۔ سخت سزائیں اور بھاری جرمانے کرکے پہلی شادی کو ہی مشکل بنایا جا رہا ہے تو دوسری شادی کے بارے تو سوچنا ہی جرم بن جائے گا ۔ ہمارے اہل دانش کو اس بڑے ’’معاشرتی پیکج‘‘ کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، جس کے تحت ایک ایک جزو کو لیکر جذباتی بحث کراکے ، دو دھڑے بنا دئیے جا تے ہیں ، ایک قبولیت کی فضاء بنتی ہے ، بھرپور میڈیا مہم چلتی ہے ، قانون سازی ہوتی ہے، اس سے متعلقہ سرکاری ادارے بنتے ہیں اور تیز ترین عمل درآمد شروع ہو جاتا ہے ۔ گزشتہ چند سالوں سے یہی ہو رہا ہے اور اگر آپ غور کریں تو محسوس ہوگا کہ کافی حد تک پاکستانی معاشرے کے خدوخال بدل بھی دئیے گئے ہیں۔
 خفیہ تعلقات بمقابلہ خفیہ شادی:
لاہور کی عدالت نے دوسری شادی چھپانے پر شوہر کو گیارہ ماہ قید اور اڑھائی لاکھ جرمانہ کر دیا ۔ مقدمہ کرنیوالی پہلی بیوی کا شکوہ ہے کہ یہ ’’جرم کی نوعیت‘‘ کے حساب سے سزا کم سنائی گئی ہے ۔
یہ ہیں جی ارض پاک میں ناقابل معافی جرائم جن پر مغربی این جی اوز کی نظر ہو ۔ جو غیر ملکی ایجنڈے پر بنائے جائیں۔ المیہ تو یہ بھی ہے کہ اگر وہ باقاعدہ شادی نہ کرتا اور صرف ’’خفیہ تعلقات‘‘ رکھتا تو ملک کا کوئی قانون اسکا کچھ نہ بگاڑ سکتا ۔۔ کیونکہ حدود آرڈیننس کے تحت یہ جرم نہیں رہا ۔۔ اس پر سزا سنانے کا طریقہ کار اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ ناممکن ہی ہے ۔
مطلب سیدھا سادہ ہے کہ جو مغربی ایجنڈا ہے اس کے تحت ’’خفیہ تعلقات‘‘ رکھو لیکن دوسری شادی کی اجازت نہیں ۔ پہلی بیوی اجازت بھی دے تو مصالحتی کونسل کی اجازت کی شرط عائد ہے جو ملنا تقریبا ناممکن ہی سمجھیں۔ اگر بغیر پوچھے شادی کر لی تو پھر قید اور بھاری جرمانہ ہے ۔
یہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے ۔ یہ کیونکر سمجھ لیا گیا کہ مرد محض ’’عیاشی‘‘ کے لئے دوسری شادی کا سوچتے ہیں ۔ اگر انہیں عیاشی اور محض جنسی خواہش پوری کرنا ہو تو پھر تو بہت سے راستے مل جاتے ہیں۔ کیا مرد کو کسی بھی قسم کا حق حاصل نہیں ۔
لیکن اگر غور کیا جائے تو بعض صورتوں میں یہ مرد کی ضرورت بن جاتی ہے ۔ مثلا بیوی کی معذوری ۔ کوئی لمبا عرصہ چلنے والی بیماری ۔ کوئی ایسی بیماری کہ جس کے بعد باہمی تعلقات رکھنا ہی ناممکن ہو ۔ بعض اوقات بیوی کا ناراض ہو کر سالوں تک میکے رہنا ۔ بے اولادی کا روگ جب کوئی صورت ہی نہ رہے ۔ بہت سی ایسی وجوہات بن جاتی ہیں ۔
ایسی صورتوں میں مرد کے لئے کیا کوئی صورت نکلتی ہے؟ دوسری جانب طلاق کو تو جیسے پروموٹ کیا جا رہا ہے۔ اگر کسی بھی صورت میں دوسری شادی کی اجازت نہ رہے تو اسکا نتیجہ پھر طلاق میں اضافہ ہی نکلے گا اور یہی ہو رہا ہے ۔ طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے ۔ جب پہلی بیوی اجازت نہ دے۔ مصالحتی کونسل کو منانا مشکل ہو تو پھر مرد کو طلاق پر اکسایا جا رہا ہے۔ اسی طرح اگر بغیر بتائے شادی کر لی۔ پہلی بیوی نے جیل کرادی لاکھوں کا جرمانہ کرا دیا تو کیا وہ اپنی شادی بچا پائے گی۔ کیا وہ شوہر کیساتھ باقی زندگی گزار سکے گی ۔ ظاہر ہے ایسا ناممکن نظر آتا ہے اور نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلے گا۔
کیا مغربی ایجنڈے پر قانون سازی کرنیوالے اور فارن پریشر پر تیزترین عمل کرنیوالوں کو حقیقی معاشرتی مسائل کا ادراک ہے ؟ کیا انہیں شادی کے انتظار میں بیٹھی بوڑھی ہوتی لڑکیوں کا تھوڑا سا بھی احساس ہے ۔ ان کی زندگی اور نفسیاتی مسائل کی مشکلات کا اندازہ ہے ؟
کیا یہ المیہ نہیں کہ اگر انہیں کسی کی جانب سے شادی کے بندھن کا تحفظ مل جائے تو ریاست روک دیتی ہے ۔ دوسری جانب حکومت‘ اہل اقتدار سمیت کسی کو بھی ان کی عذاب بنتی زندگیوں کا تھوڑا سا بھی احساس ہے ۔ اس مسئلے کو ہمیشہ ہی ایک منفی رخ سے دیکھا جاتا ہے ۔ ایسا تصور پیش کیا جاتا ہے کہ جیسے اس سے بڑی برائی ہی کوئی نہ ہو۔ حالانکہ حقیقت یہی ہے کہ محض دس فیصد مرد بھی دوسری شادی کے بارے بھی نہیں سوچتے ۔۔؟؟ جو اگر کسی وجہ سے اس بارے سوچتے بھی ہیں تو ان کے مسائل سننے کی ضرورت ہے نہ کہ اس پر سخت پابندیاں لگا کر معاشرے میں عجیب و غریب فضا پیدا کرنا ۔ دوسری شادی فرض نہیں‘ نہ ہی ہر کوئی کوشش کرتا ہے اور نہ ہی ہر کسی کا یہ مسئلہ ہے ۔ مانا کہ اسے بہت زیادہ پروموٹ بھی نہیں ہونا چاہیے اگر دوسری شادی کرنی بھی ہے تو اسلام نے سخت فرائض عائد کئے ہیں ۔ جو کرنا چاہتا ہے اسے یقینا مسائل کا بھی علم ہوتا ہے لیکن اگر اس کے باوجود کوئی کسی ضرورت کے تحت کرنا چاہتا ہے تو اس پر اتنی سخت قانون سازی مناسب نہیں بلکہ اسے تو ایک مربوط نظام میں لاکر شادی کے انتظار میں بیٹھی لڑکیوں کے فائدے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ ریاست نگران بن سکتی ہے ۔ حقوق کا خیال رکھ سکتی ہے اور بہت سے اقدامات ہو سکتے ہیں لیکن اس پر سخت پابندیاں لگا کر ناممکن بنا دینا معاشرے میں شدید قسم کے مسائل پیدا کر دے گا ۔ اہل دانش اور سنجیدہ حلقوں کو اس بارے سوچنا چاہیے ۔۔ اس مسئلے کو غیر ملکی ایجنڈے اور این جی اوز کی نظر سے دیکھنے کی بجائے حقیقی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔


1 comment: