سیرت سیدنا عثمان﷜ 29-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

سیرت سیدنا عثمان﷜ 29-2019


سیرت سیدنا عثمان غنی ﷜

تحریر: جناب پروفیسر محمد زبیر شیخ
تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو بہت سی خصوصیات سے نوازا ہے۔ ان مختلف الجہت خصوصیات میں سے ایک خصوصیت وہ رجال اللہ ہیں جنہیں تاریخ میں بلند مقام حاصل ہے۔ خصوصاً صحابہ کرام کی زندگیاں ہمارے لیے روشن مثال ہیں۔ اس مضمون میں انہی ہستیوں میں سے ایک منفرد ہستی کا تذکرہ کیا جارہا ہے جن کی زندگی کفر کی موت تھی۔ وقت کی دھول بھی ان کی تابندہ سیرت کو دھندلا نہیں سکی جو شرم وحیاء کا پیکر تھی۔
جو ہدایت اور علم کا سمندر تھی۔ تقویٰ اور پرہیزگاری جن کی سرشت میں شامل تھا۔ حتیٰ کہ زمانہ جاہلیت کی آلودگیاں بھی انہیں آلودہ نہ کر سکیں۔ (مسند احمد: ۴۳۷)
۱۲ سال تک خلافت سنبھالی۔ لا تعداد فتوحات حاصل ہوئیں اور اسلامی سلطنت وسیع سے وسیع تر ہوگئی۔امت کو اختلاف سے نکال کر اتفاق پر قائم کر دیا۔ مسلمانوں کے لیے مال پانی کی طرح بہایا۔مسجد نبوی وسیع کروائی۔
اس ہستی کا نام نامی سیدنا عثمان بن عفانt ہے۔ آپ کے مختصر حالات زندگی حسبِ ذیل ہیں:
حالاتِ زندگی:
پیدائش: حافظ ابن حجرa لکھتے ہیں کہ صحیح قول کے مطابق آپt عام الفیل کے چھ سال بعد پیدا ہوئے۔ اس اعتبار سے آپt نبی کریمe سے تقریباً ۵ سال چھوٹے تھے۔ (الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ لابن حجر: ۴/۳۷۷، طبع: دار الکتب العلمیۃ  بیروت)
نام ونسب، کنیت، لقب:
آپt کا مکمل نام ونسب یہ ہے: عثمان بن عفان بن ابی العاص ابن امیہ بن عبد شمس قرشی اموی۔ آپ کی کنیت ابو عمر اور ابو عبد اللہ ہے۔ (الاصابۃ: ۴/۳۷۷)
آپ کے القاب ذوالنورین اور امین ہیں۔ (سیرت عثمان غنی، از سیف اللہ خالد، طبع دار الاندلس: ۳۲)
آپt کی والدہ کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی دولت سے نوازا تھا۔ (الاصابۃ: ۴/۳۷۷)
نبی کریمؐ سے تعلق:
’’بلاشبہ اسلام میں شرف کی بنیاد تقویٰ اور پرہیز گاری پر ہے۔‘‘ (الحجرات: ۱۳)
نبی کریمe نے بھی فرمایا ہے:
[مَنْ بَطَّاَ بِہٖ عَمَلُہُ، لَمْ یُسْرِعْ بِہِ نَسَبُہُ] (صحیح مسلم: ۲۶۹۹)
جس کو اللہ کے دربار میں اس کے اعمال نے پیچھے کردیا، اس کا خاندان اور حسب ونسب اسے آگے  نہیں کرسکتا۔
نبی کریمe نے تو اپنے خاندان والوں اور اہل بیت کو خطاب کرکے واضح طور پر فرما دیا تھا:
[یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! اَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا، اشْتَرُوا اَنْفُسَکُمْ لاَ اُغْنِی عَنْکُمْ مِنَ اللَّہِ شَیْئًا، یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ لاَ اُغْنِی عَنْکُمْ مِنَ اللَّہِ شَیْئًا، یَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ المُطَّلِبِ لاَ اُغْنِی عَنْکَ مِنَ اللَّہِ شَیْئًا، وَیَا صَفِیَّۃُ عَمَّۃَ رَسُولِ اللَّہِ لاَ اُغْنِی عَنْکِ مِنَ اللَّہِ شَیْئًا، وَیَا فَاطِمَۃُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَلِینِی مَا شِئْتِ مِنْ مَالِی لاَ اُغْنِی عَنْکِ مِنَ اللَّہِ شَیْئًا۔] (صحیح بخاری: ۴۷۷۱)
’’اے جماعت قریش! یا اسی طرح کا اور کوئی کلمہ آپe نے فرمایا کہ اللہ کی اطاعت کے ذریعہ اپنی جانوں کو اس کے عذاب سے بچاؤ (اگر تم شرک و کفر سے باز نہ آئے تو) اللہ کے ہاں میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے بنی عبد مناف! اللہ کے ہاں میں تمہارے لیے بالکل کچھ نہیں کر سکوں گا ۔ اے عباس بن عبدالمطلب! اللہ کی بارگاہ میں میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکوں گا۔ اے صفیہ! رسول اللہ کی پھوپھی! میں اللہ کے یہاں تمہیں کچھ فائدہ نہ پہنچا سکوں گا ۔ اے فاطمہ! محمد (e) کی بیٹی! میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے لے لو لیکن اللہ کی بارگاہ میں ، میں تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکوں گا ۔‘‘
لیکن ہمارے معاشرے میں بعض لوگ جو صحابہ کرام کے بارے میں نازیبا کلمات اپنے منہ سے نکالتے ہیں {وما تخفی صدورھم أکبر} کے ہاں شرف کا معیار نسب ہے۔ اس اعتبار سے بھی اگر سیدنا عثمانt کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپt کا خاندانی طور پر نبی کریمe سے تین طرح کا تعلق ہے۔ یعنی آپt کے نبی کریمe سے تین رشتے تھے:
Ý          آپt کی نانی محترمہ کا اسم گرامی ام حکیم بیضاء  تھا جو کہ رسول اللہe کی پھوپھی تھیں۔ (الاصابۃ: ۴/۳۷۷)
Þ          آپt کے نسب نامہ میں چھٹی پشت پر عبد مناف  کا نام آتا ہے اور نبی کریمe کے نسب نامہ میں بھی چھٹی پشت پر عبد مناف کا نام ہے۔ یہ بھی ایک خاندانی تعلق اور رشتہ ہے۔
ß          نبی کریمe نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی سیدنا عثمان  سے کی۔ ایک سیدہ رقیہr تھیں۔ (صحیح بخاری: ۳۱۳۰)، وسنن بیہقی: ۱۸۵۸۵۔ دوسری ام کلثومr تھیں۔ (سنن ابن ماجہ: ۱۴۵۸)
بعض لوگوں کو سیدنا عثمانt کا نبی کریمe سے یہ تیسرا تعلق برداشت نہیں ہوتا، اس لیے وہ سرے سے ہی نبی کریمe کی سیدہ فاطمہr کے علاوہ باقی تین بیٹیوں کا انکار کردیتے ہیں۔ حالانکہ نبی کریمe کی ان بیٹیوں کا تذکرہ ان کی کتابوں میں بھی ہے۔ مثال کے طور پر چند حوالے ملاحظہ فرمائیں:
1          الکافی للکلینی: ۱/۲۷۸، طبع: منشورات الفجر، بیروت  لبنان، دوسرا نسخہ: ۱/۵۰۹، طبع: دار التعارف للمطبوعات، بیروت لبنان، اصول کافی مترجم: ۳/۵، طبع: ظفر شمیم پبلیکیشنز ٹرسٹ، ناظم آباد نمبر ۲، کراچی
2          حیات القلوب از ملا باقر مجلسی: ۲/۸۷۱، طبع: امامیہ کتب خانہ، اندرون موچی دروازہ، لاہور
3          نہج البلاغۃ، ص: ۳۱۳، طبع: دار العلوم للنشر والتوزیع، نہج البلاغہ مترجم، خطبہ نمبر: ۱۶۴، ترجمہ: ذیشان حیدر جوادی، ص: ۳۰۸، ۳۰۹، طبع: محفوظ بک ایجنسی، مارٹن روڈ، کراچی۔ دوسرا نسخہ: خطبہ نمبر: ۱۶۲، ترجمہ: مفتی جعفر حسین، ص: ۳۷۹، طبع: المعراج کمپنی، لاہور
 حلیہ:
آپ شکل وصورت کے اعتبار سے بھی بہت خوبصورت تھے۔ درمیانہ قد، گھنگھریالے بال، گورے چٹے تھے۔ (سیدنا عثمان بن عفان ، شخصیت اور کارنامے مترجم، از محمد علی الصلابی، طبع: الفرقان ٹرسٹ، ص: ۳۸)
 شادی اور اولاد:
آپt کی پہلی شادی سیدہ رقیہr بنت رسول اللہ سے ہوئی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی بہن ام کلثوم  آپ کے نکاح میں آئیں۔ ان کے فوت ہوجانے کے بعد آپ نے فاختہ بنت غزوان، ام عمرو بنت جندب، فاطمہ بنت ولید، ام البنین بنت عیینہ، رملہ بنت شیبہ، نائلہ بنت الفرافصہ سے مختلف اوقات میں شادی کی۔ شہادت کے وقت آخر الذکر آپt کے پاس موجود تھیں۔
ان مختلف بیویوں سے آپ کے ۹ بیٹے اور ۷ بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ (سیدنا عثمان بن عفان، شخصیت اور کارنامے، ص: ۳۹)
قبول اسلام:
جب آپt کی عمر ۳۴ برس ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو قبول اسلام کے شرف سے نوازا اور آپ  کلمہ پڑھ کر حلقہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ آپt کے اسلام قبول کرنے میں سیدنا ابو بکرt کی کوششوں کا بہت بڑا عمل دخل ہے۔ (سیرت ابن ہشام، طبع: مکتبۃ مصطفی البابی الحلبی، مصر، ص: ۱/۲۵۰)
اسلام قبول کرنے کی پاداش میں ان کے چچا حکم بن ابی العاص نے رسی میں جکڑ دیا اور نہایت تکلیف دی۔ (سیدنا عثمان بن عفان، شخصیت اور کارنامے، ص: ۴۶)
فی سبیل اللہ ہجرت:
آپt نے اسلام کی خاطر دو مرتبہ اپنے وطن کو چھوڑا۔ پہلی مرتبہ آپ حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے۔ پھر وہاں سے واپس مکہ آئے اور اس کے بعد ہجرتِ مدینہ کا حکم ہوا تو آپt نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔
 غزوات میں شرکت:
اسلام اور کفر کے درمیان جب پہلا معرکہ ہوا جسے غزوہ بدر کہتے ہیں، اس میں آپt شریک نہ ہوسکے کیونکہ اس وقت آپt کی زوجہ محترمہ سیدہ رقیہr بنت رسول اللہ بیمار تھیں اور آپe نے خود سیدنا عثمانt کو پیچھے رہنے کا حکم دیا تھا۔ (صحیح بخاری: ۳۱۳، وسنن بیہقی: ۱۸۵۸۵)
اس کے علاوہ باقی غزوات میں آپ نے سرگرم شرکت کی۔
۶ ہجری میں نبیe نے خواب دیکھا کہ آپe صحابہ سمیت عمرہ ادا کررہے ہیں۔ آپe نے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے۱۴۰۰ صحابہ کرام کے ساتھ رخت سفر باندھا اور عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوگئے۔ لیکن جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو کفار نے آگے جانے سے روک دیا۔ اس موقع پر آپe نے کفار سے بات کرنے کے لیے سیدنا عثمان بن عفانt کا انتخاب کیا اور انہیں اپنا سفیر بنا کر مکہ روانہ کیا۔ وہاں سے واپسی پر انہیں دیر ہوگئی جس پر مسلمانوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ سیدنا عثمانt شہید کردیے گئے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہe نے ایک درخت کے نیچے بیعت لی جیسے بیعت رضوان کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورۃ الفتح اسی موقع کی مناسبت سے نازل فرمائی ہے۔ اس میں یہ پورا واقعہ موجود ہے۔
بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سفیر رسول عثمان بن عفان نہیں، بلکہ عثمان بن مظعون تھے۔ ان کی تسلی کے لیے ان کی ایک کتاب کا حوالہ یہاں درج کیا جاتا ہے جس میں واضح طور پر عثمان بن عفان لکھا ہوا ہے۔ (الکافی للکلینی، کتاب الروضۃ: ۸/۱۷۳، طبع: منشورات الفجر، بیروت  لبنان، دوسرا نسخہ: ۸/۲۵۴، طبع: دار التعارف للمطبوعات، بیروت لبنان)
۹ ہجری میں ہونے والے غزوہ تبوک جسے ’’جیش العسرۃ‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ سخت گرمی کے موسم میں تھا، آپt نے اس کی تیاری میں اس قدر مدد کی کہ رسول اللہe خوش ہوگئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہe نے فرمایا تھا: ’’جو اس لشکر کو تیار کرنے میں مدد کرے گا، اس کے لیے جنت ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۲۷۷۸) تو سیدنا عثمانt نے بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لیا۔
 خلافت صدیقی میں:
نبی کریمe کی وفات کے بعد جب سیدنا ابوبکرt خلیفہ بنے تو سیدنا عثمانt کا مجلس شوریٰ کے اہم ارکان میں شمار ہوتا تھا۔ آپt سیدنا ابو بکرt کے جنرل سیکرٹری، ناموس اعظم اور کاتب اکبر تھے۔ (سیدنا عثمان بن عفانt، شخصیت اور کارنامے، ص: ۸۳)
 خلافت فاروقی میں:
سیدنا ابو بکرt کے بعد جب سیدنا عمرt خلیفہ بنے تو ان کی مجلس شوریٰ کے ارکان میں ایک اہم نام سیدنا عثمان بن عفانt کا تھا۔
 خلافت عثمانی:
جب ابو لؤلؤ فیروز نے سیدنا عمرt کو زخمی کیا اور آپt کو اپنی وفات کا یقین ہوگیا تو آپt نے چھ آدمیوں کی ایک کمیٹی بنائی اور فرمایا کہ خلیفہ انہی میں سے کوئی ایک ہوگا۔ وہ چھ آدمی یہ تھے: عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، طلحہ بن عبید اللہ، زبیربن عوم، سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف ۔
اس موقع پر سیدنا زبیر نے سیدنا علی کا، سیدنا طلحہ نے سیدنا عثمان کا اور سیدنا سعد نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف کا نام پیش کیا۔ آخر کار اتفاق رائے سے سیدنا عثمانt ۴ محرم ۲۴ ہجری کو مسند نشین خلافت ہوئے۔ (عثمان بن عفان، شخصیت اور کارنامے، ص: ۱۰۵)
بعض لوگوں کو خلفائے ثلاثہ یعنی سیدنا ابو بکر، عمر اور عثمان کی خلافت ایک آنکھ نہیں بھاتی اور وہ انہیں غاصب قرار دیتے ہیں۔ جبکہ سیدنا علی بن ابی طالبt کا اس بارے میں نقطہ نظر کیا تھا، اس کی وضاحت انہی کی ایک معتبر ترین کتاب سے ہوجاتی ہے۔ اس کتاب کے مطابق سیدنا علیt نے ایک مرتبہ فرمایا:
[إنہ بایعنی القوم الذین بایعوا أبا بکر وعمر وعثمان علی ما بایعوہم علیہ، فلم یکن للشاہد أن یختار ولا للغائب أن یرد، وإنما الشوری للمہاجرین والانصار،فإن اجتمعوا علی رجل وسموہ إماما کان ذلک للہ رضی، فإن خرج من أمرہم خارج بطعن أو بدعۃ ردوہ إلی ما خرج منہ ، فإن أبی قاتلوہ علی أتباعہ غیر سبیل المؤمنین وولاہ اللہ ما تولی۔] (نہج البلاغۃ، ص: ۴۹۱، طبع: دار العلوم للنشر والتوزیع)
’’میری بیعت اسی قوم نے کی ہے جس نے ابوبکر وعمر اور عثمان کی بیعت کی تھی۔ اور اسی طرح کی ہے  جس طرح ان کی بیعت کی تھی کہ نہ کسی حاضر کو نظر ثانی کا حق تھا اور نہ کسی غائب کو رد کرنے کا اختیار تھا۔شوریٰ کا اختیار بھی صرف مہاجرین و انصار کو ہوتا ہے، لہٰذا وہ کسی شخص پر اتفاق کرلیں اور اسے امام نامزد کردیں تو گویا کہ اسی میں رضائے الٰہی ہے اور اگر کوئی شخص تنقید کرکے یا بدعت کی بنیاد پر اس امر سے باہر نکل جائے تو لوگوں کا فرض ہے کہ اسے واپس لائیں ، اگر وہ انکار کردے تو اس سے جنگ کریں کہ اس نے مؤمنین کے راستے سے ہٹ کر راہ نکالی ہے اور اللہ بھی اسے ادھر پھیردے گا جدھر وہ پھر گیا ہے۔‘‘ (نہج البلاغہ مترجم، خط نمبر: ۶، ترجمہ: ذیشان حیدر جوادی، ص: ۴۸۸-۴۸۹، طبع: محفوظ بک ایجنسی، مارٹن روڈ، کراچی۔ دوسرا نسخہ: خط نمبر ۶، ترجمہ: مفتی جعفر حسین، ص: ۵۶۲، طبع: المعراج کمپنی، لاہور)
 شہادت کے اسباب:
اتنے عظیم الشان اور رحمدل خلیفہ کو ۳۵ ہجری میں ان کے گھر میں نہایت مظلومانہ طور پر شہید کردیا گیا۔ اگر اس کے پیچھے اسباب کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں میں خوشحالی اور فارغ البالی آگئی تھی جس کی وجہ سے ان میں اسلام کے لیے وہ پہلے جیسا جوش وجذبہ باقی نہیں رہا تھا۔ اس کے علاوہ جو نئے لوگ مسلمان ہوئے تھے، ان میں خلوص و للہیت کی کمی تھی۔ آپ کے دور میں بہت سے عجمی ممالک سلطنت ِ اسلامیہ میں داخل ہوئے  جس کی وجہ سے عجمی عناصر میں زیادتی ہوتی گئی ۔ علاوہ ازیں یہودو نصاریٰ کی ریشہ دوانیاں بھی جاری تھیں خصوصاً عبداللہ بن سبا یہودی کا اس سارے واقعہ میں بہت بڑا ہاتھ اور کردار تھا۔
چند الزامات اور ان کے جوابات:
بعض لوگوں کو سیدنا عثمانt سے خصوصی عداوت ہے، اس لیے وہ آپt پر چند مخصوص الزامات عائد کرتے رہتے ہیں، حالانکہ ان کے واضح جواب کئی مرتبہ دیے جاچکے ہیں۔ چند مشہور اعتراضات اور ان کے جوابات ملاحظہ کیجیے:
1          غزوہ بدر سے غیر حاضر رہے۔
2          غزوہ احد میں پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے۔
3          بیعت رضوان میں شریک نہیں ہوئے تھے۔
P  ان تینوں اعتراضات کا جواب صحیح بخاری میں موجود ہے۔
عثمان بن موہب بیان کرتے ہیں کہ ایک مصری آدمی آیا اور حج بیت اللہ کیا، پھر کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو اس نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ کسی نے کہا کہ یہ قریشی ہیں۔ اس نے پوچھا کہ ان میں بزرگ کون صاحب ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمرw ہیں۔ اس نے پوچھا کہ اے ابن عمر! میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ مجھے بتائیں گے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمانt نے اُحد کی لڑائی سے راہ فرار اختیار کی تھی؟ سیدنا ابن عمرw نے فرمایا کہ ہاں ایسا ہوا تھا۔ پھر اس نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے؟ جواب دیا کہ ہاں ایسا ہوا تھا۔ اس نے پوچھا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان میں بھی شریک نہیں تھے۔ جواب دیا کہ ہاں! یہ بھی صحیح ہے۔ یہ سن کر اس کی زبان سے نکلا: ’’اللہ اکبر‘‘۔ … تو سیدنا ابن عمرw نے کہا: قریب آجاؤ، اب میں تمہیں ان واقعات کی تفصیل سمجھاتا ہوں۔ اُحد کی لڑائی سے فرار کے متعلق میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا ہے۔ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے نکاح میں رسول اللہe کی صاحبزادی تھیں اور اس وقت وہ بیمار تھیں اور نبی کریمe نے فرمایا تھا کہ تمہیں (مریضہ کے پاس ٹھہرنے کا) اتنا ہی اجر و ثواب ملے گا جتنا اس شخص کو جو بدر کی لڑائی میں شریک ہو گا اور اسی کے مطابق مال غنیمت سے حصہ بھی ملے گا۔ اور بیعت رضوان میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس موقع پر وادی مکہ میں کوئی بھی شخص (مسلمانوں میں سے) سیدنا عثمانt سے زیادہ عزت والا اور بااثر ہوتا تو نبی کریمe اسی کو ان کی جگہ وہاں بھیجتے۔ یہی وجہ ہوئی تھی کہ آپe نے انہیں (قریش سے مذاکرات کرنے کے لیے) مکہ بھیج دیا تھا اور جب بیعت رضوان ہو رہی تھی تو سیدنا عثمانt مکہ جا چکے تھے۔ اس موقع پر نبی کریمe نے اپنے داہنے ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا تھا کہ ’’یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔‘‘ اور پھر اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر فرمایا تھا کہ ’’یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے۔‘‘ اس کے بعد سیدنا ابن عمرw نے سوال کرنے والے شخص سے فرمایا: جاؤ، ان باتوں کو ہمیشہ یاد رکھنا۔ (صحیح بخاری: ۳۶۹۸)
سیدنا ابن عمرw نے غزوہ اُحد میں پیچھے ہٹنے پر جس معافی کا تذکرہ کیا ہے، وہ قرآن مجید میں ہے:
{إِنَّ الَّذِینَ تَوَلَّوْا مِنْکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّہُمُ الشَّیْطَانُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللّٰہُ عَنْہُمْ إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ حَلِیمٌ} (آل عمران)
’’تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ پھیری جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے ٹکرائے، درحقیقت ان کے بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان نے ان کو لغزش میں مبتلا کردیا تھا۔ اور یقین رکھو کہ اللہ نے انہیں معاف کردیا ہے۔ یقینا اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا بردبار ہے۔‘‘
4          انہوں نے لوگوں کو خصوصاً اپنے رشتہ داروں کو دل کھول کر عطیات دیے۔
P  آپt پہلے ہی مالدار تھے۔ بئر رومہ کی خریداری اور جیش عسرہ کی تیاری والے واقعات سے ان کی مالداری واضح ہے۔ انہیں بیت المال سے دوسروں کی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔ اس لیے یہ بے بنیاد الزام ہے۔
5          قرآن کو جلایا۔
P  اس کی وجہ صحیح بخاری میں موجود ہے۔ سیدنا انس بن مالکt بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ بن الیمانt امیرالمؤمنین عثمانt کے پاس آئے۔ اس وقت عثمانt آرمینیہ اور آذربیجان کی فتح کے سلسلے میں شام کے غازیوں کے لیے جنگ کی تیاریوں میں مصروف تھے، تاکہ وہ اہل عراق کو ساتھ لے کر جنگ کریں۔ سیدنا حذیفہt قرآن مجید کی قراء ت کے اختلاف کی وجہ سے بہت پریشان تھے ۔ آپ نے سیدنا عثمانt سے کہا: امیرالمؤمنین! اس سے پہلے کہ یہ امت (امت مسلمہ) بھی یہودیوں اور نصرانیوں کی طرح کتاب اللہ میں اختلاف کرنے لگے ، آپ اس کی خبر لیجئے۔ چنانچہ سیدنا عثمانt نے سیدہ حفصہr کے یہاں کہلا بھیجا کہ صحیفے (جنہیں سیدنا زیدt نے سیدنا ابوبکرt کے حکم سے جمع کیا تھا اور جن پر مکمل قرآن مجید لکھا ہوا تھا) ہمیں دے دیں تاکہ ہم انہیں مصحفوں میں (کتابی شکل میں)نقل کروا لیں۔ پھر اصل ہم آپ کو لوٹا دیں گے۔ سیدہ حفصہr نے وہ صحیفے سیدنا عثمانt کے پاس بھیج دئیے اور آپt نے سیدنا زید بن ثابت، سیدنا عبداللہ بن زبیر، سیدنا سعد بن العاص، سیدنا عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کو حکم دیا کہ وہ ان صحیفوں کو مصحفوں میں نقل کر لیں۔ سیدنا عثمانt نے اس جماعت کے تین قریشی صحابیوں سے کہا کہ اگر آپ لوگوں کا قرآن مجید کے کسی لفظ کے سلسلے میں سیدنا زیدt سے اختلاف ہو تو اسے قریش ہی کی زبان کے مطابق لکھ لیں کیونکہ قرآن مجید بھی قریش ہی کی زبان میں نازل ہوا تھا ۔ چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور جب تمام صحیفے مختلف نسخوں میں نقل کر لیے گئے تو سیدنا عثمانt نے ان صحیفوں کو واپس لوٹا دیا اور اپنی سلطنت کے ہر علاقہ میں نقل شدہ مصحف کا ایک ایک نسخہ بھیجوا دیا اور حکم دیا کہ اس کے سوا کوئی چیز اگر قرآن کی طرف منسوب کی جاتی ہے خواہ وہ کسی صحیفہ یا مصحف میں ہو تو اسے جلا دیا جائے۔(صحیح بخاری: ۴۹۸۷)
گویا کہ یہ تو سیدنا عثمانt کا اچھا عمل تھا جو انہوں نے امت کی خیرخواہی اور بھلائی کے پیشِ نظر کیا تھا۔
 اہل بیت سے تعلق:
بعض لوگوں کے نزدیک صحابہ کرام کا خاندانِ علیt سے اچھا سلوک نہیں تھا اور ان کی آپس میں شروع سے دشمنیاں تھیں۔ اس سلسلہ میں سیدنا عثمانt پر بھی کیچڑ اچھالا جاتا ہے اور انہیں خاندانِ علیt کا دشمن ثابت کیا جاتا ہے۔ آئیے انہی کی کتابوں کے حوالہ سے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعتا یہی صورتحال تھی؟
جب سیدنا علیt کی شادی کا موقع آیا تو سیدنا علیt کے پاس بطور سامان صرف ایک زرہ تھی۔ سیدنا عثمان بن عفانt نے وہ زرہ چار سو درہم میں خرید لی۔ جب سودا مکمل ہوگیا اور عثمانt نے زرہ اور سیدنا علیt نے درہم پکڑ لیے تو عثمانt نے کہا: ابو الحسن! کیا اب میں زرہ کا تمہاری نسبت اور تم درہموں کے میری نسبت زیادہ حق دار نہیں ہو؟ سیدنا علیt نے جواب دیا: کیوں نہیں۔ ایسا ہی ہے۔ تو سیدنا عثمانt نے فرمایا: یہ زرہ میری طرف سے تمہارے لیے تحفہ ہے۔ سیدنا علیt کہتے ہیں: میں نے درہم اور زرہ کو پکڑا اور رسول اللہe کے پاس چلا گیا۔ وہاں جا کر میں نے درہم اور زرہ کو آپe کے سامنے رکھا اور سارا معاملہ گوش گزار کیا کہ کس طرح سیدنا عثمانt نے میری خیرخواہی کی ہے تو آپe نے سیدنا عثمانt کے لیے دعائے خیر فرمائی۔ (کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ لأبی الحسن علی بن عیسیٰ الأربلی، طبع: دار الأضواء  بیروت: ۱/۳۶۸-۳۶۹۔ وفی نسخۃ أخریٰ: ۱/۳۵۹، طبع: مکتبۃ بنی ھاشم  تبریز)
اس کے بعد جب نکاح کی مجلس منعقد ہونے لگی تو رسول اللہe نے سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور بہت سے انصار صحابہ کو بلا بھیجا۔ (کشف الغمۃ: ۱/۳۵۸، وفی نسخۃ أخریٰ: ۱/۳۴۸)
 فضائل سیدنا عثمان :
1          نبی کریمe نے کئی مرتبہ آپt کو جنت کی بشارت دی۔ (صحیح بخاری: ۲۷۷۸‘ ۶۲۱۶)
2          جن دس صحابہ کرام کو نبی کریمe نے نام بنام جنت کی بشارت دی، انہیں عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے۔ سیدنا عثمانt بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ (سنن ابی داؤد: ۴۶۴۹)
3          اسلام کی خاطر دو مرتبہ ہجرت کی اور غریب الدیار بنے۔ (بخاری: ۳۶۸۶)
4          نبی کریمe کے خلفاء راشدین میں آپ کا تیسرا نمبر ہے
5          بئر رومہ خرید کر وقف کیا اور نبی کریمe کی اس بشارت کا مصداق بنے جو شخص بیئر رومہ کو کھودے گا اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دے گا تو اسے جنت کی بشارت ہے۔ (صحیح  بخاری: ۲۷۷۸)
6          نبی کریمe کے عہد میں صحابہ کرام سیدنا ابوبکرt کے برابر کسی کو نہیں قرار دیتے تھے۔ پھر سیدنا عمرt کو اور پھر سیدنا عثمانt کو۔ (صحیح  بخاری: ۳۶۹۷)
7          نبی کریمe نے اپنی زندگی میں سیدنا عثمان کو شہید قرار دیا تھا۔ (صحیح بخاری: ۳۶۹۹)
 حاصل ہونے والے اسباق:
اللہ رب العالمین نے قرآن مجید میں گزشتہ اقوام کے واقعات بیان کرکے فرمایا ہے:
{لَقَدْ کَانَ فِی قَصَصِہِمْ عِبْرَۃٌ لِأُولِی الْأَلْبَابِ}
’’یقینا ان کے واقعات میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے بڑا عبرت کا سامان ہے۔ ‘‘ (یوسف)
اس سے ہمیں یہ قاعدہ اور قانون ملتا ہے کہ ہم جب بھی کوئی واقعہ پڑھیں یا کسی کی سیرت سے واقف ہوں تو ہمیں اس سے اپنے لیے اسباق اخذ کرنے چاہئیں۔ اسی قاعدہ اور قانون کے تحت سیرت عثمان سے اخذ ہونے والے چند اسباق حسبِ ذیل ہیں:
1          دین کے لیے جان ومال کی قربانی کا جذبہ ہمارے اندر ہونا چاہیے۔
2          دین کی خاطر وطن چھوڑنا پڑے تو کوئی حرج محسوس نہیں کرنا چاہیے۔
3          شرم و حیا کو اختیار کرنا چاہیے۔
4          صبروتحمل اور حلم وبردباری کو اپنانا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔


No comments:

Post a Comment