طب وصحت .. ذیابطیس (شوگر) 29-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

طب وصحت .. ذیابطیس (شوگر) 29-2019


طب وصحت ... ذیابطیس (شوگر)

تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی
بیسوی صدی کے آغاز میں صورت یہ تھی کہ اگر کسی کو مرض ذیا بیطس تشخیص ہو گیا تو اس کی دنیا تاریک ہو جاتی تھی۔ اس وقت یہ مرض خال خال لوگوں کو ہوتا تھا اور اس بارے زیادہ معلومات بھی نہ تھیں لیکن اب اس مرض کو مناسب تدابیر‘ پرہیز اور علاج معالجہ سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ مگر نئی صدی میں اس کے باوجود مہلک اور عام مرض بن گیا ہے۔ اگرچہ یہ چھوت کا مرض نہیں جو ایک سے دوسرے کو منتقل ہو جائے‘ تا ہم موروثی اثرات کے سبب ۴۰ فی صد اولاد کے اس میں مبتلا ہونے اور اگر ماں باپ دونوں کو یہ مرض ہو تو ۸۰ فی صد امکان اولاد میں منتقل ہونے کا ہوتا ہے۔ ذیا بیطس کا مرض کنٹرول ہو جاتا ہے مگر پھر بھی لوگوں کی اکثریت کنٹرول کرنے سے قاصر ہے۔ معلومات کی فراہمی اور شعور صحت اجاگر کر کے ۸۰ فی صد اس مرض کی پیچیدگی سے بچ کر معمول کی زندگی گذاری جا سکتی ہے۔ ذیا بیطس کے بین الاقوامی ادارے کے مطابق ۱۹۹۷ء تک ایشیا کے چھ کروڑ ساٹھ لاکھ افراد اس مرض میں مبتلا تھے اور اندازہ ہے کہ ۲۰۱۶ء تک یہ تعداد ۲۱ کروڑ ۲۰ لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ جاپان کے انٹرنیشنل میڈیسن فاؤنڈیشن کے مطابق یہ مرض ایشیاء میں اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔ ایک مطالعہ کے مطابق اس مرض میں مبتلا آدھے افراد کو بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا اور جن کو علم ہو جاتا ہے وہ مناسب احتیاطیں نہیں کرتے‘ حالانکہ مناسب احتیاط پرہیز اور علاج سے مریض کا مرض ختم تو نہیں ہوتا البتہ کنٹرول ہو جاتا ہے‘ اس کی سرگرمیوں میں فرق تو ضرور آتا ہے مگر زندگی کو کوئی فرق یا خطرہ لاحق نہیں رہتا۔
ذیا بیطس جسے انگریزی میں (Diabetes) کہتے ہیں ایک خطرناک مرض ہے جو جسم کو اندرونی طور پر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ اس کی دو اقسام ہیں: ذیابیطس شکری جس میں پیشاب یا خون میں شکر آتی ہے جبکہ دوسری قسم ذیا بیطس سادہ میں شکر نہیں آتی۔ ذیابیطس میں خون میں گلوکوز کی مقدار تشویش ناک حد تک پڑھ جاتی ہے۔ اس کے بڑھنے کی وجہ لبلبہ کی خرابی ہے جو ایک چھوٹا سا عضو ہے۔ جسے پنکریاس بھی کہتے ہیں۔ لبلبہ میں ایک رطوبت انسولین پائی جاتی ہے جو خون میں شکر کو توانائی میں تبدیل کرتی ہے۔ لبلبہ کی خرابی کے باعث انسولین پیدا نہیں ہوتی یا کم ہو جاتی ہے تو شکر توانائی میں تبدیل ہونے کی بجائے خون میں رہ جاتی ہے جس سے شریانوں‘ اعصاب اور خلیات کو نقصان ہوتا ہے‘ یہ خون گردوں میں پہنچ کر پیشاب میں شکر خارج ہونے لگتی ہے تو یہ ذیابیطس کہلاتی ہے۔
ہم جو غذا کھاتے ہیں اس میں شکری اجزا شامل ہوتے ہیں جو نشاستہ دار اشیاء میں زیادہ ہوتے ہیں۔ دوران غذا ہضم میں شامل ہو کر شکر (گلوکوز) میں تبدیل ہو جاتی ہے اور غذا شکر میں تبدیل ہو کر عروق جاذبہ میں جذب ہو کر شکر بعد میں تبدیل ہو کر جمع رہتی ہیں پھر جسم کو توانائی فراہم کرتی ہے۔ شکر (گلوکوز) کی جسم میں وہی حیثیت ہے جو موٹر میں پیٹرول کی۔ اگر خلیات عضلات اور اعصاب کو شکر نہ ملے تو ان کو نقصان ہوتا ہے جب شکر اپنے افعال سرانجام دیئے بغیر خارج ہو تو یہ کام جسم کا گوشت اور چربی کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘ اس طرح جسمانی عضلات رفتہ رفتہ اور غیر محسوس انداز میں تحلیل ہونے لگتے ہیں اور مرض کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ پہلے اس مرض کا شکار عموماً چالیس سال سے زیادہ عمر کے لوگ ہوتے تھے‘ اب بچوں میں بھی ہونے لگا ہے۔ برطانیہ کے ایک میڈیکل جرنل کے مطالعہ کے مطابق بچوں میں یہ مرض بڑھنے کی تعداد دگنی ہو گئی ہے۔ ذیابیطس کے مرض کا شکار زیادہ لوگ آرام طلب ہوتے ہیں یا پھر میٹھی نشاستہ دار اشیاء کا زیادہ استعمال کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے اسباب میں موروثی‘ ماحولیاتی اثرات ہوتے ہیں۔
 علامات:
\ پیاس کا بار بار لگنا \ پیشاب کا بار بار اور زیادہ مقدار میں آنا \ تھکن رہنا اور کمزوری کا احساس ہونا \ پیاس کی وجہ سے منہ خشک رہنا \ بھوک کا زیادہ لگنا \ جسم پر خشکی اور کھردرا ہو جانا \ وزن میں کمی ہونا \ زخم یا سوزش کا نہ بھرنا \ بے ہوشی وغیرہ
ذیا بیطس کے مرضوں کی دو اقسام ہوتی ہیں:
پہلی قسم کے لوگوں میں لبلبہ کچھ نہ کچھ انسولین بنا رہا ہوتا ہے اس لیے ادویہ سے اور تدابیر سے شکر جسم میں کنٹرول رہتی ہے۔
دوسری قسم کے لوگوں میں شکر بالکل کنٹرول نہیں رہتی اس لیے انسولین باقاعدگی سے بذریعہ انجیکشن لینا پڑتا ہے۔ اگر مریض مناسب پرہیز یا تدابیر نہ کرے اور انسولین نہ لے تو درج ذیل علامات ظاہر ہوجاتی ہیں:
\بے چینی محسوس ہوتی ہے \ جسم کا پسینے سے شرابور ہونا \پاؤں لڑکھڑانا \ کپکپی طاری ہو جانا \ سر میں درد کا ہونا \ سر چکرانا اور دل تیزی سے دھڑکنا \ بھوک کی زیادتی
اگر مرض ابتدائی سطح پر ہو تو بغیر ادویہ کے صرف غذائی رد وبدل اور صبح وشام کی سیر سے کنٹرول ہو جاتا ہے۔ میرے مطب کے تجربات ومشاہدات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مریضِ ذیابیطس کے لیے سیر زبردست اہمیت کی حامل ہے اور پرہیز وغذا کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ چاکلیٹ‘ میٹھی (چینی) کی نشاستہ دار اشیاء‘ کریم بسکٹ اور مٹھائیوں سے ہاتھ کھینچ لیا جائے۔ غم وغصہ‘ پریشانی سے دور رہا جائے۔ ہلکی ورزش کو معمول بنائیں۔ کھانا وقت پر کھائیں‘ سبز ترکاریاں ساگ پات خوب کھائیں۔ گوشت ترکاری میں ملا کر کھائیں۔ پھوک دار یعنی بغیر چھنے آٹے کی روٹی کھائیں۔ گوشت انڈا دہی مکھن‘ چھاچھ مفید ہیں۔ متوازن غذا جس میں لحمیات ہوں فائدہ مند ہے۔ ذیابیطس کے مریض کو اپنے پاؤں کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے کیونکہ پاؤں یا انگوٹھے کا زخم جلدی سے ٹھیک نہیں ہوتا۔
طب مشرقی میں درج ذیل تدابیر مؤثر ثابت ہوئی ہیں:
\          سبز کریلا کوٹ کر اس کا پانی نچوڑ کر بقدر پانچ تولے روزانہ پئیں۔
\          جامن کی گٹھلیاں خشک کر کے پیس لیں‘ پھر ہم وزن کڑ مار بوٹی پیس کر ملا لیں اور چوتھائی حصہ پوست خشخاش پیس کر ملا کر رکھ لیں۔ صبح نہار منہ و سہ پہر کو تین تین گرام پانی یا چھاچھ سے کھا لیں۔
\          کریلے اور جامن کا رس موسم میں خوب استعمال کریں اور صبح وشام سیر کو معمول بنا لیں۔


No comments:

Post a Comment