اداریہ 29-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

اداریہ 29-2019


انسان کا مقصدِ حیات

آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ ایٹم اور ترقی کا دور شمار ہوتا ہے۔ انسان کل جن چیزوں کا قائل نہ تھا آج ان کا موجد ہے۔ کل جن امور کو محال تصور کیا جاتا تھا آج وہ وقوع پذیر ہیں۔ ترقی کی اس برق رفتاری نے زمانے کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا ہے۔ کل ہم غیر ممالک کی خبریں معلوم کرنے کے لئے کئی گھنٹے انتظار کیا کرتے تھے۔ آج دنیا کے کسی بھی گوشے کی خبر معلوم کرنے کے لئے گھنٹوں کا نہیں، صرف چند لمحوں کے انتظار کی ضرورت پڑتی ہے۔ آج ہم دور دراز ملکوں کے واقعات و حالات اس طرح جان لیتے ہیں کہ گویا ہمارے سامنے رونما ہو رہے ہیں۔ دراصل رسل و رسائل اور الیکٹرانک میڈیا کے ترقی یافتہ وسائل نے دنیا کی طنابیں کھینچ کر رکھ دی ہیں اور دنیا ایک گلوبل ویلج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ہم سفر میں ہوں یا حضر میں، دنیا کے سیاسی و معاشی اور دیگر حالات سے بے خبر نہیں ہوتے۔ اس سے یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید انسان کی زندگی کا مقصد و محور یہی ہے کہ وہ رفتار زمانہ پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی ضروریات زندگی کے لئے سرگرم عمل رہے۔ بہرحال زمانہ بہت آگے نکل چکا ہے۔ اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ آپ واقعات سے بے خبر رہیں یا حالات حاضرہ پر نقد و تبصرہ نہ کریں اور ہمارا نقطہ نظر یہ بھی نہیں کہ آپ زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی نہ کریں اور معاشی ترقی کے لئے اپنے جملہ وسائل کو بروئے کار نہ لائیں۔ یہ تمام چیزیں اپنے مقام پر درست سہی لیکن ہم پوری دنیا کی خبروں سے باخبر انسانوں سے یہ پوچھنے کا حق ضرور رکھتے ہیں کہ آپ اپنی ذات و صفات کے بارے میں کیا جانتے ہیں کہ آپ کا مقصد حیات کیا ہے؟ حقوق و فرائض کیا ہیں؟؟ آپ اپنی ساری قوتِ فکر دوسروں کے حالات معلوم کرنے پر صرف کر رہے ہیں۔ کبھی اپنی ذات اور زندگی کی غرض و غایت پر بھی غور کیا ہے؟ درحقیقت انسان کی ہستی بھی بیش بہا معلومات کی ایک کتاب ہے جس کے مطالعہ سے بہت سے حقائق سامنے آتے ہیں۔ قرآن مجید نے انسان کو اپنی کتاب زیست کے مطالعہ کی دعوت دی ہے۔ وَفِیْ اَنفُسِکُمْ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ
ان سطور سے ہمارا مقصود یہ ہے کہ انسان کو اس کے مقصدِ حیات کی طرف توجہ مبذول کروائی جائے‘ جس کو وہ فراموش کر چکا ہے اور اس نے مقدم چیز کو مؤخر کر دیا ہے اور کسی چیز کو اس کے حقیقی مقام سے ہٹا دینا ہی ظلم کہلاتا ہے۔ اس حقیقت سے تو ہر باشعور انسان آگاہ ہے کہ خالق کائنات نے دنیا کی ہر چیز کو بامقصد پیدا کیا ہے۔ تو پھر یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ اس نے انسان کو بلامقصد پیدا کیا ہو اور اس کی تخلیق کوئی ارفع و اعلیٰ مقصد نہ رکھتی ہو۔ تخلیق انسان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  {لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ}
معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیسے خوبصورت سانچے میں ڈھالا اور کیسی کچھ قوتیں اور ظاہری وباطنی خوبیاں اس کے وجود میں جمع کی ہیں کہ اگر یہ اپنی فطرت سلیم کے مطابق ترقی کرے تو فرشتوں سے گویا سبقت لے جائے، بلکہ مسجود ملائکہ بنے۔ جب انسان کی تخلیق اس قدر بلند و بالا ہے تو اس کا مقصد تخلیق بھی اتنا ہی عظیم ہے۔ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ انسان کا مقصد حیات اپنے خالق کی اطاعت و فرمانبرداری ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:
{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَاْلِانْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنَ}
’’ہم نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے۔‘‘
جب عبادت خداوندی انسان کی زندگی کا مقصد ٹھہرا تو پھر انسان کی خوش بختی اسی میں ہے کہ وہ اس مقصد کے تحت اپنی زندگی کے شب و روز بسر کرے۔ اگر وہ اپنے مقصد حیات سے اعراض کرے گا تو دارین میں اس کے لئے سراسر خسارہ ہے۔
کائنات پر نظر دوڑانے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ کائنات کی تمام چیزیں اپنی فطرت کے مطابق سرگرم عمل اور وہ خالق کائنات کی مطیع و فرمانبردار ہیں۔ وہ انسان ہی ہے جس نے اپنے مقصد حیات کو پس پشت ڈال دیا ہے اور مقصدِ زندگی کو چھوڑ کر صرف ضروریات زندگی کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ اسی وجہ سے وہ طرح طرح کی مشکلات، مصائب و آلام کا شکار ہے۔ اگر دنیائے انسانیت فلاح دارین کی متمنی ہے تو اسے اپنے مقصد حیات کی طرف لوٹنا ہو گا اور اپنی ہستی پر غور و فکر کرنا ہوگا۔  آغا صادق نے خوب کہا ہے    ؎
ہم نے مانا کہ ستاروں پہ کمندیں ڈالیں
اپنی ہستی کا بھی ادراک ہوا ہے کہ نہیں؟
یاد رہے کہ انسان کی زندگی بڑی قیمتی ہے اور تیزی سے گزرنے والی عمر کا ایک ایک لمحہ اگر اللہ کی بندگی اور اس کے ذکر میں گزر جائے تو یقین کیجئے کہ یہ ہر لمحہ ہمارے دلکش کردار کی تعمیر کرے گا جو اسلام کو مقصود ہے، اگر خدانخواستہ اللہ سے بغاوت میں گزرے تو یہ مکروہ کردار جہنم میں لے جائے گا۔ یہ بڑی خوش قسمتی کی بات ہو گی کہ اگر انسان کی زندگی کا ہر لمحہ اتباع رسولe کے سانچے میں ڈھل جائے تو پھر جنت انسان کی منتظر ہوگی اور بندگان خدا کی نظرمیں بھی اس کی وقعت و عظمت ہوگی۔ حالیؔ نے خوب کہا ہے   ؎
فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
سچی بات یہ ہے کہ انسانیت اسلام کی آغوش میں پنپ سکتی ہے اور سکون و راحت اور امن و سلامتی سے ہمکنار ہو سکتی ہے۔ لہٰذا انسانوں کو اسلام کے دامن رحمت میں آجانا چاہیے کیونکہ اسلام ہی دارین میں کامیابی کا ضامن ہے۔


No comments:

Post a Comment