قربانی ... مقاصد وفوائد 29-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

قربانی ... مقاصد وفوائد 29-2019


قربانی ... مقاصد وفوائد

تحریر: جناب الشیخ حافظ مقصود احمد
عبادات ساری کی ساری چونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اس لیے سب عبادات میں توحید ہے۔ کیونکہ ہر عبادت کے لیے اخلاص شرط ہے۔ جیسا کہ فرمایا:
{وَ مَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ٭} (البینۃ: ۵)
’’تمام امتوں کو حکم دیا گیا کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اس حال میں کہ دین کو اللہ کے لیے خاص کرنے والے ہوں۔‘‘
لیکن کچھ عبادات ایسی ہیں جن میں توحید کا سبق بہت زیادہ نمایاں ہے‘ لہٰذا ان کا اجر وثواب بھی زیادہ ہے‘ ان میں سے ایک قربانی ہے۔
Ý          پہلی بات یہ ہے کہ قربانی ان عبادات میں سے ہے جو ساری قوموں کے درمیان مشترکہ ہیں اور یہ وہ ہیں جن میں توحید نمایاں ہے‘ کیونکہ تمام قوموں میں جو چیز قدر مشترک ہے وہ توحید ہے۔ جیسا کہ فرمایا:
{قُلْ یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ بَیْ}
’’کہہ دیجیے! اے اہل کتاب! آؤ تم ایک ایسے کلمے کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے۔‘‘ (آل عمران: ۶۴)
اور فرمایا:
{شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَ عِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ…٭} (الشوریٰ: ۱۳)
’’تمہارے لیے اس دین کو اللہ نے مقرر فرمایا جس کی وصیت سیدنا نوح(u) کو کی اور وہ جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا اور جس کی وصیت ہم نے سیدنا ابراہیم‘ سیدنا موسیٰ اور سیدنا عیسیٰ(o) کو کی کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں اختلاف نہ کرو۔‘‘
دین میں سے توحید والے اعمال وہ ہیں جن کا حکم تمام امتوں کو دیا گیا۔ جیسا کہ فرمایا:
{وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلْنَا مَنْسَکًا لِّیَذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ} (الحج: ۳۴)
’’اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقررکی ہے تا کہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں۔‘‘
Þ          قربانی اس لیے ایک عظیم الشان عمل ہے کہ یہ شرک کے خلاف اعلان توحید ہے۔ ہر دور میں شرک کرنے والے غیر اللہ کے نام پر جانور ذبح کرتے آ رہے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ۴ مقامات پر سورۂ البقرہ‘ المائدہ‘ الانعام اور النحل میں اس جانور کا گوشت حرام قرار دیا ہے جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو کیونکہ یہ شرک ہے۔ اس کے برعکس قربانی کا جانور جہاں اللہ تعالیٰ کے نام پر وقف ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ شرک کرنے والوں کے خلاف توحید کا اعلان وبرہان بھی ہے۔ لہٰذا اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے شعائر میں ذکر فرمایا:
{یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحِلُّوْا شَعَآپرَ اللّٰہِ وَ لَا الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَ لَا الْہَدْیَ وَ لَا الْقَلَآپدَ…٭}
’’ایمان والو! اللہ کے شعائر‘ حرمت والے مہینے‘ قربانی کے جانوروں اور رسیوں والے جانوروں کی حرمت کو پامال نہ کرو۔‘‘ (المائدہ: ۲)
اللہ تعالیٰ کی توحید کی برکت سے جانوروں کا تذکرہ اللہ تعالیٰ کے شعائر کے ساتھ ہو رہا ہے‘ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس جانور اور قربانی کے عمل کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کتنا اونچا مقام ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی جانور کو اللہ کے نام پر مخصوص کر دیا جائے تو اب اس سے پیار کرنا‘ اس کی پرورش کرنا اور اس کو چارہ ڈالنا‘ پانی پلانا یہ سب انسان کے نامہ اعمال میں نیکیوں کی صورت میں لکھا جاتا ہے۔
بلکہ اس کا گوشت عام گوشت سے مختلف ہے۔ یہ توحید کی وجہ سے بابرکت ہے۔ نبی کریمe نے جب سو اونٹوں کی قربانی پیش کی تو سب جانوروں کا گوشت ملا کر شوربہ تیار کروایا اور اسے پیا جو اس گوشت کے بابرکت ہونے کی دلیل ہے اور یہ کہ اس کا گوشت کھانا بھی ثواب ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا:
{فَکُلُوْا مِنْہَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآیِسَ الْفَقِیْرَ٭}
’’پس اس سے خود بھی کھاؤ اور تنگدست فقیر کو بھی کھلاؤ۔‘‘  (الحج: ۲۸)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ بڑے گوشت سے پرہیز کرنے والوں کو بھی قربانی کا گوشت کھا لینا چاہیے۔ (میرا اپنا عمل بھی الحمدللہ یہی ہے)
غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا:
یہاں یہ بات بھی سمجھ لینا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ذبح کرنا جتنا عظیم عمل ہے غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا اتنا ہی بڑا شرک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرمe نے ایسے شخص پر لعنت کی ہے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے‘ سیدنا علیt بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمe نے فرمایا:
[لعن اللہ من ذبح لغیر اللہ]
’’جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا اس پر اللہ کی لعنت ہو۔‘‘
غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے کے دو مفہوم ہیں‘ ایک یہ ہے کہ غیر اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرے‘ دوسرا یہ کہ غیر اللہ کے لیے ذبح کرے۔ دونوں ہی حرام ہیں۔ امام نوویa شرح مسلم میں فرماتے ہیں کہ
’’اگر یہ ذبح کرنے والا اس سے پہلے مسلمان تھا تو اس عمل سے وہ مرتد ہو جائے گا۔‘‘
امام ابن تیمیہa فرماتے ہیں:
’’غیر اللہ کے لیے ذبح کرنا غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کھانے کے لیے ذبح کرنے سے زیادہ ثواب اللہ تعالیٰ کے لیے جانور ذبح کرنے میں ہے۔اسی طرح کسی غیر کا نام لے کر جانور ذبح کرنے سے بھی بڑا جرم یہ ہے کہ غیر اللہ کے لیے ذبح کیا جائے۔‘‘
بلکہ ایسی جگہ پر اللہ تعالیٰ کے لیے جانور ذبح کرنا جائز نہیں جہاں شرک ہوتا ہے‘ سیدنا ثابت بن ضحاک t بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تو آپ نے پوچھا کہ کیا وہاں پر جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت ہے یا وہاں مشرکین کا کوئی میلہ لگتا ہے؟ اس نے کہا نہیں تو آپe نے فرمایا:
[اوف بنذرک فانہ لا وفاء لنذر فی معصیۃ اللہ ولا فیما لا یملک ابن آدم] (ابوداؤد)
’’اپنی نذر پوری کر بیشک ایسی نذر پوری نہیں کی جاتی جو معصیت والی ہو اور جس کا آدمی مالک نہ ہو۔‘‘
وہ عمل جس میں اخلاص اور توحید ہو اس کا اجر وثواب بھی اتنا ہی زیادہ ہے۔ کیونکہ سب سے بڑی عبادت توحید ہے اور یہی زندگی کا مقصد ہے۔ لہٰذا اس کا اجر وثواب بھی سب سے زیادہ ہے۔ قربانی بظاہر کوئی بڑا عمل نہیں۔
آدمی جو کچھ اس پر خرچ کرتا ہے اسے خود بھی استعمال کرتا ہے پھر دوستوں اور غریبوں میں تقسیم کرتا ہے‘ مگر اس کا ثواب کتنا زیادہ ہے؟ نبی اکرمe نے فرمایا:
[ما عمل آدمی عملا فی یوم النحر أفضل عند اللہ من إراقۃ الدم]
’’قربانی کے دن انسان کا سب سے افضل عمل قربانی کے جانور کا خون بہانا ہے۔‘‘
اس میں بہت سے احکام ہیں۔ ایک تو یوم النحر کی فضیلت ہے کہ قربانی کی وجہ سے یہ دن بڑا افضل ہے۔ اس دن کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:
{وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ} (الفجر: ۳)
’’قسم ہے جفت اور طاق کی۔‘‘
دوسرا یہ ہے کہ اس دن خون بہانا سب سے بڑا عمل ہے۔ تیسرا یہ کہ قیمت قربانی کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ گوشت ضائع ہو جاتا ہے وہ توحید کو نہیں سمجھتے۔ مقصد صرف گوشت کھانا نہیں بلکہ قربانی کے ذریعے تقرب الی اللہ ہے اور یہ تقرب کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ چند سو کی قربانی آج کروڑ روپے خرچ کرنے سے بھی زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ پھر یہ جو ایام ہیں ان میں ہر عمل بہت زیادہ ثواب کا باعث ہے۔ اس کا سبب بھی قربانی کا عمل اور مناسک حج کی ادائیگی ہے جن میں توحید ہی توحید ہے۔
امام ابن القیمa نے ذوالحجہ کے دس دنوں کو رمضان المبارک کے آخری عشرے سے بھی افضل قرار دیا ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں تطبیق یہ دی ہے کہ راتیں رمضان کی بہتر ہیں اور دن ذوالحجہ کے۔
قربانی کا عمل اللہ تعالیٰ کو کتنا پسند ہے؟ اس کا تذکرہ متعدد مقامات پر کیا گیا ہے۔ اس کے جانوروں کے ذبح کی کیفیت کو بیان کیا‘ ویسے بھی آدمی ذبح کے وقت ذکر کرتا ہے مگر یہاں خاص ذکر کی تلقین فرمائی اور نبی کریمe پڑھا کرتے تھے:
[اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ حَنِیْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ٭ قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ٭ اَللّٰہُمَّ لَکَ وَمِنْکَ اَللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِن مُّحَمَّدٍ وَّاُمَّتِہٖ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ اِبْرَاہٖمَ]
سورۂ الکوثر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم نعمت کے شکر کے طور پر قربانی کا حکم دیا اور اسے نماز کے ساتھ بیان کیا۔ دوسرے مقام پر حکم دیا:
{قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ٭} الانعام: ۱۶۲)
پھر مسلمانوں کو اخلاص کا حکم دیا:
{لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُہَا وَ لَا دِمَآؤُہَا}(الحج: ۳۷)
’’اللہ تعالیٰ کو ان کے گوشت اور خون نہیں پہنچتے۔‘‘
آج کل جو لوگ تشہیر کرتے ہیں اور تصویریں بناتے ہیں یہ ریاکاری ہے جو جائز نہیں۔ یہ عظیم عمل ہے اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔


No comments:

Post a Comment