حافظ حدیث مولانا ابوالخیر برق سلفی 29-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

حافظ حدیث مولانا ابوالخیر برق سلفی 29-2019


حافظ حدیث مولانا ابوالخیر برق سلفی لکھنوی

تحریر: جناب مولانا محمد اشرف جاوید
غیر ممالک کی طرف سفر:
پاک وہند کے معروف اہل قلم مولانا ابوالحسن ندویa‘ مولانا برق صاحب کے متعلق لکھتے ہیں کہ
’’مولانا سفر بہت کم کرتے تھے۔ ایک زمانہ میں اپنے شوق سے شولا پور‘ بیجار پور اور حیدر آباد گئے۔ ایک مرتبہ انہوں نے طویل غیر ملکی سفر کیا جو ان کے لیے بہت تکلیف دہ اور طویل بیماری کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔‘‘
مراکشی سفارت خانہ دہلی کے ایک کارکن ان کے علم وفضل اور حفظ حدیث سے بہت متاثر ہوئے‘ مسلکا وہ اہل حدیث تھے‘ رمضان المبارک میں معمول تھا کہ ملک حسین ثانی شاہ مراکش دیار امصار کے مشاہیر علماء کو اپنے یہاں مدعو کرتے‘ شاہی قصر میں باری باری ان کا درس ہوتا۔ جس میں مقامی علماء اعیان شہر اور عہدہ داران سلطنت شریک ہوتے‘ بادشاہ بنفس نفیس خود شریک ہوتے اور آخر میں خود بھی تقریر کرتے تھے۔
سفارت خانہ میں ان کا بھی نام لیا گیا اور ان کو اس تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی‘ انہوں نے ضعف وبیماری کی حالت میں طویل سفر کیا‘ ان کو نزلہ‘ کھانسی کی شکایت عام طور پر رہتی تھی۔ سینہ کمزور تھا اور بدن منحنی۔
دہلی سے ان کو پیرس کی ایک پرواز ملی‘ اس مسلسل طویل سفر میں ان کو کھانسی کا شدید دورہ پڑا اور بڑی تکلیف ہوئی۔
مراکش پہنچ کر وہ بیمار ہو گئے‘ زیادہ تر وقت ان کا ہوٹل میں گذرا‘ ڈاکٹر قدیدی کے ہاں زیر علاج رہے‘ وہاں ان کے فضل وکمال کا کوئی اظہار نہ ہو سکا۔ اگر ان کو کسی دن اظہار کا موقعہ ملتا تو وہ قرآن مجید کے رکوع کی طرح احادیث مع سند سناتے‘ اس پر مراکش کے علماء اور دوسرے ممالک سے آئے ہوئے فضلاء جو اپنے حفظ واستحضار میں مشہور تھے انگشت بدنداں رہ جاتے۔
مگر افسوس کہ ان کی علالت جلسہ استقبالیہ کے ذمے دار کے ناراض ہو جانے کی وجہ سے جس نے جہاز سے اترتے ہی ان سے پوچھا کہ کیا آپ عربی میں تقریر کر سکتے ہیں؟ تو انہوں نے اپنی طبعی خود داری کے ساتھ کہا کہ ہاں! تم سے زیادہ صحیح اور فصیح زبان میں‘ تم تو فصیح عربی بھی نہیں بول رہے۔ یہ بات ان کے لیے ایسی گرانی طبع کا باعث ہوئی کہ انہوں نے ان کو شاہ کے سامنے آنے کا موقعہ ہی نہ دیا اور نہ ان کا کوئی پروگرام رکھا۔ (پرانے چراغ: ۲/۳۳۵-۳۳۶)
 مولانا کے علمی کمالات:
ان کے محاسن وفضائل کے متعلق عبدالمنان اشری ہندی لکھتے ہیں:
مولانا مرحوم خدا داد ذہانت‘ بے مثل حافظہ اور علم وفضل سے آراستہ تھے۔ تفسیر‘ حدیث اسماء رجال‘ انساب‘ تاریخ‘ لغت‘ اشتقاق اور زبان ادب عربی واردو کے حافظ‘ امام اور سند کا درجہ رکھتے تھے۔
اس اعتبار سے اپنے معاصرین میں ممتاز اورا نتہائی بلند مقام کے حامل تھے۔ تقریبا پون لاکھ احادیث نہ صرف انہیں حفظ تھیں بلکہ ان کی سندیں اور ان سے متعلق علمائے اسماء الرجال کے تبصرے بھی نوک زباں تھے۔ (ہفت روزہ الاعتصام لاہور: جنوری ۱۹۷۱ء صفحہ: ۶)
ہمارے ممدوح مولانا برق صاحب مرحوم کو جس طرح احادیث کے متون واسناد یاد تھیں اسی طرح لکھا ہے کہ
ان کو کتب شیعہ کے حوالہ جات ازبر تھے۔ جیسا کہ مولانا عبدالمنان اشری تحریر کرتے ہیں کہ شیعی روایات کا بھی ایک وسیع ذخیرہ سندا ومتناً انہیں یاد تھا جنہیں پیش کر کے لکھنؤ کے بڑے بڑے شیعہ مجتہدین کا ناطقہ بند کر دیتے اور انہی کی روایات سے ان کے خلاف حجت قائم فرماتے تھے۔ (ہفت روزہ الاعتصام: جنوری ۱۹۷۱ء صفحہ ۶)
اسی طرح عربی ادب پر ان کو عبور حاصل تھا‘ مولانا محمود حسن لکھتے ہیں کہ
’’برق صاحب کو عربی زبان سے اس قدر تعلق ہو گیا تھا جو دراصل ان کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولe سے محبت اور قرآن حکیم وحدیث شریف سے تعلق کا نتیجہ تھا کہ وہ اپنی گفتگو اور بول چال میں عربی الفاظ کا لفظ لے لے کر استعمال کرتے اور مست ہو جایا کرتے۔ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولe کی کسی بات کا ذکر کرتے اور دین وشریعت کے کسی کام کی طرف متوجہ کرتے تو قرآنی آیات وحدیث کا مفہوم بیان کرتے اور قرآنی آیات کو بڑے دل کش انداز میں سناتے تھے۔‘‘ (تعمیر حیات‘ لکھنؤ: ۱۰ جون ۲۰۰۳ء صفحہ: ۲۴)
ہمارے عظیم شاعر وادیب مولانا برق صاحب کو عربی ادب سے ایک خاص تعلق تھا بلکہ عربی ادب ان کے گھر کی لونڈی تھی۔
پاک وہند کے نامور عالم‘ عالمی شہرت یافتہ مصنف لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے زمانہ طالب علمی میں ’’نسمات الاوراق‘‘ (عربی) کے نام سے ایک قلمی رسالہ نکالا‘ اس کے لیے انہوں نے ایک مضمون لکھا تھا جس میں زیادہ تر قرآنی آیات کا اقتباس اور قرآنی اسلوب کا تتبع تھا۔ (پرانے چراغ: ۲/۳۲۴)
 زبان وادب:
عربی واردو کے حافظ وامام اور سند کا درجہ رکھتے تھے۔ اسی طرح ائمہ لغت کے اقوال اور عربی واردو اشعار کا ایک وسیع ذخیرہ آپ کو یاد تھا جن کو آپ بطور استشہاد ہر وقت پیش کرتے رہتے تھے۔ اس کے علاوہ آپ اردو کے شعلہ نوا اور عدیم النظیر خطیب اور اردو کے نہایت باکمال شاعر تھے۔ ( ہفت روزہ الاعتصام لاہور: جنوری ۱۹۷۱ء صفحہ: ۶)
تاریخ کے اوراق کی شہادت مولانا ابوالحسن ندویa کی زبان کچھ یوں ہے:
مولانا مرحوم اردو‘ عربی دونوں زبانوں کے ادیب تھے جہاں تک اردو کا تعلق ہے صحت وزبان تحقیق اہل لکھنؤ کے محاورات اور طرز گفتگو سے تھوڑے ہی لوگ اتنے واقف ہوں گے جتنے وہ واقف تھے۔
وہ اردو میں آبدار شعر بھی کہتے تھے اور ان کو رائے بریلی کے ایک بڑے مشاعرہ میں سونے کا تمغہ بھی ملا تھا۔ (پرانے چراغ: ۲/۵۵۱)
 مومن خاں مومن:
یہ پاک وہند کے نامور شاعر‘ فکر اہل حدیث وشاہ اسماعیل شہید کے ترجمان تھے۔ ان کی شاعری کو وہی مقام حاصل ہے جو مسجد کو ہے۔ جس طرح تمام لوگ مسجد میں سجدہ ریز ہوتے ہیں اسی طرح تمام شعراء ان کے کلام کے سامنے سرے تسلیم خم ہیں۔ پاک وہند کے نامور شاعر غالب دہلوی جو اپنے کلام میں ایک مقام رکھتے تھے انہوں نے ایک موقعہ پر مومن خاں مومن کو عرض کیا کہ آپ یہ شعر مجھے دے دیں اور میرا پورا کلام لے لیں۔ شعر  
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
مولانا برق‘ شمس لکھنوی اور شاذب دہلوی کے شاگرد تھے لیکن ادب وشاعری میں اپنی مخصوص رائے اور نقطہ نظر رکھتے تھے۔
 شادی:
بیوی کا نام امت اللہ تسنیم تھا۔ امت اللہ تسنیم کی شادی ۲۵ نومبر ۱۹۲۶ء کو اپنے حقیقی ماموں زاد بھائی مولانا ابوالخیر حسنی سے ہوئی۔ بقول ابوالحسن ندوی:
ہم لوگوں کے گھروں میں لڑکیوں کی تعلیم گھروں میں ہوتی تھی۔ ہمشیرہ امۃ اللہ تسنیم نے ساری تعلیم والدہ اور چچا مولوی سید عزیر الرحمن ندوی سے پائی تھی۔‘‘
امت اللہ نے امام نوویa کی معروف کتاب کا اردو ترجمہ زاد سفر کے نام سے اور ترجمہ وذیلی عنوانات اور تشریحی نوٹس کے ساتھ مکمل کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مرحومہ ایک سلیقہ شعار مہذب اور صاحب ذوق خاتون تھیں۔
بقول مولانا ندوی: ایسا پڑھا لکھا جوڑا ہمارے خاندان میں مشکل سے ہو گا۔ (پرانے چراغ: ۳۴۸-۳۵۴)
 اولاد:
مولانا ابوالخیر احمد برق کی تین اولادیں ہوئیں: ۲بچیاں اور ایک بچہ سالم‘ یہ سب شیر خوارگی ہی میں ان کو داغ مفارقت دے گئے۔ (پرانے چراغ: ۲/۳۵۲)
مولانا ابوالخیر احمد برق حسنی سلفی جس طرح اپنے وقت کے نامور شاعر وادیب تھے اسی طرح ان کی اہلیہ بھی شاعرہ تھیں۔ ان کے کلام کے چند اشعار حاضر خدمت ہیں:
کب سے کھڑی ہوں یا رب امید کے سہارے
یہ دن نہ جانے میں نے کس طرح سے گذارے
بے چین ومضطرب دل جا کر کسے پکارے
وہ کون ہے جو حالات بگڑے ہوئے سنوارے
ہے باب یہ کرم کا خالی نہ پھیر یا رب
دینا اگر مجھے ہے پھر کیوں دیر یا رب
………
کنج قفس سے بدتر اپنا ہے آشیانہ
اس قید بے کسی میں گذرا ہے اک زمانہ
مغموم دل یہ یا رب لازم ہے رحم کھانا
کرتی ہوں میں شکایت تجھ سے یہ عاجزانہ
کب سے لیے کھڑی ہوں میں کاسۂ گدائی
اب تک ملا نہ مجھ کو اور شام ہونے کو آئی
ایک اور شعر ہے
عمر گذری ہے تیرے دربار میں آتے ہوئے
گڑگڑاتے مانگے اور ہاتھ پھیلاتے ہوئے
(پرانے چراغ: ۳۶۵-۳۶۶)
بقول مولانا علی میاں کہ
لکھنؤ کے قیام کے زمانہ میں ان کو لکھنؤ زبان سیکھنے اور لکھنؤ کی زبان بولنے کا شوق کیا عشق پیدا ہو گیا۔ قصباتی زبان کے سایہ سے بھی بھاگتے اور زبان کی غلطی اور محاورہ کے خلاف بولنے کو گناہ سمجھتے تھے اور ان کو اس سے سخت عار تھا۔ یہ ذوق اس حد تک پہنچا کہ وہ لکھنوی کہلانے اور لکھنے لگے اور ساری عمر یہی ان کا معمول رہا۔
واقعہ یہ بھی ہے کہ محاورات کی تحقیق‘ تذکیر وتأنیث کی واقفیت اور لکھنؤ کے طرز اداء اور لہجہ پر ان کو ایسا عبور ہو گیا تھا کہ وہ دو طرح لکھنوی کہلانے کے مستحق تھے۔ اس بارے میں ان کا شمار خواجہ عبدالرؤف عشرت لکھنوی کے بعد ہو سکتا ہے۔ ان کا یہ شوق مبالغہ اور غلو کی حد تک پہنچ گیا تھا۔ یہاں تک کہ انہوں نے لکھنؤ کے قدیم محلوں میں جہاں اب بھی لکھنؤ کی ٹیکسالی زبان بولی جاتی ہے آنا جانا شروع کیا۔
اس کا نتیجہ ضرور ہوا کہ زبان میں ان کو سند کا درجہ حاصل ہو گیا‘ وہ جس لفظ کو مذکر کہہ دیں کیا مجال کہ وہ مؤنث نکلے جس کو مؤنث کہہ دیں کیا مجال کہ وہ مذکر ہو۔ اچھے اچھے ادبیوں اور انشاء پردازوں کی غلطی پکڑتے اور چند ہی اساتذہ کو مانتے‘ میں کوئی مضمون لکھتا اور کوئی شبہ پیش آتا تو ان کی طرف اس طرح رجوع کرتا جیسے لغت دیکھی جائے‘ وہ برجستہ جواب دیتے اور وہی حرف آخر ہوتا۔ (پرانے چراغ: ۲/۳۲۵)
مولانا برق‘ مولانا شرر کے یہاں آنے جانے لگے جو لکھنؤ سے ’’دل گداز‘‘ نکالتے تھے لیکن برق صاحب نے مولانا عبدالحلیم شرر کا طرز اختیار نہیں کیا۔ اس وقت کے مقبول اور ہر دل عزیز شاعر ابوالفضل شمس لکھنوی کے شاگرد اور شاعری میں انہی کا تتبع کیا اور آخر تک انہی کو مانتے رہے۔ (پرانے چراغ: ۲/۳۲۶)
مولانا برق کے متعلق مولانا محمود حسنی لکھتے ہیں کہ لکھنؤ میں انہوں نے ادب وزبان سیکھی‘ لکھنؤ اس وقت علم وادب کا مرکز تھا۔
ندوۃ العلماء اور فرنگی محل اپنی جگہ دوسری طرف عبدالحلیم شرر کے پایہ کا ادیب اور صاحب طرز نشر ونگار‘ ممتاز شاعر ابوالفضل شمس لکھنوی لکھنؤ کی رونق بنے ہوئے تھے۔ مولانا ابوالخیر نے ان میں سے ہر ایک سے استفادہ کیا۔
اردو ادب اور شاعری میں ان کے اصل استاذ مشہور شاعر ابوالفضل شمس لکھنوی تھے جن کے وہ بڑے قدر دان تھے۔ ان سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا اور ان کا رنگ بھی قبول کیا۔
مشہور شاعر مرزا ثاقب فزلباش سے بھی تلمذ کا سلسلہ جاری رکھا‘ ان پر دہلی کا رنگ لکھنوی رنگ پر غالب تھا۔ مولانا ابوالخیر لکھنوی زبان کے عاشق تھے اور اسی وجہ سے وہ اپنے نام کے ساتھ لکھنوی بھی لگاتے تھے‘ اس کا اثر تھا کہ مرزا ثاقب سے استفادہ تو کیا لیکن نمونہ شمس کو ہی بنائے رکھا۔
نقد سخن سے بھی ان کو حق وافر ملا تھا‘ بڑے بڑے اساتذہ سخن کا بچ کے جانا مشکل ہوتا تھا۔ وہ مومن خان مومن کے مداح تھے اور ان کا نمونہ کلام لطف لے لے کر پڑھتے اور سناتے تھے۔ انہوں نے ان کے معاصر شعراء کے موازنہ پر کتاب بھی تصنیف کی تھی مگر وہ شائع نہ ہو سکی۔ (تعمیر حیات لکھنؤ: جون ۲۰۰۳ء صفحہ ۲۳)
اساتذہ اردو میں سب سے زیادہ حکیم مومن خاں مومن کے قائل اور معتقد تھے اور ان پر انہوں نے کتاب بھی لکھی۔
مولانا برق صاحب کی نثر زیادہ تر لکھنؤ کے محاورات اور وہاں کی مرصع زبان ہوتی‘ اس میں زیادہ تر مولوی محمد حسین آزاد کے متبع تھے اور نیرنگ خیال کا رنگ نیرنگ دکھایا تھا۔
نقد وسخن سے بھی ان کو حظ وافر ملا تھا۔ مومن خاں مومن کو وہ ان کے تمام معاصر اساتذہ سخن پر کھلی ترجیح دیتے تھے۔
لطف لے لے کر ان کی غزلیں اور نظمیں پڑھتے اور ان سے وہ ان کی استادی سخنوری اور زبان پر قدرت کی دلیلیں پیش کرتے۔ انہوں نے ان کے اور ان کے معاصر شعراء کے موازنہ کے موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی جو زیور طبع سے آراستہ نہ ہو سکی۔ (تعمیر حیات لکھنؤ: ۲۳ شوال ۲۰۰۳ء‘ پرانے چراغ: ۲/۳۵۲)
مولانا برق صاحب کے متعلق معمور حسنی تحریر کرتے ہیں کہ لکھنؤ میں انہوں نے ادب وزبان سیکھی‘ لکھنؤ اس وقت علم وادب کا مرکز تھا۔
شمس صاحب کا رنگ برق کی زبان وشاعری میں صاف چمکتا اور اپنی تابانی دکھلا جاتا ہے۔
مولانا ابوالحسن ندوی‘ مولانا برق کے احترام استاذ کا واقعہ کچھ یوں نقل کرتے ہیں:
جناب ثاقب کے تلمذ کا سلسلہ کئی برس رہا‘ برق صاحب ان کی استاذی کے قائل ہونے کے باوجود ان کے رنگ پر نہ آ سکے‘ لکھنؤ کی زبان نے ان کا دامن کبھی نہ چھوڑا۔
 شاعری:
جناب معمور حسنی ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ وہ دور تھا جب شعر کہنا زندہ دل پڑھے لکھے ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بچپن سے ہی انہیں شعر گوئی کا چسکا پڑ گیا اور لڑکپن میں ہی سکندر نامہ‘ قلند نامہ تصنیف کر ڈالا۔ ان کے شہباز شاعری نے جب پر وبال نکالے اور اس کو بلند پروازی کا شوق ہوا اور زبان کے چٹخارے سے زیادہ ان کو مضمون آفرینی اور معنویت کی طرف رجحان ہوا۔
عربی ادب جس سے ان کو شروع سے مناسبت تھی اور مشکل الفاظ کو یاد رکھنا اور اس کی تحقیق ان کے خاص ذوق کی چیز تھی‘ حدیث اور ادب عربی کے اشتغال اور شاعری میں ان کے یہاں کچھ بیر نہ تھا۔ (پرانے چراغ: ۳۲۸‘ ۳۲۹۔ تعمیر حیات: ۱۰ جون ۲۰۰۳: ۲۳)
برق صاحب کا اصل میدان غزلیہ شاعری تھی‘ چونکہ ان کا اپنے رب سے تعلق مضبوط تھا‘ اس پر بھروسہ تھا‘ یقین کامل تھا اور اس کا دین ان کے رگ وپے میں رچا بسا تھا‘ اس لیے ان کی شاعری تفریح طبع کے لیے نہیں رہی‘ اس نے ایک فکر اور درد وسوز پیدا کیا‘ اس میں دنیا کی بے ثباتی اور بے وفائی اور انسانی اخلاق واقدار کی پامالی کی جانب اشارے بھی ہیں۔
جو ایک انسان کو اعلیٰ کردار کا حامل بننے کی دعوت دیتے ہیں اور آخرت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہ شعر انہیں کا ہے    ؎
ظاہر پرست یہ عالم فانی ہے دیکھ لے
شمع مزار پہ ہے اندھیرا مزار میں
(تعمیر حیات: ۱۰ جون ۲۰۰۳ء‘ پرانے چراغ: ۳۳۲)


No comments:

Post a Comment