حکومتی ٹیکس پالیسی اور غربت میں پستی عوام - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Wednesday, July 24, 2019

حکومتی ٹیکس پالیسی اور غربت میں پستی عوام


حکومتی ٹیکس پالیسی اور غربت میں پستی عوام

گذشتہ حکومت کے دور اقتدار میں پی ٹی آئی نے امپائر کی مدد سے‘ دھرنوں‘ جلسوں‘ جلوسوں اور قومی اداروں پر دھاوا بولنے‘ شب خون مارنے اور تشدد کی جس سیاست اور پالیسی کو رواج دے کر ملک کو عدم استحکام سے دو چار کیا تھا آج مکافات عمل کے تحت اسے ایسی صورتحال کا سامنا ہوتا جا رہا ہے اور یہ صورتحال دن بدن گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ خان صاحب اور اس کے حواری کنٹینر پر کھڑے ہو کر بڑھکیں مارتے رہے‘ عوام کو بغاوت پر اکساتے رہے‘ لوگوں کو ٹیکس ادا نہ کرنے اور بلوں کو جلانے کی ترغیب دیتے رہے۔ سول نافرمانی سے ملک کی سلامتی کو بھی داؤ پر لگانے سے باز نہ آئے۔ کل جو ٹیکس نہ دینے کی بات کرتے تھے آج انہوں نے عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے ایسے دبا دیا ہے کہ اب غریب آدمی تو سانس بھی نہیں لے پا رہا۔ پی ٹی آئی حکومت اس وقت درحقیقت آئی ایم ایف کے نرغے میں پھنس چکی ہے۔ یہی خان صاحب تھے جو بڑے جوش وجذبے سے کہتے تھے کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس جا کر قرض لینے کی بجائے خودکشی کو ترجیح دیں گے لیکن آج وہ کشکول تھامے آئی ایم ایف کی سخت کڑی شرائط اور بھاری سود پر قرض لے رہے ہیں۔ خان صاحب آپ کا تو ماٹو {اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن} تھا؟ پھر سود کی اتنی بڑی شرح کے ساتھ آئی ایم ایف کے در پر سجدہ ریز کیوں ہو گئے ہیں؟ یاد رکھیں جو حکومت بھی سود کے ذریعے اپنے کاروبار حکومت کو چلائے گی وہ کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔ کیونکہ جو اللہ اور اس کے رسولe سے جنگ کرتا ہے وہ دنیا وآخرت میں خسارے کا سودا کرتا ہے۔
پی ٹی آئی نے حکومت میں آنے سے قبل بہت سے وعدے اور دعوے کیے تھے‘ لوگوں کو ایک کروڑ نوکریاں دینے اور پچاس لاکھ گھر بنا کر دینے کے ساتھ ایسے مسائل جنہیں گذشتہ حکومتیں ستر سال میں حل نہ کر سکیں انہوں نے صرف سو دن میں حل کر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر یہ سب وعدے جھوٹے ثابت ہوئے کیونکہ نیت میں فتور تھا۔ مقصد صرف نواز شریف کی حکومت گرانا تھا حالانکہ گذشتہ حکومت کے دور میں روپے کی قدر مستحکم تھی‘ قیمتیں بڑی حد تک کنٹرول میں تھیں‘ بالخصوص اشیائے خورد نوش کی قیمتیں خود ساختہ بحرانوں کے باوجود بہت مناسب تھیں۔ غریب آدمی کو روزگار مہیا تھا‘ اس کا چولہا جلتا تھا۔ لیکن موجودہ سرکار جس کے دعوے تو بہت بلند بانگ تھے لیکن وہ ایک بھی وعدہ پورا نہ کر سکی۔ اس کے برعکس عوام سے روزگار اور چھت وچار دیواری تک چھین لی گئی۔ اب پہلے ہی بجٹ پر ٹیکسوں کی اتنی بھر مار کر دی ہے کہ ان ٹیکسوں سے جہاں مل مالک متاثر ہوا ہے اس سے زیادہ غریب عوام متاثر ہوئے ہیں۔ اس وقت جتنے بھی ٹیکسز لگائے گئے ہیں ان سے شاید ہی کوئی ایسی چیز ہو جس کی قیمت نہ بڑھی ہو۔ ہماری خوراک کے لازمی جزو آٹے کو ہی لے لیں۔ آٹے کی بوری یکدم ۵۰۰ روپے مہنگی کر دی گئی ہے اور روٹی جو چھ روپے میں مل جاتی تھی اب اس کی قیمت میں اضافے کی شنید ہے۔
ٹیکسٹائل انڈسٹری بھی ٹیکسوں کے سبب بند ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں ورکر بے روزگار ہو چکے ہیں‘ اسی طرح سیمنٹ‘شوگر ملیں بھی بند کرنے کا اعلان ہو رہا ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف کے کہنے پر روپے کی قدر بھی کم کر دی ہے‘ گذشتہ حکومت کے دور میں ڈالر کی قیمت ایک سو سے آگے نہیں بڑھی تھی لیکن موجودہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے سبب اس وقت ڈالر کی قیمت ۱۶۰ سے تجاوز کر رہی ہے۔ ڈالر کے بے قابو ہونے سے کوئی قرض لیے بغیر ہی ہم سینکڑوں ارب روپے کے مقروض ہو چکے ہیں۔ مزید اب ریکوڈیک کیس میں ساڑھے چھ ارب ڈالرز کا تاوان بھی ادا کرنا ہو گا۔ خدشہ ہے کہ اس تاوان کی ادائیگی میں بیرون ملک میں موجود ہمارے اثاثے بھی ضبط نہ کر لیے جائیں جس سے ملک کے حالات کی صورتحال مزید مخدوش ہو جائے گی۔
خان صاحب! اگر آپ کی حکومت کے چال چلن وہی کنٹینر والے رہے تو یہ ملک تباہی کے کنارے پہنچ جائے گا۔ اب بھی وقت ہے اس ملک کو خوف کی فضا سے نکالیں اور یہاں سیاسی اقدار کو رواج دیں۔ یاد رکھیں ہمیشہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ حکومت کو اپوزیشن کی ضرورت ہر قدم پر محسوس ہوتی ہے۔ آپ نے بجٹ پاس کرانے کے موقع پر دیکھ لیا اگر خفیہ ہاتھ آپ کی مدد نہ کرتے تو اپوزیشن بجٹ پاس نہ ہونے دیتی۔ اسی طرح نواز شریف اور زرداری کی دشمنی اور چور چور کہنے کی گردان بھی ختم کریں۔ کیا عجب تماشا ہے کہ ان کے حکومت میں آنے سے پہلے سابق حکمران چور تھے اب بائیس کروڑ عوام چور ہو گئے ہیں۔ آپ فی الفور نوٹس لیں اور ٹیکسوں کا جو کوہ گراں گرا دیا گیا ہے اس کو واپس لیں۔ ٹیکس ضرور لگائیں مگر عوام کی برداشت کی حد تک‘ اگر آپ ظالمانہ پالیسی میں کوئی نرمی نہیں کریں گے تو پھر ہڑتالیں اور سول نافرمانی جیسی صورتحال کا پیدا ہونا یقینی ہے۔ آپ خود ہی یہ کہا کرتے تھے کہ کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی۔


No comments:

Post a Comment