شب برات کی حقیقت - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

شب برات کی حقیقت


شب براءت کی حقیقت

تحریر: جناب قاری محمد اقبال (الریاض)
شعبان کا مہینہ بڑی فضیلت والامہینہ ہے۔ اللہ کے رسول e اس میں بہت کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔ سیدنا اسامہ بن زیدt کہتے ہیں:
میں نے اللہ کے رسول e سے پوچھا: آپ جس کثرت سے شعبان میں روزے رکھتے ہیں کسی اور مہینے میں نہیں رکھتے؟ آپ e نے فرمایا: یہ ایسا مہینہ ہے جس میں لوگ غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس میں اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں اٹھائے جائیں۔(النسائی: ۲۳۵۶)
ہمیں بھی اللہ کے رسول e کی اتباع میں اس ماہ مبارک میں کثرت سے روزے رکھنے چاہئیں۔
مسلمانوں میں عام طور پر مشہور ہے کہ ماہ شعبان کی پندرہویں شب ایسی رات ہے کہ جس میں بڑی تعداد میں لوگوں کو جہنم سے آزادی عطاکی جاتی ہے اور اس رات میں پورے سال کے امور کا فیصلہ کیاجاتا ہے۔یہ دونوں باتیں درست نہیں۔ ان کے قائلین کو شاید چند ایک ضعیف اور موضوع روایات کے باعث غلط فہمی ہوئی ہے۔بہت سے مسلمان اس رات میں نوافل کی کثرت کرتے ہیں اور اس رات میں ایک سو نوافل ادا کرتے ہیں۔علمائے حق اس امر پر متفق ہیں کہ کسی رات کو مخصوص عبادت کے لیے خاص نہیں کیا جا سکتا جب تک شارعu کی طرف سے اس کی اجازت نہ دی گئی ہو۔ کوئی بھی شخص پندرہویں رات کو فضیلت والی سمجھتے ہوئے اس میں اپنی معمول کی عبادت سے زیادہ عبادت نہیںکر سکتا۔ شیخ عبداللہ بن جبرینa فرماتے ہیں:
ہاں البتہ اگر کوئی شخص سال کی دیگر راتوں کی طرح اس رات میں بھی قیام کرنا چاہے تو کسی تخصیص کے بغیر اور کسی اضافے کے بغیر کر سکتا ہے۔ اگر وہ دیگر راتوں میں مثلا گیارہ رکعات پڑھتا ہے تو اس رات میں بھی گیارہ رکعات پڑھے‘ اس پر اضافہ نہ کرے اور نہ ہی یہ اعتقاد رکھے کہ اس ر ات میں عبادت کرنے کا ثواب دوسری راتوں کی عبادت سے زیادہ ہے۔ اگر شعبان کی پندرہویں تاریخ کو سوموار یا جمعرات کادن ہواور کوئی شخص ان ایام کے روزے رکھتا ہو تو شعبان کے ان دنوں کا بھی روزہ رکھے۔ اسی طرح جو شخص ایام بیض یعنی تیرہ چودہ اور پندرہ تاریخ کا روزہ رکھتا ہو وہ ماہ شعبان میں بھی ان ایام کا روزہ رکھے اس میں کوئی حرج نہیں‘ بلکہ اللہ کے رسولe رمضان کا پڑوسی مہینہ ہونے کے باعث اس ماہ میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔ اس بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہr کی حدیث بہت واضح اور مشہور ہے جسے امام مسلمa [باب صوم النبي ﷺ في غیر رمضان۔] میں لائے ہیں۔ آپ فرماتی ہیں:
’’رسول اللہ e (رمضان کے علاوہ ) کبھی اس کثرت سے روزے رکھتے کہ ہم کہتے اب آپ کبھی روزے کا ناغہ نہیں کریں گے۔ پھر بعض اوقات اتنے دنوں تک روزہ نہ رکھتے کہ ہم کہتے اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ آپ e کو ہم نے ماہ شعبان میں جس کثرت سے روزہ رکھتے دیکھا اس کثرت سے کسی اور ماہ میں آپ کو روزے رکھتے نہیںدیکھا۔ آپ ماہ شعبان کے آخری چند ایام کے سوا قریبا سارا مہینہ ہی روزے سے گزار دیتے۔(صحیح مسلم: ۲۷۷۸)
شعبان کی پندرہویں شب کے شب براء ت ہونے کا کوئی ثبوت کسی صحیح حدیث سے نہیں ملتا۔ اس بات کو ثابت کرنے والوں کا انحصاربالعموم دو روایات پر ہے۔ ایک تو سیدنا انس بن مالکt کی وہ روایت ہے جس میں وہ کہتے ہیں:
’’ایک دن رسول اللہ e نے مجھے اپنے کسی ضروری کام کے لیے ام المؤمنین سیدہ عائشہr کے پاس بھیجا۔میں نے سیدہ سے عرض کیا: ذرا جلدی کریں‘ جب میں اللہ کے رسول e کے ہاں سے نکلا تو آپ شعبان کی پندرہویں شب کے بارے میں صحابہ کرام سے بیان فرمارہے تھے۔ کہنے لگیں : بیٹھو! اس رات کے بارے میں میں تمہیں ایک حدیث سناتی ہوں۔ایک دفعہ آپ e کی باری میرے گھر شعبان کی پندرہویں رات کو تھی۔ رسول اللہ e تشریف لائے اور میرے لحاف میں داخل ہوکر لیٹ گئے۔رات کو میری آنکھ کھلی تو میں نے محسوس کیا کہ آپ e بستر میں نہیں تھے۔میں نے اٹھ کر امہات المؤمنین کے حجروں سے پتہ کیا آپ وہاں بھی نہیں تھے۔ میں نے سوچا کہ شاید آپ اپنی لونڈی ماریہ قبطیہr کے پاس تشریف لے گئے ہوں۔میں نکل کر مسجد کی طرف گئی تو میرا پاؤں(اندھیرے میں) آ پ e کے جسم اطہر سے چھوا ۔ آپ بارگاہ الٰہی میں عرض کر رہے تھے:میرے رب! میرے جسم اور خیال نے تجھے سجدہ کیااور میرا دل تیرے ساتھ ایمان لایا۔یہ میرا ہاتھ ہے جس کے ذریعے میں نے اپنے نفس پراسراف کیا۔پس اے عظیم رب! گناہوں کو عظیم رب کے سوا کوئی معاف نہیں کرسکتا۔میری خطاؤں کو معاف کر دے۔پھر آپ نے سجدے سے سر اٹھایا تو کہہ رہے تھے:اے اللہ! مجھے تقویٰ والا، شرک سے پاک صاف ستھرا دل نصیب فرما جو ناشکرا ہو نہ بدبخت ہو۔ پھر آپ دوبارہ سجدہ میں چلے گئے اور عرض کرنے لگے: میرے رب! میں اسی طرح کہتا ہوں جس طرح میرے بھائی داؤدu نے کہا تھا: میں اپنے آقا کے سامنے چہرہ خاک میں لوٹاتا ہوں اور میرے آقا کا حق ہے کہ چہرے اس کے سامنے مٹی میں لوٹائے جائیں ۔ پھر آپ نے سجدے سے سر اٹھایا۔
میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں تو کچھ اور ہی خیالات میں گم تھی مگر آپ تو کسی اور ہی عالم میں ہیں۔ آپ نے میرے قدموں کی آہٹ سنی تو فرمایا: اے حمیراء ! کیا تو نہیں جانتی کہ آج کی یہ رات شعبان کی پندرہویں شب ہے ۔ اس رات میں اللہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے۔ میں نے کہا: یہ بنو کلب کی بکریوں کا کیا معاملہ ہے؟آپ نے فرمایا: عرب میں بنو کلب سے زیادہ تعداد میں بکریاں کسی دوسرے قبیلہ کے پاس نہیں ہیں۔ پھر فرمایا: ان خلاصی پانے والوں میں چھ قسم کے لوگ شامل نہیں ہوتے ۔ شراب پینے کا  عادی، والدین کا نافرمان، زنا پر اصرار کرنے والا، قطع رحمی کرنے والا۔تصویریں بنانے والا اورچغل خور۔‘‘ (رواہ البیہقی  فی الدعوات الکبیر)
علمائے تحقیق فرماتے ہیں: یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے۔ اس میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق الغسیلی ہے جس کے متعلق علامہ حافظ ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ احادیث کو الٹ پلٹ دیتا تھا اور روایات چوری کرتا تھا۔ جہاں تک اس کے شیخ وہب کا معاملہ ہے تو اس کے بارے میں ابن حبان فرماتے ہیں: یہ لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹا شخص تھا۔ان سے اوپر والا راوی سعید بن عبدالکریم متروک ضعیف راوی ہے جس سے محدثین نے حدیث لینا ترک کر دی تھی۔
دوسری حدیث امام ترمذیa اپنی جامع میں لائے ہیں ۔ یہ حجاج بن ا رطاۃ کے واسطے سے بیان کی گئی ہے۔اس میں ام المؤمنین سیدہ عائشہr بیان کرتی ہیں :
 ایک رات میں نے رسول اللہ e کو گھر میں نہ پایا تو آپ کی تلاش میں نکلی۔ دیکھا تو آپ بقیع کے قبرستان میں تھے۔ آپ نے فرمایا : کیا تم یہ سمجھتی ہو کہ اللہ اور ا س کا رسول تمہار ے ساتھ بے انصافی کریں گے۔میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! میرا خیال تھا کہ شاید آپ کسی دوسری زوجہ محترمہ کے پاس نہ تشریف لے گئے ہوں۔آپ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرما تا ہے۔(ترمذی : ۷۳۹)
امام ترمذیa فرماتے ہیں : میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو اس حدیث کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ ایک ضعیف حدیث ہے۔ امام ترمذی یہ بھی کہتے ہیں کہ یحیی بن ابی کثیر نے عروہ سے نہیں سنا۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: حجاج نے یحیی بن ابی کثیر سے نہیں سنا۔ ابن دحیہ کلبی کہتے ہیں : یہ حدیث مقطوع ہے۔ حجاج بن ارطاۃ حجت نہیں۔ ابو جعفر عقیلی حجاج پر جرح کرتے ہیں: یہ حجاج بن ارطاۃ ابو ارطاط النخعی الکوفی ہے۔ہمارے شیخ زائد نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس سے حدیث لینا چھوڑ دیں۔محدث عصر شیخ ناصر الدین البانیa نے بھی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب قرآن کریم میں فرمایا ہے:
{إِنَّآ اَنْزَلْنٰــہُ فِي لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِینَ٭ فِیہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیمٍ٭}(الدخان: ۳-۴)
’’یقینا ہم نے اس قرآن مجید کو ایک بہت برکت والی رات میں نازل فرمایا ہے یقینا ہم خبر دار کردینے والے ہیں ۔اس رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔‘‘
نصف شعبان کی شب کی فضیلت میںبعض مفسرین نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں یہ عجیب وغریب قول پیش کیا ہے کہ نزول قرآن والی شب ماہ شعبان کی پندرھویں شب ہے۔حالانکہ جو شخص یہ بات کہتا ہے وہ حقیقت سے کس قدر بعید بات کہتا ہے۔ اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن کریم شعبان میں نہیں بلکہ رمضان المبارک میں نازل کیا گیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیٓ اُنْزِلَ فِیہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِنَ الْہُدَی وَالْفُرْقَانِ}(البقرۃ: ۱۸۵)
’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا ۔ جو تمام لوگوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق وباطل کے درمیان فرق کرنے والے واضح دلائل موجود ہیں۔ ‘‘
نزول قرآن والی رات کا تعین اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں کر دیا گیا ہے :
{اِِنَّآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ٭ وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ٭ لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہْرٍ٭ تَنَزَّلُ الْمَلٰٓپکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْہَا بِاِِذْنِ رَبِّہِمْ مِّنْ کُلِّ اَمْرٍ٭ سَلٰمٌ ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ} (القدر: ۱-۵)
’’یقیناہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا۔ اور تم کیا جانو کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟ لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کے حکم سے اترتے ہیں ، ہر حکم لے کر۔وہ رات فجر طلوع ہونے تک سراسر سلامتی ہے۔ ‘‘
سیدنا عبد اللہ بن عباسw فرماتے ہیں : قرآن کریم لیلۃ القدرمیں یکبارگی پہلے آسمان پر نازل کیا گیا۔ پھر وہاں سے تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت اللہ کے رسول e پر نازل ہوتا رہا۔
اگلی آیت کی تشریح میں بعض لوگوں نے یہ کہا کہ آیت کریمہ {فِیہَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیمٍ} میں مذکور شب سے مراد شعبان کی پندرہویں رات ہے۔ ان کا یہ قول درست نہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیلۃ القدر ہی وہ رات ہے جس میں سال بھر کے کاموں کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ سعیدبن جبیرa کہتے ہیں: ہر سال جن لوگوں کے نصیب میں حج ہوتا ہے ان کے نام بھی لیلۃ القدر میں ہی فائنل کیے جاتے ہیں۔ حجاج کرام کے نام بمعہ ولدیت لکھ لیے جاتے ہیں اور پھر اس فہرست میں کسی نام کا اضافہ یا کٹوتی نہیں کی جاتی۔
ایک شخص حسن بصریa کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا:آپ کیا فرماتے ہیں ، کیا لیلۃ القدرہر سال آتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں! لیلۃ القدر ہر رمضان المبارک میں ہوتی ہے اور اس رات میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔اس میں ہر شخص کی موت کے وقت کا،اس کے ہر کام کا، اس کے رزق کا،اور اس کے اخلاق کا فیصلہ کیاجاتا ہے۔ جرح وتعدیل کے علماء کہتے ہیں کہ نصف شعبان والی رات کے بارے میں کوئی ایک حدیث بھی صحیح نہیں ہے۔میرے بھائی ! آپ ان لوگوں سے محتاط رہیں جو گھڑی ہوئی حدیثیں آپ کو سنا کر اسے خیر اور بھلائی والا علم بتائیں۔ لازم ہے کہ خیر اور بھلائی کی بات جو آپ کو سنائی جائے وہ مشکاۃ نبوت سے نکلی ہوئی ہو۔ جن باتوں پر اللہ کی کوئی برہان نہ ہو ان کو نیکی اور دین سمجھنا نہایت خطرناک ہے۔
ایک اور بدعت جو شعبان کے مہینے میں جاری کی گئی یہ ہے کہ ’’لیلۃ الوقود‘‘ کے نام سے ایک رات متعین کی گئی اور اس رات میں کثرت سے آگ جلائی جاتی ہے۔یہ آگ شعبان کی پندرہویں شب کو جلائی جاتی ہے۔ اس بدعت کو جاری کرنے والوں نے مجوسیوں اور آتش  پرستوں سے متاثر ہو کر اسے جاری کیا۔اگر کوئی یہ سمجھے کہ اس رات میں آگ جلانے سے ثواب ملتا ہے تو وہ بہت دور کی گمراہی کا شکار ہے۔اس رات میں آگ جلانے یا نماز پڑھنے کے متعلق اللہ کے رسول e نے نہ کوئی بات فرمائی نہ ایسا کر کے دکھایانہ کسی سچے راوی نے اس بارے میں ایک لفظ بولا ۔ یہ بدعت تو ا ن لوگوں نے رائج کی جو مجوسیوں سے تعلق خاطر رکھتے ہیں۔ مجوسیوں کا معبود آگ ہے اور وہ اس کی پوجا کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ا س بدعت پر برامکہ کے زمانے میں عمل کیا گیا۔ ان کا جد امجد برمک تھا جس کی طرف وہ منسوب ہیں۔ ان برامکہ کا دین مجوسیت تھا ۔ ازاں بعد یہ لوگ اسلام میں داخل ہو گئے مگر آگ کی محبت ان کے دلوں سے نہ نکل سکی۔ چنانچہ انہوں نے شعبان کے مہینے میں آگ جلانے کی رسم جاری کی اور اسے ایک ایمانی تقاضا بنا کر پیش کیا۔ ان کا اصل مقصد آگ کی عبادت کرنا اور اپنے گھٹیا دین کو قائم کرنا تھا۔ حتی کہ جب مسلمان رکوع وسجود کرتے تو یہ بھی رکوع وسجود کرتے مگران کا رکوع وسجدہ اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں بلکہ اس آگ کے لیے ہوتا جسے انہوں نے اپنے ہاتھوں سے جلایا ہوتا۔یہ سلسلہ سالہا سال تک چلتا رہا اور بغداد والوں کی دیکھا دیکھی دوسرے شہروں تک بھی پھیل گیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی آواز کو پست کرنے اور انہیں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔اس فتنے کی سرکوبی عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے عہد میں ۱۸۷ھ میں ہوئی جب ہارون الرشید نے جعفر برمکی کو قتل کیا اور قصر خلافت کے قریب ہی اس کا جسم سولی پر لٹکا دیا۔ ان کے اعزہ واقارب کو بھی جیلوںمیں ڈال دیا۔اس طرح ان کا شر ملت اسلامیہ سے دور ہوا۔آئندہ بھی اگر کوئی اس بدعت کو جاری کرنے کی کوشش کرے تو وقت کے حکمران پر واجب ہے کہ وہ اسے بزور طاقت روکے اور علماء کا فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کا رد کریں۔
ماہ شعبان کو یہ شرف حاصل ہے کہ اللہ کے رسولe اس مہینے کے قریبا سارے ایام کے روزے رکھا کرتے تھے۔اس سے پڑوسی کی تعظیم کا پتہ چلتا ہے۔ چونکہ شعبان رمضان کا پڑوسی ہے اس لیے آپ e اس ماہ میں کثرت سے روزے رکھتے تھے۔خوش خبری ہے اس شخص کے لیے جو ان فضیلت والے ایام سے فائدہ اٹھا لے۔ اگر اسے اللہ تعالیٰ زندگی میں یہ فاضل ایام نصیب فرمائے تو ان میں نیک اعمال کی کثرت کرے۔ کئی مرتبہ انسان کو امید ہوتی ہے کہ وہ رمضان المبارک کا مہینہ پالے گالیکن اس کی زندگی وفا نہیں کرتی اور و ہ اس دار فانی سے کوچ کر جاتا ہے۔ اس کے زندہ رہنے کی تمنا نا مراد رہ جاتی ہے اور وہ اپنے سامنے آگے بھیجے ہوئے عمل کے سوا کچھ نہیں پاتا۔ اس شخص کے لیے خوش خبری ہے جو اپنے اندر کرم کی صفت پیدا کرے اور فضیلت والے ایام میں دل کھول کر صدقہ وخیرات کرے۔
ماہ شعبان میں بعض لوگوں نے یہ طریقہ ایجاد کرلیا ہے کہ وہ اس ماہ کی پندرہویں شب کو قبرستان جاتے ہیں۔ قبروںپر چراغاں کرتے  ہیں، پھول چڑھاتے ہیں،حلوہ پکاتے ہیں۔ پھل جھڑیاں اور پٹاخے چلائے جاتے ہیں۔ بیوگان کایہ عقیدہ ہے کہ ان کے خاوندوں کی روحیں شعبان کی پندرھویں رات کو آتی ہیں۔ وہ ان کے لیے رنگ برنگے کھانے تیار کرتی ہیں۔یہ سارے کام بدعات ہیں‘ ان سے بچنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔


No comments:

Post a Comment