ڈاکٹر بہاؤالدین کو خراج تحسین - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, July 27, 2019

ڈاکٹر بہاؤالدین کو خراج تحسین


ڈاکٹر بہاؤالدین کو خراج تحسین

تحریر: جناب مولانا عبدالرحمن ثاقب (سکھر)
عقیدہ ختم نبوت اہل اسلام کا متفقہ عقیدہ ہے جس کے متعلق چودہ سو سال سے کبھی بھی اختلاف آراء نہیں ہوا۔ جھوٹے مدعیان نبوت ضرور پیدا ہوتے رہے‘ امت مسلمہ نے یک زبان ہو کر ان کو خارج از اسلام قرار دیا اور اس طرح سے گلشن اسلام کو پژمردہ ہونے سے محفوظ رکھا۔ مسلمانوں میں بہت سے فرقے پیدا ہوئے اور ان میں آپس میں زبردست مباحثے‘ مجادلے اور مناظرے ہوئے لیکن رسول اکرمe کے آخری نبی ہونے میں کبھی بھی اختلاف نہیں ہوا بلکہ سب نے ’’خاتم النبیین‘‘ کے معنی یہی کیے کہ ’’لانبی بعدی‘‘ آپ e کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
مخبر صادقe نے فرمایا تھا کہ
[وانہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلہم یزعم انہ نبی وانا خاتم النبیین لا نبی بعدی] (سنن ابی داود)
’’میری امت میں تیس کذاب نمودار ہوں گے‘ ہر ایک کادعوی ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی(آنے والا) نہیں۔‘‘
چنانچہ اس پشین گوئی کے مطابق آنحضرتe کے بعد مختلف ممالک اور مختلف زمانوں میں کئی لوگوں نے دعوی نبوت کیا۔ مسیلمہ کذاب‘ اسودعنسی‘ سجاح بنت حارث‘ مختار ثقفی‘ میمون قداح‘ طلحہ بن خویلد‘ ابن مقنع‘ سلیمان قرمطی‘ بابک خرمی اور عیسی بن مہرویہ مشہور دجال اور کذاب گذرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اعلان فرمادیا:
{اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا} (المائدۃ)
آج کے دن میں نے تمہارا دین تمہارے لیے کامل کردیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کرلیا۔
اس کے معنی بالکل صاف اور واضح ہیں جن میں کوئی دشواری یا ابہام نہیں۔ جا ہدایت یا پیغام محمد عربیe کے ذریعہ سے دنیا کو دیا گیا بفحوائے نص قرآنی من کل الوجوہ مکمل ہے۔ جس کے بعد کسی مزید ہدایت یا پیغام کی حاجت باقی نہیں۔
پس {اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ} عقیدہ ختم نبوت پر نص قطعی الدلالت ہے۔ قرآن مجید خاتم الکتب یعنی آخری کتاب اور حضرت محمدe خاتم النبیین یعنی آخری نبی ہیں‘ آپ پر ہر قسم کی نبوت کا خاتمہ ہوگیا ہے۔
فرمان الٰہی ہے:
{مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ۱ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلِیْمًا٭} (الاحزاب: ۴۰)
’’محمدe تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔ اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘
{ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہ بِالْہُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ۱ وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ٭} (الصف: ۹)
’’اللہ وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین اس بات کو ناپسند ہی کریں۔‘‘
{وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا}
{ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہ بِالْہُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ۱ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا٭} (الفتح: ۲۸)
’’اللہ وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ وہ اسے سب ادیان پر غالب کر دے اور اللہ بطور گواہ کافی ہے۔‘‘
ان آیات سے ظاہر ہے کہ یہ دین تمام ادیان سے آخر میں ان سب کے لیے ناسخ بن کر غالب ہونے کے لیے آیا ہے اس کے بعد اب کوئی دین یا شریعت نہیں آئے گی۔
[عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال: ’ان مثلی ومثل الانبیاء کمثل رجل بنی بیتا فاحسنہ و اجملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ و یعجبون لہ و یقولون ہلا وضعت ہذہ اللبنۃ ؟ فانا اللبنۃ وانا خاتم النبیین‘۔] (البخاری و مسلم)
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس نے انتہائی حسین و جمیل گھر بنایا ہو اور اس کے کسی کونے میں ایک اینٹ کی جگہ خالی چھوڑ دی ہو تو لوگ اس گھر کے گرد گھومتے ہوئے اس کی خوبصورتی پر تعجب کرتے ہیں کہ اینٹ یہاں کیوں نہ لگائی گئی؟ آپe نے فرمایا کہ میں وہی اینٹ ہوں اور میں آخری نبی ہوں۔‘‘
[عن ابی حازم قال قاعدت اباھریرۃ خمس سنین فسمعتہ یحدث عن النبی ﷺ قال: ’کانت بنوا اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلما ھلک نبی خلفہ نبی وانہ لا نبی بعدی۔‘] (البخاری، مسلم وسنن ابن ماجہ)
ابوحازم بیان کرتے ہیں کہ میں ابوہریرہt کی خدمت میں پانچ برس بیٹھا رہا میں نے ان کو نبیe سے بیان کرتے سنا آپe نے فرمایا: ’’انبیاء کرامo بنی اسرائیل کی قیادت کیا کرتے تھے جب ایک نبی کی وفات ہوتی تو اس کی جگہ دوسرا نبی آجاتا (لیکن) میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘
[عن مصعب بن سعد عن ابیہ ان رسول اللہﷺ خرج الی تبوک واستخلف علیا فقال اتخلفنی فی الصبیان والنساء قال: ’الا ترضی ان تکون منی بمنزلۃ ہارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی۔‘] (بخاری)
مصعب بن سعد اپنے والد سعدt سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے تو سیدنا علیt کو اپنا نائب مقرر کرگئے تو سیدنا علیt نے عرض کیا: کیا آپ مجھے بچوں اور عورتوں میں پیچھے چھوڑ کر جارہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہاری میرے ساتھ وہی حیثیت ہو جو ہارون (علیہ السلام) کو موسی (u) سے تھی البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔‘‘
[عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال: ’فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم ونصرت باالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض طھورا و مسجدا و ارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون۔‘ (صحیح مسلم)
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اکرمe نے فرمایا: مجھے چھ چیزوں کے ذریعے دوسرے انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے۔ مجھے جامع کلمات عطاء کیے گئے ہیں‘ دشمن پر میرے رعب کے ذریعے مدد کی گئی ہے‘ میرے مال غنیمت کو حلال قراردیا گیا ہے‘ میرے لیے روئے زمین کو پاک اور مسجد بنادیاگیا ہے‘ مجھے سب لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے اور میرے ذریعے انبیاء کرامo کا سلسلہ مکمل کردیا گیا ہے۔‘‘
[عن طارق بن شھاب قال جاء رجل من الیھود الی عمربن خطاب فقال یا امیر المومنین انکم تقروؤن ایۃ فی کتابکم لو علینا معشر الیہود نزلت لاتخذنا ذالک الیوم عیدا قال وای ایۃ؟ فقال قولہ: {الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی} فقال عمر واللہ انی لاعلم الیوم الذی نزلت علی رسول اللہﷺ والساعۃ التی نزلت فیہا علی رسول اللہﷺ عشیۃ یوم عرفۃ یوم جمعۃ۔] (صحیح البخاری و مسند امام احمد)
ایک یہودی نے سیدنا عمرt کے سامنے آکر کہا کہ امیرالمومنین! آپ اپنی مقدس کتاب میں ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے۔ لیکن آپ آسانی سے پڑھ جاتے ہیں۔ سیدنا عمرt نے پوچھا کہ وہ کون سی آیت ہے؟ یہودی نے کہا کہ {الیوم اکملت لکم دینکم} سیدنا عمرt نے کہا کہ ہم اس دن بلکہ اس وقت کو خوب جانتے ہیں جب آنحضرتe پر نازل ہوئی تھی‘ وہ جمعہ کا دن اور عرفہ کی شام تھی۔‘‘
یہودی مذہب میں کوئی ایسا اعلان نہیں کہ نبوت ختم ہوگئی اور ہمارے ہاں اس کا صاف اعلان موجود ہے. اللہ تعالی نے ہمارے دین اسلام کو یہ خصوصیت عطاء فرمائی اور دین کے مختم‘ محکم اور کامل ہونے کا آخری طور پر اعلان فرمادیا کہ اب دین و شریعت مکمل ہوچکے ہیں‘ اب اس میں کسی قسم کی ترمیم و تنسیخ کی گنجائش اور ضرورت باقی نہیں رہی۔ یہ تکمیل دین کا اعلان ہی ختم نبوت کا اعلان ہے۔ دین میں ترمیم و تنسیخ انبیاء کرامo کے ذریعہ سے ہوتی تھی اب جب دین مکمل ہوگیا تو قیامت تک اس میں کسی قسم کی ترمیم کی ضرورت نہ رہی تو نبی کے آنے کا مقصد پورا ہوگیا۔ آپ نے ان الفاظ میں اعلان فرما دیا کہ
[انا آخرالانبیاء و انتم آخر الامم۔] (ابن ماجہ)
’’میں سب نبیوں کے آخر میں آنے والا ہوں اور تم سب امتوں کے آخر میں آنے والے ہو۔‘‘
مرزا قادیانی بھارتی ریاست پنجاب کے قصبہ قادیاں ضلع گورداسپور میں ۱۸۳۹ء -۱۲۵۵ھ) کو پیدا ہوا۔ یہ موقع شناس اور جاہ طلب شخص تھا۔ اس نے بتدریج مختلف دعاوی کیے۔ مجدد‘ مہدی‘ مسیح‘ ظلی و بروزی نبی اور پھر مستقل صاحب شریعت نبی بن گیا۔ اس کو پشین گوئیاں کرنے کا بڑا شوق تھا جب پشین گوئی جھوٹی ثابت ہوتی تو ڈھٹائی سے اس کی تاویل کرنے لگ جاتا۔ انتہائی پرلے درجے کا بے شرم اور بے حیا انسان تھا۔ قرآنی آیات میں تحریفات کرتا اور ان میں من چاہی تفسیر و تاویل کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو علماء حق کے مقابلہ میں ہمیشہ ذلیل ورسوا کیا۔
مرزا قادیانی (سود اللہ وجہہ) نے ۱۸۹۱ء- ۱۳۰۸ھ)میں نبوت کا دعوی کیا سب سے پہلے سرخیل اہل حدیث مولانا محمد حسین بٹالویa میدان عمل مین اترے اور انہوں نے مرزا قادیانی پر کفر کا فتوی تحریر کیا اور اسے اپنے استاد عالی قدر حضرت میاں نذیر حسین محدث دہلویa کی خدمت میں پیش کرکے اس پر تصدیقی مہر ثبت کروائی۔ بعدازاں ہندوستان کے دور دراز مقامات کے سفر کرکے اس وقت کے مشہور و معروف دوسو علماء کرام کے تصدیقی دستخط اور مہریں ثبت کروائیں۔ مولانا محمد حسین بٹالوی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اسلام اور قادیانیت کے درمیان جو سب سے پہلے مناظرہ لاہور میں ہوا تھا مولانا بٹالویa مسلمانوں کی طرف سے مناظر تھے اور قادیانیوں کی طرف سے حکیم نورالدین تھا۔
مولانا محمد حسین بٹالویa نے اس مناظرہ میں حکیم نورالدین کو وہ ناکوں چنے چبوائے اور دلائل و براہین کے زور پر اس طرح سے لاجواب کردیا کہ حکیم نورالدین مناظرہ درمیان میں ہی چھوڑ کر لدھیانہ فرار ہوگیا جہاں ان دنوں مرزا قادیانی قیام پذیر تھا۔ مولانا بٹالوی صاحب نے ۱۵ اپریل ۱۸۹۱ء کو لدھیانہ میں مرزا قادیانی کو تار ارسال کیا جس میں تحریر تھا کہ
’’آپ کا مرید خاص مناظرہ سے راہ فرار اختیار کرکے آپ کے پاس پہنچ چکا ہے اسے مناظرہ پر آمادہ کریں یا پھر خود مناظرہ کے لیے تیار ہو جائیں۔‘‘
مولانا محمد حسین بٹالویa نے مرزا قادیانی پر فتوائے تکفیر کے علاوہ براہ راست اس سے مباحثہ کیا‘ اس کو مباہلہ کی دعوت دی اور اس کی تحریروں کے جواب تحریری صورت میں دیے اور مرزا قادیانی کے خلاف مضبوط محاذ قائم کیا اور ہر محاذ پر اس کو شکست سے دوچار کیا۔
شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریa وہ شخصیت ہیں جنہیں مسلمانوں کی طرف سے فاتح قادیاں کا خطاب دیا گیا اور یہ خطاب اس طرح خوبصورت انداز میں لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کیاگیا کہ دائیں اور بائیں جانب سے باآسانی پڑھا جاسکتا تھا۔
مولانا ثناء اللہ امرتسریa نے اس دور میں جس طرح سے مرزائیت کی تردید کی اس طرح کی مثال نہیں ملتی۔ تحریری‘ تقریری اور مناظرانہ صورت میں ہر محاذ پر مرزائیوں کو للکارا اور ان کو ناکوں چنے چبوائے۔ آپ ۱۱جنوری ۱۹۰۳ء کو قادیاں چلے گئے اور مرزا کو مباہلہ میں آنے کی دعوت دی لیکن وہ ملعون مقابلہ میں آنے کی جرأت نہ کرسکا۔
اپریل ۱۹۰۷ء میں مرزا قادیانی نے مولانا ثناء اللہ امرتسریa کے لیے موت کی پشین گوئی کرتے ہوئے دعا کی تھی کہ
’’ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ سچے کی زندگی میں مرجائے۔‘‘ یہ مرزا قادیانی کی اکلوتی پشین گوئی یا دعا تھی جو حرف بحرف پوری ہوئی اور اس کے گیارہ ماہ بعد ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا قادیانی کی لاہور میں لیٹرین میں موت واقع ہوئی۔ جبکہ شیخ الاسلام فاتح قادیاں مولانا ثناء اللہ امرتسری نے ۱۵ مارچ ۱۹۴۸ء کو سرگودھا میں چالیس سال بعد وفات پائی۔
مشہور سیرت نگار قاضی محمد سلیمان منصورپوریa نے مرزا قادیانی کے دعوائے مسیحیت و نبوت کی تردید میں دوکتابیں لکھیں۔ پہلی کتاب ’’غایت المرام‘‘ جو کہ ۱۸۹۳ء میں چھپی‘ اس وقت آپ چوبیس پچیس برس کے نوجوان تھے اور دوسری کتاب اس کے پانچ سال بعد ’’تائید الاسلام‘‘ ۱۸۹۸ء میں طبع ہوئی لیکن مرزا قادیانی آپ کی کسی کتاب کا جواب نہیں دے سکا.
مولانا محمد بشیر سہسوانیa ایک ممتاز عالم دین اور کئی کتب کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑے مقرر اور مناظر بھی تھے۔ ۱۸۹۴ء میں مرزا قادیانی نے دہلی آکر اپنی مسیحیت کا ڈھنڈورا پیٹا اور مناظرے کے لیے کہا تو اس کی اطلاع مولانا محمد بشیر سہسوانی کو بھوپال میں ملی تو آپ دہلی تشریف لائے اور ایک مجمع میں مرزا قادیانی سے گفتگو ہوئی‘ مناظرے کا موضوع حیات و ممات مسیح تھا. مرزا قادیانی تقریری مناظرے پر رضا مند نہ ہوا تو تحریری بحث شروع ہوئی‘ مرزانے پہلے تو حسب عادت تاویلات سے کام لیا۔ لیکن جب مولانا سہسوانی کی گرفت مضبوط ہوئی اور آپ نے حیات مسیح پر دلائل دینا شروع کیے تو مرزا قادیانی یہ کہہ کر میدان چھوڑ گیا کہ ان کے ’’خسر‘‘ تشریف لارہے ہیں‘ ان کے استقبال کے لیے دہلی ریلوے اسٹیشن پر ان کا جانا ضروری ہے۔ مولانا بشیر سہسوانی صاحب نے ’’خسر‘‘ کا لفظ سنا تو قرآن مجید کی یہ آیت تلاوت فرمائی
{خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃَ ۱ ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ٭} (الحج: ۱۱)
دہلی شہر میں یہ پہلا مناظرہ تھا جو مرزا قادیانی سے ایک اہل حدیث عالم دین نے کیا۔
مولانا صوفی عبدالحق غزنویa ایک بلندپایہ صوفی مشرب اہل حدیث عالم دین تھے۔ اپنے زہد وتقوی‘ پاکیزگی نفس اور عبادت و سادگی کے سبب صوفی عبدالحق کے لقب سے معروف تھے۔ صوفی عبدالحق غزنوی اور مرزا قادیانی کے درمیان ۲۵ مئی ۱۸۹۳ء کو عیدگاہ امرتسر میں مباہلہ ہوا۔ اس مباہلے کے نتیجے میں مرزا قادیانی ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور مین ہیضے اور اسہال کی بیماری میں مبتلا ہو کر اپنے مدمقابل (مولانا عبدالحق غزنوی) کی زندگی میں بیت الخلاء میں مر گیا۔ جب اس کی لاش کو لاہور ریلوے اسٹیشن کی طرف لے جایا جارہا تھا تو اس پر اینٹ‘ پتھر‘ گندگی اور غلاظت کی ایسی بارش ہوئی کہ تاریخ میں کسی بدترین کافر کے لیے بھی ایسی ذلت و رسوائی کا سراغ نہیں ملتا۔ اس کے برعکس مولانا عبدالحق غزنوی نے مرزا قادیانی کی وفات کے بعد پورے نوبرس بعد ۱۶ مئی ۱۹۱۷ء کو وفات پائی اور نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ دفن کیے گئے۔
بحمداللہ تعالی مرزا قادیانی کے ساتھ مباہلے اور پھر اس میں کامیابی کی سعادت پوری امت میں صرف ایک اہل حدیث عالم دین مولانا عبدالحق غزنویa کو حاصل ہوئی۔
مولانا محی الدین عبدالرحمن لکھوی نے فرمایا کہ ’’مجھے اللہ کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ مرزا قادیانی کذاب و مفتری اور فرعون و ہامان کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔‘‘ آپ کے الفاظ یہ تھے جو انہیں القاء ہوئے {وقارون و فرعون و ھامان} مرزا قادیانی نے ان کو بھی دشنام ہدف ٹھہرایا۔
علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیa ممتاز عالم دین‘ مفسر قرآن‘ بہترین مقرر‘ بڑے محقق‘ وسیع المطالعہ‘ حاضر جواب مناظر اور تقریبا ۸۴ کتب کے مصنف تھے۔ آپ نے مرزائیت کے خلاف ۱۷ کتب تصنیف فرمائیں‘ ان میں سے ایک کتاب شہادۃ القرآن دو حصون پر مشتمل ہے جس میں حیات عیسیٰu پر بحث کی گئی اور مرزائیوں کے دلائل واعتراضات کا رد کیاگیا ہے۔
مولانا محمد حنیف ندویa وہ پہلے اہل علم اور اہل قلم ہیں جنہوں نے ہفت روزہ ’’الاعتصام‘‘ لاہور میں حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو اقلیت قرار دیا جائے۔
حافظ محمد ابراہیم کمیرپوریa ممتاز علماء اہل حدیث میں سے ایک ہیں۔ بڑے صاحب علم و فضل اور تحقیقی میدان مین یدطولی رکھتے تھے۔ خصوصا مرزائیت پر تو آپ کو خصوصی دسترس حاصل تھی جس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب قومی اسمبلی میں مرزائیوں کو کافر قرار دینے کی قرارداد پیش ہوئی تو مرزائی عقائد واعمال پر بحث کے لیے اراکین اسمبلی کو علماء کا تعاون درپیش تھا تو اس وقت خواجہ قمرالدین سیالوی کی نظر انتخاب اہل حدیث کے اس قابل فخر فرزند حافظ محمد ابراہیم کمیرپوری پر پڑی۔ حافظ صاحب موصوف نے مرزا ناصر قادیانی پر جرح کے لیے ایک سوالنامہ تشکیل دیا جو خواجہ محمد سلیمان تونسوی رکن قومی اسمبلی کے حوالہ سے اٹارنی جنرل نے دوران جرح مرزا ناصر سے کرنے تھے۔ آخری سوال جو اٹارنی جنرل نے مرزا ناصر قادیانی سے کیا وہ اس سوال سے اس قدر لاجواب اور ذلیل و رسوا ہوا کہ اس نے مزید سوالوں کا جواب دینے سے انکار کردیا۔ یوں مرزائیت پاکستان کے دستور و آئین کے مطابق کافر قرار پاکر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔ یہ آخری سوال بھی فرزند اہل حدیث حافظ محمد ابراہیم کمیرپوریa کا ہی تیار کردہ تھا۔
شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیرa مسلک اہل حدیث کے نامور قائد‘ بلندپایہ خطیب اور ممتاز مصنف تھے۔ آپ نے عربی زبان میں ’’القادیانیۃ‘‘ لکھی جو عرب ممالک میں بڑی تعداد میں پھیلی اور عرب کے بڑے بڑے اہل علم کے مطالعہ میں آئی۔ اس کے اردو‘ فارسی اور انگلش میں ترجمے ہوئے۔ حضرت علامہ شہید کی مرزائیت کی تردید میں یہ بہت بڑی خدمت ہے اور مرزائیت کے خلاف پاکستان کے ایک اہل حدیث عالم دین کی یہ اولین کتاب ہے۔
ان کے علاوہ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد‘ حافظ محمد محدث گوندلوی‘ مولانا عبدالمجید سوہدروی‘ حافظ عبداللہ محدث روپڑی‘ مولانا حکیم عبدالرحیم اشرف‘ مولانا عبداللہ معمار‘ مولانا صفی الرحمن الاعظمی‘ مولانا ابوالقاسم سیف بنارسی‘ محدث دیار سندھ علامہ سید بدیع الدین شاہ راشدیS و دیگر علماء اہل حدیث کی تحریری خدمات تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ اسی طرح سے میدان مناظرہ میں مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی‘ مولانا احمد الدین گکھڑوی‘ مولانا نورحسین گرجاکھی‘ مولانا محمد رفیق پسروری اور دیگر کی مساعی جمیلہ بھی اس تاریخ کا ایک حسین باب ہیں۔
نازش ملت ممتاز مورخ ڈاکٹر محمد بہاوالدین حفظہ اللہ
ڈاکٹر محمد بہاؤالدین صاحب جن کا اصل نام ڈاکٹر محمد سلیمان اظہر ہے۔ آپ جماعت کے معروف عالم دین اور مبلغ مولانا عبداللہ گورداسپوریa کے فرزند ارجمند ہیں۔ مولانا عبداللہ گورداسپوری صاحب‘ مفسر قرآن علامہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹیa کے تلمیذ رشید تھے اور فاتح قادیان شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریa کے خاص مرزائیت کے رد میں تیار کردہ مبلغ جن کی ساری زندگی قادیانیت کے تعاقب اور مسلک حق کے فروغ و اشاعت میں گذری۔ ان کے صاحبزادے ڈاکٹر بہاؤالدین صاحب واقعتا [الولد سر لابیہ] اور نمونہ سلف ثابت ہوئے ہیں۔ جنہیں اللہ تعالی نے دیار غیر میں بیٹھ کر ختم نبوت اور ردقادیانیت کے حوالہ سے ایک شاندار ’’انسائیکلو پیڈیا‘‘ مرتب کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔
نازش ملت اور مؤرخ اہل حدیث ڈاکٹر بہاوالدین صاحب کی خدمات جلیلہ کو جس قدر خراج تحسین پیش کیا جائے وہ کم ہے۔ موصوف نے جس طرح سے دیارغیر میں بیٹھ کر ’’تاریخ اہل حدیث‘‘ اور پچھتر جلدوں میں ’’تحریک ختم نبوت‘‘ مرتب کی وہ اپنی مثال آپ ہے۔
سرزمین سندھ جسے باب الاسلام بھی کہا جاتاہے اور اس سرزمین کو حضرات صحابہ کرام] اور تابعین عظامS کی قدم بوسی کا شرف حاصل ہے۔ اس سرزمین پر بہت سے محدثین بھی پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی زندگیاں خدمت حدیث میں گذار دیں۔ اس سرزمین کے احباب جماعت نے ڈاکٹر بہاؤالدین صاحب کی خدمات جلیلہ کو خراج تحسین پیش کرنے کا فیصلہ کیا اور مرکزی جمعیت اہل حدیث سکھر کے تحت ۱۸ فروری ۲۰۱۹ء بروز سوموار سالانہ قرآن و سنت کانفرنس کے موقع پر آپ کو سندھ کا روایتی تحفہ اجرک‘ ٹوپی اور شیلڈ پیش کی۔ آپ کے صاحبزادے محترم سہیل اظہر گورداسپوری صاحب سکھر تشریف لائے۔ سب سے پہلے حاجی عبدالحنان بندھانی نے اجرک پیش کی‘ اس کے بعد راقم الحروف (عبدالرحمن ثاقب) نے سندھی ٹوپی پیش کی۔ آخر میں سب‘ قاری یاسین حیدر‘ قاری سیف اللہ عابد امیر ضلع خانیوال‘ عبدالرحمن ثاقب‘ مولانا محمد عثمان امیر ضلع سکھر‘ شیخ ضیاء الرحمن سیٹھی‘ رانا عبدالحفیظ‘ حاجی عبدالحنان بندھانی‘ مولانا جاوید خان شیروانی نے مل کر ڈاکٹر محمد بہاوالدینd  کے اعزاز میں شیلڈ پیش کی جو کہ آپ کے صاحبزادے سہیل اظہر صاحب نے وصول کی۔ راقم الحروف نے اس موقع پر ڈاکٹر صاحب کے اس عظیم انسائیکلوپیڈیا کے بارے سامعین کو آگاہ کیا اور بتایا کہ اہل حدیث کے اس نامور سپوت نے ’’تحریک ختم نبوت‘‘ مرتب کرکے ایک تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ جس پر ہم سب ان کے شکر گذار اور ان کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی انہیں جزائے خیر عطاء فرمائے اور اخروی نجات کا ذریعہ بنائے۔ آمین!



No comments:

Post a Comment