طب وصحت .. قربانی کا گوشت 30-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 03, 2019

طب وصحت .. قربانی کا گوشت 30-2019


طب وصحت ... قربانی کا گوشت

تحریر: جناب حکیم محمد احمد سلیمی
گوشت زیادہ کھانے اور محفوظ کرنے میں احتیاط
عید الاضحیٰ کی آمد آمد ہے۔ یہ ایک مقدس فریضہ ہے ۔ پوری دنیا میں استطاعت رکھنے والے فرزندانِ توحید سنتِ ابراہیمی کی پیروی میں قربانی کرتے ہیں۔ عید قرباں ایسا تہوار ہے جس میں تقریباً سب لوگ گوشت کھاتے ہیں بلکہ مشاہدہ کی بات ہے کہ اس موقع پر زیادہ گوشت کھا جاتے ہیں۔ شہری زندگی میں تو پہلے ہی گوشت کے استعمال میں اضافہ ہو چکا ہے اور اس وجہ سے مختلف امراض کی شرح بھی بتدریج بڑھ رہی ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق ایک تندرست شخص کو روزانہ 60 گرام گوشت کھانا چاہیے۔ بکثرت گوشت کھانے سے اسہال ، معدے اور جگر کی بیماریاں، ہائی بلڈ پریشر اور نظام ِ انہضام کی بیماریاں پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ لہٰذا بلڈ پریشر ، ہیپاٹائٹس، معدہ ، جگر اور گردوں کے امراض میں مبتلا افراد زیادہ گوشت کھانے سے گریز کریں۔
عید کے موقع پر عام طور پر کلیجی سب سے پہلے پکائی جاتی ہے ۔ لہٰذا کلیجی پکانے سے قبل اس بات کا اطمینان کر لیں کہ کلیجی میں کہیں سوراخ یا چھالے وغیرہ تو نہیں یا اس کی رنگت خراب تونہیں۔ اگر ایسا ہے تو اسے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔اس کے ساتھ ساتھ سری پائے کا استعمال بھی زیادہ کیا جاتا ہے۔ لوگ عموماً سری پایوں سے بال اتارنے کے لیے ویلڈنگ والی گیس سے انہیں جلاتے ہیں مگر جِلد کے اندر بال موجود رہتے ہیں اور انسانی جسم میں ایسی کوئی رطوبت نہیں جوبالوں کو گلا سکے، چنانچہ ان بالوں کی وجہ سے انسان انتہائی خطرناک بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے لہٰذا سری پائے، کھال اتار کر استعمال کرنا چاہئیں۔
علاوہ ازیں گوشت کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے گوشت کھانے کے دوران سرکہ اور دہی کا استعمال اس کے مضر اثرات کو کم کر دیتا ہے۔ نیز گوشت کو سبزیوں اور دالوں میں ملا کر استعمال کرنے سے اس کی افادیت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گوشت پکانے کے لیے مصالحوں کا استعمال کم سے کم کرنا چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ گوشت ایک اہم غذا ہے اور ہماری خوراک کا لازمی جزو ہے تاہم اسے اعتدال کے ساتھ کھانا ہی صحت کے لیے مفید ہے۔ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کو بھی گوشت انتہائی مرغوب تھا مگر انہوں نے بھی گوشت کا استعمال کم کیا۔ لہٰذا حضور نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہمیں گوشت تو ضرور کھانا چاہیے مگر اعتدال کا دامن بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔
ایک اور اہم نقطہ جس کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے وہ یہ کہ قربانی کرنے والے احباب ضرورت سے زائد گوشت محفوظ کرنے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں اور اگر گوشت کو مناسب انداز میں محفوظ نہ کیا جائے تو ایسے گوشت کے استعمال سے بھی صحت کو کئی قسم کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق گوشت خواہ قربانی کا ہو یا روزمرہ کا یہ خوراک کا وہ جزو ہے جسے جلد خراب ہونے والا کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ اس میں پانی کی مقدار کا زیادہ ہونا ہے جو کہ تقریباً 75فیصد ہوتی ہے جبکہ عام اناجوں اور دالوں میں پانی کی مقدار صرف 15-10 فیصد تک ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی چیز کو زیادہ عرصہ تک محفوظ رکھنا ہو تو اس میں پانی کی مقدار ختم کر دی جاتی ہے۔ خشک اور تازہ دودھ کی مثال ہم سب کے سامنے ہے۔ تازہ دودھ چند گھنٹے جبکہ خشک دودھ کو کئی سالوں تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ لہٰذا گوشت کے لیے ضروری ہے کہ اسے قربانی کے فوری بعد(تین گھنٹوں کے اندر) استعمال کر لیا جائے یا پھر محفوظ کر لیا جائے۔پانی، جراثیم کی من بھاتی غذا اور پنپنے کے لیے بہترین ذریعہ ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے گوشت سے پانی ختم یا کم سے کم کیا جائے اس کے لیے اسے دھوپ میں سکھا لیں۔ چولہے پر خشک کر لیںیا پھر فریز کر لیں۔ اگر تینوں طریقے حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق ہوں تو گوشت کو خراب ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ اگر گوشت کو دھوپ میں خشک کرنا مقصود ہو تو خیال رکھیں کہ مکھیوں، کیڑوں اور گرد وغبار سے محفوظ رہے۔ کسی پتلی جالی یا کپڑے سے ڈھانپ دیں تو زیادہ اچھا ہے۔ پھر تیز دھوپ میں دو سے ڈھائی گھنٹے رکھیں، اس عمل سے گوشت میں موجود تمام پرٹین پگھل کر ایک تہ سی بنا دے گی جبکہ پانی کافی حد تک خشک ہوجائے گا اور گوشت محفوط ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ نمک اور سرکہ کے ذریعے بھی جراثیم کا داخلہ روکا جا سکتا ہے۔ مثلاً گوشت کو دھوپ میں لٹکانے سے پہلے اگر اس پر نمک کے ساتھ لیموں کا رس اور سرکہ چھڑک دیا جائے تو گوشت کو مزید عرصہ تک محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر دھوپ کم ہو تو گوشت کے پتلے پتلے قتلوں پر نمک اور دیگر مصالحے لگا کر اوون میں خشک کر کے بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ گوشت کو زیادہ عرصہ تک محفوظ رکھنے کا سب سے موثر طریقہ اسے فریز کر دینا ہے۔ کیونکہ گوشت کو جما دینے سے اس میں جراثیم کی نشوونمابالکل رک جاتی ہے۔ غذائی ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ فریز کیا ہوا گوشت عام طور پر تین ماہ تک محفوظ رہتا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ بجلی کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ سے گوشت کی حالت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہمارے ملک کے معروضی حالات میں جہاں لوڈ شیڈنگ معمول ہے گوشت کو خشک کر کے محفوظ کرنے کا طریقہ ہی بہتر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ فریزر سے گوشت نکالنے کے بعد وہ صرف اتنی دیر تک محفوظ رہتا ہے جب تک کہ اس میں سے برف مکمل پگھل نہیں جاتی۔برف پگھلنے کی صورت میں اسے فوری طور پر پکا لینا بہتر ہے کیونکہ جیسے ہی برف پگھل جاتی ہے جراثیم گوشت پر تیزی سے حملہ کر دیتے ہیں اور زیادہ دیر ہونے کی صورت میں گوشت قابل استعمال نہیں رہتا۔ بہترین طریقہ یہی ہے کہ پلاسٹک کی چھوٹی چھوٹی تھیلیاں استعمال کی جائیںجو روزمرہ کی ضرورت کے مطابق ہوں۔ ہمارے ہاں عام طور پر خواتین جلدی میں یا لاعلمی میں گوشت کو بڑی بڑی تھیلیوں میں ڈال کر فریزر میں رکھ دیتی ہیں۔ ایک مرتبہ برف پگھلنے کے بعد دوبارہ گوشت کو فریز کرنا حفظانِ صحت کے اصولوں کے منافی ہے۔ ایک اور بات انتہائی اہم ہے وہ یہ کہ گوشت تقسیم کرنے یا وقتی طور پر محفوظ کرنے کے لیے اخباری کاغذ ہر گز استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق اخباری کاغذ کی روشنائی میں سیسہ ہوتا ہے جو کہ انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے۔         


No comments:

Post a Comment