اداریہ ... عید الاضحٰی کا پیغام 30-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 03, 2019

اداریہ ... عید الاضحٰی کا پیغام 30-2019


عید الاضحیٰ کا پیغام

{قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ}
عیدالاضحی کا چاند ایسے حالات میں طلوع ہوا ہے جبکہ وطن عزیز بے شمار داخلی و خارجی مسائل سے دوچار ہے۔
اس موقع پر مقبوضہ کشمیر، افغانستان، فلسطین، عراق، شام، لیبیا اور برما کے مسلمان بھائی بھلائے نہیں جا سکتے جو بڑی طاقتوں کے ظلم و ستم کا شکار اور امداد کے لئے سراپا انتظار ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر مسلمان حریت پسندوں کے خون سے لالہ زار ہے۔ کشمیری بہو بیٹیوں کی عصمتیں تارتار ہو چکی ہیں۔ ہزاروں مسلمان، اپنی آزادی، اسلامی تشخص اور ظلم و ستم سے نجات کے لئے اپنے خون کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں اور حریت و آزادی اور قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کر چکے ہیں۔ ہندو بنیے کی لاکھوں کی تعداد میں ظالم فوج مسلمانوں کے جذبہ کو ختم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ دن دور نہیں جب ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔ افسوس کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی نے گذشتہ دور میں کالا باغ ڈیم کا منصوبہ یکسر ختم کر دیا تھا۔ جب کہ بھارت ہمارے دریائوں پر ڈیم بنا کر وطن عزیز کو صحرا میں تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ سیاچن پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے جو دفاعی اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ بلوچستان میں بے جا مداخلت کر رہا ہے۔ ابھی تک اس نے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا۔ پاکستان سے تین جنگیں کر چکا ہے۔ پاکستان کے مشرقی بازو کو کاٹنے کے لئے بڑا گھنائونا کردار ادا کیا اور سقوطِ ڈھاکہ پر اس وقت کی بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ ہم نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ اب بھی بھارتی حکمران، پاکستان کے بارے میں اچھے نظریات نہیں رکھتے۔ اس لئے ہمارے حکمرانوں کو مسئلہ کشمیر حل ہونے سے پہلے بھارت سے تجارت نہیں کرنی چاہیے اور اسے پسندیدہ ترین ملک قرار دینا کسی صورت میں بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پورا عالم اسلام، طاغوتی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے کئی مسائل سے دوچار ہے۔ وہ اپنے وسائل کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ ایسے حالات میں عیدالاضحی کے اس پیغام کو یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمان، اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھتا ہے اور عیدالاضحی ہر سال اسی جذبہ کو تازہ کرنے کی یاد دلاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک مسلمان قربانی کے اسی جذبہ سے سرشار رہے اس وقت تک طاغوتی طاقتیں اس کی ہیبت سے لرزہ براندام رہیں لیکن جب حقیقی جذبہ سرد پڑ گیا اور اصل ولولوں کی جگہ ظاہری رسوم نے لے لی تو مسلمان غیروں کے دست نگر ہو کر رہ گئے۔ عیدالاضحی ہمیں زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ جب سے تم نے قربانی کی حقیقی روح کو الوداع کہہ دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے بھی تم سے عزّ و شرف کی قدریں چھین لی ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ وہ چھری جسے ہم جانور کی گردن پر چلا رہے ہیں، وقت آنے پر اسلام کی سرفرازی اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لئے اپنی گردن بھی پیش کرنے سے دریغ نہ کریں۔ اگر یہ چیز حاصل نہیں تو پھر قربانی ایک رسم ہے جسے ہم بجا لا رہے ہیں اور ایسی بے روح عبادت کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں کیونکہ قربانی تو صرف ایثار نفس و فدویت جان و روح کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔ پاک و صاف دل اور تقویٰ مقصود ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کا ارشاد ہے: {لَنْ یِّنَالَ اللّٰہُ لَحُوْمُھَا وَلَا دِمَآئُھَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّّقْوٰی مِنْکُمْ} سچی بات تو یہ ہے کہ قربانی سے مقصود تو ان جذبوں کو بیدار کرنا ہے جو سیدنا ابراہیم خلیل اللہu کے دل میں مچل رہے تھے۔ سیدنا خلیل اللہu نے تو اپنے پیارے فرزند ارجمند سیدنا اسمٰعیلu کی گردن پر چھری چلا دی تھی۔ کبھی ہم نے بھی اپنی غیر اسلامی خواہشات اور مفادات پر چھری چلائی ہے۔ اگر ہم اپنی غیر اسلامی خواہشات پر چھری نہیں چلا سکتے تو پھر جانور کی گردن پر چھری چلانے سے کیا حاصل؟
یہ عیدالاضحی، یہ مناسک حج، یہ سعی، طواف اور میدان عرفات میں لاکھوں انسانوں کا کفن بردوش کھڑے ہو کر والہانہ انداز میں ’’لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک‘‘ پکارنا اس بات کا اعلان ہے کہ ہمارا سب کچھ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے حاضر ہے۔ اللہ پاک نے یہ تمام ادائیں اور صدائیں اس عظیم پیغمبر سیدنا ابراہیمu کی یاد میں فرض کر دی ہیں اور وہ اولوالعزم پیغمبر جو اس کی راہ میں بار بار آزمایا گیا اور ہر آزمائش میں کامیاب ہوا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں {اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا} کا شرف عطا فرمایا اور امت مسلمہ کو حکم دیا کہ وہ ہر سال اسوۂ ابراہیمؑ کو زندہ و تابندہ رکھنے کے لئے اس کی اتباع کرے۔ رسول مکرمe سے پوچھا گیا کہ قربانی کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: {سُنَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھٖم} تمہارے بابا ابراہیمؑ کی سنت ہے۔ آج سنت ابراہیمؑ کو تازہ کرتے ہوئے ہمیں اس بات کا بھی عزم کرنا چاہیے کہ ہم اعلان توحید کے ساتھ ساتھ جھوٹے خدائوں کو تسلیم نہیں کرتے۔ خواہ اس مقصد کے لئے ہمیں گھر بار اور اہل خاندان کو چھوڑنا پڑے۔ خواہ نمرودانِ وقت کے ہاتھوں قید و بند اور خوفناک آتش میں کودنا پڑے اور چاہے اس جرم کی پاداش میں اپنی عزیز سے عزیز ترین متاع کو بھی قربان کرنا پڑے۔ دراصل عیدالاضحی کا دن اسی پیغام اور اسی عہد کی تجدید کا دن ہے۔
{اِنَّ صَلٰوتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ}
’’میری نماز میری قربانی، میری زندگی اور میری موت رب العالمین کے لئے ہے۔‘‘
علامہ اقبال نے خوب کہا ہے    ؎
آج بھی ہو جو ابراہیمؑ کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا

اعلان تعطیل
عید الاضحیٰ کے مبارک موقع پر مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے جملہ دفاتر 12 تا 17 اگست 2019ء (بروز سوموار‘ تا جمعہ) بند رہیں گے۔ ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ کا آئندہ شمارہ 23 اگست کو شائع ہو گا۔ ان شاء اللہ العزیز! قارئین کرام اور ایجنٹ حضرات مطلع رہیں۔ (ادارہ)
نوٹ:  زیر نظر عید ایڈیشن کی قیمت 30 روپے ہے‘ ایجنسی ہولڈرز مطلع رہیں۔



No comments:

Post a Comment