فضائل حج وعمرہ 30-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 03, 2019

فضائل حج وعمرہ 30-2019


فضائل حج وعمرہ

تحریر: جناب مولانا محمد منیر قمر
نماز‘ روزہ اور زکوٰۃ کی طرح ہی حج وعمرہ بھی ایک اہم عبادت ہے۔ بلکہ ایک اعتبار سے تو یہ دیگر عبادات سے بھی جلیل القدر ہے کیونکہ نماز اور روزہ صرف بدنی عبادات ہیں اور زکوٰۃ مالی عبادت ہے جب کہ حج وعمرہ مالی اور بدنی ہر قسم کی عبادات کا مجموعہ ہے۔
 اسلام دین کا رکن:
دین اسلام میں حج وعمرہ کی اس قدر اہمیت ہے کہ نبی اکرمe نے اسے اسلام کے ارکانِ خمسہ میں سے ایک رکن قرار دیا ہے۔ جیسا کہ بخاری ومسلم میں سیدنا عبداللہ بن عمرw سے مروی ہے کہ نبی کریمe نے ارشاد فرمایا:
[بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ.] (بخاری، مسلم)
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور حضرت محمدe اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا‘ زکوٰۃ ادا کرنا‘ رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ شریف کا حج کرنا۔
 افضل عمل:
ایسے ہی نبی اکرمe نے حج کو افضل ترین اعمال میں سے ایک شمار فرمایا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری ومسلم میں ہی سیدنا ابوہریرہt سے مروی ہے کہ رسول اللہe سے پوچھا گیا : [أَيُّ العَمَلِ أَفْضَلُ؟]
’’سب سے افضل عمل کونسا ہے؟‘‘
آپe نے ارشاد فرمایا: [إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ] ’’اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔‘‘ کہا گیا کہ اس کے بعد؟ تو ارشاد ہوا: [الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ] ’’اللہ کی راہ میںجہاد کرنا۔‘‘ پھر پوچھا گیا کہ اس کے بعد؟ تو آپe نے ارشاد فرمایا: [حَجٌّ مَبْرُورٌ] ’’مقبول حج۔
 حج مبرور:
علماء کرام نے ’’حج مبرور‘‘ کی شرح بیان کرتے ہوئے متعدد آراء کا اظہار کیا ہے۔ چنانچہ شیخ الحدیث مولانا عبیداللہ رحمانی ’’القُرٰی لقَاصِدِ أُمِّ القُرٰی‘‘ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’بعض کے نزدیک اس سے مراد وہ حج ہے جس کے دوران کسی گناہ کا ارتکاب نہ کیا گیا ہو۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ حج ہے جو عند اللہ مقبول ہو جائے۔ بعض کا کہنا ہے کہ اس سے وہ حج مراد ہے جس میں ریا وشہرت‘ فحاشی اور لڑائی جھگڑا نہ کیا گیا ہو۔ کچھ اہل علم کا کہنا ہے کہ حج مبرور کی علامت یہ ہے کہ اس سے آدمی پہلے کی نسبت بہتر ہو کر لوٹے اور گناہ کی کوشش نہ کرے۔‘‘
حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں:
’’ایسا حج جس کے بعد انسان دنیا سے بے رغبت اور آخرت کا طلبگار بن جائے۔ جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ حج کے مفہوم میں یہ سبھی امور شامل ہیں۔‘‘ (المرعاۃ شرح المشکوٰۃ: ج۶‘ ص۱۹۰)
 گناہوں سے نجات سے کلی طہارت:
کس قدر خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو فریضہ حج سے سبکدوش ہونے کی سعادت سے بہرہ ور ہوتے ہیں اور سابقہ گناہوں سے کلی طور پر پاک ہو کر لوٹتے ہیں‘ جیسے کوئی نوزائیدہ بچہ جنم لیتے وقت اس دنیا میں گناہوں سے پاک آتا ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری ومسلم میں سیدنا ابوہریرہt سے مروی ہے کہ نبی کریمe نے ارشاد فرمایا:
[مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.] (بخاری ومسلم)
’’جس نے حج کیا اور دوران حج اس سے نہ کوئی شہوانی فعل سرزد ہوا اور نہ اس نے فسق وفجور (گناہ) کا ارتکاب کیا تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو کر لوٹا کہ گویا آج ہی اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہے۔‘‘
صحیح مسلم وابن خزیمہ میں حضرت شماسہ سے مروی ہے کہ معروف صحابی رسول سیدنا عمرو بن العاصt پر موت کا عالم طاری ہوا تو اس وقت ہم ان کے پاس موجود تھے۔ وہ دیر تک خشیت الٰہی سے روتے رہے پھر اپنے قبول اسلام کا واقعہ سنانے لگے اور فرمایا:
’’جب اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں قبول اسلام کا جذبہ پیدا فرمایا تو میں رسول اللہe کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا‘ اے اللہ کے رسول! اپنا دست مبارک آگے بڑھائیے تا کہ میں بیعت کروں۔ جب آپe نے اپنا دست مبارک بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا‘ آپe نے فرمایا: عمرو! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا‘ اے اللہ کے رسول! میں ایک شرط پیش کرنا چاہتا ہوں‘ فرمایا وہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا‘ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے بخش دے۔ تو آپe نے فرمایا: اے عمرو! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ [أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟] (صحیح مسلم)
اسلام قبول کرنا پہلے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت کرنا (دین کی خاطر) پہلے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے اور حج کرنا بھی سابقہ گناہوں کو  ملیا میٹ کر دیتا ہے۔
 جنت کی بشارت:
حج وعمرہ سے حاصل ہونے والی سعادتوں‘ کامرانیوں اور فضائل وبرکات کا یہ عالم ہے کہ تمام گناہوں سے کفارے کے ساتھ ساتھ جنت کی خوشخبری بھی کانوں میں رس گھولتی‘ دلوں میں ایمان جگاتی اور روح کو بالیدگی وتازگی بخشتی ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری ومسلم کی ایک حدیث میں نبی آخر الزماںe کا ارشاد گرامی ہے:
[الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ.] (بخاری ومسلم)
’’ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے تمام گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا ثواب تو جنت ہی ہے۔‘‘
 بوڑھوں‘ ضعیفوں اور عورتوں کا جہاد:
میدانِ کارزار میں کفار ومشرکین کو تہ تیغ کرنے والے غازیوں اور شہیدوں کو اللہ تعالیٰ نے جو مقام ومرتبہ عطا فرمایا ہے وہ صرف انہی لوگوں کا حصہ ہے جو اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لیے اور سروں پر کفن باندھے محاذ جنگ پر دشمنوں کو للکارتے ہیں۔ 
مگر وہ انسانی طبقے جو اس دل گردہ کے مالک نہیں ہوتے کہ معرکہ حق وباطل کو سر کریں۔ انہیں جہاد کا ثواب عطا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حج کو اس کا نعم البدل قرار دیا ہے۔ چنانچہ بخاری شریف اور بعض دیگر کتب حدیث میں ام المؤمنین سیدہ عائشہr سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم e سے عرض کیا:
[نَرَى الجِهَادَ أَفْضَلَ العَمَلِ، أَفَلاَ نُجَاهِدُ؟]
’’ہم جہاد کو افضل اعمال میں سے سمجھتے ہیں تو کیا ہم (عورتیں) بھی جہاد نہ کریں؟ اس پر نبی اکرمe نے ارشاد فرمایا: [لَكِنَّ أَفْضَلَ الجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ.] ’’تمہارے لیے جہاد‘ حج مبرور ہے۔ (بخاری)
جب کہ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں سیدہ عائشہr سے مروی ہے کہ میں نے آپe سے جہاد کی اجازت طلب کی تو آپe نے فرمایا: [جِهَادُكُنَّ الحَجُّ] ’’تمہارا جہاد حج ہے۔‘‘
جبکہ مسند احمد اور ابن ماجہ کی ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ سیدہ عائشہr نے پوچھا‘ کیا عورتوں پر بھی جہاد ہے؟ آپe نے فرمایا:
[نَعَمْ، عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لَا قِتَالَ فِيهِ: الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ.]
’’ہاں ان پر ایسا جہاد ہے جس میں کوئی قتال وجنگ نہیں اور وہ ہے حج اور عمرہ۔‘‘
اس حدیث کی سند کو محدث عصر علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ (انظر تحقیق المشکوٰۃ‘ ارواء الغلیل فی تخریج احادیث منار السبیل: ج۴‘ ص ۱۵۱)
جب کہ نسائی شریف کی ایک حسن سند والی حدیث  میں سیدنا ابوہریرہt سے مروی ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[جِهَادُ الْكَبِيرِ، وَالصَّغِيرِ، وَالضَّعِيفِ، وَالْمَرْأَةِ: الْحَجُّ، وَالْعُمْرَةُ.]
’’بوڑھوں‘ بچوں‘ ضعیفوں اور عورتوں کا جہاد حج وعمرہ ہے۔‘‘ (حسنہ المنذری فی الترغیب والترہیب: ج۳‘ ص ۵) بتحقیق محمد محی الدین عبدالحمید۔
 اللہ کے مہمان:
حجاج کرام کے لیے یہی شرف کیا کم ہے کہ عازمین حج وعمرہ کو نبی اکرمe کی بعض احادیث میں اللہ کا وفد ومہمان قرار دیا ہے۔
چنانچہ نسائی شریف کی ایک حدیث ہے جس کی سند کو علامہ البانیa بتحقیق المشکوٰۃ (۴/۷۷۸‘ حدیث: ۲۵۳۷) میں حسن قرار دیا ہے۔ جسے امام بیہقی نے بھی شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔ اس میں سیدنا ابوہریرہt بیان فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریمe کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
[وَفْدُ اللَّهِ ثَلَاثَةٌ: الْغَازِي، وَالْحَاجُّ، وَالْمُعْتَمِرُ.]
’’تین قسم کے لوگ اللہ کے وفد (مہمان) ہیں جہاد‘ حج اور عمرہ والے۔‘‘
 قابل رشک زندگی اور قابل فخر موت:
حاجی کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر شرف وثواب سے نوازا ہے کہ اس کا جینا بھی قابل رشک ہے اور اس کی موت بھی قابل فخر واعزاز ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں ہے کہ میدان عرفات میں ایک شخص اونٹنی سے گرا اور جانبر نہ ہوا بلکہ اس کی روح پرواز کر گئی۔ نبی اکرمe نے ارشاد فرمایا: ’’اسے بیری کے پتوں والے پانی سے غسل دو اور اسی احرام کے کپڑوں میں کفن دیدو‘ اس کے سر کو نہ ڈھانپو اور نہ اسے خوشبو لگاؤ۔‘‘ اور فرمایا: [فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا.] ’’یہ قیامت کے دن اسی طرح اٹھایا جائے گا کہ یہ لبیک اللہم البیک پکار رہا ہو گا۔‘‘
 عمرۂ رمضان:
عموماً دیکھا جاتا ہے کہ صاحب استطاعت لوگ ماہ رمضان المبارک میں اکثر عمرہ کے لیے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ دراصل یہی ہے کہ دیگر مہینوں کی نسبت رمضان المبارک کے مہینہ میں عمرے کا ثواب بہت زیادہ ہے۔ رمضان میں عمرہ کی فضیلت بیان کرتے ہوئے صحیح بخاری ومسلم میں نبی کریمe نے ارشاد فرمایا: [إِنَ عُمْرَةً في رَمَضَانَ تَعْدِلُ حِجةً.] ’’رمضان المبارک میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔‘‘
مگر یاد رہے کہ اس عمرے سے اسلام کے رکن حج کی فرضیت ہرگز ساقط نہیں ہو گی بلکہ جب کسی پر فرضیت حج کی شرائط پوری ہو جائیں تو اس پر حج کرنا فرض ہو گا۔
 فرضیت حج:
یہ تو اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے کہ اس نے نبیe کے ذریعہ حج وعمرہ پر ان تمام فضائل وبرکات اور عظیم انعامات کی بشارت دی ہے جن کا ذکر ہم نے سابقہ سطور میں کیا ہے ورنہ مسلمانوں کے لیے تو اس کی فرضیت کا حکم بھی تعمیل ارشاد کے لیے کافی ہے اور اس کی فرضیت قرآن وسنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ چنانچہ سورۃ آل عمران آیت: ۹۷ میں ارشاد الٰہی ہے:
﴿وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۹۷﴾ (ال عمران)
’’اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا حق (فرض) ہے کہ جو اس کے گھر (بیت اللہ شریف) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں‘ وہ اس کا حج کرے اور جو کوئی اس کے حکم کی پیروی سے انکار کرے تو (اسے معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ تعالیٰ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔‘‘
صحیح بخاری ومسلم میں ہے کہ نبی اکرمe نے حج وعمرہ کو اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن قرار دیا ہے جبکہ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہt سے مروی ہے کہ نبی اکرمe نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
[أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ، فَحُجُّوا.]
’’اے لوگو! تم پر حج فرض کیا ہے لہٰذا تم حج کرو۔‘‘
امام نووی وحافظ ابن حجر عسقلانیa سے نقل کرتے ہوئے امام شوکانی لکھتے ہیں کہ اس بات پر پوری امت اسلامیہ کا اجماع ہے کہ پوری زندگی میں ایک مرتبہ حج وعمرہ کرنا فرض ہے۔ (نیل الاوطار)
 نفلی حج:
اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ مرتبہ حج کرے تو وہ نفلی ہو گا کیونکہ صحیح مسلم‘ نسائی اور مسند احمد میں سیدنا ابوہریرہt سے مروی ہے کہ رسول اللہe نے ہمیں خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا:
[أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَ اللهُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ، فَحُجُّوا. فَقَالَ رَجُلٌ: أَكُلَّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَسَكَتَ حَتَّى قَالَهَا ثَلَاثًا.]
’’اے لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے لہٰذا تم حج کرو۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال حج کریں؟ نبی اکرمe خاموش رہے حتی کہ اس شخص نے تین مرتبہ یہی سوال کیا۔
تب پھر نبی اکرمe نے ارشاد فرمایا: [لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ، وَلَمَا اسْتَطَعْتُمْ.] ’’اگر میں ہاں کہہ دیتا تو (ہر سال حج کرنا) واجب ہو جاتا اور تم اس کی طاقت نہ پاتے۔ نسائی‘ مسند احمد اور دارمی میں سوال کرنے والے اس شخص کا نام بھی مذکور ہے جو کہ سیدنا اقرع بن حابسt ہیں۔ اس ارشاد رسالت مآبe سے معلوم ہوا کہ حج وعمرہ زندگی میں صرف ایک مرتبہ ہی فرض ہے۔ صحیح بخاری ومسلم میں سیدنا ابوہریرہt سے مروی ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[العُمْرَةُ إِلَى العُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالحَجُّ المَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الجَنَّةُ.]
’’ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزاء تو جنت ہی ہے۔‘‘
اس حدیث کو نقل کرتے ہوئے مفتی عالم اسلام سماحۃ الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نفلی حج وعمرہ میں کثرت مسنون ہے۔ (التحقیق والایضاح لکثیر من مسائل الحج والعمرۃ والزیارۃ)
صحیح ابن حبان‘ بیہقی‘ مصنف عبدالرزاق‘ مسند ابویعلی اور طبرانی اوسط میں سیدنا ابوسعید خدریtسے مروی ایک حدیث قدسی میں ہے کہ نبی اکرمe نے فرمایا:
[قَالَ اللهُ تَعَالَى: إِنَّ عَبْدًا صَحَّحْتُ لَهُ جِسْمَهُ، وَوَسَّعْتُ عَلَيْهِ فِي الْمَعِيشَةِ، يَمْضِي عَلَيْهِ خَمْسَةُ أَعْوَامٍ لَا يَفِدُ إِلَيَّ، لَمَحْرُومٌ.]
’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندے کو جسمانی صحت اور مالی وسعت عطا کی مگر پھر پانچ سال گزرنے کے باوجود وہ میرے پاس (حج کے لیے نہیں آتا۔ ایسا آدمی فضائل وبرکات سے) محروم ہوتا ہے۔‘‘
ابوداود ونسائی‘ ابن ماجہ ومستدرک حاکم‘ مسند احمد اور بیہقی میں سیدنا عبداللہ بن عباسw سے مروی ارشاد نبوی ہے: [الحج مرۃ، فمن زاد فطوع] ’’فرض حج صرف ایک مرتبہ ہے جو زیادہ مرتبہ کرے وہ نفل ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے صحیح قرار دیا ہے اور علامہ ذہبی نے اس کی تائید کی ہے۔
 فریضہ حج کی ادائیگی میں جلدی کرنا:
جب کوئی اتنی رقم‘ حالات اور وسائل کا مالک ہو جائے کہ وہ حج کر سکتا ہے تو اسے حکم ہے کہ وہ فوراً اس فریضہ کی ادائیگی سے سبکدوش ہو جائے۔ کیونکہ مسند احمد میں ارشاد نبویe ہے:
[تَعَجَّلُوا إِلَى الْحَجِّ - يَعْنِي: الْفَرِيضَةَ - فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَا يَعْرِضُ لَهُ.]
’’فریضہ حج کی ادائیگی میں جلدی کرو‘ اس لیے کہ تم میں سے کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اسے کب کوئی بیماری یا شدید ضرورت اس سے روک لے۔‘‘
اس اور ایسی دیگر احادیث کی بنا پر امام ابوحنیفہ‘ ابویوسف‘ مالک اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ نے قدرت واستطاعت حاصل ہونے پر فوراً حج کی ادائیگی کو واجب قرار دیا ہے۔ امام شافعی‘ اوزاعی‘ ثوری اور محمد (صاحب ابی حنیفہ) رحمہم اللہ اور بقول ماوردی صحاببہ میں سے سیدنا عبداللہ بن عباس‘ انس اور جابر] اور تابعین  میں سے امام عطا وطاؤس رحمہما اللہ کے نزدیک وقت وجوب کے بعد جب چاہے حج کر سکتا ہے۔ (جانبین کے دلائل کی تفصیل کے لیے دیکھیے: الفتح الربانی فی شرحہ بلوغ الامانی از عبدالرحمن البنائ: ۱۱/۱۹۔۲۳)
 ترک حج پر وعید:
جو شخص استطاعت کے باوجود اپنے دنیاوی مشاغل میں مصروف رہے اور جان بوجھ کر فریضہ حج کی ادائیگی کو مؤخر کرتا جائے حتی کہ اسی حالت میں اسے حج کیے بغیر ہی موت آجائے‘ اس کے بارے میں بڑی سخت وعید آئی ہے۔ سنن سعید بن منصور میں سیدنا عمر فاروقt کا ارشاد ہے:
’’میں نے ارادہ کیا کہ ان شہروں کی طرف اپنے آدمی بھیجوں وہ ہر اس آدمی کا پتہ چلائیں جس نے طاقت کے باوجود حج نہ کیا ہو تو میرے آدمی ایسے لوگوں پر غیر مسلموں سے لیا جانے والا ٹیکس (جزیہ) نافذ کر دیں۔ آخر میں فرمایا: [ما هم بمسلمین، ما هم بمسلمین] وہ مسلمان نہیں، وہ مسلمان نہیں۔‘‘


No comments:

Post a Comment