خطبۂ حرم ... حج، خیر ورحمت کی بہار 30-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 03, 2019

خطبۂ حرم ... حج، خیر ورحمت کی بہار 30-2019


حج ... خیر اور رحمت کی بہار

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹرعبدالرحمٰن السدیس d
ترجمہ: جناب محمد عاطف الیاس
حمد و ثناء کے بعد!
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! یاد رکھو کہ مقصد حاصل کرنے کے لیے تقویٰ ہی بہترین راستہ ہے، گناہوں اور برائیوں سے بچانے والی بہترین خصلت ہے۔ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اپنے وقت اور دل کو تقویٰ اور پرہیزگاری سے معمور کر لو۔ اسی کے ذریعے رہ جانے والی عبادتوں کا تدارک کرو۔ وقت، زمانے اور موقع کی فضیلت سے فائدہ اٹھاؤ۔
’’زاد راہ حاصل کر لو، اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے پس اے ہوش مندو! میر ی نا فرمانی سے پرہیز کرو۔‘‘ (البقرۃ: ۱۹۷)
جو اللہ کی طرف متوجہ ہو کر پرہیزگاری اختیار کر لیتا ہے، وہ بلند ترین مرتبے حاصل کر لیتا ہے،اپنے دل میں وہ حق کی آبشار پا لیتا ہے اور نفس کو لگام دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
اے مسلمانو! دیکھو! اب ہم مشہور ترین مہینے کے دروازے پر ہیں، حج کے دن بس آ ہی گئے ہیں۔ جو نیکیاں کمانے اور گناہ معاف کرانے کا بہترین موقع ہیں۔ ان میں نیکی اور فرماں برداری کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ بلکہ یہ بڑھتے ہوئے منافع کا سرچشمہ ہیں۔ تھوڑے سے دن بچے ہیں جن کے بعد امت اسلامیہ کے لیے ایک عبادت کا وقت آ جائے گا جس کا وقت اور مقام پہلے سے طے شدہ ہیں۔ یہ عبادت حجِ بیت اللہ کا فریضہ ہے جو کہ اسلام کا پانچواں رکن ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے۔‘‘ (آل عمران: ۹۷)
اے بیت اللہ کے حاجیو! خوش آمدید! اہلًا وسلًا! آپ کی آمد سرزمین حرمین کے لیے عزت کا باعث ہے۔ اس کے عوام اور اس کے حکمرانوں کے لیے بھی شرف ہے۔ سلامتی کے ساتھ پہنچنے آپ کو مبارک ہو، آرزو پوری ہونے پر بھی بہت مبارک ہو۔
اے مسلمانو! وہ اہم مسئلہ کہ جس کی بنیاد پر حج کا رکن قائم ہے، وہ توحید کا قیام ہے۔ توحید بندون پر اللہ کا حق ہے۔ بندوں کو چاہیے کہ وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ہم نے تُم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔‘‘ (الانبیاء: ۲۵)
حج کا سب سے بڑا فائدہ اور منافع یہ ہے کہ توحید کا قیام ہو جاتا ہے۔ وہ تلبیہ کہ جو حجاج کرام کی زبانوں پر ہوتا ہے اور جس کی آواز اس پر امن شہر میں گونجتی ہے، وہ توحید، ایمان، فرمان برداری اور اطاعت ہی کا شعار ہے۔ سیدنا جابر عبد اللہw رسول اللہe کے احرام کے بارے میں فرماتے ہیں: رسول اللہe نے توحید کے الفاظ کہہ کر احرام باندھ، کہا: میں حاضر ہوں۔ اے اللہ! میں حاضر ہوں۔ میں حاضر ہوں۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں تیرے لیے حاضر ہوں۔ تمام تعریفیں بھی تیرے لیے ہی ہیں، نعمتیں بھی تیری ہی ہیں اور بادشاہت بھی تیری ہی ہے۔ تیرا کوئی شریک نہیں۔ توحید کو قائم کرنے کے لیے ہی اس بیت معظم کی بنیادیں اٹھائی گئی تھیں۔
’’یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیم(u) کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجویز کی تھی (اِس ہدایت کے ساتھ) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔‘‘ (الحج: ۲۶)
تو اے رحمن کے بندو! اپنے واحد الٰہ اور سب کا حساب کتاب لینے والے پروردگار سے امید لگاؤ۔ اس کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔
قسم اس ذات کی جس سے محبت کرنے والے بیت اللہ کا حج کرتے ہیں، میقات پر احرام باندھتے اور تبلبیہ پڑھتے ہیں۔ اللہ کے سامنے عاجزی ظاہر کرنے کے لیے سر ننگے کر لیتے ہیں۔ اسی کے سامنے تو ساری گردنیں جھکتی ہیں اور سبھی اس کی تعظیم کرتے ہیں۔
اے حاجیوں کے پروردگار! ہم تیرے لیے حاضر ہیں۔ حاجیوں کے وفد تیری طرف آ گئے ہیں۔ تیری مدد اور حمایت کے طالب ہیں اور تیرا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم تیرے لیے حاضر ہیں، ساری نعمتیں اور ساری عطائیں تیری طرف سے ہی ہیں۔
اے بیت اللہ کے حاجیو! دیکھو! اب تم حرمین کے مقدس مقام پر پہنچ چکے ہو، آپ کے دل حج کی عبادتیں سرانجام دینے کے لیے بیتاب ہیں۔ آپ مشاعر مقدسہ میں پہنچنے کا شوق رکھتے ہیں۔ اللہ آپ کا بھلا کرے! آپ بڑے ہی نرم، رحمت کرنے والے اور بھائی بھائی بننے والے ہو۔ کیسے عظیم دوست ہو جو اللہ کی خوشنودی کے لیے اکٹھے ہوئے ہو۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، ایمان کے جھونکوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہو، آپ کے اس عظیم مقصد کے سامنے خوب صورت سے خوبصورت لباس کوئی معنی نہیں رکھتا، بلند سے بلند حسب ونسب کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اچھے سے اچھے القاب اور نسبتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ حج کے ذریعے دین اسلام کا نام لینے والوں کو ایک اور عظیم اور واضح فائدہ حاصل ہوتا ہے۔یہ فائدہ اسلامی وحدت اور اجتماعیت کا فائدہ ہے کہ جسے دیکھ کر ساری مشکلات اور پریشانیاں چھوٹی لگنے لگتی ہیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اور یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس مجھ ہی سے تم ڈرو۔‘‘ (المؤمنون: ۲)
اسی طرح اللہ پاک کا فرمان ہے:
’’مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔‘‘ (الحجرات: ۱۰)
اسی طرح فرمایا:
’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘ (آل عمران: ۱۰۳)
اے ہم عقیدہ بھائیو! وہ بابرکت جگہ جہاں آپ ان بابرکت دنوں میں رہ رہے ہو، اسے اللہ تعالیٰ نے ایسی چند خصوصیات سے نوازا جو اس کے علاوہ کسی کی نہیں ہیں۔ ان خصوصیات میں سے ایک خصوصیت امن وامان اور سکون وچین کی خاصیت ہے۔
’’اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے) کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا۔‘‘ (البقرۃ: ۱۲۵)
اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ یہ امن ساری دنیا والوں کی بے بسی ظاہر کرتا ہے کیونکہ دنیا کے تمام لوگ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ایک ایسا مقام بنانے میں ناکام رہے کہ جہاں مکمل اور قیامت تک قائم رہنے والا امن موجود ہو۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس بلدِ امین کے ذریعے وہ کام کر دکھایا جو آج تک ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی نہ کر سکے۔ اس شہر میں ہمیشہ امن قائم رہے گا۔ جو اس کے امن میں خرابی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا، اللہ اسے درد ناک سزا دے گا۔
’’اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔‘‘ (الحج: ۲۵)
یہاں پر تو گھاس کو کاٹنا بھی جائز نہیں، کانٹے دار درختوں کو توڑنا بھی جائز نہیں اور شکار کو بھگانا بھی جائز نہیں۔ یہاں تمام پرندے، جانور، پودے، حتیٰ کہ جمادات بھی مکمل امن وسلامتی میں رہتے ہیں، تو بھلا یہاں مسلمان کی جان اور اس کے مال پر ہاتھ ڈالنا کتنا بڑا جرم ہو گا؟ اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اس شاندار امن وامان کو دیکھنے کے بعد ذرا سوچو، دین اسلام کے علاوہ کیا کوئی اور آواز ایسی ہے جو رحمت، شفقت، سلامتی، محبت، نرمی اور بھائی چارے کی طرف بلاتی ہو؟
تو اے بیت اللہ کے حاجیو! اس عظیم نعمت کی حفاظت کی مکمل کوشش کرو۔ اس مقام کی تعظیم میں پیش قدمی کرو اور یہاں ادب اور وقار کا خاص خیال رکھو۔ اس کی پاکیزگی اور صفائی کا خاص اہتمام کرو۔ اس کے امن وامان پر اثر انداز ہونے والی ہر چیز سے بچو۔ اس کا سکون اور چین ختم کرنے سے باز رہو۔ یہ کبھی مت بھولو کہ بیت اللہ کے امن وامان، حرم اور حجاج کی سلامتی اور مشاعر مقدسہ کا امن ایک بنیادی مسئلہ ہے جس میں کسی قسم کی سودہ بازی یا سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں سیاسی نعروں کی گنجائش نہیں۔ یہاں عنصریت پسندی، گروہ بندی اور مسلکی دعوت کی کوئی جگہ نہیں۔ یہاں جماعتی اختلافات، جھگڑوں اور لڑائیوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہاں بحث مباحثے کا بھی کوئی مقام نہیں۔ یہاں اختلافات پھیلانے اور لڑائیاں کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
حج تو شرعی فریضہ ہے اور ایمانی سفر ہے۔ حج کے دوران کوئی شہوانی فعل، کوئی بد عملی، کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو۔ جو حج کرتا ہے اور اس میں کوئی گناہ یا کوئی بے حیائی کام نہیں کرتا وہ یوں لوٹتا ہے، گویا کہ وہ آج ہی پیدا ہوا ہو۔
حاجی کو اخلاص کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ ریاکاری اور شہرت پسندی سے بچنا چاہیے۔ مناسک حج سیکھنے کے لیے علم نافع حاصل کرنا چاہیے اور حج کے احکام سیکھنے چاہیں، مشکل مسائل کے بارے میں اہل علم سے دریافت کر لینا چاہیے۔ اسی طرح اقدار اور اچھے اخلاق سے جدا نہ ہونا چاہیے۔ اچھے اخلاق اپنانے چاہیں، آداب کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ اللہ کے ساتھ یا اللہ کے بندوں کے ساتھ بے ادبی سے گریز کرنا چاہیے۔  محسوس اور غیر محسوس اذیت رسانی سے بچنا چاہیے۔ حج عبادت بھی ہے، تہذیبی رویہ بھی ہے جس میں وسطیت اور میانہ روی کا طریقہ ظاہر ہوتا ہے۔ جس سے حاجی کو دینی، روحانی اور ثقافتی برتری حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرح اس دینِ قویم کی عالم گیریت ظاہر ہوتی ہے۔ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ دین رحمت اور میانہ روی کا داعی ہے۔ یہ مبالغہ آرائی، انتہا پسندی اور دہشتگردی کا دشمن ہے۔ یہ بین الاقوامی امن وامان اور سلامتی کا داعی ہے۔
سنو! اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اللہ سے ڈرو۔ سمجھ داری کے ساتھ حج کی جگہوں اور عبادتوں کی تعظیم کرو۔
’’اور جو شخص ادب کی چیزوں کی جو خدا نے مقرر کی ہیں عظمت رکھے تو یہ (فعل) دلوں کی پرہیزگاری میں سے ہے۔‘‘ (الحج: ۳۲)
ہم اللہ سے سب کے لیے ہدایت اور کامرانی کا سوال کرتے ہیں، توفیق اور قبولیت کی دعا کرتے ہیں۔ یقینا! وہ بہت دینے والا اور کریم ہے۔
اے بیت اللہ کے حاجیو! اللہ ہم سے اور آپ سے قبول فرمائے! آپ کے حج کو حج مبرور بنائے، آپ کی محنت کا بدلہ عطا فرمائے! اپنے فضل وکرم اور احسان سے آپ کے گناہ معاف فرمائے۔
’’بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا تھا۔‘‘
’’اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، ابراہیم(u) کا مقام عبادت ہے، اوراس کا حال یہ ہے کہ جو اِس میں داخل ہوا مامون ہو گیا‘ لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہو جانا چاہیے کہ اللہ تمام د نیا والوں سے بے نیاز ہے۔‘‘ (آل عمران: ۹۶-۹۷)
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور اس کی فرماں برداری کرو۔ اس کا شکر ادا کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ خاص طور پر ان بابرکت دنوں اور فضیلت والے مقام پر۔
ایمانی بھائیو! اکرام کی روشن مثالیں اور بہترین خدمت کی بے نظیر کاوشیں وہ ہیں جو عمومی طور پر مشاعر مقدسہ میں بڑی خوبصورت نظر آتی ہیں اور بالخصوص حرمین شریفین میں دکھائی دیتی ہیں۔ ان مقامات کو اس ملک کے حکمرانوں نے خصوصی توجہ دی ہے، یہاں بے شمار سہولیات فراہم کی ہیں۔ ہر ممکنہ طریقہ اپنا کر اور تمام ذرائع استعمال کر کے یہاں بے شمار سہولتیں رکھی گئی ہیں۔ تو اے بیت اللہ کے حاجیو! امن کے محافظوں کے بہترین معاون بنو، وہ امن وامان اور قانون کے محافظ ہیں۔ رش ختم کرنے کے لیے اور دھکم پیل سے بچانے کے لیے حاجیوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ حرمین کے معاملات کی نگہبانی کے ذریعے آپ کی خدمت کرنے والے تمام اداروں کے ساتھ تعاون کیجیے، چاہے وہ نظم ونسق قائم رکھنے والے ہوں یا امن وامان برقرار رکھنے والے ہوں۔ یہ پوری محنت اور توانائی سے کام کرتے ہیں۔ غور کرو کہ انہوں نے آپ کی خدمت کے لیے کتنی تیاریاں کی ہیں، کتنی چیزوں کو ترتیب دیا ہے، کتنے منصوبے بنائے ہیں؟ وہ آپ کے آرام کے لیے قربانی دیتے ہیں۔ آپ کی سلامتی کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ سہولیات کا یہ مجموعہ بیت اللہ اور مسجد نبوی کا رخ کرنے والے حجاج، معتمرین اور زائرین کے لیے ایک رحمت ہے۔ جو اسی لیے فراہم کی گئی ہیں تاکہ حجاج کرام منفرد ایمانی اور روحانی ماحول میں مکمل سکینت اور اطمینان حاصل کر سکیں۔ امن وامان اور سکون وچین سے لطف اندوز ہو سکیں۔ ذرا دیکھو! اس وقت حجاج کرام کے دل کتنی خوشی سے بھلے ہیں اور وہ سہولیات سے کس قدر لطف اندوز ہو رہے ہیں، ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے خادم حرمین اور اس کے ولی عہد کے لیے دعا کر رہے ہیں کہ اللہ اسے کامل، مکمل، عظیم اور بے انتہا اجر عطا فرمائے۔ کیونکہ انہوں نے بہت بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں، بیت اللہ کے زائرین کی خدمت کی ہے۔ یاد رہے کہ حرمین امانت والے اور پر امن ہاتھوں میں ہیں، جو کسی قیمت پر امن وامان متاثر کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، نہ حج جیسی عبادت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے دیں گے۔ بلکہ مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ اس سرزمین کے حکمرانوں کو اجر عظیم عطا فرمائے، جنت میں بلند مقام نصیب فرمائے! ان کی کاوشیں ان کے نامۂ اعمال میں شامل فرمائے، یہی ہماری دعا ہے جو ہمیشہ ہماری زبانوں سے نکلتی رہے گی اور بار بار آسمان کی طرف اٹھتی رہے گی۔ ہمیشہ پاکیزہ اور تازہ رہے گی۔ یقینا! میرا رب سننے والا، قریب اور دعا قبول کرنے والا ہے۔
اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! اے اللہ! ہر جگہ مسلمانوں کے احوال درست فرما! ان کی جانوں کی حفاظت فرما! ان کی صفیں مضبوط فرما! انہیں کتاب وسنت پر اکٹھا فرما! اے فضل وکرم اور احسان فرمانے والے! اے اللہ! مسجد اقصیٰ کو بچا لے! اے اللہ! مسجد اقصیٰ کو بچا لے! اے اللہ! مسجد اقصیٰ کو بچا لے! حملہ آوروں کے حملوں سے اور صہیونی غاصب افواج کے شر سے۔ اے اللہ! قیامت تک اسے عزت اور سربلندی عطا فرما دے۔


No comments:

Post a Comment