قیام پاکستان کے مقاصد ... ایک جائزہ 30-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 03, 2019

قیام پاکستان کے مقاصد ... ایک جائزہ 30-2019


قیام پاکستان کے مقاصد ... ایک جائزہ

تحریر: جناب امیر محترم سینیٹر پروفیسرساجد میر﷾
جس مقصد کے لیے جو چیز تخلیق کی جاتی ہے اگر اس سے انحراف کیا جائے تو نتائج منفی نکلتے ہیں۔مصائب وتکالیف کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ آج پاکستان ستر سال کا ہونے جارہاہے۔اگر ہم اس کی تخلیق پر غور کریں کہ یہ کیسے معرض وجود میں آیا ،اسکے مقاصد کیا تھے اور جو ہم آج اسکے ساتھ سلوک کررہے ہیں، یہ مقاصد کے ساتھ کتنی مطابقت رکھتا ہے اور کس قدر انحراف کیا جارہا ہے؟ تو اسکا جواب نفی میں ہو گا۔
ہندوؤں کی تنگ نظری‘منافقانہ رویہ اور انگریز کا ظلم دیکھ کر غلامی کی زنجیروں سے خود کو آزاد کرانے کے پختہ عزم کے بعد مسلمانان ہند کی لاکھوں قربانیوں کے نتیجے میں ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو مسلمانوں کونظریہ پاکستان (لاالہ الاّ اللہ محمدرسول اللہ)کی بنیاد پر اپنا آزاد وطن اسلامی جمہوریہ پاکستان نصیب ہوا۔ اس کا بنیادی مقصد مذہبی آزادی اور دو قومی نظریہ تھا۔یہ بات معروف ہے کہ دنیا میں کلمہ طیبہ کے نام پر معرض وجود میں آنے والی دو ریاستیں ہیں: ایک مدینہ منورہ اور دوسری پاکستان۔پاکستان مسلمانان ہند کے لیے بنا تھا اور اس کے دو بنیادی مقاصد تھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی زیرقیادت چلنے والی تحریک میں یہ بات کہی گئی تھی کہ مسلمانان ہند کو ایک ایسا خطہ ہم لے کر دیں گے جس میں وہ اپنی آرزوؤں، امنگوں، آدرشوں کے مطابق زندگی بسر کریں اور اپنے دین کے مطابق زندگی بسر کرنے کے قابل بنیں۔یہ بات عام آدمی تک پہنچائی گئی اور اس کا خلاصہ اس نعرے میں تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا، لاالہ الا اللہ۔لیکن خواہ مخواہ اب اسے ایک مبحث بنالیا گیا ہے۔ جیسا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ ملک صرف مسلمانان ہند کے معاشی مسائل کے حل کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس کے برعکس بعض کہتے ہیں کہ یہ صرف اسلام کے لیے بنایا گیا تھا۔حقیقت دونوں کے درمیان ہے اور دونوں چیزیں اپنی اپنی جگہ پردرست ہیں۔ دونوں نعرے لگے، دونوں باتیں ہوئیں۔ یہ بھی درست ہے کہ مسلمانان ہندمتحدہ ہندوستان میں ہرلحاظ سے پسماندہ تھے۔ وہ ہرمیدان میں ہندوؤں اور غیرمسلموں سے پیچھے تھے۔تعلیم میں، معیشت میں، کاروبار میں، ملازمتوں میں۔ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے انہیں کہیں بھی نمائندگی حاصل نہ تھی۔ ملازمتیں یا کاروبار کے لیے جن مسلمانوں کو مواقع حاصل تھے، وہ بھی بالعموم چھوٹے کاروبار اور چھوٹی ملازمتوں پر منحصر تھے۔مسلمانوں کی معاشی ضروریات بھی تھیں  اور ایک دینی جذبہ بھی تھاکہ ایک الگ ملک حاصل کرکے وہاں اپنے دین کے مطابق زندگی بسر کریں۔یہ دونوں باتیں تحریک پاکستان کی روح اور بنیاد میں کام کررہی تھیں۔
اب پاکستان بننے کے بعد جب ہم مڑ کر دیکھتے ہیں تو معاشی حوالے سے ایک زگ زیگ قسم کی ترقی تو ہوئی ہے لیکن مسلسل ترقی کا عمل جاری نہیں رہا۔ اس کے باوجود جہاں سے ہم شروع ہوئے تھے، ہر لحاظ سے اس سے بہت آگے گئے ہیں۔یہاں پاکستان کو جو حصہ ہندوستان سے ملا اس میں صنعت نہ ہونے کے برابر تھی، فیکٹریاں، یونیورسٹیاں، کالج بہت کم تھے، اسی طرح ملازمت کے مواقع نہ ہونے کے برابر تھے۔ یہ ملک ایک پسماندگی کی حالت میں ملا تھا جس وجہ سے فوری طور پر اسے ایک ملک کی حیثیت سے چلانا اتنا آسان نہیں تھا۔جیسا کہ معروف ہے کہ دفتروں میں بھی نہ کام کرنے کا ماحول تھا اور نہ افراد تھے اور نہ ہی اس طرح کے وسائل تھے۔ تو ان سب میں ترقی آہستہ آہستہ ہوئی اور دنیاوی اعتبار سے پاکستان اچھی پوزیشن پر بھی آیا۔لیکن اس کے بعد پھر زگ زیگ سفر شروع ہوا۔ مجموعی طورپرپاکستان کی پوزیشن ہمیشہ اچھی رہی ہے۔ اسی میں ہمیشہ سے کوشش بھی ہے اور امید بھی کہ یہ کوشش ہمیشہ جاری رہے گی۔ پاکستان مستحکم سے مستحکم ہوتا چلا جائے گا۔ پاکستان کو شروع سے مختلف قسم کے مسائل کا سامنا رہا۔ خصوصاً اس دور میں دہشت گردی کا بہت سامنا رہا، جس وجہ سے پاکستانی معیشت عروج سے زوال کی طرف آئی ہے لیکن اللہ کے فضل سے اب حالات بدل رہے ہیں، امید کی جاسکتی ہے کہ امن وامان  جب مزید بہتر ہوگا تو معاشی حالات بھی بہتر ہوجائیں گے۔ ان شاء اللہ!
دوسرا اصل یا بنیادی پہلو اور مقصدجس نے مسلمانان ہند کو تحریک پاکستان کا ساتھ دینے اور اس کو قوت دینے کے لیے اکٹھا کیااور اس کے ساتھ چلنے کے لیے اکٹھا کیا وہ یہ تھا کہ پاکستان میں اسلام ہوگا، دین کے مطابق مسلمان زندگی بسرکریں گے۔لیکن اس حوالے سے ہر آنے والے دن کے ساتھ ہم پیچھے ہی گئے ہیں۔ اس میں بہت سے لوگوں کا قصور ہے۔ سب سے پہلے حکومتوں کا ہے اور حکومتوں میں بھی بیورو کریسی کا ہے جو انگریزی اور مغربی تہذیب میں رنگے ہونے یا اس تربیت کے حامل ہونے کی وجہ سے دل سے نہیں چاہتے کہ یہاں اسلام نافذ ہو۔ پاکستان بننے سے پہلے کوئی بات نہیں تھی، سب کا ایک ہی نعرہ تھا، لیکن جوں ہی پاکستان بنا تو جلد یہ بات شروع ہوگئی کہ چلیں اسلام نافذ کرتے ہیں تو کون سا کریں؟ ان کی یہ بات فضول تھی اور فضول ہے۔کیونکہ پاکستان بننے کے کچھ ہی عرصہ بعد ابھی دستور نہیں بنا تھا تو مختلف جماعتوں کے جید علماء کرام اکھٹے ہوئے (جو 31علماء کے 22 نکات مشہور ہیں، انہوں نے بنائے) اور ہرطبقے کے لوگ اس میں شامل تھے۔جنہوں نے کہا کہ دستوری اور قانونی حوالے سے ان نکات پرہم اکھٹے ہیں۔ سب کے یہ نکات متفقہ ہیں‘ اس کے مطابق آپ قانون اور دستور بنائیں ہم سب متفق ہیں۔لیکن سیکولرطبقہ نے اپنے بڑوں کی مدد سے ان نکات کی جان نکال دی، جس وجہ سے پہلے دن سے ہی اسلامی حوالے سے پاکستان کا جو مقصد تھا وہ پیچھے ہی جاتا رہا۔بہرحال حکومتوں اور افسرشاہی کی رکاوٹوں کی وجہ سے اسلام نافذ نہ ہوسکا۔اس کے بعد دینی جماعتیں اس نعرے پر تو متفق رہیں کہ اسلام آنا چاہیے۔لیکن پھر جو ان کے دوسرے معاملات میں اختلاف ہیں اس کی وجہ سے حکومت‘ افسرشاہی او راس طرح کی طاقتیں فائدہ اٹھاتی رہیں۔جس وجہ سے اسلام نافذ ہونے کا عمل پاکستان میں آگے کے بجائے پیچھے سے پیچھے جاتا رہا۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں ایک دفعہ پھر یہ نعرہ بلند ہوا اور بظاہر اس نعرہ پر کچھ نہ کچھ پیش رفت ہوتی نظر آئی،لیکن یہ بھی اختلاف کا شکار ہوگئی۔ اس کے بعد لوگوں نے اس کی نیت پر بھروسہ نہیں کیا، شک کیا اور بعض نے کہا کہ یہ اسلام کے حوالے سے نمائشی قسم کے اقدامات ہیں حالانکہ ان میں بعض قابل تحسین اقدام بھی تھے۔مثلا شرعی عدالتیں، وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی۔ ایک حد تک زکوۃ سسٹم لایا گیا، سرکاری دفاتر میں نماز وغیرہ کا اہتمام کروایا جاتا رہا۔اسی طرح نصاب کے بارے میں بھی اقدامات ہوئے لیکن جن لوگوں کو ضیاء الحق کی ذات سے اختلاف تھا، ان لوگوں نے بھی ان چیزوں کو پذیرائی نہیں دی۔یا پھر جن کو ضیاء الحق کے دوسرے تیسرے اقدامات سے اختلاف تھا، مثلاً عوامی لیڈربھٹو کو حکومت سے ہٹانے اور پھر پھانسی پر لٹکانے، اس طرح کے اقدامات کی وجہ سے ضیاء الحق کے کسی بھی شرعی اقدامات کو قدر کی نگاہ سے نہ دیکھا گیا اور نہ ہی اسے پذیرائی مل سکی۔میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں ہم سب کی کوتاہی ہے، ہمیں ایک دفعہ پھر تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کی بنیادوں اور پھر اس نعرے پر کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کی طرف لوٹنا چاہیے۔ اسے عملاً زندگی کے تمام شعبوں میں نافذ کرنے کے لیے تمام دینی وسیاسی جماعتوں کو کوشش کرنی چاہیے۔اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کا ہے جس نے ہماری بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کا تدارک ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ پاکستان کے ارد گرد اسکے دشمن جمع ہو چکے ہیں۔ بھارت (جس نے دلی طور پر آج تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا۔) کی طرف سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں شروع دن سے جاری ہیں۔ دوسرے ہمسایہ ممالک افغانستان یہاں تک کہ ایران کی سرحد سے بھی آئے روز مداخلت ہو رہی ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان حالات میں قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ تمام اکائیوں کو،سیاسی ومذہبی جماعتوں کو باہمی اختلافات بھلا کرقومی مفاد کو ترجیح دینا ہو گی۔ پاک فوج اور انٹیلی جنس اداروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی۔ ہر ادارے کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر وطن عزیز کی سلامتی،ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔بالکل وہی تحریک پاکستان والاجذبہ، آج بقائے اور تحفظ پاکستان کی تحریک میں بدلنا ہو گا۔ تب ہی حقیقی معنوں میں ہم اپنی نظریاتی اساس کی حفاظت کرسکیں گے۔


No comments:

Post a Comment