احکام ومسائل 30-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 03, 2019

احکام ومسائل 30-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

خصی جانور کی قربانی
O عید الاضحی کی آمد آمد ہے۔ ان دنوں ایک پوسٹر گردش کر رہا ہے‘ جس کا عنوان یہ ہے کہ کیا خصی جانور کی قربانی سنت ہے؟ اس میں لکھا ہے کہ اسلام میں جانور کو خصی کرنے کی اجازت نہیں تو خصی جانور کی قربانی کہاں سے آئی؟ آپ خصی جانور کی قربانی کے متعلق وضاحت کر دیں۔
P ماہِ ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو قربانی کرنا ایک افضل عمل ہے۔ قربانی کے جانور جو عیوب سے پاک ہوں وہ حسب ذیل ہیں جیسا کہ حدیث میں وضاحت آئی ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا:  ’’چار قسم کا جانور قربانی میں جائز نہیں: 1 کانا: جس کا کانا پن ظاہر ہو۔ 2 بیمار: جس کی بیماری نمایاں ہو۔ 3 لنگڑا: جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو۔ 4 انتہائی کمزور: کہ اس کی ہڈی میں گودا نہ ہو۔‘‘ (ابوداؤد‘ الضحایا: ۲۸۰۲)
اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے امام نوویa فرماتے ہیں کہ مذکورہ بالا عیوب والے جانور یا جو اس سے بڑھ کر ہوں قربانی میں قطعا جائز نہیں۔ نیز معمولی عیب قابل برداشت ہے کیونکہ حدیث میں واضح اور نمایاں عیب کی ممانعت کا ذکر ہے۔ چنانچہ سیدنا براء بن عازبt سے کسی نے پوچھا کہ مجھے ایسا جانور بھی ناپسند ہے جس کے دانت میں عیب ہو تو آپe نے اسے جواب دیا: ’’جو تمہیں ناپسند ہو تو اسے چھوڑ دو مگر دوسروں کے لیے اسے حرام نہ ٹھہراؤ۔‘‘ (ابوداؤد‘ حوالہ مذکور)
قربانی کے متعلق مزید قابل غور باتیں حسب ذیل ہیں:
\          جانور کا قد اگر چھوٹا ہے تو یہ بھی ایک عیب ہے لیکن یہ عیب قربانی کے لیے رکاوٹ نہیں۔
\          قربانی کے جانور کا رنگ اگر بھدا ہے تو یہ بھی ایک عیب ہے لیکن اس کی قربانی کی جا سکتی ہے۔
\          جو جانور حاملہ ہونے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو یہ بھی ایک عیب ہے لیکن اس کی قربانی جائز ہے۔
\          خصی ہونا بھی ایک عیب ہے لیکن اس کی قربانی کرنا جائز ہے۔ رسول اللہe سے بھی خصی جانور کی قربانی کرنا ثابت ہے۔ چنانچہ سیدنا جابرt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے قربانی کے دن سینگوں والے‘ چتکبرے اور خصی دو مینڈھے ذبح کیے۔ ـ(ابن ماجہ‘ الاضاحی: ۳۱۲۱)
رسول اللہe سے غیر خصی جانور کی قربانی بھی ثابت ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوسعید خدریt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe ایسا مینڈھا قربانی کیا کرتے تھے جو سینگوں والا نر (غیر خصی) ہوتا۔ (ابوداؤد‘ الضحایا: ۲۷۹۶)
بہرحال جانور کا خصی ہونا کوئی ایسا عیب نہیں جو قربانی کے لیے رکاوٹ کا باعث ہو۔ خصی جانور کی قربانی تمام محدثین وفقہاء کے ہاں جائز ہے۔ چنانچہ علامہ ابن قدامہ لکھتے ہیں: ’’اس کے متعلق کوئی اختلاف ہمارے علم میں نہیں آیا۔‘‘ (المغنی: ج۳‘ ص ۴۷۶)
امام اہل سنت احمد بن حنبلa فرماتے ہیں: ’’اس میں کوئی حرج والی بات نہیں۔‘‘ (مسائل امام احمد: ج۲‘ ص ۳۶۸)
حافظ ابن حجرa خصی جانور کی قربانی کے متعلق لکھتے ہیں: ’’قربانی کے جانور کا خصی ہونا کوئی عیب نہیں بلکہ خصی ہونے میں اس کے گوشت کی عمدگی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘‘ (فتح الباری: ج۷‘ ص ۱۰)
ہمارے رجحان کے مطابق خصی جانور کی قربانی جائز ہے‘ شرعی طور پر اس میں کوئی قباحت نہیں۔ واللہ اعلم!
قربانی بذریعہ سعودی کوپن
O سعودیہ میں سرکاری طور پر ایک سکیم جاری کی گئی ہے کہ وہ قربانی کی رقم لے کر صارفین کو ایک کوپن جاری کرتی ہے۔ کیا اس طرح قربانی ہو جاتی ہے؟ جبکہ ہمیں علم نہیں کہ وہ قربانی کرتے ہیں یا نہیں؟ اس کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ وضاحت کریں۔
P اللہ تعالیٰ سعودی حکومت کو قائم ودائم رکھے۔ اس نے حجاج کرام کی خدمت کے لیے بہت کام کیے ہیں۔ اس سلسلہ میں اس نے اپنے خزانے کھول رکھے ہیں۔ اس سلسلہ میں گورنمنٹ کی طرف سے ایک سہولت یہ ہے کہ قربانی کے متعلق ایک کوپن سکیم کا اجراء کیا گیا ہے۔ آپ قربانی کی رقم ادا کریں وہ آپ کو ایک کوپن دے گی جس پر قربانی کی تاریخ اور اس کا وقت لکھا ہو گا۔ وہاں خود جانور خرید کر قربانی کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ لہٰذا اس سہولت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ قربانی کے متعلق کسی کو بھی وکیل بنایا جا سکتا ہے۔ جو لوگ کوپن خریدتے ہیں وہ گویا حکومت کو اپنی طرف سے قربانی کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔ اس پر اعتماد کرنا اس سلسلہ میں جو شکوک وشبہات پیدا کیے جاتے ہیں ان کی کوئی بنیاد نہیں۔ ہاں اگر کسی کا دل مطمئن نہ ہو تو حکومت کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں کہ ضرور اس سکیم میں شمولت اختیار کی جائے۔ آپ خود بھی قربانی کر سکتے ہیں‘ لیکن اسے مشکوک قرار دینا صحیح نہیں البتہ کچھ لوگ پرائیویٹ طور پر یہ دھندا کرتے ہیں ان سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ حکومت سعودیہ کے متعلق اس قسم کی بد اعتمادی اور شکوک وشبہات بھی انہی کی طرف سے ہوتے ہیں۔ حکومت سعودیہ کی طرف سے جاری کردہ اس سکیم سے فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس طرح گوشت ضائع نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنی نگرانی میں اسے محفوظ کر کے دیگر ایسے ممالک میں بھیج دیتے ہیں جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم ذاتی طور پر اس میں شمولیت کی سفارش کرتے ہیں۔ واللہ اعلم!
قربانی کا جانور بطور سواری
O ہمارے اکثر واعظین یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ قربانی کے جانور قیامت کے دن پل صراط پر سواری کا کام دیں گے۔ کیا اس قسم کی کوئی حدیث رسول اللہe سے مروی ہے؟!
P اس میں کوئی شک نہیں کہ قربانی کا جانور قیمتی اور موٹا تازہ ہونا چاہیے کیونکہ رسول اللہe قربانی کے لیے ایسا جانور منتخب کرتے جو موٹا تازہ‘ اور گوشت سے بھر پور ہوتا‘ لیکن اس ضمن میں واعظین حضرات بالکل بے اصل اور خود ساختہ احادیث بیان کرتے ہیں۔ ان میں ایک حدیث وہی ہے جو سائل نے اپنے سوال میں ذکر کی ہے۔ الفاظ کچھ اس طرح بیان کیے جاتے ہیں: ’’اپنی قربانیوں کو خوب موٹا تازہ کیا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن پل صراط پر سواری کا کام دیں گے۔‘‘
کتب حدیث میں ان الفاظ کے ساتھ کوئی حدیث مروی نہیں‘ اس کے متعلق حافظ ابن صلاحa لکھتے ہیں: ’’یہ حدیث محدثین کے ہاں غیر معروف ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔‘‘ (کشف الخفاء: ج۲‘ ص ۷۵)
محدث العصر علامہ البانیa اس کے متعلق فرماتے ہیں: ’’ان الفاظ کے ساتھ مروی یہ حدیث بالکل بے بنیاد ہے۔‘‘ (الاحادیث الضعیفہ: ج۱‘ ص ۱۰۲)
البتہ حافظ ابن حجرa نے مسند الفردوس کے حوالے سے اس حدیث کو بیان کیا ہے پھر خود ہی اس پر ناقدانہ تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’اس کی سند میں یحییٰ بن عبیداللہ نامی ایک راوی انتہائی ضعیف ہے۔‘‘ (تلخیص الحبیر: ج۴‘ ص ۱۳۸)
محدثین کرام نے اس راوی کے متعلق ضعیف الحدیث‘ منکر الحدیث اور متروک الحدیث جیسے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس کا باپ عبیداللہ بن عبداللہ بن مجھول ہے جس کے متعلق امام شافعیa‘ امام احمدa فرماتے ہیں کہ یہ غیر معروف ہے۔ ان وجوہات کی بناء پر علامہ البانیa فرماتے ہیں: ’’یہ روایت انتہائی ضعیف ہے۔‘‘ (حوالہ مذکور)
ہمارے واعظین کو چاہیے کہ وہ ایسی احادیث بیان کرنے سے گریز کیا کریں جو بے بنیاد‘ خود ساختہ اور مصنوعی ہوں۔ کیونکہ اس قسم کی احادیث سے کسی قسم کا استحباب ثابت نہیں ہوتا بلکہ ایسی احادیث بیان کرنے پر سخت وعید آئی ہے۔ قربانی کے فضائل میں بے شمار صحیح احادیث‘ کتب حدیث میں مروی ہیں‘ انہیں بیان کرنا چاہیے۔ واللہ اعلم!
ذبح کرتے وقت قربانی کے جانور کو ہاتھ لگانا
O ہمارے ہاں عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ قربانی کا جانور جب ذبح کیا جاتا ہے تو جس کی قربانی ہوتی ہے وہ اس پر ہاتھ رکھتا ہے‘ کیا ایسا کرنا ضروری ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت کریں۔
P قربانی کے متعلق بعض مسائل ایسے ہیں جولوگوں میں مشہور ہیں لیکن ان کی کوئی بنیاد نہیں‘ جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے کہ قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت جس کی قربانی ہوتی ہے وہ اس پر ہاتھ رکھتا ہے۔ ہمارے نزدیک افضل اور بہتر یہی ہے کہ قربانی کا جانور خود ذبح کیا جائے جیسا کہ رسول اللہe کے متعلق سیدنا انسt بیان کرتے ہیں: رسول اللہe نے دو مینڈھوں کی قربانی دی‘ میں نے آپ کو دیکھا کہ اپنا پاؤں جانور کے پہلو پر رکھا اور بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ کر ان دونوں کو اپنے دست مبارک سے ذبح کیا۔ (بخاری‘ الاضاحی: ۵۵۵۸)
اگر کوئی عورت اچھی طرح ذبح کر سکتی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ قربانی خود ذبح کرے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہt نے اپنی بیٹیوں سے کہا تھا کہ وہ اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کریں جیسا کہ امام بخاریa نے اپنی صحیح میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ذبح کرتے وقت کسی دوسرے سے تعاون بھی لیا جا سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہe نے اپنی قربانی ذبح کرنے کے لیے جانور کو جب زمین پر لٹایا تو اپنے پاس کھڑے ایک انصاری سے فرمایا: ’’قربانی کے سلسلہ میں میرا تعاون کریں۔‘‘ (مسند امام احمد: ج۵‘ ص ۳۷۳)
قربانی ذبح کرنے کے لیے کسی کو وکیل بھی بنایا جا سکتا ہے۔ بلکہ قربانی دینے والے کی عدم موجودگی میں بھی اسے ذبح کیا جا سکتا ہے جیسا کہ رسول اللہe نے ازواج مطہرات کی عدم موجودگی میں ان کی طرف سے گائے ذبح کی تھی۔ (بخاری‘ الاضاحی: ۵۵۵۹) واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment