تبصرۂ کتب ’’ناموس رسالت کا قانون اور اظہار رائے کی آزادی‘‘ 30-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 03, 2019

تبصرۂ کتب ’’ناموس رسالت کا قانون اور اظہار رائے کی آزادی‘‘ 30-2019


کتاب ’’ناموس رسالت کا قانون اور اظہار رائے کی آزادی‘‘

تحریر: جناب مولانا محمد ابرار ظہیر
دین اسلام انصاف، مساوات، آزادی رائے، پر امن بقائے باہمی‘ عزت و آبرو اور جان و مال کا تحفظ جیسے اہم اخلاقی بنیادی ستونوں پر قائم ہے۔اسلام اور تعلیمات نبویہ کے مطابق دیگر ذمہ داریوں کی طرح مسلم ریاست کا لازمی فرض ہے کہ وہ اپنی حدود میں رہنے والے باشندوں کا تحفظ یقینی بنائے اور ان کے حقوق اور بنیادی انسانی ضرورتوں کا خیال رکھے۔ خصوصاً غیر مسلم شہریوں کے حوالہ سے یہ ذمہ داریاں اور زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ عہد نبوی سے لے کر اب تک مسلم ریاستوں میں غیر مسلم شہریوں کو یہ حقوق میسر آئے ہیں۔ اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ استعماری قبضہ کے بعد نئی بننے والی مسلم ریاستوں بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دساتیر میں بھی غیرمسلموں کے حقوق کا خاص خیال رکھا گیا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلم شہریوں اور غیر مسلم شہریوں میں بھی مذہبی آزادی اور شہری حقوق میں کوئی فرق نہیں، بلکہ کئی معاملات میں غیر مسلموں کو مسلمانوں سے بھی زیادہ حقوق اور آزادی حاصل ہے۔
دنیا کے تمام ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کچھ قانون اور آزادیوں کے آگے ایک حد کے بعد سرخ لکیر ہے جس سے تجاوز کرنا ریاست و قانون سے غداری کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے‘ اس پر سخت ترین سزائیں مقرر ہیں جن پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ من جملہ ان حقوق اور آزادیوں کے ایک حق آزادی اظہار رائے بھی ہے۔ کسی بھی شخص کی خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب اور فرقے سے ہو اس بات کا حق نہیں کہ وہ اپنے آزادی اظہار رائے کے حق کو اس طرح استعمال کرے کہ اس کے قول و فعل سے پیغمبر اسلام نبی اکرمe کی توہین یا بے حرمتی کا پہلو نکلتا ہو۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی شخص اپنے آزادی اظہار رائے کے حق کو استعمال کرتے ہوئے قومی سلامتی کے راز کسی غیر یا دشمن ملک کو بتا دے اور اس کی سزا میں کوئی تامل نہیں کیا جاتا۔
ہمارے ہاں جب بھی کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جس میں کوئی شخص توہین رسالت جیسے افسوس ناک عمل کا مرتکب پایا جاتا ہے تو بعض حلقوں کی طرف سے یہ غیر منطقی رد عمل سامنے آتا ہے کہ توہین رسالت کا قانون غلط اور آزادی اظہار رائے کے حق کے خلاف ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ اقلیتوں کو تحفظ حاصل نہیں۔ اس موقع پر اقلیتی نمائندے بھی احتجاج میں شریک ہو کر مظلومیت کا رونا رونے لگتے ہیں، حالانکہ امر واقع یہ ہے کہ قانونی طور پر اقلیتوں کو پاکستان میں دنیا کے اکثر ممالک سے زیادہ آزادیاں اور تحفظ حاصل ہے۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ  پاکستان میں قانون توہین رسالت نہ تو کسی مذہبی تعصب یا کٹرپن کا ظہور ہے، نہ مسلمانوں کی طرف سے کسی مذہبی جنون یا انتہا پرستی کا اظہار ہے، نہ ہی یہ ملک میں کسی گروہ کے دباؤ کی وجہ سے کوئی ایسی شے ہے جسے ملک کے قانونی نظام پر ٹھونس دیا گیا ہو۔ یہ اسلامی روایات کے عین مطابق ہے اور ان مسائل کے بارے میں مسلمانوں کے مسلسل شعور و ا دراک سے کلی طور پر ہم آہنگ ہے۔
اسلامی ممالک میں توہین مذہب اور رسالت سے متعلق قوانین موجود ہیں،عمومی طورپر مغربی ملکوں کی طرف سے اسلامی ممالک میں پائے جانے والے قوانین پر تنقید جاری رہتی ہے۔ ان قوانین کے خاتمے کے لئے مغربی ممالک، مسلم ممالک میں لابنگ بھی کرتے ہیں اور سیکولر عناصر کو شہ دیتے ہیں کہ وہ ان قوانین کے خاتمے کے لئے اپنا اثرورسوخ بروئے کار لائیں۔ ایسے حالات میں عوام الناس کی طرف سے ردعمل کی مسلسل مزاحمت اس طرح کے منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔دوسرا یہ بھی ہے کہ جب قوانین موجود نہ ہوں گے تو لوگ نبی کی عصمت کی توہین اور تنقیص کرنے والے افراد کو خود سزا دیں گے اور قانون ہاتھ میں لے لیں گے۔ یہ بذات خود حکام وقت کے لئے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ضروری ہے کہ وہ ایسی صورتحال اور حالات کی پیشگی روک تھام کریں اور یہ تبھی ممکن ہے جب کہ اس مقصد کے لئے ضروری قوانین موجود ہوں۔
چنانچہ اس سلسلے میں قوانین کی عدم موجودگی ان واقعات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے کہ جن میں کسی فرد واحد کی جانب سے قانون کو ہاتھ میں لے کر گستاخ فرد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔جب بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو مغربی ممالک کی جانب سے توہین رسالت ومذہب کے قوانین کے خلاف نئی مہم کا آغاز ہو جاتا ہے۔یہاں اس بات کا امکان و اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم ممالک میں ان قوانین کے خاتمے کے لئے مغربی ممالک کی اتنی زیادہ دلچسپی سے ایسامعلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں جو کہ توہین رسالت کریں اور ان کی گستاخی کے بعد مغربی ممالک ان کی سرپرستی کریں، کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ تسلیمہ نسرین، سلمان رشدی جیسے گستاخ پیدا ہوں اور پھر مغربی ممالک ان کی حفاظت اور ان سے مزید گستاخی کروانے اور اسلام کو بدنام کروانے کا موقع فراہم کریں۔ اور اگر یہ بات سچ ہے تو پھر خود ان ممالک میں پائے جانے والے توہین مسیحؑ اور توہین مذہب سے متعلق قوانین کا خاتمہ کیوں نہیں کیا جاتا! اگرچہ کوئی مسلمان کسی بھی نبی کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ یہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے کہ وہ سابقہ تمام کتب و انبیاء کی تصدیق اور ان کی عصمت وعظمت کا اقرار کرے۔
واضح رہے کہ ان ممالک کے موجودہ قوانین کسی ایک کتاب میں یکجا صورت میں نہیں ہیں لہٰذا مسلم ممالک میں سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات، ایران، بنگلہ دیش، انڈو نیشیا، مصر، سوڈان، قزاکستان، ترکی ،برٹش انڈیا اور پاکستان کے قوانین کا جائزہ بھی اس کتاب  میں پیش کیا گیا ہے۔جو اس موضوع پر بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
زیر نظر کتاب نامور سکالر اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر رانا محمد شفیق خان پسروری کی تحریر ہے۔ انہوں نے قانون توہین رسالت پر اٹھائے جانے والے اعتراضات اور ان کے غلط استعمال کے موقف کے حوالہ سے انتہائی منطقی اور حقیقت پسندانہ انداز میں تاریخی، سماجی اور سیاسی پہلو سے جائزہ پیش کیا ہے۔
امید ہے کہ یہ کتاب عصر حاضر میں قانون توہین رسالت کی اہمیت اور اس کے متعلق پیدا کیے جانے والے شبہات کے حوالہ سے درست موقف اختیار کرنے میں معاون ثابت ہو گی۔
ایک نادر علمی خزانہ
تحریر: محمدابرارظہیر  
غازئ اسلام رانامحمدشفیق خان پسروریd جماعت کا اثاثہ اور ملک وملت کا فخر ہیں۔ اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کے ایک کارکن کی حیثیت سے تنظیمی سفر کا آغاز کرنے والے آج مرکزی جمعیت اہل حدیث کے بلند تر منصب (ایڈیشنل سیکرٹری جنرل) پر فائز ہیں۔ قومی سطح کے بہت سے اجلاسوں میں جماعت کی نمائندگی کا شرف پا چکے ہیں۔ آپ کی علمی وجاہت اور ثقاہت کی بنیاد پر وطن عزیز کے اسلامی آئین کے محافظ سب سے بڑے آئینی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل میں منہج کتاب وسنت کی ترجمانی اور مسلک اہل حدیث کی نمائندگی کا شرف رکھتے ہیں۔ آپ کو امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجدمیرd کے معتمد خاص اور حضرت ناظم اعلیٰ کے دست راست ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ جماعت کے نوجوانوں کی محبوب شخصیت ہیں۔ آپ ادب میں اعلیٰ پائے کے ادیب‘ خطابت میں بلند پایہ خطیب‘ تصنیف کے میدان میں مصنفِ شہیر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ معروف صحافی، مصنف اور کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ اوربھی بے شمار خوبیوں کے مالک ہیں۔ ان کی ہر ملاقات میں ان کی شخصیت کا ایک نیا اور خوبصورت پرت کھل کر سامنے آتا ہے۔ ان کا قلم اتنا رواں ہے کہ اب تک ۳۲ کتابیں اس قلم اور انکے علم کی شاہکار بن کر علم وقلم کے شاہسواروں سے دادِتحسین وصول کرچکی ہیں۔ فزادہ اللہ عزا وشرفا!
۵۰۰ سو صفحات پر محیط حضرت رانا صاحب کی زیر مطالعہ کتاب ’’توہین رسالت کا قانون اور اظہار رائے کی آزادی‘‘ اپنے موضوع کی حساسیت اور دور حاضر میں اس عنوان کی ضرورت کے تحت انتہائی جامع کتاب ہے۔ مغرب میں اسلامو فوبیاکے شکار کچھ لوگوں کے توہین رسالت جیسا دنیا کا سب سے بد ترین جرم کرنے کی وجوہات اور اسلامی معاشروں میں موجود کچھ ملحدین کی سازشوں کا پردہ چاک کرتی یہ کتاب ہر مسلمان بالخصوص سکولز وکالجز اور یونیورسٹیز کے طلبہ اور اساتذہ کے مطالعہ میں آنا لازم ہے۔
’’ناموس رسالت تعارف وجائزہ‘‘۔ ’’توہین رسالت‘‘۔ ’’قانون توہین رسالت اور بین الاقوامی قوانین‘‘۔ ’’آزادئ اظہار رائے حدود وضوابط‘‘۔ ’’آزادئ اظہار رائے کے نام پر گستاخی‘‘۔ اور ’’آزادئ اظہار کے نام پر توہین کا تدارک‘‘ جیسے پانچ اہم ترین موضوعات کو پانچ ابواب میں تقسیم کر کے اور پھر باب اول ودوئم کو چار چار۔ باب سوئم اور پنجم کو تین اور باب چہارم کو ۲ فصلوں میں مزید وضاحت کے ساتھ مسئلہ زیر غور پر قاری کی تشفی وتسلی کا پوار سامان اس کتاب میں موجود ہے۔ کتاب میں ناموسِ رسالت کے معانی ومفاہیم، تاریخ وشواہد، اس کی نزاکت، حساسیت اور ایمان کی بنیادوں پردلائل سے بھر پور ہے، اسی طرح اظہارِ رائے کیا ہے، اس کا دائرہ کار کہاں تک ہے، یورپ وامریکہ میں اس کی آزادی کی حدود کیا ہیں؟ ان تمام سوالات اور دیگر اہم اشکالات پر علمی وتحقیقی بحثوں سے بھرپور کتاب کے آخر میں ساری بحث کا خلاصہ اور اس کے نتائج بھی سمری کے طور پر درج کردئیے گئے ہیں۔ جبکہ صاحبان ذوق کیلئے مصادر ومراجع کی مکمل فہرست بھی زینت کتاب ہے۔ اسی طرح اشاریہ جات کی صورت میں مختصر پڑھنے والوں کے لیے خاص چیزوں کی نشاندہی کر دی گئی ہے۔
الغرض یہ صاحب کتاب کی علمی تحقیق کا نچوڑ اور طلبائے علم کیلئے علمی موتیوں کا ایک نادر خزانہ ہے جو جناب رانا شفیق صاحب نے سر عام رکھ دیا ہے تاکہ ہر کوئی اپنے ظرف کے مطابق حاصل کر سکے۔


No comments:

Post a Comment