قربانی کے مسائل 30-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 03, 2019

قربانی کے مسائل 30-2019


قربانی کے مسائل

تحریر: جناب مولانا محمد رفیق طاہر
جو قربانیاں گھروں میں کی جاتی ہیں ان کو أضحية کہتے ہیں‘ اس کی جمع أضاحی ہے۔ جس طرح حج کرنے والے کے لیے قربانی کرناضروری ہے ایسے ہی صاحب استطاعت کے لیے گھر میں قربانی کرنا بھی ضروری ہے۔
 قربانی کی فرضیت:
سیدنا جندب بن سفیان بَجلیt فرماتےہیں کہ ہم نے رسول اللہ e کے ساتھ ایک مرتبہ عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھی تو کچھ لوگوں نے نماز عید سے قبل ہی قربانی کر لی، جب رسول اللہ e نے نماز عید ادا فرمانے کے بعد دیکھا تو ارشاد فرمایا:
[مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيَذْبَحْ مَكَانَهَا أُخْرٰى، وَمَنْ كَانَ لَمْ يَذْبَحْ حَتَّى صَلَّيْنَا فَلْيَذْبَحْ عَلىٰ اسْمِ اللَّهِ] (بخاری)
’’جس نے نماز سے قبل قربانی کی ہے وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے اور جس نے قربانی نہیں کی نماز پڑھنے تک تو وہ اب اللہ کے نام کے ساتھ ذبح کرے۔‘‘
سیدنا ابو ہریرہt فرماتے ہیں:
[مَنْ وَجَدَ سَعَةً وَلَمْ يُضَحِّ فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسَاجِدِنَا.] (سنن الدارقطني)
’’جس کے پاس قربانی کرنے کی استطاعت ہو اور پھر بھی وہ قربانی نہیں کرتا تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب ہی نہ آئے۔‘‘
 قربانی کے جانور کی عمر:
جابربن عبداللہ فرماتےہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
[لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً، إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ، فَتَذْبَحُوا جَذْعَةً مِّنَ الضَّأْنِ.]
تم صرف اور صرف مسنۃ ہی ذبح کرو لیکن اگر تمہیں دشواری پیش آئے تو ضا ٔن (بھیڑ، چھترا، دنبہ) ایک سالہ ذبح کرلو۔ (صحیح مسلم)
صحیح مسلم کی اس حدیث پر اعتراض:
بعض لوگوں نے اس صحیح حدیث پر اعتراض کیا ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں کیونکہ ابو زبیر مدلس راوی ہے اور وہ اس حدیث کو [عن] سے روایت کررہا ہے۔ جبکہ لیث بن سعد کے علاوہ جو کوئی بھی ابو زبیر کی معنعن روایت نقل کرے وہ قابل احتجاج نہیں ہوتی۔ لہٰذا مدلس کا عنعنہ مردود ہونے کی وجہ سے یہ حدیث بھی ساقط الاعتبار ہے۔ یہی بات علامہ البانی ﷫نے سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ میں کہی ہے۔
P اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ امام مسلم ﷫نے مدلسین کی جو معنعن روایات اپنی صحیح میں نقل کی ہیں وہ سماع پر محمول ہیں اور یہ حدیث جابر بن عبداللہ سے ابو زبیر نے سنی ہے۔
 مسنہ کیا ہے؟
جب جانور کے دودھ کے دانت دوسرے نئے دانت نکلنے کی وجہ سے گر جائیں تو وہ مسنۃ کہلاتا ہے۔
عموماً منڈیوں میں دھوکا دینے کے لیے بعض لوگ جانور کے دانت خود توڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دو دانتا ہوگیا ہے۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ دو دانتا اس وقت ہوگا جب اس کے ثنایا طلوع ہوں گے، دودھ کے دانتوں کا ٹوٹ جانا ہی کافی نہیں بلکہ نئے دانتوں کا نکلنا بھی مسنۃ ہونے کی شرط ہے۔ نیز مسنۃ کی اس تعریف میں وہ جانور بھی شاملِ مسنۃ ہیں جن کے چار یا چھ دانت نئے نکل آئیں کیونکہ ثنایا کے طلوع ہونے کے بعد جانور کانام مسنۃ ہے۔
امام شوکانیa ﷫نے بھی یہی بات نیل الاوطار میں بایں الفاظ تحریر فرمائی ہے:
[قَالَ الْعُلَمَاءُ: الْمُسِنَّةُ هِيَ الثَّنِيَّةُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ وَالْغَنَمِ فَمَا فَوْقَهَا.] (نيل الأوطار)
اہل علم کا کہنا ہے کہ مسنۃ دو دانتا یا دو دانتا سے اوپر بولا جاتا ہے ،تمام جانوروں میں خواہ وہ اونٹ ہو‘ گائے ہو یا بکری۔
 جذعہ کی وضاحت:
بھیڑ کی جنس (دنبہ ، بھیڑ، چھترا) صحیح ترین قول کے مطابق جب ایک سال مکمل کر لے تو جذعہ کہلاتی ہے۔
مندرجہ بالا بحث سے معلوم ہوا کہ قربانی کا جانور دودانتا مسنۃ ہونا ضروری ہے‘ اگر مسنۃ کے حصول میں دشواری ہو تو پھر صرف بھیڑ کی جنس سے جذعہ کرنے کی رخصت ہے جو کہ دیگر جنسوں میں نہیں۔
 معز (بکری) کا جذعہ
سیدنا براء بن عازبt فرماتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
["إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهٖ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ، فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ". فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ، وَقَدْ ذَبَحَ، فَقَالَ: إِنَّ عِنْدِي جَذْعَةً، فَقَالَ: "اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ". قَالَ مُطَرِّفٌ: عَنْ عَامِرٍ، عَنِ البَرَاءِ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ المُسْلِمِينَ".](بخاری)
ہم اس دن نماز پڑھنے سے ابتداء کرتے ہیں پھر واپس لوٹتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں جس نے اسی طرح کیا تو اس نے درست کیا اور جس نے نماز سے قبل ہی قربانی کا جانور ذبح کر لیا تو وہ قربانی نہیں بلکہ عام گوشت ہے جو کہ اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کیا ہے۔ تو ابو برده بن نیارt کھڑے ہوئے ،انہوں نے نماز عید سے قبل ہی قربانی کا جانور ذبح کرلیا تھا ۔ کہنے لگے کہ میرے پاس (بکری کا ) جذعہ ہے۔ تو آپ e نے فرمایا: تو ذبح کرلے اور تیرے بعد کسی سے یہ کفایت نہیں کرے گا۔
یہ حدیث صحیح بخاری میں مختلف الفاظ کے ساتھ دس جگہوں پر آئی ہے ۔ اس حدیث سے بعض لوگ یہ مسئلہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ بکری کا جذعہ بھی بوقت دشواری کفایت کرجاتا ہے ، کیونکہ نبی کریم e نے حالت عسر میں اس کو قربانی دینے کی اجازت دی۔
لیکن یہ حدیث ان کے لیے دلیل نہیں بنتی کیونکہ خود رسول اکرمe ہی فرمارہے ہیں:
[وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ]
’’تیرے بعد بکری کا جذعہ کسی کو بھی کفایت نہ کرے گا۔‘‘
حالت عسر و عدم عسر کی کوئی قید نہیں لگائی۔
کچھ دوسرے ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ صرف بکری کا جذعہ کفایت نہیں کرتا باقی سب جانوروں کا جذعہ کفایت کرجاتا ہے۔ کیونکہ یہاں تذکرہ بکری کا ہورہاہے اور اس کے جذعہ کی کفایت نہ کرنے کا حکم دیا جارہاہے۔
مگر ان کی یہ بات بھی درست نہیں کیونکہ صحیح بخاری، کتاب الجمعۃ، باب التبکیر إلی العید، (968) میں یہ روایت ان الفاظ سے مروی ہے:
[وَلَنْ تَجْزِيَ جَذْعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ.]
’’تیرے بعد کوئی بھی جذعہ کسی سے بھی کفایت نہ کرے گا۔‘‘
یہاں لفظ ’’جذعہ‘‘ نکرہ ہے اور اہل علم جانتے ہیں کہ جب نکرہ نفی کے تحت آئے تو عموم کا فائدہ دیتا ہے۔
 کچھ دیگر اشکالات:
جذع کی قربانی کے جواز میں ایک روایت یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ رسول اللہ e نے فرمایا ہے:
[نِعْمَ -أَوْ نِعْمَتِ- الْأُضْحِيَةُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ.] (سنن الكبرى للبيهقي)
’’ بھیڑ کا جذعہ بہترین قربانی ہے۔‘‘
لہٰذا ثابت ہوا کہ بھیڑ کا جذعہ کرنا مسنۃ سے بھی افضل ہے کیونکہ نبی کریم e اس کو بہترین قربانی قرار دیا ہے۔
لیکن یہ روایت پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی کیونکہ اس میں کدام بن عبدالرحمن اور اس کا شیخ ابو کباش دونوں مجہول ہیں۔
مجاشع بن مسعود بن ثعلبہ نے ایک سفر میں یہ اعلان کروایا کہ رسول اللہ e فرمایا کرتے تھے کہ
[إِنَّ الْجَذَعَ يُوَفِّي مِمَّا يُوَفِّي مِنْهُ الثَّنِيُّ.] (سنن أبي داود)
’’جذعہ‘‘ ہر اس جانور کا کفایت کرجاتا ہے جس کا مسنۃکفایت کرتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہواکہ دشواری کے وقت بکری، اونٹ، گائے کی جنس سے بھی ’’جذعہ‘‘ کفایت کر جائے گا۔
لیکن یہ بات درست نہیں کیونکہ حدیث
[لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ يَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذْعَةً مِنَ الضَّأْنِ.] (النسآئي)
اس کی وضاحت کر رہی ہے کہ صرف بھیڑ کا جذعہ ہی مسنۃ سے کفایت کرسکتا ہےاور وہ بھی بوقت دشواری، کیونکہ اسی روایت میں اس بات کی وضاحت موجود ہے کہ یہ فرمان رسول اللہ e نے دوران سفر جاری فرمایا تھا، جب صحابہ کرام دو،دو اور تین ، تین ’’جذعہ‘‘ دے کر ایک، ایک مسنۃ خریدنے پر مجبور تھےاور دشواری تھی مسنۃ کو خریدنے میں ۔
سیدنا ابوہریرہt فرماتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
[الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ خَيْرٌ مِنَ السَّيِّدِ مِنَ الْمَعْزِ.] (المستدرك للحاكم)
’’بھیڑ کا کھیرا بکری کے دو دانتے سے بہتر ہے۔‘‘
اس کی سند میں ابو ثفا ل ثمامہ بن وائل نامی راوی ہے ۔ امام بخاریa فرماتے ہیں: [في حدیثہ نظر] یعنی یہ راوی ضعیف ہے۔ (تہذیب الکمال في أسماء الرجال للمزي)
سیدنا ابوہریرہt فرماتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
[أَنَّ الْجَذَعَ مِنَ الضَّأْنِ خَيْرٌ مِنَ الثَّنِيَّةِ مِنَ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ , وَلَوْ عَلِمَ اللهُ ذَبْحًا أَفْضَلَ مِنْهُ لَفَدَى بِهِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ.] (سنن الكبرى للبيهقي)
بھیڑ کا جذعہ دودانتے اونٹ اور گائے سے بہتر ہے اور اگر اللہ تعالیٰ اس سےبہتر کسی ذبیحہ کو سمجھتے تو ابراہیم علیہ السلام کو وہی عطافرماتے۔
اس کی سند میں اسحاق بن ابراہیم الحُنَيْنِي راوی ضعیف ہے۔
سیدنا ابوہریرہt بیان فرماتے ہیں:
[أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّﷺ بِجَذَعٍ مِنَ الضَّأْنِ مَهْزُولٍ خَسِيسٍ وَجَذَعٍ مِنَ الْمَعْزِ سَمِينٍ يَسِيرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ خَيْرُهُمَا أَفَأُضَحِّي بِهِ؟ فَقَالَ: "ضَحِّ بِهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنٰى".] (المستدرك للحاكم)
ایک شخص نبی اکرم e کے پاس بھیڑ کا کمزور وحقیر سا جذعہ اور بکری کاموٹا تازہ جذعہ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ یہ (بکری والا جذعہ) ان دونوں میں سے بہتر ہے‘ کیا میں اس کی قربانی کرلوں ؟ تو آپ e نے فرمایا: اس کی قربانی کر لے یقیناً اللہ تعالیٰ بہت غنی ہے۔
اس کی سند میں قزعۃ بن سوید ضعیف ہے۔
ہلال فرماتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
[يَجُوزُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ، أُضْحِيَةً.]
’’بھیڑ کا جذعہ قربانی کے لیے جائز ہے۔‘‘ (ابن ماجہ)
اس کی سند میں ام محمد بن ابی یحییٰ مجہولہ ہے۔
الغرض اس قسم کی تمام روایات پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتیں۔
 جن جانوروں کی قربانی جائز نہیں:
سیدنا علی بن ابی طالبt فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ e نے حکم دیا کہ :
[أَنْ نَسْتَشْرِفَ العَيْنَيْنِ وَالأُذُنَيْنِ.](الترمذي)
’’ہم جانور کی آنکھیں اور کان اچھی طرح دیکھیں۔‘‘
یاد رہے کہ تھوڑا کٹا ہوا اور زیادہ کٹا ہوا دونوں برابر ہیں ، کتاب و سنت میں کوئی فرق مذکور نہیں۔
سیدنا براء بن عازبt بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ e نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کرکے فرمایا:
[أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي الْأَضَاحِيِّ -فَقَالَ-: الْعَوْرَاءُ بَيِّنٌ عَوْرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ بَيِّنٌ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ بَيِّنٌ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تَنْقَى.] (سنن أبي داود)
چار جانور قربانی میں جائز نہیں:
1 کانا ، جس کا کانا پن ظاہر ہو 2 بیمار، جس کی بیماری واضح ہو۔ 3 لنگڑا، جس کا لنگڑاپن ظاہر ہو۔ 4 لاغر ، جس کی ہڈیوں میں بالکل گودا نہ ہو۔
سیدنا علی المرتضیٰt فرماتے ہیں کہ :
[نَهَى رَسُولُ اللَّهِﷺ أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ القَرْنِ وَالأُذُنِ] (ترمذي)
رسول اللہ e نے کان کٹے اور سینگ ٹوٹے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔
یہ چند عیوب ہیں جن کی بناء پر جانور قربانی کے لیے ذبح نہیں کیا جاسکتا اور جب یہ عیوب مزید بڑھ جائیں مثلاً جانور مکمل اندھا ہوجائے یا لنگڑا ہو یا چلنے پھرنے سے عاجز ہو تو ان صورتوں میں بطریق اولیٰ قربانی جائز نہیں۔
اور یہ عیوب جانور میں خریدنے سے قبل موجود ہوں یا قربانی والے دن قربانی کرنے سے چند لمحے پہلے پیدا ہوجائیں دونوں صورتوں میں قربانی جائز نہیں۔
 اعتراض:
سیدنا ابو سعید خدریt فرماتے ہیں کہ:
[اشْتَرَيْتُ أُضْحِيَةً، فَجَاءَ الذِّئْبُ فَأَكَلَ مِنْ ذَنَبِهَا أَوْ أَكَلَ ذَنَبَهَا، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِﷺ فَقَالَ: " ضَحِّ بِهَا.] (مسند أحمد)
میں نے قربانی کا جانور خریدا ، بھیڑیا آیا اس نے اس کی دم (چکی) کاٹ دی تو میں نے رسول اللہ e سے سوال کیا تو آپ e نے فرمایا: ’’اس کی قربانی کرلے۔‘‘
اس روایت سے ثابت ہوا کہ اگر عیب جانور کو خریدنے کے بعد پیدا ہوا ہے تو وہ قربانی کے لیے ذبح کیا جاسکتاہے۔
P  اس کی سند میں حجاج بن ارطاۃ بن ثور ، کثیرالخطا ٔ والتدلیس اور روایت معنعن ہے۔ اصول ہے کہ مدلس کا عنعنہ قبول نہیں ہوتا اور دوسری سند میں محمد بن قرظۃ بن کعب الانصاری مجہول ہے اور سند میں انقطاع بھی ہے ، جبکہ دونوں سندوں کا مدار جابر بن یزید بن حارث الجعفی پر ہے جو کہ کذاب ہے ، حدیثیں گھڑا کرتا تھا۔ تیسری سند میں حجاج بن ارطاۃ کا شیخ عطیہ بن سعد بن جنادہ العوفی بھی مدلس ہے اوروہ بھی اس کو ’’عن‘‘ کے ساتھ ہی بیان کررہاہے۔ لہٰذا اس قسم کی ضعیف ترین روایت کو بطور دلیل پیش کرنا ضعف ِ علم و عقل کی دلیل ہے۔ ثانیاً : یہ دم کٹا ہونا ان عیوب سے نہیں جو قربانی میں ممنوع ہیں۔
لہٰذا قربانی کےلیے جانور مخصوص کردینے یا خریدنے کے بعد بھی اگر عیب پیدا ہوجائے تو بھی اس کی قربانی جائز نہیں کیونکہ جانور کا بے عیب ہونا خریدنے یا مختص کرنے کےلیے نہیں بلکہ قربانی کرنے کےلیے شرط ہے۔ اسی طرح جانور کا خصی ہونا ، یہ عیب نہیں بلکہ خصی جانور کی قربانی کی جاسکتی ہے کیونکہ شریعت نے اس سے منع نہیں کیا بلکہ مسند احمد (25843) میں روایت موجود ہے کہ نبی کریم e نے دو خصی مینڈھے ذبح کیے قربانی کےلیے۔ اور حاملہ جانور کی قربانی بھی کی جاسکتی ہے اور اس کا جنین بھی کھایا جاسکتا ہے ۔ رسول اللہ e نے اس کی بھی اجازت دی ہے۔ (سنن ابوداود)
 قربانی کے جانور :
قربانی صرف اور صرف
1          اونٹ                       2          بھیڑ ، دنبہ، چھترا
3          بکرا اور      4          گائے کی ہی کی جاسکتی ہے
کیونکہ اللہ رب العالمین نے فرمایا ہے :
﴿وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ﴾(الحج:34)
’’اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی کی جگہ مقرر کی تاکہ جو مویشی جانور اللہ نے ان کو دیئے ہیں ان پر اللہ کا نام ذکر کریں۔‘‘
اس آیت میں قربانی کے جانور بھیمۃ الانعام مقرر کیے گئے ہیں اور بھیمۃ الانعام کی وضاحت خود اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے:
﴿وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌۙ۰۰۱۴۲ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَيْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَيْنِ۠ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَيَيْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَيَيْنِ١ؕ نَبِّـُٔوْنِيْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَۙ۰۰۱۴۳ وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَيْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَيْنِ۠ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَيَيْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَيْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَيَيْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّيُضِلَّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۱۴۴﴾ (الانعام)
’’اور ’’انعام‘‘(چوپایوں)میں سے بوجھ اٹھانے والے اور کچھ زمین سے لگے ہوئے ۔ کھاؤ اس میں سے جو اللہ نے تمھیں رزق دیا اور شیطان کے قدموں کے پیچھے نہ چلو ، یقیناً وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ آٹھ اقسام ، بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو، کہہ دیجئے کیا اس نے دونوں نر حرام کیے یا دونوں مادہ یا وہ جس پر ددنوں ماداؤں کے رحم لپٹے ہوئے ہیں؟ مجھے کسی علم کے ساتھ بتاؤ، اگر تم سچے ہو۔ اور اونٹوں میں سے دو اور گائیوں میں سے دو۔۔۔۔۔الخ۔‘‘
ان آٹھ جانوروں (۱،۲بکری نرومادہ، ۳ ،۴بھیڑ نرومادہ، ۵ ،۶اونٹ نرو مادہ، ۷ ،۸گائے نرومادہ) کے علاوہ دیگر حلال جانور (پالتو ہوں یا غیر پالتو) کی قربانی کتاب وسنت سے ثابت نہیں۔ قربانی ان جانوروں کی دی جائے جن کی قربانی رسول اللہe کے قول وعمل و تقریر سے ثابت ہے۔
 قربانی کے جانور میں شرکت:
سیدنا جابر بن عبداللہt بیان فرماتے ہیں
[نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ] (مسلم)
ہم نے رسول اللہ e کے ساتھ حدیبیہ والے سال اونٹ اور گائے کی سات سات آدمیوں کی طرف سے قربانی دی۔
سیدنا عبداللہ بن عباسw فرماتے ہیں:
[كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي سَفَرٍ، فَحَضَرَ الأَضْحٰى، فَاشْتَرَكْنَا فِي البَقَرَةِ سَبْعَةً، وَفِي الجَزُورِ عَشَرَةً.](الترمذي)
ہم نبی e کے ساتھ سفر میں تھے کہ عید الاضحی کا دن آگیا تو ہم سات سات افراد گائے کی قربانی میں اور اونٹ کی قربانی میں دس دس افراد شریک ہوئے۔
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ایوب انصاری سے پوچھا کہ رسول اللہe کے دور میں قربانیاں کیسے ہوتی تھیں تو انھوں نے فرمایا:
[كَانَ الرَّجُلُ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ حَتَّى تَبَاهَى النَّاسُ، فَصَارَتْ كَمَا تَرَى.]
’’آدمی ایک بکری اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی کرتا وہ خود بھی کھاتے اور (لوگوں کو ) کھلاتے بھی حتی کہ لوگوں نے ایک دوسرے پر فخر (مقابلہ بازی) شروع کر دیا تو پھر وہ ہوا جو تو دیکھ رہاہے۔‘‘ (ترمذی)
سیدنا حذیفہ بن اسید بیان فرماتے ہیں کہ :
[حَمَلَنِي أَهْلِي عَلَى الْجَفَاءِ بَعْدَ مَا عَلِمْتُ مِنَ السُّنَّةِ، كَانَ أَهْلُ الْبَيْتِ يُضَحُّونَ، بِالشَّاةِ وَالشَّاتَيْنِ، وَالْآنَ يُبَخِّلُنَا جِيرَانُنَا.] (ابن ماجه)
مجھے میرے گھر والوں نے غلط روی پر ابھارنے کی کوشش کی جبکہ مجھے سنت کا علم ہوچکا تھا کہ ایک گھرانے والے ایک یا دو بکریاں ذبح کرتے تھے، کہ (اگر اب ہم ایسا ہی کریں گے تو ) ہمارے پڑوسی ہمیں کنجوسی کا طعنہ دیں گے۔
سیدنا عبداللہ بن ہشام بیان فرماتے ہیں کہ :
[كَانَ يُضَحِّي بِالشَّاةِ الوَاحِدَةِ عَنْ جَمِيعِ أَهْلِهِ] (بخاری)
رسول اللہ e اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک بکری ذبح کرتے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن ہشام خود بھی اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری قربانی دیتے تھے۔ (بخاری)
مندرجہ بالا احادیث سے معلوم ہواکہ
1          گائے اور اونٹ میں سات سات افراد شریک ہوسکتےہیں۔
2          اونٹ میں دس افراد بھی چاہیں تو شرکت کرسکتے ہیں۔
3          ایک یا دو بکریاں تمام گھروالوں کی طرف سے کفایت کر جاتی ہیں۔
 میت کی طرف سے قربانی:
میت کی طرف سے قربانی کرنے کی کوئی خاص دلیل موجود نہیں۔ بالعموم مندرجہ ذیل روایات پیش کی جاتی ہیں جو کہ پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتیں۔
ابو رافع کی روایت کہ:
[ضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجِيَّيْنِ خَصِيَّيْنِ، فَقَالَ: " أَحَدُهُمَا عَمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ، وَلَهُ بِالْبَلَاغِ، وَالْآخَرُ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ.] (مسند أحمد)
رسول اللہ e نےدوموٹے تازے خصی مینڈھوں کی قربانی کی‘ ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے جنھوں نے اللہ کی توحید اور آپe کے لیے پیغام پہنچانے کی گواہی دی اور دوسرا اپنی اور اپنی آل کی طرف سے۔
اس روایت کی تمام ترا سانید عبداللہ بن محمد بن عقیل پر جمع ہوجاتی ہیں جو کہ لین الحدیث ہے۔ اس کے علاوہ مسند احمد والی ایک سند میں زہیر بن محمد سوء الحفظ ہے اور ایک سند میں شریک بن عبداللہ بن ابی شریک کثرت خطا اور سوء حفظ کا شکار ہے۔ لہٰذا یہ روایت قابل احتجاج نہیں۔
اسی طرح کی ایک اور روایت حذیفہ بن اسید سے مروی ہے جسے حاکم نے مستدرک میں اور علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد میں ذکر کیاہے ۔ اس کی سند میں یحییٰ بن نصر بن حاجب نامی راوی ضعیف ہے۔
سیدنا علیt کے بارہ میں روایت ہے کہ :
[أَنَّهُ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ، فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ: أَمَرَنِي بِهِ. -يَعْنِي النَّبِيَّ ﷺ- فَلَا أَدَعُهُ أَبَدًا.]
وہ دو مینڈھے ذبح کیا کرتے تھے ، ایک نبیe کی طرف سے اوردوسرا اپنی طرف سے ، جب ان سے پوچھا گیا تو کہنے لگےکہ: مجھے اس کا حکم نبیe نے دیا تھا لہٰذا میں یہ کام کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ (ترمذی)
اس کی سند میں شریک بن عبداللہ بن شریک کثیر الخطاء ہونے کی وجہ سے ضعیف اور اس کا شیخ ابوالحسناء حسن کوفی مجہول ہے ۔ لہٰذا یہ روایت بھی قابل احتجاج نہیں۔
 قربانی کرنے والوں کے لیے ضروری بات:
سیدہ ام سلمہr بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:‏
[إِذَا رَأَيْتُمْ هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ، فَلْيُمْسِكْ عَنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ.] (مسلم)
جب تم ذی الحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے جوبھی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو وہ اپنے بال اورناخن نہ کٹوائے حتی کہ قربانی کرلے۔
قربانی جس گھر کی طرف سے کی جارہی ہو، اس گھر کے تمام افراد کے لیے یہ پابندی ہے۔
 جوقربانی کی استطاعت نہ رکھے:
ایک شخص نےنبی کریم e سے پوچھا کہ: میرے پاس قربانی کا کوئی جانور نہیں سوائے ایک لویری (دودھ دینے والا جانور) کے، کیا میں اس کی قربانی دے لوں؟ تو آپ e نے فرمایا:
[لَا، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ، فَتِلْكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.] (أبوداود)
’’نہیں! لیکن تو (اس دن) بال، ناخن، مونچھیں کٹوالے اور زیر ناف بال مونڈ لے تو اللہ عزوجل کے ہاں یہ تیری پوری قربانی ہے۔‘‘
یاد رہے کہ جو شخص قربانی کی استطاعت نہیں رکھتا اور وہ قربانی کا ثواب لینا چاہتا ہے تو اس کےلیے قربانی کے دن مندرجہ بالا افعال سرانجام دینا لازم ہوں گے مگر ہلال ذی الحجہ کے طلوع ہونے کے بعد اس پر بال وناخن کٹوانے کی پابندی نہیں بلکہ یہ پابندی صرف قربانی کرنےوالوں پر ہے۔
 قربانی کا وقت:
قربانی عیدالاضحیٰ کی ادائیگی کے بعد کی جائے ۔ اگر کوئی شخص نماز عید ادا کرنے سے قبل قربانی کرلے تو وہ اس کی قربانی شمار نہ ہوگی بلکہ اس کو دوسری قربانی دینا پڑے گی۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔ (بخاری)
اور اس وقت کے اختتام کے بارہ میں رسول اللہe نے فرمایا ہے:
[أَيَّامُ التَّشْرِيقِ كُلُّهَا ذَبْحٌ] (سنن الدارقطني)
تشریق کے تمام دن ذبح کے دن ہیں۔
ایام تشریق گیارہ، بارہ اور تیرہ ذوالحجہ کوکہا جاتا ہے۔
 فضیلت والا دن:
یوں تو ان چاروں دنوں میں قربانی کی جاسکتی ہے (ایام تشریق اور یوم نحر میں ) لیکن ان تمام میں سے افضل دن یوم نحر یعنی دس ذوالحجہ کا دن ہے کیونکہ رسول اللہ e نے فرمایا ہےکہ:
[مَا مِنْ أَيَّامٍ العَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ الأَيَّامِ العَشْرِ.] (الترمذي)
’’ دوسرے دنوں کی نیکی ان دس دنوں کی نیکی سے زیادہ اللہ کو محبوب نہیں۔‘‘
تو جب یوم نحر کو قربانی کی جائے گی تو وہ ان دس دنوں میں شامل ہونے کی وجہ سے اللہ کو زیادہ محبوب ہوگی۔
 قربانی کا جانور خود ذبح کرنا:
سیدنا انس بن مالکt فرماتےہیں:
[أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَحَرَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا، وَضَحَّى بِالْمَدِينَةِ بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ.] (أبوداود)
نبی کریم e نے کھڑے سات اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر کیے اور مدینہ میں دو عدد سینگوں والے مینڈھے ذبح کیے۔
 عورت کاذبیحہ:
سیدنا کعب بن مالکt فرماتے ہیں کہ:
[أَنَّ امْرَأَةً ذَبَحَتْ شَاةً بِحَجَرٍ، فَسُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَ بِأَكْلِهَا.](بخاری)
ایک عورت نے ایک بکری(تیز دھار) پتھر کے ساتھ ذبح کردی تو اس کے بارہ میں نبی کریمe سے پوچھا گیا تو آپ eنے اس کے کھانے کا حکم دیا۔
یعنی عورت اپنا قربانی کا جانور خود ذبح کرسکتی ہے اگر اس کو ذبح کرنا آتا ہو۔
 قصاب سے قربانی کروانا:
سیدنا علیt فرماتےہیں کہ مجھے نبی کریمe نے حکم دیا کہ میں آپ کے قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کروں اور ان کا گوشت اور کھالیں سب تقسیم کردوں اور (قصاب کو) اس کی مزدوری اس( گوشت یا کھال) کی صور ت میں نہ دوں۔ (بخاری)
 قربانی کے گوشت کا مصرف:
فرمان الٰہی ہے:
﴿وَ يَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِيْۤ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآىِٕسَ الْفَقِيْرَٞ۰۰۲۸﴾ (الحج)
’’معلوم دنوں میں جو چوپائے ہم نے دئیے ہیں ان پر اللہ کا نام ذکر کریں اور خود بھی کھاؤ اور تنگ دست و سوالی کو بھی کھلاؤ۔‘‘
مزید فرمایا:
﴿فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ﴾
’’خود بھی کھاؤ اور مانگنے والے اور نہ مانگنے والے کو بھی دو۔‘‘ (الحج)
سیدنا سلمہ بن اکوعt فرماتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[مَنْ ضَحَّى مِنْكُمْ فَلاَ يُصْبِحَنَّ بَعْدَ ثَالِثَةٍ وَبَقِيَ فِي بَيْتِهِ مِنْهُ شَيْءٌ. فَلَمَّا كَانَ العَامُ المُقْبِلُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَفْعَلُ كَمَا فَعَلْنَا عَامَ المَاضِي؟ قَالَ: "كُلُوا وَأَطْعِمُوا وَادَّخِرُوا، فَإِنَّ ذَلِكَ العَامَ كَانَ بِالنَّاسِ جَهْدٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ تُعِينُوا فِيهَا".]
’’جس نے تم میں سے قربانی کی ہے وہ تیسرے دن بعد اس حال میں صبح نہ کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت سے کوئی چیز باقی ہو۔‘‘ آئندہ سال صحابہ نے کہا:’’اے اللہ کے رسولe! جس طرح ہم نے پچھلے سال کیا تھا، کیا اب بھی اسی طرح کریں؟‘‘ آپ e نے فرمایا: ’’تم کھاؤ اور کھلاؤ اور ذخیرہ کرو، اس سال لوگوں کو مشقت تھی تو میں نے چاہا کہ تم اس میں ان کی مدد کرو۔‘‘ (بخاری)
مذکورہ بالا ادلہ سے معلوم ہوا کہ قربانی کا گوشت بندہ خود بھی کھائے ، دوست، احباب کو تحفہ بھی دے اور صدقہ بھی کرے۔ یہ تینوں کا م کرے لیکن حصوں کی تحدید و تعین کتاب و سنت میں وارد نہیں ہوئی لہٰذا جو تناسب سمجھتا ہو، رکھے ، اللہ نے آزادی دی ہے۔
 قربانی کی کھالوں کا مصرف:
[أَنَّ النَّبِيَّﷺ أَمَرَهُ أَنْ يَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا، لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلاَلَهَا، وَلاَ يُعْطِيَ فِي جِزَارَتِهَا شَيْئًا.]
’’سیدنا علی بن ابی طالبt نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کو بتایا کہ نبی کریم e نے ان کو حکم دیا کہ وہ آپe کے قربانی کے اونٹوں پر (بطور نگران) کھڑے ہوں اور ان کو حکم دیا کہ اس کا گوشت اور کھالیں اور جُل مساکین میں صدقہ کردیں اور اس (گوشت، کھالوں اور جُل) میں سے کچھ بھی اس کی اجرت کے طور پر نہ دوں۔‘‘ (بخاری)
اس حدیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کی کھالیں صدقہ ہیں اور صدقہ کے مصارف اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمائے ہیں:
﴿اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِيْنِ وَ الْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِي الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِيْنَ وَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِيْلِ١ؕ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۰۰۶۰﴾
’’صدقات یقیناً صرف اور صرف فقراء ، مساکین (صدقہ کے) عاملین اور تالیف قلب اور گردنوں کو آزاد کروانے اور غارمین (جن کو چٹی پڑ جائے) اور فی سبیل اللہ (جہاد) اور مسافروں کےلیے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فریضہ ہے اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا، حکمت والا ہے۔‘‘ (التوبہ)
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے صدقات کے آٹھ مصارف بیان کیے ہیں لہٰذا قربانی کی کھالیں بھی ان آٹھ مصارف پر خرچ کی جائیں۔
هٰذا ما عندي والله أعلم بالصواب


No comments:

Post a Comment