کشمیر جل رہا ہے 31-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 17, 2019

کشمیر جل رہا ہے 31-2019


کشمیر جل رہا ہے

بھارتی بی جے پی دہشت گرد حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35-A ختم کرتے ہوئے ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔  بھارتی صدر نے باقاعدہ اس بارے حکم نامہ جاری کر دیا ہے جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب نیم خود مختار ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گا۔ موذی سرکار نے کشمیر ویلی کو ۲ حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے جموں کشمیر کو لداخ سے الگ کر دیا ہے اور یہ علاقہ بھی وفاق کے زیر انتظام ہو گا جبکہ د ونوں علاقوں کی اپنی اپنی الگ قانون ساز اسمبلی ہو گی۔
مودی کی بی جے پی نے گذشتہ انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کی جس سے اس کی قیادت کا دماغ خراب ہونا فطری امر تھا۔ اسے آئین میں ترمیم کے لیے کسی دوسری پارٹی کی ضرورت نہ رہی۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ شدت پسند ہندو لیڈر شپ کا دیرینہ خواب رہا ہے جسے آج شرمندہ تعبیر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دفعہ 370 اور 35-A کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی‘ جغرافیائی اور مذہبی صورتحال یکسر تبدیل ہو جائے گی۔ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہو جائے گی اور وہاں ہندوؤں اور غیر کشمیریں کو لا کر بسایا جائے گا۔ جبکہ اس سے پہلے کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ وہاں جائیداد نہیں خرید سکتا تھا۔ اسی طرح سرکاری نوکریاں‘ ووٹ ڈالنے کا حق اور دوسری مراعات کا قانونی حق جوصرف کشمیریوں کو حاصل تھا وہ  اب چھین لیا گیا ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کے پہلے سے طے شدہ منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔
دوسری طرف ہمارا حال یہ ہے کہ خوش فہمی میں مبتلا ہو کر بھارت اور ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر کے حل کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔ جبکہ وہ کشمیریوں پر ظلم ڈھائے جا رہا ہے اور بارڈر پر گولیاں اور کلسٹر بم برسا رہا ہے۔ خان صاحب نے مودی کے وزیر اعظم بنتے ہی مبارکباد دی اور مذاکرات کی دعوت دی جس پر کوئی جواب نہ ملا۔ مودی کی جیت کو مسئلہ کشمیر کا حل قرار دیا۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کی جیت پر مبارکبادیں دیں۔ نجوت سنگھ سدھو کو تقریب حلف برداری میں بلا کر آرمی چیف سے پیار کی جپھی ڈلوائی گئی۔ رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب کیا گیا‘ ہندو مندروں کی بحالی کے لیے اربوں کے فنڈ جاری کیے گئے۔ کرتار پور راہداری کے لیے منت سماجت کی گئی۔ بار بار مذاکرات ملتوی کرنے کے باوجود پاکستان کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔ جہادی تنظیموں کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کیا گیا۔ علی امین گنڈا پوری جیسے شخص کو کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنا کر غیر سنجیدگی کا ثبوت فراہم کیا۔ سلامتی کونسل کی رکنیت کے لیے بھارت کو ووٹ دیا۔ بھارتی حملہ آور گرفتار شدہ ابھی نندن کو غیر مشروط اور دو دن کے اندر واپس بھیج دیا۔ معمولی سے عالمی دباؤ پر بھارت کے لیے فضائی روٹ کھول دیا۔ ہر طرح کی خوشامد بجا لائی گئی۔ امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی بات کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی اور یوں تأثر دیا گیا کہ جیسے اب مسئلہ کشمیر حل ہونے کو ہے۔ ہم نے یہ سب کر دکھایا لیکن بھارت ان سب باتوں کو کسی خاطر میں نہ لایا اور جارحیت وطاقت کے بل بوتے پر کشمیر کی یکسر حیثیت ہی بدل کر رکھ دی۔
بھارت کو یہ سب کرنے کی ہمت کیوں ہوئی؟ اس نے ہمیں اتنا کمزور اور بے توقیر کیوں سمجھا؟ دراصل ہم اپنی سیاست میں بہت زیادہ مصروف تھے‘ کشمیر کے حالات اور کنٹرول لائن پر نظر رکھنے کی بجائے انتقامی سیاست‘ اکھاڑ پچھاڑ‘ گرفتاریاں‘ گرما گرم بیانات اور الزام تراشیوں سے ہمیں فرصت ہی نہیں ملتی۔ جبکہ کشمیری ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ بھارت نے مزید فوجی دستے کشمیر بھیج دیئے ہیں۔ کئی دنوں سے ٹیلیفون‘ انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بالکل معطل ہے۔ ذرائع مواصلات بند پڑے ہیں‘ سخت ترین کرفیو نافذ ہے۔ کشمیری قیادت نظر بند ہے۔ کشمیر کا باقی دنیا سے رابطہ کٹ چکا ہے۔ نہ جانے کشمیری کس حال میں ہوں گے؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ‘ او آئی سی اور عالمی برادری کو فوری آگاہ کیا جائے۔ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں بھارت کو کشمیری عوام کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں بند کرنے اور انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے پر مجبور کیا جائے۔ پاکستان کو اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے بھر پور اقدامات کرنے چاہئیں تا کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی شرارت کا بھر پور جواب دیا جا سکے اور کشمیریوں کی اخلاقی‘ سیاسی حمایت جاری رہنی چاہیے۔ معذرت خواہانہ رویہ ترک کر کے مضبوط موقف اپنانے اور ٹھوس اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ کشمیر ہاتھوں سے نکل جائے گا۔


No comments:

Post a Comment