ایک ہاتھ سے مصافحہ ... تحقیقی جائزہ 31-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 17, 2019

ایک ہاتھ سے مصافحہ ... تحقیقی جائزہ 31-2019


ایک ہاتھ سے مصافحہ ... تحقیقی جائزہ

تحریر: جناب مولانا محمد ایوب سلفی
سب سے پہلے مصافحہ کا معنی واضح کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے تا کہ مسئلہ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ مصافحہ کا معنی حافظ ابن حجرa بیان فرماتے ہیں:
[هی مفاعلة من الصفحة والمراد بها افضاء بصفحة الید الی صفحة الید] (فتح الباری: ۱/۵۴)
’’یہ صفحہ سے باب مفاعلہ کا مصدر ہے جس کا معنی بطن کف کا بطن کف سے ملانا۔‘‘
امام ابن اثیرa نہایہ میں تحریر فرماتے ہیں:
[ومنه حدیث المصافحة عند اللقاء وهی مفاعلة من الصاق صفح الكف بالكف واقبال الوجه علی الوجه] (النهایة لابن اثیر: ۲/۲۸۸)
’’ہتھیلی کے باطنی حصہ کو دوسرے کی ہتھیلی کے باطنی حصہ سے ملانا اور چہرے سے چہرے کا سامنا کرنا۔‘‘
ملا علی قاری حنفیa نے بھی مصافحہ کا معنی یہی لکھا ہے‘ آپ فرماتے ہیں:
[المصافحة هی الافضاء بصفحة الید الی صفحة الید] (مرقاة شرح مشكاة: ۲/۸۴)
علامہ مرتضی زبیدی حنفیa نے تاج العروس شرح قاموس میں بھی مصافحہ کا یہی معنی لکھا ہے:
[الرجل یصافح الرجل إذا وضع صفح كفه فی صفح كفه وصفحا ومنه حدیث المصافحة عند اللقاء وهی مفاعلة من الصاق صفح الكف بالكف واقبال الوجه علی الوجه] (تاج العروس، شرح قاموس: ۲/۱۸)
واضح ہو کہ مصافحہ کرنا سنت نبوی e سے ثابت ہے اور وہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ بھی ہے۔ سیدنا براء بن عازبt سے مروی ہے کہ آپe نے ارشاد فرمایا:
[ما من مسلمین یلتقیان فیتصافحان الا غفر الله لهما قبل ان یتفرقا] (ترمذی، الاستئذان، باب ما جاء فی المصافحة برقم: ۲۷۲۷)
’’جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو جدا جدا ہونے سے پہلے اللہ ان کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔‘‘
مصافحہ کی سنت پر درج ذیل حدیث بھی واضح طور پر دلالت کر رہی ہے۔ سیدنا انس بن مالکt بیان فرماتے ہیں:
[قال رجل: یا رسول الله! الرجل منا یلقی أخاه أو صدیقه أینحنی له؟ قال: لا، قال: أفیلتزمه ویقبل؟ قال: لا، قال: یأخذ بیده ویصافحه؟ قال: نعم] (الترمذی: الاستئذان، باب المصافحة برقم: ۲۷۲۸ وحسنه الألبانی: دیكھیے سلسلة صحیحة: ۱/۸۸)
’’ایک آدمی نے عرض کیا‘ اللہ کے رسول! کوئی آدمی اپنے بھائی یا دوست سے ملاقات کرے تو کیا اس کے لیے جھکے؟ آپe نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ اس نے عرض کیا‘ اس سے چمٹ جائے اور اس کو بوسہ دے؟ آپe نے فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ پھر اس نے عرض کیا‘ اس کا ہاتھ پکڑے اور مصافحہ کرے؟ آپe نے فرمایا: ’’ہاں۔‘‘
مذکورہ دونوں حدیثیں مصافحہ کے سنت ہونے پر دال ہیں۔ متعدد احادیث نبویہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ مصافحہ ایک ہاتھ سے بلکہ دائیں ہاتھ سے مسنون ہے۔ سیدنا عبداللہ بن بسرt ارشاد فرماتے ہیں:
[ترون كفی هذا فاشد انی وضعتها علی كف محمدﷺ] (مسند احمد: ۴/۸۹ اوامر والظمآن: ۹۴۰)
’’تم لوگ میری اس ہتھیلی کو دیکھتے ہو‘ میں نے اس ہتھیلی کو محمدe کی ہتھیلی پر رکھا ہے۔‘‘
مسند احمد ہی کی روایت میں ہے کہ سیدنا انسt فرماتے ہیں:
[بایعت النبیﷺ بیدی هذه علی السمع والطاعة فیما استطعت] (احمد: ۳/۱۷۲)
’’میں نے اپنے ہاتھ سے اللہ کے رسول e سے اپنی استطاعت کے مطابق سمع وطاعت پر بیعت کی ہے۔‘‘
مذکورہ دونوں حدیثوں میں ’’کف‘‘ اور ’’ید‘‘ کا لفظ وارد ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ بیعت کے لیے ایک ہاتھ استعمال کیا گیا اور ظاہر ہے کہ مصافحہ کی بھی یہی مسنون صورت ہے۔
صحابہ کرام عام طور سے نبی کریمe کے پاس آتے تھے اور آپe سے بیعت ومصافحہ کرتے تھے۔ سیدنا عمرو بن العاصw سے مروی ہے:
[فلما جعل الله الإسلام فی قلبی أتیت النبیﷺ فقلت: أبسط یمینك لأبایعك۔ فبسط یمینه فقبضت یدی۔ فقال: ’مالك یا عمرو!‘ فقلت: أردت أن أشترط۔ فقال: ’تشترط بماذا؟‘ قلت: أن یغفر لی۔ فقال: ’أما عملت یا عمرو! إن الإسلام یهدم ما كان قبله۔‘] (مسلم: الایمان، باب كون الاسلام یهدم ما قبله، برقم: ۳۲۱)
جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو میرے دل میں ڈال دیا تو میں اللہ کے رسولe کے پاس آیا‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اپنا دایاں ہاتھ پھیلائیے تا کہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں۔ آپe نے اپنا ہاتھ بڑھایا‘ میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔ آپe نے فرمایا: ’’عمرو! کیا ہوا؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول! میں شرط لگانا چاہتا ہوں۔ آپe نے فرمایا: ’’کیا شرط لگانا چاہتے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ میں اس شرط پر بیعت کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ مجھے بخش دے۔ آپe نے فرمایا: ’’عمرو! کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام ما قبل اسلام کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے؟‘‘
واضح ہو کہ بیعت ہاتھ پر ہاتھ رکھنے کو کہتے ہیں‘ مصافحہ کی بھی یہی صورت ہے۔ مصافحہ بھی الصاق الکف بالکف ہے۔ (النہایۃ فی غریب الحدیث: ۳/۴۳) لہٰذا مصافحہ کی بھی مسنون صورت یہی ہے جو اس حدیث میں مذکور ہے۔
سیدنا ابوہریرہtسے روایت ہے‘ آپe فرماتے ہیں:
[لقینی رسول اللهﷺ وانا جنب، فأخذ بیدی فمشیت معه حتی قعد فانسللت] (البخاری، الغسل، باب الجنب، یخرج ویمشی فی السوق، برقم: ۲۸۵)
’’رسول اللہe مجھ سے ملے اور میں جنبی تھا‘ آپe نے میرا ہاتھ پکڑ لیا پھر میں آپ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپe بیٹھ گئے اور میں آپe کے پاس سے کھسک گیا۔‘‘
ایک اور روایت میں درج ذیل الفاظ مروی ہیں:
[لقیت النبی ﷺ وانا جنب فمد یده الی فقبضت یدی عنه وقلت انی جنب فقال سبحان الله ان المسلم لا ینجس] (شرح معانی الآثار للطحاوی: ۱/۱۶)
میں نے رسول اللہe سے حالت جنابت میں ملاقات کی۔ آپe نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا اور کہا میں جنبی ہوں‘ آپe نے فرمایا: ’’سبحان اللہ! مسلمان نجس نہیں ہوتا۔‘‘
مذکورہ دونوں حدیثوں کے الفاظ پر غور کریں‘ دونوں میں لفظ ’’ید‘‘ واحد وارد ہے لہٰذا یہ دونوں حدیثیں ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے کی سنت پر دلیل قطعی ہیں۔ ان دونوں حدیثوں سے صاف ظاہر ہے کہ آپe نے مصافحہ کے لیے اپنا ایک ہاتھ بڑھایا اور دوسری حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ سیدنا ابوہریرہt نے اپنا ایک ہاتھ جو مصافحہ کے لیے بڑھانا چاہیے اپنی جنابت کی وجہ سے پیچھے کھینچ لیا۔
اس لیے اکثر اہل علم ان حدیثوں کو ایک ہاتھ سے مصافحہ کے باب میں دلیل قطعی سمجھتے ہیں۔ یہاں یہ تاویل بھی ممکن نہیں کہ یہ بیعت کی خاص حالت تھی بلکہ یہاں آپسی لقاء واضح اور صریح ہے۔
ایک ہاتھ سے مصافحہ کے باب میں مذکورہ حدیثوں کے علاوہ بھی کئی حدیثیں وارد ہیں‘ ان میں سے بعض میں کچھ ضعف ہے اس لیے ان چند حدیثوں کے ذکر پر اکتفاء کیا جا رہا ہے۔ آئیے یہاں چند فقہاء حنفیہ کے اقوال بھی ان حدیثوں کی تائید میں پیش کرتے ہیں تا کہ مسئلہ بالکل واضح ہو جائے۔
فقہ حنفی کی مشہور ومعروف اور متداول کتاب ہدایہ میں علامہ مرغینانی رقم طراز ہیں:
[لا بأس بالمصافحة لأنه هو المتوارث] (هدایه، كتاب الكراهیه: ۶/۱۵۵)
’’مصافحہ کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ متوارث مسئلہ ہے۔‘‘
مذکورہ قول میں اس بات کی صراحت نہیں کہ مصافحہ ایک ہاتھ سے ہے یا دو ہاتھ سے لہٰذا اس کی صراحت کے لیے دیگر فقہاء کے اقوال پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں:
[قوله: فإن لم یقدر أی علی تقبیله إلا بالإیذاء أو مطلقا یضع یدیه علیه ثم یقبلهما أو یضع إحداهما وإلا ولی ان تكون الیمنی الا أنها المستعملة فیما فیه شرف ولما نقل عن البحر العمیق من ’أن الحجر یمین الله یصافح بها عباده والمصافحة بالیمنی‘] (رد المحتار، حاشیه در مختار: ۳/۴۴۷)
’’اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آدمی حجر اسود کے بوسہ کی طاقت نہ رکھ سکے تو اس پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے‘ پھر ان دونوں ہاتھوں کا بوسہ لے یا صرف ایک ہاتھ رکھے اور دایاں ہاتھ رکھنا بہتر ہے۔ اس لیے کہ ہر با عزت مقام پر یہی ہاتھ استعمال کیا جاتا ہے اور اس لیے بھی کہ یہ  منقول ہے کہ حجر اسود اللہ کا دایاں ہاتھ ہے اللہ اس سے اپنے بندوں سے مصافحہ کرتا ہے اور مصافحہ دائیں ہاتھ سے ہوتا ہے۔‘‘
علامہ بدرالدین عینی حنفیa کی درج ذیل عبارت بھی اس بات میں قابل ملاحظہ ہے:
[اتفاق العلماء علی أنه یستحب تقدیم الیمنی فی كل ما هو من باب التكریم كالوضوء والغسل ولبس الثوب والنعل والخف والسراویل ودخول المسجد والسواك والاكتحال وتقلیم الاظفار وقص الشارب ونتف الابط وحلق الراس والسلام من الصلاة والخروج من الخلاء والاكل والشرب والمصافحة واستیلام الحجر الاسود الاخذ والاعطاء وغیر ذلك مما هو فی معناه ویستحب تقدیم الیسار فی ضد ذلك] (النهایة، الوضوء، البدائة بالمیامن: ۱/۲۴۸)
یعنی کہ ہر با عزت کام مثلاً وضوء‘ غسل‘ کپڑا‘ جوتا‘ خف یا پاجامہ وغیرہ پہننا‘ مسجد میں داخل ہونا‘ مسواک کرنا‘ سرمہ لگانا‘ ناخن تراشنا‘ مونچھ کاٹنا‘ بغل کا بال اکھاڑنا‘ سرمنڈانا‘ نماز میں سلام پھیرنا‘ بیت الخلاء سے نکلنا‘ کھانا پینا‘ مصافحہ‘ حجر اسود کا استیلام‘ لین دین وغیرہ میں دائیں کو مقدم کرنا مستحب ہے۔ شرف وفضیلت کے علاوہ کاموں میں بایاں ہاتھ بڑھایا جائے گا۔ اس عبارت کا واضح مفہوم یہ ہے کہ علامہ عینیa مصافحہ میں دایاں ہاتھ بڑھانے کو مستحب قرار دے رہے ہیں جو عین حدیث رسولe کے مطابق وموافق ہے۔
علامہ ضیاء الدین حنفی نقشبندیa اپنی کتاب ’’لوامع العقول من حدیث رسول‘‘ میں [اذا التقی المسلمان فتصافحا وحمدا للہ] کے ضمن میں تحریر فرماتے ہیں:
[والظاهر من آداب الشریعة تعیین الیمنی من الجانبین لحصول السنة] (لوامع العقول بحواله تحفه الاحوذی: ۳/۳۹۷)
یعنی آداب شریعت سے ظاہر یہی ہیک ہ مصافحہ کے مسنون ہونے کے لیے دونوں جانب سے داہنا ہاتھ متعین ہے اگر دونوں جانب سے بایاں ہاتھ ملایا گیا یا ایک جانب سے داہنا اور دوسری طرف سے بایاں تو بھی مصافحہ مسنون نہیں ہو گا۔
فقہاء‘ احناف کی کتابوں کے مذکورہ اقتباسات سے یہ بات صاف ظاہر ہو رہی ہے کہ یہ فقہاء کرامS دائیں ہاتھ سے مصافحہ کو مسنون ومستحب مانتے ہیں‘ اس طرح کی واضح صراحتوں کے باوجود نہ جانے کیوں بعض لوگ ایک ہاتھ سے مصافحہ کو یہود ونصاریٰ کی مشابہت قرار دیتے ہوئے ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے والوں کو ہدف تنقید بناتے ہیں۔
ایک ہاتھ سے مصافحہ کے باب میں فقہاء ومحدثین کی مزید صراحتیں بھی کتب فقہ وشروحات حدیث کے اندر موجود ہیں۔ بنظر اختصار انہی چند وضاحتوں پر اکتفاء کیا جا رہا ہے۔
آخر میں اس مسئلہ کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ کیا امام بخاریa دو ہاتھ سے مصافحہ کے قائل ہیں؟ اور جو حدیث انہوں نے اپنی صحیح میں ذکر فرمائی ہے کیا وہ حدیث دو ہاتھ سے مصافحہ کی دلیل بن سکتی ہے؟
سیدنا عبداللہ بن مسعودt بیان کرتے ہیں:
[علمنی رسول اللهﷺ وكفی بین كفیه التشهد] (بخاری، كتبا الاستئذان، باب الاخذ بالیدین برقم: ۶۲۶۵)
رسول اللہe نے مجھے تشہد سکھایا اور میرا ہاتھ آپ کے دونوں ہاتھوں کے درمیان تھا۔
واضح ہو کہ اس حدیث کا تعلق ملاقات کے وقت مصافحہ سے نہیں بلکہ اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ نبی کریمe سیدنا عبداللہ بن مسعودt کو تشہد سکھا رہے تھے اور اس تعلیم کے وقت سیدنا عبداللہ بن مسعودt کا ایک ہاتھ اللہ کے رسولe کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھا۔ واضح رہے کہ مذکورہ صورت میں تین ہاتھ سے مصافحہ لازم آ رہا ہے اور اس طریقہ کے قائل دو ہاتھ سے مصافحہ کے قائلین بھی نہیں ہیں۔ دو ہاتھ سے مصافحہ کے قائلین دونوں طرف سے دونوں ہاتھ کے قائل ہیں۔
فقہاء احناف کی صراحتوں سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مذکورہ صورت تعلیم وتنبیہ کے لیے تھی۔ فقہ حنفی کی معروف کتاب ہدایہ کے حاشیہ میں یہ عبارت مذکور ہے:
[اخذ لیكون حاضرا فلا یفوته شیء] (الهدایة: ۱/۹۳)
’’آپe نے سیدنا ابن مسعودt کا ہاتھ اس لیے پکڑا تا کہ اس کا دماغ حاضر رہے اور ان میں آپe کی کوئی بات فوت نہ ہو جائے۔‘‘
علامہ زیلعی حنفیa رقمطراز ہیں:
[ومنها أنه قال فیه علمنی التشهد وكفی بین كفیه ولم یقل ذلك فی غیره فدل علی مزید الاعتناء والاهتمام] (نصب الرایة: ۱/۴۲۱)
سیدنا ابن مسعودt سے مروی تشہد کا سیدنا عبداللہ بن عباسw سے مروی تشہد پر راجح ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ سیدنا ابن مسعودt نے کہا رسول اللہe نے مجھے تشہد سکھایا اور میری ہتھیلی آپe کی ہتھیلیوں کے درمیان تھی‘ یہ چیز مزید توجہ اور اہتمام پر دلالت کرتی ہے۔
یہاں یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ نبی کریمe کا سیدنا ابن مسعودt کے ہاتھ کا پکڑنا مصافحہ کی غرض سے نہیں بلکہ اہتمام وتاکید اور توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کے لیے تھا تا کہ کوئی بات ابن مسعودt کے ذہن سے غائب نہ ہو جائے۔
یہی بات مشہور ومعروف حنفی عالم مولانا عبدالحئ لکھنویa بھی لکھتے ہیں‘ آپa نے فرمایا:
’’ابن مسعود والی حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس سے وہ مصافحہ جو ملاقات کے وقت کیا جاتا ہے مراد نہیں بلکہ یہ ہاتھ میں ہاتھ لینا ویسا ہی ہے جیسا کہ بزرگ چھوٹوں کو کسی چیز کی تعلیم دیتے وقت ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں۔‘‘ (مجموعہ فتاویٰ اردو: ۱۳۴)
تعلیم وتربیت کے وقت ہاتھ پکڑنے کی اور کئی روایتیں بھی کتب حدیث کے اندر موجود ہیں۔ سیدنا معاذ بن جبلt سے مروی ایک حدیث اس طرح ہے:
[ان رسول اللهﷺ أخذ بیده وقال یا معاذ! والله! إنی لأحبك۔ فقال: أوصیك یا معاذ! لا تدعن فی دبر كل صلاة تقول اللهم اعنی علی ذكرك وشكرك وحسن عبادتك] (ابوداؤد، الوتر، باب فی الاستغفار، رقم: ۱۵۲۲، ومسند احمد: ۵/۲۴۴ وصححه الالبانی)
’’رسول اللہe نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ’’اے معاذ! اللہ کی قسم! میں تم سے محبت کرتا ہوں۔‘‘ آپe نے فرمایا: ’’اے معاذ! تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھنا نہ چھوڑنا [اللهم اعنی علی ذكرك وشكرك وحسن عبادتك]‘‘
یہ حدیث اس بات پر واضح دلیل ہے کہ اللہ کے رسولe صحابہ کرام] کو کوئی بات سمجھانے اور ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کے لیے ان کا ہاتھ پکڑ لیتے تھے۔ تعلیم وتربیت کی یہ خاص کیفیت فقہاء احناف کے اندر بھی پائی جاتی تھی۔
علامہ جلال الدین خوارزمی حنفی ہدایہ کی شرح کفایہ میں سیدنا ابن مسعودt کی اس روایت پر بحث کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
[وتاكید التعلیم فإنه روی عن محمد بن الحسن أنه قال أخذ أبویوسف بیدی وعلمنی التشهد (وقال) أخذ أبوحنیفة بیدی فعلمنی التشهد وقال أبو حنیفة: أخذ حماد بیدی وعلمنی التشهد وقال حماد: أخذ علقمة بیدی وعلمنی التشهد وقال علقمة: أخذ ابن مسعود بیدی وعلمنی التشهد وقال ابن مسعود: أخذ رسول اللهﷺ بیدی وعلمنی التشهد]
’’سیدنا ابن مسعودt کی اس حدیث کو تعلیم کی تاکید پر محمول کیا جائے گا اس لیے کہ محمد بن حسن شیبانیa سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں امام ابویوسف نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا‘ ابویوسف نے کہا: امام ابوحنیفہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا‘ امام ابوحنیفہ نے کہا: حماد بن ابی سلیمان نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا‘ ابن مسعودt کہتے ہیں کہ رسول اللہe نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا۔‘‘ (کفایہ شرح ہدایہ: ۱/۵۹)
مذکورہ روایات میں ائمہ احناف کا ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر تشہد سکھانے کا مسئلہ اسی ابن مسعودt کی حدیث پر عمل ہے گویا سب ائمہ نے اس حدیث کو طریقہ تعلیم پر محمول کیا۔ جسے اللہ کے رسولe نے مزید تاکید‘ اہتمام اور توجہ دلانے کے لیے اختیار کیا تھا۔ اس کا تعلق مروجہ مصافحہ سے قطعی نہیں۔
آخر میں ہم اپنی بات کو اس حدیث پر ختم کرتے ہیں‘ اللہ کے رسولe کے بارے میں سیدہ عائشہr بیان فرماتی ہیں:
[كان النبیﷺ یحب التیمن ما استطاع فی شأنه كله فی طهوره وترجله وتنعله] (البخاری، الصلاة، باب التیمن فی دخول المسجد وغیره، برقم: ۴۲۶۔ مسلم: الطهارة، باب التیمن فی الطهور وغیره برقم: ۶۱۷)
آپe اپنی استطاعت بھر اپنے تمام اہم امور مثلاً طہارت‘ کنگھی کرنے اور جوتا پہننے وغیرہ میں دایاں کو پسند فرماتے تھے‘ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فقہاء احناف میں سے اہم ائمہ اور فقہاء مثلاً ابن عابدین شامی حنفی‘ علامہ بدرالدین عینی حنفی‘ علامہ ضیاء الدین حنفی وغیرہ ہم نے اہم امور میں حتی کہ مصافحہ میں بھی دایاں ہاتھ بڑھانے کو مستحب ومسنون قرار دیا ہے جیسا کہ منقولہ عبارات سے واضح ہے۔ اللہ ہمیں حق کو پہچاننے اور اسے قبول کرنے کی توفیق دے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment