درس قرآن وحدیث 32-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, August 31, 2019

درس قرآن وحدیث 32-2019


درسِ قرآن
کامیاب انسان
ارشادِ باری ہے:
﴿اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۰۰۱۸۵﴾ (اٰل عمران)
’’قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دئیے جاؤ گے۔پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیابے شک وہی کامیاب ہے۔ اور (یاد رکھوکہ)دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔‘‘
ہر انسان اپنے لیے کامیابی کا خواہاں ہوتا ہے اور حصول کامیابی کے لیے تگ و دو اور محنت ومشقت کرتا ہے۔لیکن عقل مند انسان وہ ہے جو حقیقی اور مستقل کامیابی کے حصول کے لیے کوشش کرے ایسی کامیابی کہ جس کے بعد ناکامی کا کوئی امکان ہی نہ ہو۔دنیا میں رہتے ہوئے انسان عارضی نفع اور تھوڑے سے فائدہ کے لیے بھی دن رات سو چ وبچار کرتا ہے اور اس کے باوجود اسے پورا وثوق نہیں ہوتا کہ وہ اس فائدہ کو پا لے گا۔لیکن اللہ تعالی نے ایسی دائمی کامیابی اور ابدی منافع کی طرف قرآن میں رہنمائی کردی ہے کہ جس کے بعد نامرادی نہیں اور اس کا حصول بھی کسی قسم کے شک وشبہ سے بالا ہے اور حقیقت میں یہی اصل کامیابی ہے:
﴿قَالَ اللّٰهُ هٰذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصّٰدِقِيْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۰۰۱۱۹﴾ (المآئدة)
’’اس دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ وہ دن ہے کہ جو لوگ سچے تھے ان کا سچا ہونا ان کے کام آئے گا‘ ان کو ایسے باغات میں ٹھہرایا جائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اللہ ان سے خو ش ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘
اور یہ کامیابی ان کا مقدر بنے گی جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے اللہ کی مرضی والی اور رسولe کی اطاعت والی زندگی گزاری ہوگی:
﴿اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَۚۖ۰۰۶۲ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا يَتَّقُوْنَؕ۰۰۶۳ لَهُمُ الْبُشْرٰى فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُؕ۰۰۶۴﴾ (يونس)
’’یاد رکھو!اللہ کے دوستوں پر کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔وہ ‘ وہ ہیں جو ایمان لائے اور (برائیوںسے)پرہیز کیے رکھا۔ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی خوش خبری ہے۔اللہ تعالیٰ کی باتیں بدلا نہیں کرتیںاور یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘
دنیا میں رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا خوف دلوں میں بٹھائے رکھنا ‘ حق اور سچ کا ساتھ دینا‘ اس کے بھیجے ہوئے رسولe کی اطاعت کے ذریعے اللہ کی رضا کا متلاشی رہناہمارے لیے حقیقی اور ابدی کامیابی کاضامن ہے اورایک مومن کے سامنے اسی کامیابی کا حصول ہدف زندگی ہونا چاہیے۔

درسِ حدیث
فضائل ومسائل محرم الحرام
فرمان نبویﷺ ہے:
[عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِﷺ يَصُومُهُ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ، صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ، فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ قَالَ: "مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ".] (متفق علیہ)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ جاہلیت کے دور میں قریش عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہe بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے پھر جب آپؐ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو بھی آپ اس دن کا روزہ رکھتے رہے اور صحابہ کرامؓ کو بھی اس کا حکم فرماتے رہے اس کے بعد جب رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو آپؐ نے اختیار دے دیا اور فرمایا: ’’جس کا دل چاہے اس دن کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔‘‘ (بخاری، مسلم)
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اس مہینے سے ہجری سال کا آغاز ہوتا ہے۔ اس ماہ کی عظمت شروع سے مسلّم ہے۔ 10 محرم کا روزہ رسول اللہe نے بھی رکھا اور اپنے صحابہ کو بھی رکھنے کی تاکید فرمائی۔ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو 10 محرم کے روزے کو نفلی قرار دے دیا جو چاہے رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ اس ایک روزے کا بہت زیادہ ثواب ہے۔ سیدنا ابوقتادہt فرماتے ہیں کہ رسول اللہe سے عاشورہ یعنی 10 محرم کے روزے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپe نے فرمایا کہ ’’یہ ایک روزہ، پچھلے ایک سال کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘
یہ بات بھی ذہن نشین کر لی جائے کہ 10 محرم کی اہمیت و فضیلت سیدنا حسینt کی شہادت کی وجہ سے نہیں ہے ان کی شہادت تو دین کی تکمیل کے بعد ہوئی اور آپe کے وصال کے بعد کوئی بڑے سے بڑا واقعہ بھی دین کا حصہ نہیں بن سکتا۔ چونکہ اس دن یہودی سیدنا موسیٰu اور ان کی قوم کی فرعون سے نجات کے سبب شکرانے کا روزہ رکھتے تھے۔ رسول اکرمe نے فرمایا کہ یہود کی مخالفت کرو وہ 10 محرم کا روزہ رکھتے ہیں تم ساتھ 9 محرم کا بھی روزہ رکھو اس کے علاوہ جو باتیں محرم کی فضیلت میں کی جاتی ہیں۔ اکثر بے اصل ہیں مثلاً صدقہ و خیرات کرنا، قبروں کو سنوارنا، کھانا پکا کر غرباء مساکین میں تقسیم کرنا، تعزیہ و دیگر جلوس نکالنا، محافل و مجالس کا انعقاد جن میں اہل بیت کی محبت کی آڑ میں صحابہ کرام] کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔ یہ سب بدعات ہیں۔ تعزیہ کے جلوس میں شرکت کرنا، وہاں پانی کی سبیلیں لگانا اور شرکاء جلوس کے لئے کھانے پینے کا اہتمام کرنا بھی اسی میں شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حق بات سمجھنے، پہچاننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats