فاتح قادیان ... مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ 32-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 31, 2019

فاتح قادیان ... مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ 32-2019


فاتحہ قادیان ... مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ

تحریر: جناب حافظ عبدالاعلیٰ (بریڈ فورڈ)
سرزمین ہندوستان پر جنم لینے والی سب سے مکروہ تحریک قادیانیت پچھلی صدی کا بہت بڑا استعمار کاشتہ پودا ہے جس کا مقصد و ہدف اہل ایمان کے فطری جذبہ جہاد کو بے وقعت کرنا بلکہ مسلمانوں کے دلوں سے نکالنا تھا۔ حالانکہ انگریز جانتاتھا کہ اس قسم کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی کیونکہ فطرت کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔
جب یہ مسموم تحریک دینے بال وپر نکال رہی تھی تو سب سے پہلے اس کی نحوست کو محسوس کرنے والوں میں شیخ الاسلام مجدد ملت علامہ محمد حسین بٹالویa تھے۔ انہوں نے اپنے استاذ حضرت السید نذیر حسین دہلوی نور اللہ مرقدہٗ کی رہنمائی میں سب سے پہلے کفر کافتویٰ تیار کیا۔ پہلے دہلی اور اس کے نواح کے علما کو مرزا قادیانی کے کفر پر متفق کیا پھر انہوں نے سفر کی طنابیں کھینچیں اور ہندوستان کے کونے کونے میں علما و مفتیان‘ مشائخ‘ پیران و سجادہ نشینوں کے پاس پہنچے اور ان سے اس فتوے پر اتفاق حاصل کیا۔ حیرت کی بات ہے کہ وہ چاچڑاں میں بابا غلام فرید سے بھی ملے۔ اس طرح انہوں نے بلا تفریق مسلک سبھی اسلام و شریعت کے ساتھ ہمدردی رکھنے والوں کو اس مسموم تحریک کے اثرات بد سے آگاہ کیا۔ پھراس میں دیگر مکاتب فکر کے علماء بھی شامل ہوتے گئے اور ہر مکتب فکر کے علماء کرام نے مسئلہ ختم نبوت پر کارہائے نمایاں انجام دیے۔ مگر فاتح قادیان کا لقب جس رجلِ عظیم کے حصے میں آیا، ان کو شیخ الاسلام مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسریa کے نام نامی سے یاد کیا جاتا ہے۔
مولانا ثناء اللہ امرتسری a، ایک نابغہ روزگار ہستی تھے۔ آپ بیک وقت مفسرِ قرآن، محدث و مؤرخ، صحافی وادیب، خطیب و مصنف تھے، مگر آپ کی شہرت مناظرِ اسلام کے طور پر ہوئی۔ انہوں نے اسلام کے دفاع میں آریہ، عیسائی، سناتن دھرمی، سکھ نیچری وغیرہ تمام ادیان کے بڑوں سے کامیاب مناظرے کئے۔ مگر قادیانیوں کے خلاف جو عظیم الشان کردار ادا کیا وہ ایک مثال اور تاریخ کی حیثیت رکھتا ہے۔ مرزا قا دیا نی نے انہیں مناظرہ کی دعوت دی جس پر وہ جنوری ۱۹۰۳ء میں قادیان تشریف لے گئے۔ مرزا قادیانی کو اطلاع کروائی کہ آئو اور اپنے جھوٹے دعویٰ نبوت پر مناظرہ کر لو۔ مرزا قادیانی نے مناظرہ سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے کہا: ’’مجھے وحی کے ذریعہ منع کیا گیا ہے کہ ثناء اللہ سے مناظرہ نہیں کرنا۔‘‘
شیخ ا لاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریa نے مرزا قادیانی کی تحاریر و تقاریر کا عقلی و نقلی دلائل سے خوب رد کیا اور کئی کتابیں اس دعویٰ باطل کے خلاف لکھیں۔
مرزا نے مولانا ثناء اللہa سے زچ ہو کر ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ء کو مولانا ثناء اللہa کے ساتھ ’’آخری فیصلہ‘‘ کے عنوان سے ایک اشتہار شائع کیا جس میں مولانا مرحوم کو مخا طب کرتے ہوئے لکھا کہ
آپ اپنے پرچے اہل حدیث میں میری تکذیب و تفسیق کرتے ہیں اور میری نسبت مشہور کرتے ہیں کہ میں مفتری اور کذاب ہوں وغیرہ، تو میں دعا کرتا ہوں کہ جو جھوٹا ہے، وہ سچے کی زندگی میں طاعون یا ہیضہ وغیرہ بیماریوں کے باعث مر جائے۔‘‘ (اشتہار میں اس دعا کو الفاظ بدل بدل کر دہرایا گیا ہے)
مرزا کا دعوت مباہلہ والا اشتہار اس وقت کے کئی رسائل و جرائد کے علاوہ الگ سے بھی شائع و عام ہوا، پھر قدرت نے دکھایا کہ اس اشتہار کی اشاعت کے تھوڑے عرصہ بعد مرزا قادیانی کو ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو لاہور میں اپنے میزبان کے گھر ہیضہ و اسہال کے شدید مرض کی وجہ سے موت کا ذائقہ چکھنا پڑا جبکہ شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریa اس کے چالیس سال بعد ۱۵ مارچ ۱۹۴۸ء کو سرگودھا میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔
یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ مولانا ثناء اللہ امرتسریa برصغیر کی قد آور شخصیت تھے۔ وہ مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کے حامی تھے۔ ۱۹۴۷ء میں امرتسر ان کے گھر پر سکھوں نے حملے کئے، ان کا جوان بیٹا شہید ہو گیا مگر مولانا کو اللہ نے بچا لیا۔ وہ گھر بار سب کچھ امرتسر چھوڑ کر اکیلے لاہور آ گئے، پھر یہاں سے سرگودھا منتقل ہو گئے۔ قیام پاکستان کے ان دنوں میں ہر طرف قتل وغارت گری کا بازار گرم تھا مگر مولانا محفوظ رہے اور پھر ان کی طبعی وفات ہوئی۔ یہ بھی دلیل ہے کہ مرزا قادیانی کے دعائیہ اشتہار پر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی حقانیت اور پیارے رسولe کی ختم نبوت کی لاج رکھنا تھی اور وہ یوں رکھی کہ ختم نبوت کے سپاہی مولانا ثناء اللہ امرتسریa کو سچا ثابت کر کے ان کی زندگی میں ہی مرزا قادیانی کو موت دی۔
اب اللہ ہی اس سے نمٹے گا کیونکہ عالم برزخ کا ایک منظر نامہ قرآن نے یوں کھینچا ہے:
{وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْہِ شَیْئٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ۱ وَ لَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓپکَۃُ بَاسِطُوْٓا اَیْدِیْہِمْ۱ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَکُمْ۱ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوْنِ بِمَا کُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ کُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِہٖ تَسْتَکْبِرُوْنَ٭}
’’اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہیں آئی اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب اللہ نے نازل کی ہے اس طرح کی میں بھی بنا لیتا ہوں۔ کاش! تم ان ظالم لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں اور فرشتے ان کی طرف عذاب کیلئے ہاتھ بڑھا رہے ہوں کہ نکالو اپنی جانیں۔ آج تم کو ذلت کے عذاب کی سزا دی جائیگی اس لیے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھتے تھے اور اس کی آیتوں کے سامنے اکڑتے تھے۔‘‘ (الانعام )
یہ آیت سو فیصد مرزا قادیانی پر فٹ آتی ہے۔ یعنی مرتے ہی اسے رسوا کن عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ہے کوئی آدمی اس سے بچے نکلنے کا تو سوچ بھی نہیں سکتا۔
فاتح قادیان شیخ ا لاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریa جیسے دین حق کے داعیوں کے لیے سورہ حٰم السجدہ میں ارشاد ہوا:
’’بے شک جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے پھر وہ اس پر قائم رہے‘ ان پر فرشتے اتریں گے اور کہیں گے کہ خوف نہ کرو اور نہ غمناک ہو اور جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوش خبری قبول کرو۔ ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی تمہارے رفیق ہیں وہاں جس نعمت کا تمہارا جی چاہے گا ملے گی اور جو طلب کرو گے تمہارے لیے موجود ہوگی۔ یہ غفور رحیم کی میزبانی ہے۔‘‘
اللہ کریم اپنے صالح بندوں کے ساتھ وہی معاملہ فرمائے جس کا اس نے وعدہ کیا ہے۔ گمراہوں کو صحیح راستہ پہچاننے کی توفیق دے تاکہ وہ ناقابل تصور عذاب سے بھی بچ جائیں۔ آمین!


No comments:

Post a Comment