آزادئ کشمیر 32-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 31, 2019

آزادئ کشمیر 32-2019


آزادئ کشمیر

تحریر: جناب مولانا محمد سلیم چنیوٹی
بھارتی جارحیت اور بربریت نے دنیائے عالم کو اپنی ہٹ دھرمی اور انانیت کی طرف متوجہ کیا ہوا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی جس ڈھٹائی سے تحریک آزادئ کشمیر کو کچلنا چاہ رہا ہے وہ جس طرح کشمیریوں کے جذبات‘ ان کے ایمانی حرارت والے کارناموں اور غیرت مسلم سے لبریز ولولوں کو کچل کر نام نہاد بھارتی نعرے ’’کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ‘‘ کو گنگنا رہا ہے۔ الحمد للہ! اس نعرے کو اتنا ہی آج کشمیری نوجوان غلط ثابت کر رہے ہیں۔
تحریک آزادئ کشمیر کی چنگاری کو آج کشمیری اپنے خون سے سینچ رہے اور کشمیری بچے‘ بوڑھے اور عورتیں انڈین پیلٹ گنوں اور مرچوں سے بھری گولیوں سے اپنی آنکھیں متاثر کروا کر اس تحریک کو طاقت ور بنا رہے ہیں۔
سینکڑوں کی تعداد میں کشمیر میں شہادتیں ہو رہی ہیں‘ ہزاروں پر گولیاں برسا کر انہیں زخمی کر کے ہسپتالوں میں داخل کر دیا گیا ہے۔ کئی ایک کی بینائی چھین لی گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان نے کشمیریوں کی بھر پور حمایت کر کے مسئلہ کشمیر اجاگر کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو تصویری دستاویز بھی پیش کر کے بھارتی ظلم وتشدد سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ سپر پاور کہلانے کے دعوے دار امریکیوں کو بھی بھارتی ڈھٹائی سے آگاہی کروا دی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے ثالثی کا بیان آچکا ہے۔ اس کے جواب میں بھارتی بوکھلا گئے ہیں۔ ترکی‘ چین اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے پاکستانی موقف کی حمایت کر دی ہے۔ بھارتی فوج اور اس کے نام نہاد غنڈے آئے روز پاکستانی سرحدوں پر فائرنگ کر کے منہ کی کھا رہے ہیں۔ افواج پاکستان کے بہادر سپہ سالار جناب جنرل راحیل شریف اور پاکستانی پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں‘ قومی وفوجی اداروں کے سربراہان نے یک جہتی کے مظاہرے دکھا کر آزادئ کشمیر کے لیے ایک مضبوط بنیاد مہیا کر دی ہے۔
نریندر مودی اپنی انانیت اور عالمی توجہ کو منتشر کرنا چاہ رہا ہے۔ کبھی بلوچستان کی باتیں شروع کی جاتی ہیں‘ کبھی آزاد کشمیر کی باتیں کرتا ہے اور کبھی پاکستان کی دہشت گردی کو موضوع بنانے کی باتیں دہرا دی جاتی ہیں۔
حالانکہ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے‘ جھوٹ اور کذب بیانی اس کا وطیرہ رہا ہے۔ پاکستان خصوصاً کوئٹہ میں اس نے کئی بار خون کی ہولی کھیلی جس میں درجنوں وکلاء‘ درجنوں پولیس جوان اور بیسیوں افراد شہید ہو گئے۔ کراچی اور کوئٹہ میں آئے روز نادیدہ ہاتھ اسی بھارت کے ہی ہیں جو مسئلہ کشمیر کو دبانے اور آزادئ کشمیر کی تحریک کو ٹھنڈا کرنے کی ناپاک جسارت کرتے ہیں۔
عالمی امن کے ٹھیکیدار چپ سادھے رہتے ہیں۔ اس ظلم وبربریت کو نہ ان کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں اور نہ وہ بھارت کو اپنا احتجاج ہی ریکارڈ کرانے کی سکت رکھتے ہیں‘ کہیں یہ بات تو نہیں کہ ’’کافر کافر کا یار ہے۔‘‘
۱۱/۹ کا امریکی ویہودی ڈرامہ رچایا گیا تو مسلمانوں پر ان کا عتاب دیدنی تھا۔ افغانستان کے مسلمانوں کو کچلنے کے لیے اسامہ بن لادن پر الزام سے اس نے بھر پور طاقت استعمال کی اور لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا گیا۔ لاکھوں گھر مسمار کیے گئے۔ ہزاروں خاندانوں میں نبرد آزما رہنے کے بعد امریکی واپس لوٹے تو اسامہ بن لادن کی جھوٹی ہلاکت کا ڈرامہ ایبٹ آباد میں کھیل کر اس ناٹک کا خاتمہ کر دیا گیا جسے ساری دنیا نے امریکی جگ ہنسائی قرار دیا۔
اب جبکہ کافروں کو خونِ مسلم پینے کی عادت ہو چلی ہے‘ اگر خود نہ سہی تو کسی دوسرے کافر کے ذریعے ہی سہی وہ بھارتی ’’درندگی‘‘ جو وہ کشمیریوں سے کر رہا ہے اس پر سب خاموش ہیں۔
انڈیا کے اندر اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان مخالف مودی حکومت کی ہر چالبازی کی مذمت ہو رہی ہے۔ سکھوں اور دلت ذات کے ہندوؤں نے اپنے اپنے علاقے کی آزادی کے لیے تگ ودو شروع کر دی ہے۔ بھارتی سیاست دانوں نے مودی کی مذمت اور اس کی سیاست کو رد کر دیا ہے۔
ادھر پاکستان میں بھارتی جاسوسوں کا جال بچھانے کی کوشش بھی ہو رہی ہے۔ کلبھوشن جیسے جاسوس کی گرفتاری اور اس کے بعد مزید گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آرمی چیف کا کومبنگ آپریشن بھی جاری ہے۔ اس کے ذریعے ملک دشمنوں کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں غداروں اور ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی بھی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے کہ ہمارے فوجی ذمہ داران اس سے غافل نہیں ہیں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تمام قومی قیادت کا مضبوط مؤقف یقینا آزادئ کشمیر کی تحریک کو مہمیز دے گا۔ اللہ سے امید ہے کہ کشمیریوں کی یہ تحریک آزادی اب ضرور کامیاب ہو گی۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے اندر سیاست کے نام پر نا پختہ سیاسی مداریوں کو اپنے ڈرامے بند کر دینے چاہئیں۔ ایک طرف پوری پاکستانی قوم کی امیدیں اپنی بہادر مسلح افواج کی طرف لگی ہوئی ہیں اور دوسری طرف سیاسی مداریوں کی دکانیں ہیں جو اپنی جعل سازیوں اور عوامی درد سے خالی خولی نعرے سے ویران پڑی ہیں۔ یہ وقت ہے ملک وملت کے دفاع کا‘ کشمیریوں اور ان کی قیادت سے ہمدردی وغم گساری کا۔ سب سیاست دان‘ سماجی ورکر‘ فلاحی تنظیمیں‘ دینی ومذہبی جماعتیں اور رہنما اس وقت اتحاد واتفاق کے مظاہر دکھائیں۔ تلاطم خیز موجوں سے کھیلنے کی تیاری کریں کہ   ؎
ارادے جن کے پختہ ہوں‘ نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے
جنگیں لڑنا کسی مسئلے کو حل کرنے کا طریق تو نہیں ہیں مگر جب جنگ جیسی صورت حال ہو جائے اور وطن عزیز کو جنگ جیسے چیلنجز سے واسطہ پڑ جائے تو پھر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح قومی مضبوطی ضروری ہو جاتی ہے۔ باہمی اتحاد واتفاق‘ الفت ویگانگت سے ہی اللہ تعالیٰ کی نصرت آیا کرتی ہے۔
پاکستانی فوجیوں کے حوصلے الحمد للہ بلند ہیں‘ ساری قوم ۱۹۶۵ء والے جذے سے سرشار ہونی چاہیے۔ اقوام عالم اور امت مسلمہ کے رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ جھوٹ کے بادشاہ بھارت کی ہٹ دھرمی کو بھی دیکھیں اور کشمیری تحریک آزادی کو بھی دیکھیں کہ اسی سے پاکستان وبھارت کے علاقائی امن کی گارنٹی دی جا سکتی ہے۔ وگرنہ حالات کی تمام تر ذمہ داری کی گارنٹی نہیں دی جا سکے گی اور ایک وسیع وعریض جنگ کے سائے دوسرے ممالک تک بھی جا سکتے ہیں۔


No comments:

Post a Comment