طب وصحت ... الرجی 32-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 31, 2019

طب وصحت ... الرجی 32-2019


طب وصحت ... الرجی

تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی
جن چیزوں کو جدید تحقیقات سے موسوم کیا جاتا ہے ان میں ایک الرجی (ALLERGY) ہے۔ الرجی ایک ایلوپیتھی اصطلاح ہے جس کا اردو ترجمہ زود حسی کیا جا سکتا ہے۔ الرجی کسی فرد کو کسی خاص چیز سے حساسیّت ہے یعنی بعض لوگوں کو بعض چیزیں ناموافق ہوتی ہیں اور ان کے استعمال سے فائدہ کی بجائے نقصان ہوتا ہے۔ حالانکہ دیگر افراد کے لیے وہ کسی نقصان کا باعث نہیں ہوتیں اور ان چیزوں میں بھی کوئی خرابی نہیں ہوتی بلکہ یہی چیزیں دوسرے افراد کے لیے مفید ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر انڈا جو غذائیت سے بھرپور اور اکثر لوگوں کے لیے مفید ہے مگر بعض لوگوں کو انڈا کھانے سے دمہ کی سی کیفیت ہو جاتی ہے۔ اسی طرح تپ کا ہی جو زرگل سے حساسیت کے سبب ہو جاتا ہے اس کی مثال ہے۔ مزید ایگزیما، جسم پر دھپڑ، نزلہ، زکام، چھینکیں، سوجن و دیگر بہت سی شکایات الرجی کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔ الرجی جسم کے کسی بھی حصے پر اثر انداز ہو سکتی ہے، مثال کے طور پر ایک صاحب کو ائیر کنڈیشنر سے الرجی ہے، وہ باہر صحت مند رہتے ہیں مگر دفتر پہنچتے ہی ائیر کنڈیشنر کا ماحول ان کو نزلہ زکام میں گھیر لیتا ہے اور ناک سے پانی بہتا ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگ جو سڑک پر آنے سے گردوغبار کے باعث چھینکوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ناک سے پانی آنے لگتا ہے۔
الرجی کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ ہم اکثر اوقات بعض ناپسندیدہ باتیں سننے پر مجبور ہوتے ہیں جس سے جسم میں اشتعال پیدا ہوتا ہے لیکن ہم اس ناپسندیدگی کا اظہار بھی نہیں کر سکتے۔ اس سے جسم میں گھٹن اور انتقامی جذبہ ابھرتا ہے اور ہیجان پیدا ہوتا ہے۔ اس سے جسم میں ہسٹامین (Histamine) نامی کیمیائی مادہ پیدا ہوتا ہے جو الرجی میں شدت کا باعث بنتا ہے اور آہستہ آہستہ ایسے لوگ اس قدر زود حِس ہو جاتے ہیں کہ معمولی سے معمولی بات الرجی کا باعث بن جاتی ہے۔ الرجی کو خلاف مزاج کے لفظ سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے جس طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ فلاں شے میرے موافق نہیں، یہی ناموافقت الرجی ہے۔ الرجی کی اصطلاح نے وباء کی سی صورت اختیار کر لی ہے اور اس کا موقع بہ موقع استعمال ماڈرن ہونے کا مظہر بن گیا ہے، کسی قسم کی تکلیف ہوئی فوراً کہہ دیا الرجی ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ الرجی الرجن یعنی حساسیت پیدا کرنے والی اشیاء کا ردعمل ہوتی ہے۔ الرجن ایسی اشیاء کو کہا جاتا ہے جن سے کوئی شخص حساس ہوتا ہے۔ عام الرجن میں مختلف اشیاء زرگل، حشراب الارض یعنی کیڑے مکوڑوں کا کاٹنا یا جلد پر ملا جانا، ان کے بال، بعض اشیاء کا استعمال یا ان کی خوشبو، گردوغبار کی دھونس، کیمیائی اجزاء، بعض دھاتیں اور بعض غذائیں جن میں انڈا، مچھلی، گوبھی، پالک اور آلو شامل ہیں۔ سب سے زیادہ عام الرجن مکانات کی گرد جو چادروں، پردوں، قالینوں میں ہوتی ہے اس سے حساس فرد کو چھینکیں شروع ہو جاتی ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی، فضائل آلودگی بھی عام الرجن ہے۔ کچھ لوگوں کو گرمی اور ٹھنڈک سے الرجی ہوتی ہے۔ جب ان کا ہاتھ ٹھنڈے یا گرم پانی میں جاتا ہے تو سوج جاتا ہے۔ الرجی ایک یا ایک سے زیادہ اشیاء سے بھی ہو سکتی ہے۔
بعض لوگ مختلف رنگوں سے الرجک ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ کی ملکہ الزبتھ سرخ رنگ سے الرجک تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس تقریب میں انہیں جانا ہو وہاں اس بات کا خیال رکھا جاتا تھا کہ کوئی چیز سرخ نہ ہو یہاں تک کہ گلاب کی سرخ پتیاں تک نچھاور نہ کی جائیں۔ 1960ء میں جب وہ پاکستان کے دورے پر آئیں تو جن راستوں سے ان کو گزرنا تھا ان راستوں سے سرخ عمارتوں کا رنگ تبدیل کر دیا گیا اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ گلاب کی پتیاں نہ نچھاور کریں۔
الرجی سے ہمارا واسطہ مختلف ذرائع مثلاً غذا، سانس اور جلد کے ذریعے ہوتا ہے۔ الرجی کی علامات عام طور پر ان حصوں پر ظاہر ہوتی ہیں جو مرض سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں مثلاً زرگل کا زیادہ اثر ناک، آنکھ اور سانس کی نالی پر ہوتا ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء سے الرجی کی صورت میں ہونٹ سوج جاتے ہیں، معدہ خراب ہوتا ہے اور جسم پر دھپڑ بن جاتے ہیں۔ دھاتی اشیاء سے الرجی کی صورت میں جلد متاثر ہوتی ہے اور چکنے پڑ جاتے ہیں۔ اگر غذا میں الرجن شامل ہو جائے تو دمہ یا ایگزیما وغیرہ ہو جاتے ہیں۔ الرجی کی ایک صورت دھاتی زیورات ہیں، ایسی صورت میں جلد پر چھالے پڑ جاتے ہیں اور خارش ہوتی ہے۔ آنکھوں میں الرجی کی صورت میں آنکھوں کے سفیدے میں خارش اور جلن ہوتی ہے اور پانی بہتا ہے۔ الرجی کے مریض بچوں سے لے کر بوڑھوں تک سبھی ہوتے ہیں۔ بعض لوگ اسے نازک مزاجی کہہ کر ٹال دیتے ہیں مگر یہ ایک مرض ہے جو شاعری کی طرح انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ الرجی کا شکار لوگوں کو الرجک کہتے ہیں۔
اسباب:    اس کا جواب ہنوز نہیں مل سکا کہ بعض لوگوں کو بعض اشیاء سے الرجی کیوں ہوتی ہے تاہم اس حوالے سے جسم کا دفاعی نظام خاص کردار ادا کرتا ہے۔ یہ دفاعی نظام ضد اجسام (Anti Body) پیدا کرتا ہے اور بیرونی اجزاء سے مقابلہ کرتا ہے، اس کے علاوہ مختلف افراد میں وجوہ مختلف ہوتی ہیں۔
علاج:     (Anti Allergy) (انٹی الرجی) ادویہ وقتی سکون دیتی ہیں، یہ علاج نہیں بلکہ مرض سے سکون کی تدابیر ہیں۔ اصل حل یہ ہے کہ الرجن حساسیہ سے بچا جائے‘ اگر الرجی ہو جائے تو غذا کا تجزیہ کیا جائے، غذا میں حسائیت کے لیے معروف اشیاء ایک ایک کر کے ترک کر دیں، اس طرح اندازہ ہو جائے گا کہ کس چیز سے الرجی ہے۔
الرجی کا مرض آئے روز بڑھ رہا ہے اور اس کی بڑی وجہ نقص تغذئیہ، فضائی آلودگی، ذہنی دباؤ کے باعث جسم کے مدافعتی نظام کا کمزور ہونا ہے۔ جسم کے مدافعتی نظام یعنی قوت حیات (Vital Forcer) کو مضبوط کیا جائے اور صحیح تدابیر اسی وقت ممکن ہیں جب الرجک کی الرجن کا صحیح اندازہ ہو جائے۔ نیز اس امر کی کوشش کی جائے کہ جسم کے ان اعضاء معدہ و جگر کی اصلاح کا اہتمام کیا جائے جو کسی چیز کو صحیح قبول نہیں کرتے اور الرجی ہو جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ان اشیاء میں کوئی نقص نہیں ہوتا بلکہ جسم میں ایسا کوئی نقص ہوتا ہے جس سے الرجی ہوتی ہے۔


No comments:

Post a Comment