قرآن کریم شفاء ہے 32-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, August 31, 2019

قرآن کریم شفاء ہے 32-2019


قرآن کریم شفاء ہے

تحریر: جناب ڈاکٹر عبدالغفور راشد
قرآن مجید شفاء ہے بلکہ رحمت اور ہدایت بھی ہے۔ اس میں انسان کی روحانی‘ جسمانی اور عمرانی بیماریوں کا علاج وشفاء موجود ہے اور شفاء بھی ایسی کہ اگر انسان کو میسر آ جائے تو وہ اس قدر تندرست وتوانا ہو جاتا ہے کہ اسے دنیا وآخرت میں کسی علت وقلت‘ حزن وملال اور مرض وحرج کا اندیشہ نہیں رہتا۔ مگر شرط یہ ہے کہ اس کا اپنے خالق حقیقی کی قدرت کاملہ پر ایمان وایقان اورا عتماد وتوکل ہو۔ یہی نہیں بلکہ اس کی قائم کردہ حدود وقیود کا پابند اور مأمورہ وممنوعہ امور کا پاسدار ہو۔ پھر بلاشبہ قرآن مجید اس کے لیے شفاء کے ساتھ رحمت وہدایت بھی ہو گا۔
 کتاب ہدایت:
قرآن مجید اپنے دامن میں اتنے علمی خزانے سمیٹے ہوئے ہے کہ اس کی غوطہ زنی کرنے والا کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں پلٹتا کیونکہ اس میں زندگی کی تمام کٹھنائیوں کی راہ نمائی اور تمام رعنائیوں کا جلوہ موجود ہے۔ لیکن اسے کسی ایک علم وفن کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ جیسا کہ کوئی اس کو میڈیکل سائنسز یا طبی علوم کا نام دے دے‘ کوئی اس کا موازنہ سائنسی ضروریات وایجادات کے ساتھ کرنے بیٹھ جائے۔ یا کوئی فلکی وارضی‘ بری وبحری اور فضائی وسماوی جہتوں سے موسوم کر دے۔ یہ تو بے مثال قرآن ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ ان تمام علوم وفنون سے اعلیٰ وبالا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے کتابِ ہدایت کا نام دیا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ}
’’یہ کتاب (وہ ہے) جس میں کوئی شک نہیں‘ پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔‘‘ (البقرہ: ۲)
اس آیت کریمہ کا ترجمہ ومفہوم واضح طور پر بتا رہا ہے کہ یہ کتاب ہدایت ہے اور اس سے فائدہ ان لوگوں کو پہنچتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے پیغمبر آخر الزمانe کی ختم المرسلینی پر کامل یقین اور دلوں میں سمع وطاعت کا سچا جذبہ رکھتے ہیں۔ خالقیت کے مقام اور عبدیت کی حیثیت سے آشنا ہیں۔ حلت وحرمت کے پاسدار ہیں‘ ممنوعات ومنہیات کے پابند ہیں۔ عمرانی قدروں اور سماجی رشتوں کے حقوق وفرائض سے باخبر ہیں۔ وہی تو ہیں پرہیز گار اور متقی انسان جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے کتاب ہدایت نازل کی ہے جو تمام قسم کے شکوک وشبہات اور اوہام سے منزہ وپاک ہے۔ اسی کتاب ہدایت میں تمام جہانوں کے لیے نصیحت کا سامان کر دیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَ مَا ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ} (القلم: ۵۲)
’’درحقیقت یہ قرآن تو تمام جہانوں کے لیے سراسر نصیحت ہے۔‘‘
دوسری جگہ فرمایا:
{اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ} (التکویر: ۴۷)
’’یہ تو تمام جہانوں کے لیے نصیحت ہے۔‘‘
یہ سچی کتاب تمام جن وانس کے لیے اپنے اندر نصیحت وموعظت کے خزانے رکھتی ہے۔ اب جو فرد بھی ان خزانوں سے مستفید ہو گا اور اپنے اندر پرہیز ومدافعت کی قوت پیدا کرے گا اس پر خداوند قدوس کی رحمت کی برکھا برسے گی اور اسے تمام آلائشوں‘ علتوں اور بیماریوں سے شفاء ملے گی۔
 بیماری اور علاج:
ہر مسلمان یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ بیماری اور شفاء‘ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ دنیا میں کوئی ایسی بیماری نہیں کہ جس کا علاج نہ ہو۔ اس نے اگر بیماری پیدا کی ہے تو اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد نبویe ہے:
[عن أبی ہریرۃ عن النبی ﷺ أنہ قال: ’مَآ اَنْزَلَ اللَّہُ دَائً إِلَّا اَنْزَلَ لَہٗ شِفَآئً‘] (بخاری)
سیدنا ابوہریرہt نبی اکرمe سے بیان کرتے ہیں کہ آپe نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نازل نہیں کی مگر اس کی شفاء بھی نازل فرمائی ہے۔‘‘
[وفی صحیح مسلم من حدیث جابر بن عبداللہ+ قال: قال رسول اللہﷺ: ’لِکُلِّ دَائٍ دَوَائٌ، فَإِذَا اُصِیبَ دَوَائُ الدَّائِ بَرَاَ بِإِذْنِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔‘]
اور صحیح مسلم میں سیدنا جابر بن عبداللہt کی روایت ہے‘ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’ہر بیماری کی دواء ہے اور جب دواء بیماری تک پہنچ جاتی ہے تو پھر اللہ کے حکم سے شفاء مل جاتی ہے۔‘‘
اسی طرح مسند احمد میں اسامہ بن شریک کی روایت ہے:
[قالﷺ: ’إن اللہ لم ینزل داء إلا نزل لہ شفاء أو دواء إلا داء واحد‘۔ قالوا: یا رسول اللہ! ما ہو؟ قال: ’الہرم‘] (قال الترمذی: ہذا حدیث صحیح)
’’آپe نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں کی جس کے لیے شفاء نہ بھیجی ہو۔ لفظ دواء یا شفاء‘ مگر ایک بیماری۔‘‘ آپe سے سوال ہوا کہ وہ کونسی؟ تو آپe نے فرمایا: ’’بڑھاپا۔‘‘ (امام ترمذی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔)
 بڑھاپا لا علاج بیماری ہے:
جیسا کہ اوپر بیان کی گئی روایت میں واضح کر دیا گیا ہے کہ دنیا میں ہر بیماری کا علاج موجود ہے مگر بڑھاپے کا نہیں۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ بڑھاپے اور ضعیفی میں انسان کا نظام ہضم بہت کمزور ہو جاتا ہے اور جب خوراک ہی مناسب طور پر ہضم نہیں ہو گی اور بقدر ضرورت خون ہی پیدا نہیں ہو گا تو طاقت کہاں سے آئے گی۔ نظام ہضم کے ساتھ انسان کی قوت مدافعت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ جس سے انسان اپنے اوپر ہونے والے آفاتی حملوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور پھر ممد ومعاون اور مقوی ادویہ سے کب تک وہ قوت اور طاقت حاصل کر سکتا ہے کیونکہ جو شباب چلا گیا اور جوانی رخصت ہو گئی اسے ہزار جتن اور لاکھوں دواؤں سے واپس نہیں لایا جا سکتا۔
اسی بڑھاپے‘ ضعیفی‘ نکمی حیات‘ ناکارہ زندگی اور ارذل عمری کا تذکرہ قرآن مجید میں اس طرح کیا گیا ہے:
{وَ اللّٰہُ خَلَقَکُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰیکُمْ۱ وَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰٓی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْـًا۱ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ} (النمل: ۷۰)
’’اور اللہ نے تمہیں پیدا کیا پھر تمہیں فوت کرتا ہے اور تم میں کوئی ہے جو سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تا کہ وہ جان لینے کے بعد کچھ نہ جانے‘ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
انسانی زندگی کے کئی مدارج ہیں۔ بچپن‘ لڑکپن‘ جوانی]‘ کمال قدرت کو پہنچنا‘ ادھیڑ عمر اور پھر ارذل العمر‘ مگر اس آیت کریمہ میں صرف بچپن اور نکمی عمر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں عمروں میں انسان اپنی طبعی عقل وخرد سے محروم ہو جاتا ہے اور بالخصوص عمر کا وہ آخری حصہ جو انتہائی کمزور اور نکما ہے جس سے رسول اکرمe نے بھی اللہ کی پناہ طلب کی۔ اس سے ہم سب کو پناہ مانگنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ فرمائے۔ آمین!
 بیماری‘ علاج اور پرہیز:
ماہرین طب‘ جید حکماء اور مستند معالجین نے مریض کے لیے تین بنیادی اصول بیان کیے ہیں۔ بچاؤ‘ حفظان صحت اور نقصان دہ مادہ کا باہر نکالنا۔ جب تک مریض بچاؤ کے اسباب اختیار نہ کرے‘ حفظان صحت کے اصول کے پیش نظر مضر اشیاء سے پرہیز نہ کرے اور جسم سے نقصان دہ اور زہریلے مادہ کو نکال باہر نہ کرے اور ڈاکٹر یا حکیم کی ہدایات کے مطابق دوا استعمال نہ کرے تو اس کی صحتیابی کا کوئی امکان نہیں اور پھر اس کے ہاتھ میں یا اس کی جیب میں کسی مستند حکیم یا ماہر معالج کا نسخہ موجود ہو‘ وہ کسی بڑے میڈیکل سٹور‘ وسیع فارمیسی اور بڑی دوا ساز فیکٹری میں موجود ہو اسے تب تک فائدہ نہیں پہنچے گا جب تک وہ دوائی نہ کھا لے اور حفظان صحت کے اصولوں پر کاربند نہ ہو جائے۔
بالکل اسی طرح قرآن مجید بھی شفاء بخش تب ہو گا جب کوئی صاحب ایمان اور طالب حق مکمل پرہیزگاری اختیار کرے گا۔ برائیوں سے اجتناب کرے گا‘ فاسد عقائد سے دور رہے گا اور صدقِ دل سے قرآن مجید سے مستفید ہو گا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا}
’’اور ظالموں کے تو خسارے میں اضافہ ہوتا ہے۔‘‘
دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:
{قُلْ ہُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ہُدًی وَّ شِفَآئٌ}
’’کہہ دیجیے! وہ ایمان والوں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔‘‘ (فصلت: ۴۴)
اور مزید فرمایا:
{یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآئَتْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ شِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ۱ وَ ہُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ} (یونس: ۵۷)
’’اے لوگو! تمہارے رب کی طرف سے موعظت تمہارے پاس آچکی ہے اور شفاء ہے اس کے لیے جو تمہارے سینوں میں ہے اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔‘‘
اسی ضمن میں ایک اور بہت بڑی اور واضح دلیل جو قرآن مجید کی جبین ناز پر درخشاں ہے:
’’یہ کتاب وہ ہے جس میں کوئی شک نہیں‘ پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔‘‘
’’اور پرہیز گار بھی وہ
’’1 جو غیب پر ایمان لاتے ہیں 2 نماز قائم کرتے ہیں 3 ہمارے دیئے ہوئے میں سے خرچ کرتے ہیں 4 جولوگ ایمان لاتے ہیں اس پر جو آپe کی طرف اتارا گیا اور جو آپe سے پہلے اتارا گیا اور 5 وہ آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔یہی لوگ ہیں اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر اور یہی لوگ فلاح ونجات پانے والے ہیں۔‘‘ (البقرہ: ۳-۵)
طہارت وصالحیت‘ ایمان وایقان‘ صوم وصلوٰۃ اور عمل ومحنت کے بغیر تو اس کتاب مجید کا مطالعہ بھی فائدہ نہیں دیتا۔ نکتہ داں اس سے نکتہ وری کر لیتا ہے‘ حیران کن سوالات ڈھونڈ لیتا ہے اور وہ علمی احتمالات میں سرگرداں تو ہو جاتا ہے مگر اسے ذہنی بالیدگی‘ قلبی پاکیزگی اور نفسانی طہارت نصیب نہیں ہوتی۔
قرآن مجید کی تعلیمات سے مکمل شفاء یابی اور کامل صحتیابی کے لیے ضروری ہے کہ مفاسد سے بچا جائے‘ نواہی سے پرہیز کیا جائے اور زہریلے افکار ونظریات کو اپنے دل ودماغ سے نکال باہر کیا جائے۔ کامل یکجہتی اور حضور قلبی کے ساتھ اس کی پاکیزہ تعلیمات سے استفادہ کیا جائے۔
 قرآن مجید میں پرہیز کی ترغیب:
قرآنی ارشادات اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بعض فرائض وواجبات موقوف اور مؤخر ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَ اِنْ کُنْتُمْ مَّرْضٰٓی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ اَوْ جَآئَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآپطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآئَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآئً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا} (النساء: ۴۳)
’’اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو۔‘‘
تندرست آدمی کی خوراک اور احکام مختلف ہیں اور بیمار آدمی کی خوراک اور احکام مختلف ہیں۔ بیماری میں اس جیسی خاص حالت میں احکام وفرائض اور ذمہ داریوں میں کمی آجاتی ہے جیسا کہ اوپر بیان کردہ آیت کریمہ میں واضح ہے۔ اسی طرح ابوداؤد میں ایک روایت بیان کی گئی ہے:
سیدنا جابرt روایت کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں تھے کہ پتھر لگنے سے ایک شخص کا سر زخمی ہو گیا اور اسے احتلام بھی ہو گیا‘ اس نے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا مجھے تیمم کی رخصت ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں‘ تمہیں غسل کرنا ہو گا۔ اس نے غسل کیا اور وہ وفات پا گیا۔ جب ہم حضور اقدسe کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپe کو جب سارے معاملے کا پتہ چلا تو فرمایا:
[قتلوہ قتلہم اللہ ألا سألوہ إذ لم یعلموا فإنما شفاء العمی السؤال إنما کان یکفیہ أن یتیمم ویعصر -أو یعصب، شک الراوی- علی جرحہ خرقۃ ثم یمسح علیہا ویغسل سائر جسدہ۔] (أبوداؤد: ۳۳۶)
آپe نے بغیر علم کے فتویٰ دینے پر انہیں قتل کا ذمہ دار قرار دیا اور علم نہ ہونے پر سوال نہ کرنے کو بھی سراسر جہالت قرار دیا۔
تندرست آدمی پر احتلام کی صورت میں غسل واجب ہے لیکن زخمی اور بیمار کی صورت میں تیمم کی اجازت ہے اور غسل موقوف ہو جاتا ہے۔ اس واقعہ میں زخمی شخص نے غسل سے پرہیز کیا ہوتا تو موت واقع نہ ہوتی۔
 مرض میں سیدنا خلیل اللہ کا نرالا انداز:
ہمارے ہاں عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ جب کسی شخص کو تکلیف پہنچتی ہے یا اسے کوئی مرض لاحق ہوتا ہے تو وہ شدت تکلیف سے مرض کو برا بھلا کہتا ہے۔ اصولی طور پر اسے ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ مرض اور شفاء‘ بیماری اور صحت اور تکلیف وراحت دونوں اللہ کی جانب سے ہیں۔ اس لیے ان کو برا بھلا نہیں کہنا چاہیے۔ بلکہ اسے چاہیے کہ مشکل میں صبر کرے اور اللہ تعالیٰ سے شفاء‘ صحت اور راحت طلب کرے۔ جس طرح انبیاء کرامo اور سلف صالحین کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابراہیم خلیل اللہu نے تو اس سے بھی زیادہ خوبصورت اور نرالا انداز اختیار کیا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
{وَ اِذَا مَرِضْتُ فَہُوَ یَشْفِیْنِ}
’’جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفاء بخشتا ہے۔‘‘
اس کلام میں سیدنا خلیل اللہu کا اسلوب یہ ہے کہ شفاء کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور بیماریوں کو اپنی طرف منسوب کیا ہے۔ کہ بیمار ہم ہوتے ہیں یہ ہمارے عدم احتیاط اور عدم پرہیز کی وجہ سے‘ یا یہ کہ اس کی وجہ خوراک کی کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن شفاء اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یقینا وہی شفاء دیتا ہے۔ بیمار میں ہوتا ہوں اور شفاء مجھے وہ دیتا ہے۔ اللہ اور بندے کے متعلق اور بھی کئی خوبصورت مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔
 جادو کا علاج:
عظیم مفسر قرآن عبداللہ بن عباسw بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمe سخت بیمار ہوئے تو آپe کے پاس دو فرشتے آئے۔ ایک آپe کے سر کے پاس بیٹھا اور دوسرا پیروں کی طرف۔ جو پیروں کی طرف بیٹھا ہوا تھا اس نے اس فرشتے سے کہا جو سر کے پاس تھا کہ آپ کو کیا محسوس ہوتا ہے؟ اس نے کہا کہ تکلیف ہے‘ وہ کہنے لگا کہ کیا تکلیف ہے؟ تو اس نے کہا کہ جادو ہے۔ اس فرشتے نے کہا کہ کس نے جادو کیا ہے؟ اس فرشتے نے کہا کہ لبید بن اعصم یہودی نے کیا ہے۔ وہ فرشتہ کہنے لگا کہ کس جگہ ہے؟ کہا کہ وہ فلاں خاندان کے کنویں میں پتھر کے نیچے ہے۔ ایک بالوں کے جوڑے میں۔ چنانچہ وہاں جاؤ اور اس کا پانی نکالو اور پتھر کو اٹھا کر اس جادو والی چیز کو جلا دو۔ چنانچہ صبح ہوئی تو حضور u نے عمار بن یاسرw کو ایک جماعت کے ساتھ اس کنویں کے پاس بھیجا تو اس کا پانی مہندی کی طرح سرخ ہو رہا تھا۔ چنانچہ انہوں نے پانی نکالا اور پتھر کو اٹھا کر اس جادو کردہ چیز کو نکال کر جلا دیا۔
اس میں ایک دھاگے کا ٹکڑا تھا جس میں گیارہ گرھیں تھیں۔ ان پر یہ دونوں سورتیں یعنی: {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} اور {قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ} نازل ہوئیں۔ چنانچہ جب اس پر ان سورتوں میں سے ایک ایک آیت پڑھنا شروع کی تو ایک ایک گرہ کھل گئی۔ (ان دونوں سورتوں کی گیارہ آیات ہیں) اس روایت کو امام بیہقیa نے حضرت کلبیa اور حضرت ابوصالحa کے حوالے سے دلائل النبوۃ میں بیان کیا ہے۔ (تفسیر سورۂ الفلق‘ ابن عباس)
ان دو سورتوں کی اور بھی بہت سارے فضائل ہیں۔ ان کے ساتھ سورۂ اخلاص کو ملا کر رسول اکرمe ہر نماز کے بعد ایک ایک مرتبہ‘ جبکہ فجر اور مغرب کی نماز کے بعد تین تین مرتبہ پڑھا کرتے تھے۔ بلکہ سونے سے پہلے پڑھنے کا بھی آپ کا معمول تھا۔ ان ہی معوذتین کو پڑھ کر سیدہ عائشہ صدیقہ r آپe کے مرض الموت میں آپe کو دم کیا کرتی تھیں۔ (صحیح بخاری)
 موذی چیز کے کاٹے کا علاج:
سیدنا ابوسعید خدریt فرماتے ہیں کہ ہم اپنے سفر میں تھے کہ راستے میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا تو ایک لڑکی آئی اور کہنے لگی‘ قبیلے کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ہے اور ہمارے لوگ غائب ہیں۔ کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ چنانچہ اس کے ساتھ ایک آدمی گیا جس کے متعلق ہمیں دم کرنے کا گمان نہیں تھا۔ اس نے اسے دم کیا تو وہ تندرست ہو گیا۔ سردار نے اسے تیس بکریاں دینے کو کہا اور ہمیں دودھ پلایا۔ جب وہ واپس آیا تو ہم نے پوچھا‘ کیا تم اچھی طرح دم کر لیا کرتے تھے؟ اس نے کہا نہیں۔ میں نے صرف ام الکتاب (فاتحہ) سے دم کیا ہے۔ ہم نے کہا: جب تک ہم رسول اللہe کے پاس نہ پہنچیں کچھ نہ کرو۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو ہم نے رسول اکرمe سے ذکر کیا تو آپe نے فرمایا: ’’اسے کیسے معلوم ہوا کہ یہ دم ہے؟ بکریاں تقسیم کر لو اور میرا حصہ بھی رکھو۔‘‘ (بخاری‘ باب فضل سورۂ فاتحہ: ۵۰۰۷)
صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس قبیلے نے مہمان نوازی سے انکار کر دیا تھا لہٰذا بکریوں کی شرط رکھی گئی اور یہ بھی ہے کہ دم کرنے والے سیدنا ابوسعید خدریt خود تھے۔
 پاگل پن کا علاج:
خارجہ بن صلت کے چچا (علاقہ بن محار تمیمی) بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہe کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا اور واپس آگئے تو ان کا گذر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے پاس ایک پاگل آدمی لوہے کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کے گھر والے کہنے لگے کہ تمہارا ساتھی ( یعنی رسول اکرمe) خیر لے کر آیا ہے تو تمہارے پاس کوئی چیز ہے جس سے تم اس کا علاج کرو؟ تو میں نے اسے سورۂ فاتحہ کے ساتھ دم کیا تو وہ تندرست ہو گیا۔ انہوں نے مجھے ایک سو بکریاں دیں۔ میں رسول اللہe کے پاس آیا اور آپe کو سارا واقعہ سنایا تو آپe نے فرمایا: ’’بکریاں لے لو‘ مجھے میری عمر کی قسم! جس نے باطل دم کے ساتھ کھایا (وہ جانے) تم نے تو حق دم کے ساتھ کھایا ہے۔‘‘ (ابوداؤد: ۳۸۹۶)
 قرآن مجید دِلوں کا اطمینان:
قرآن مجید شفاء‘ رحمت‘ ہدایت‘ نصیحت اور اللہ کا ذکر بھی ہے۔ اس کی تلاوت اور اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے اور قلوب واذہان کو راحت میسر آتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَیِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ۱ اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَیِنُّ الْقُلُوْبُ} (الرعد: ۲۵)
’’جو لوگ ایمان لائے‘ ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔‘‘
 گمراہیوں سے حفاظت:
’’جس نے میری ہدایت کی پیروی کی وہ گمراہ نہ ہو گا۔‘‘ (طٰہٰ: ۱۲۳)
نبی اکرمe کا ارشاد گرامی ہے:
’’قرآن مجید کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اسے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔‘‘ (طبرانی)
 زندگی کے فتنوں سے حفاظت:
آپe کا ارشاد گرامی ہے:
’’سورۂ کہف کی پہلی دس آیات یاد کرنے والا شخص فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔‘‘ (مسلم)
 سماوی آفات سے حفاظت:
آپ سماوی آفتوں سے بچنا چاہتے ہیں تو قرآن کی تلاوت کو معمول بنا لیں۔ آپ آندھی‘ طوفان‘ قحط سالی‘ سیلاب‘ مسخ اور بیماریوں سے محفوظ رہیں گے۔ اس کے لیے چاہیے کہ معوذتین کی تلاوت کو معمول بنا لیں۔
سیدنا عقبہt بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریمe کے ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک ہمیں آندھی اور تاریکی نے گھیر لیا۔ رسول اکرمe نے پناہ مانگنا شروع کر دی اور فرمایا:
’’معوّذتین کے ذریعے اللہ کی پناہ مانگو۔ کسی پناہ مانگنے والے کے لیے ان دو سورتوں سے بہتر کوئی سورت نہیں۔‘‘ (ابوداؤد)
 خطرات‘ فتن اور رات کے شرور سے حفاظت:
’’جس شخص نے رات کو سونے سے پہلے آیۃ الکرسی پڑھ لی اس کے لیے اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ مقرر کر دیا جاتا ہے جو صبح تک اس کی حفاظت کرے گا۔‘‘ (بخاری)
’’جو شخص سونے سے قبل سورۂ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے وہ اس کے لیے ہر تکلیف‘ شر اور خطرات سے بچنے کے لیے کافی ہوں گی۔‘‘ (بخاری)
 حاجات کا پورا ہونا:
’’جو شخص سورۂ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے جو کچھ مانگے گا وہ اسے عطا کرے گا اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر بھی اللہ سے جو مانگا جائے وہ عطا کرتا ہے۔‘‘ (مسلم)
 سیاسی عروج حاصل کرنا:
فرمان نبویe ہے کہ
’’اللہ تعالیٰ اس کتاب مجید کے ذریعے قوموں کو عروج عطا کرتا ہے اور اسی کے ذریعے قوموں کو پستی میں گرا دیتا ہے۔‘‘
 ناگہانی مصیبتوں سے نجات:
میدان جنگ میں سیدنا طلحہt کی انگلیاں کٹ گئیں تو ان کے منہ سے ’’سی‘‘ کی آواز نکل گئی۔ آپe نے فرمایا: ’’اگر تم بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ لیتے تو فرشتے تمہیں اوپر اٹھا لیتے۔‘‘ (نسائی)
 مغفرت کی سفارش:
’’قرآن مجید اپنے پڑھنے والوں کی قیادت کے دن سفارش کرے گا۔‘‘ (طبرانی)
 مقرب فرشتوں کی رفاقت:
’’قرآن مجید کی تلاوت میں مہارت رکھنے والا قاری (قیامت کے روز) صالح اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہو گا۔‘‘ (مسلم)
 مقام کی بلندی:
فرمان نبویe ہے:
’’قیامت کے دن قاری سے کہا جائے گا کہ قرآن مجید پڑھتا جا اور اوپر چڑھتا جا۔ تیرا مقام وہاں تک ہے جہاں آخری آیت ختم ہو گی۔‘‘ (ترمذی)
 والدین کا اعزاز:
آپe نے فرمایا:
’’قرآن کے قاری کے والدین کو دو ایسے قیمتی لباس پہنائے جائیں گے جس کے مقابلہ میں دنیا ومافیہا کی ساری دولت کمتر ہو گی۔ والدین پوچھیں گے یا اللہ! ہمیں یہ اعزاز کس عمل کے بدلہ میں ملا ہے؟ تو اللہ فرمائیں گے: اپنے بیٹے کو قرآن پڑھانے کے بدلہ میں۔‘‘ (مسند احمد‘ طبرانی)
 خیر وبرکت کا حصول:
آپe نے فرمایا:
’’سورۂ بقرہ پڑھا کرو۔ اسے پڑھنا باعث برکت اور چھوڑنا باعث حسرت ہے۔‘‘ (مسلم)


No comments:

Post a Comment