وژن 2030 ... سعودی عوام کے خوابوں کی تعبیر 35-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, September 21, 2019

وژن 2030 ... سعودی عوام کے خوابوں کی تعبیر 35-2019


وژن 2030 ... سعودی عوام کے خوابوں کی تعبیر

تحریر: جناب حافظ محمد شفیق کاشف
سعودی عرب کا ۸۹واں یوم آزادی بڑئے جو ش وخرو ش کے ساتھ منایا جارہا ہے ۔ عرب اسلامک اتحاد کے بعد سب سے زیادہ جو خبر زیر بحث ہے وہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن ۲۰۳۰ء ہے۔ انہوں نے ولی عہدکا عہدہ سنبھالنے کے بعد وژن ۲۰۳۰ء کا اعلان کرتے ہوئے اس کو سعودی عرب کے عوام کے خوابوں اورآرزئوں کا ترجمان قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم سعودی عرب کے مستقبل کے حوالے سے کسی تشویش کا شکار نہیں بلکہ ہم زیادہ روشن مستقبل کی جانب آنکھیں لگائے ہوئے ہیں۔ ہم اللہ کریم کی مدد کے بل بوتے پر سعودی عرب کو افرادی و قدرتی وسائل اور حاصل شدہ کارناموں کے ذریعے روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں۔ ہم آج یا کل کی محرومیوں کی طرف نہیں دیکھیں گے۔ انہوں نے بڑے پر اعتماد لہجے میں قوم سے کہا کہ وطن عزیز کا مستقبل تابناک اور روشن ہے اور اسی پر ہماری نظریں مرکوز ہیں۔ ہم دنیا بھر کے مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں حج و عمرہ اور زیارات کے مواقع فراہم کریں گے۔ ہم آرامکو کمپنی کو تیل پیدا کرنے والی صلاحیت کے ساتھ صنعتی قلعہ بنانے جارہے ہیں۔ ہم پبلک انوسٹمنٹ فنڈ کو دنیا کا سب سے بڑا ریاستی فنڈ بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ہم اپنی فوج کو مسلح اور مضبوط کرنے کی پالیسی پر نہ صرف گامزن رہیں گے بلکہ آئندہ سے ۵۰ فیصد عسکری ضروریات اندرون ملک تیار کریں گے اور اپنی دولت اپنے ہی ملک میں لگائیں گے اور اس سے اقتصادی بہتری کے ساتھ ساتھ ملازمت کے وسیع مواقع ملیں گے۔ ہم نوکر شاہی والی لمبی چوڑی کاروائی کو مختصر کریں گے، فوری احتساب اور شفافیت پر قوم کا بھروسہ قائم کریں گے جس کے لیے سرکاری قومی اداروں کی کارکردگی کو مانیٹر کرنے والا ادارہ قائم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مستقبل کے عظیم الشان دروازے کھولنے جارہے ہیں۔ قوم کی تمنائیں آرزوئیں پوری کریں گے اور سعودی عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سب ان کی آنے والی نسلوں کے لیے ہے‘ ہر شہری کے لیے روزگار ،صحت ،نگہداشت ،رہائش اور تفریح کے سستے مواقع مہیا کریں گے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی وژن ۲۰۳۰ء کے تین محور پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ زندہ معاشرہ ،خوشحال معیشت اور آگے بڑھنے کی جستجو یہ تین اہداف حاصل کرنے کے لیے تمام ذرائع وسائل بروئے کار لائیں گے۔ آخر میں انہوں نے واضح کر دیا کہ اس محور کا سر چشمہ ہمارا عقیدہ قرآن و سنت ہے اور معاشرے کا نظام میانہ روی اور اعتدال پر قائم ہے اور رہے گا۔
یہ ہے وہ انقلابی ایجنڈہ جس نے محمد بن سلمان کو عربوں کے ساتھ ساتھ غیر عربوں میں بھی مقبول بنا دیا ہے۔ نوجوان راہنما نے قوم کو موجودہ اقتصادی مسائل سے نکالنے ،تیل کی آمدن پر انحصار نہ کرنے اور نوجوانوں کو روزگار دینے خصوصاًرہائش ،صحت اور تفریح کے مواقع فراہم کرنے کا اعلان کرکے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی ہے اور تیزی کے ساتھ اپنے اس ایجنڈے کی تکمیل کے خاطر وہ مصروفِ عمل ہیں۔
سعودی عوام اپنا ۸۹ویںیوم آزادی اسی وژن ۲۰۳۰ء کے ساتھ منا رہے ہیں اور پر جوش ہیں کہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب غیر معمولی ترقی کرے گا اور سرمایہ کاری سعودی عرب میں آئے گی ۔سعودی عرب کی قیادت کے اند ر ہونے والی تبدیلوں اور نا مقبول فیصلوں کو دیکھیں تو سعود ی عرب جہاں قیادت کی یکسانیت بادشاہی نظام کی وجہ سے نظام زندگی میں تساہل پر عوام تحفظات تو رکھتے تھے ہی مگر اب قیادت نے جو ایجنڈہ دیا ہے لوگ اس سے مطمئن ہیں او ر سعودی عرب کی ترقی کا خواب دیکھتے ہوئے اب سنجیدہ اور تعلیم و تربیت کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔سعودی عرب کے پاس حرمین شریفین مرکز ہدایت بھی ہے جہاں سال میں تقریباً ۱۰ملین مسلمان حرمین شریفین کی زیارت کے لیے آتے ہیں‘ سعودی عرب نے اس کو باقاعدہ انڈسٹری کا درجہ دیتے ہوئے سیاحت کے فروغ کا فیصلہ کیا ہے اور وژن ۲۰۳۰ء میں باقاعدہ اس کا ذکر بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں آنے والے زائرین کی تعداد میں ۱۰ ملین سے سالانہ ۱۵ ملین تک اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے نجی شعبے کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا ہے اور ۷۰۰ نئی پرائیویٹ کمپنیاں رجسٹرڈ کر لی گئی ہیں جس میںہزاروں سعودی نوجوانوں کو روز گار ملے گا اور سعودی عرب کی ہوٹل انڈسٹری میں روزگار کے وسیع مواقع ملیں گے۔ گذشتہ دنوں مجھے سعودی عرب میں قیام کا موقعہ ملا جہاں مجھے مقامی لوگوں میںشہزادہ محمد بن سلمان کی مقبولیت اور ان کے ایجنڈے کی تعریف سسنے کو ملی وہاں تارکین وطن کو پریشان پایا۔ سعودی عرب کی موجودہ صورت حال یا آئندہ اقتصادی ترقی میں تارکین وطن کا بڑا اہم کردارہوگا مگر یہ تارکین وطن موجودہ پالیسوں میںٹیکسوں کے اضافی بوجھ سے پریشان ہیں۔ یقینا جہاں لوگ پیسہ کمارہے ہوں وہاں ریاست کا بھی حق بنتا ہے کہ نظام حکومت چلانے کے لیے ٹیکس لے تاہم اس میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بہرحال بڑے عرصے کے بعد سعود ی عوام کو امید کی ایک نئی کرن ملی ہے لہٰذا پورا عالم اسلام سعودی عرب کی اقتصادی ترقی، اقوام عالم میں عزت ووقار‘ خود مختاری اور پرامن ریاست کے طور پر ہی سعودی عرب کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے قریبی و تاریخی تعلقات میں گذشتہ چند مہینوں میں جو غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھیں امید ہے جلد ختم ہو جائیں گی۔ کیوں کہ دونوں ممالک کے عوام سیاسی مجبوریوں سے آزاد ہو کر ایک دوسرے عوام کے ساتھ گہرے مراسم اور عقیدت کے جذبات رکھتے ہیں اور سعودی عرب کے ۸۹یوم آزادی کو بھرپور طریقے سے منا رہے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی مملکت سعودی عرب کو اور سعودی قیادت اور عوام کو اپنے حفظ امان میں رکھے کیوں کہ سرزمین حرمین شریفین پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن ہے ۔
آخر میں اپنے حکمرانوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر سعودی عرب اور عرب امارات میں تین ملین سے زائد پاکستانیوں کے مستقبل اور پاکستان کے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کریں جس طرح سعودی عرب نے پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شہ رگ سی پیک کی کھلی حمایت کی ہے اور اس کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپو رتعاون کا عندیہ دیا ہے پاکستان بھی سعودی عرب کی غیر مشروط حمایت کرے اور سعودی عرب کی اقتصاری ترقی کے ثمرات سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔ پاکستان کے لیے وژن ۲۰۳۰ء میں کئی ایسے مواقع موجود ہیں کہ پاکستانی سرمایہ کار سعودی عرب میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں سعودی عرب کے نئے سفیر دونوں ممالک میں مثالی تعلقات کو بحال رکھنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھانے اور ثقافتی وفود کے تبادلوں کے لیے سرگرم عمل ہیں۔


No comments:

Post a Comment