ماہِ محرم اور عاشوراء سے متعلق ضعیف وموضوع روایات 33-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, September 07, 2019

ماہِ محرم اور عاشوراء سے متعلق ضعیف وموضوع روایات 33-2019


ماہِ محرم اور عاشوراء سے متعلق ضعیف وموضوع روایات

تحریر: جناب مولانا ابن عبدالحکیم
ہجری سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے‘ اس مہینے میں ہمارے نبیe نے نفلی روزوں کے علاوہ کسی اور چیز کا اہتمام کیا ہے اور نہ ہی اپنے اصحاب کو کرنے کا حکم ہی دیا ہے‘ اکثر خطباء ملت وواعظین قوم جو اپنے سینے کے زور سے اس مہینے کے فضائل ومناقب بیان کرتے ہیں ان کی تقریروں کا دارومدار امت میں منتشر ضعیف اور موضوع روایات ہیں جنہوں نے بدعتوں کو سنت میں تبدیل کر دیا ہے۔ متقدمین ومتأخرین محدثین کرام بالخصوص علامہ ابن الجوزیa اور امام البانیa نے ان احادیث کو اپنی اپنی کتابوں میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ افادۂ عام واصلاح کی خاطر ان میں سے بعض مشہور روایات پیش خدمت ہیں:
\             سیدنا عبداللہ بن عباسw سے مروی ہے کہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے:
[من صام یوم عرفة، کان لہ کفارة سنتین، ومن صام یوما من المحرم فلہ بکل یوم ثلاثون یوما]
’’جس نے عرفہ کے دن روزہ رکھا تو یہ اس کے لیے دو سال کا کفارہ ہو گا اور جس نے ماہ محرم کے ایک دن کا روزہ رکھا تو اس کا ہر دن تیس دن کے برابر ہو گا۔‘‘
اس حدیث کو امام طبرانی نے ’’المعجم الصغیر‘‘ میں روایت کیا ہے اور بقول امام منذری [وہو غریب واسنادہ لا باس بہ] یہ حدیث غریب ہے اور اس کی اسناد میں کوئی مضائقہ نہیں۔ (اشارہ اسناد حدیث کی توثیق کی جانب ہے۔)
محدث العصر علامہ محمد ناصر الدین البانیa نے امام منذریa کے اس حکم پر تعاقب کرتے ہوئے اپنی کتاب ’’ضعیف الترغیب والترہیب‘‘ (۱/۳۱۲) میں اسے موضوع قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ [ہذا خطا فاحش لا ادری کیف وقع لہ] … ’’یہ امام منذری کی بہت بڑی غلطی ہے مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ اس غلطی کے کیسے شکار ہو گئے۔‘‘ جبکہ اس حدیث کی سند میں ’’سلام الطویل‘‘ کذاب اور ’’لیث بن ابی سلیم‘‘ جیسے مختلط راوی موجود ہیں۔‘‘
\             سیدنا ابوہریرہt سے مرفوعا مروی ہے کہ [من اوسع علی عیالہ واہلہ یوم عاشوراء، اوسع اللہ علیہ سائر سنة] ’’جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل وعیال پر (کھانے میں) کشادگی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر پورا سال کشادگی کرے گا۔‘‘
اس حدیث کو امام بیہقیa نے کئی سندوں سے روایت کیا ہے اور اس حدیث کی استنادی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: [وہذہ الاسانید وان کانت ضعیفة، فہی اذا ضم بعضہا الی بعض اخذت قوة] ’’یعنی یہ تمام سندیں اگرچہ ضعیف (کمزور) ہیں لیکن ایک دوسرے کو ملانے سے تقویت ہو جاتی ہے۔‘‘
شیخ البانیa نے اس حدیث کو ’’ضعیف‘‘ کہا ہے اور اس کی وارد تمام سندوں کے بارے میں کہا ہے کہ [وطرقہ کلہا واہیة وبعضہا اشد ضعفا من بعض] یعنی ’’اس کی تمام سندیں واہی (کمزور) ہیں اور بعض سندیں ضعف کے اعتبار سے شدید ہیں۔ (الضعیفۃ: ۶۸۲۴) … معلوم یہ ہوا کہ مجرد کثرت طرق کی بناء پر بعض اہل علم کا اسے حسن کہنا اور اس پر عمل کرنے کی عام دعوت دینا درست نہیں۔
\             خطباء اور واعظین قوم کی زبان زد حدیث [وہو الیوم الذی استوت فیہ السفینة علی الجودی فصامہ نوح شکرا] ’’یوم عاشوراء وہ دن ہے جس میں کشتی نوحu جودی پہاڑ پر ٹھہری تھی‘ چنانچہ سیدنا نوحu نے شکرانے کے طور پر اس دن کا روزہ رکھا۔‘‘
اس حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند (۱۴/۳۳۵) میں روایت کیا ہے لیکن سلسلہ اسناد میں ایک راوی عبدالصمد بن حبیب جو کہ ضعیف ہے اور دوسرا راوی شبیل بن عوف جو کہ مجہول ہے۔
\             [وفی یوم عاشوراء تاب اللہ عز وجل علی ادم علیہ السلام وعلی مدینة یونس، وفیہ ولد ابراہیم علیہ السلام] … ’’یوم عاشوراء کو اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدمu کی توبہ قبول کی‘ اسی طرح سیدنا یونسu کے شہر والوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے اسی دن خصوصی توجہ فرمائی اور اسی میں سیدنا ابراہیمu کی پیدائش ہوئی۔‘‘
اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند کے بارے میں امام ہیثمی (مجمع الزوائد:  ۳/۱۸۸) میں لکھتے ہیں کہ اس میں ایک راوی ’’عبدالغفور‘‘ ہے جو کہ متروک ہے۔
\             سیدنا ابن عباسw مرفوعا بیان کرتے ہیں: [صوموا یوم عاشوراء، وخالفوا فیہ الیہود، وصوموا قبلہ یوما او بعدہ یوما] ’’تم یوم عاشوراء کا روزہ رکھو ا ور اس میں یہود کی مخالفت کرو اور اس سے ایک دن پہلے یا اس کے ایک دن بعد کا روزہ رکھو۔‘‘
اس حدیث کو امام احمد نے اپنی (مسند: ۱/۲۴) اور بیہقی نے (السنن الکبری: ۴/۲۸۷) میں روایت کیا ہے۔ اس کی سند میں ابن ابی لیلیٰ اور داؤد بن علی دونوں راوی ضعیف ہیں۔ البتہ امام احمد شاکر کی تحقیق کے مطابق اس کی اسناد صحیح ہے۔


No comments:

Post a Comment