ماہِ محرم ... چند اھم واقعات 33-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, September 07, 2019

ماہِ محرم ... چند اھم واقعات 33-2019


ماہِ محرم ... چند اہم واقعات

تحریر: جناب حافظ شبیر صدیق
ماہ محرم حرمت والے مہینوں میں سے ہے‘ قرآن کریم میں حرمت والے مہینے چار بتائے گئے ہیں۔
رسول اللہe نے ان چار مہینوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’زمانہ اپنی اس اصل حالت پر لوٹ آیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان کو تخلیق کیا تھا‘ ایک سال بارہ مہینوں پر مشتمل ہے اور اس میں چار مہینے حرمت والے ہیں‘ تین مہینے مسلسل آتے ہیں اور ایک مہینہ جمادی اور شعبان کے درمیان آتا ہے جو رجب ہے۔‘‘ (بخاری: ۳۱۹۷)
ماہ محرم میں عاشورہ کا روزہ بڑی فضیلت کا حامل ہے۔ رسول اللہe کا فرمان ہے:
’’مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ عاشورہ کے روزے کو ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بنا دے گا۔‘‘ (مسلم: ۱۱۶۲)
قرآن وحدیث میں اس مہینے کی صرف یہی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ یہ حرمت والا ہے اور عاشورہ کا روزہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور بنا پر اس مہینے کی فضیلت مذکور نہیں۔ البتہ اس مہینے میں بعض اہم واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ان واقعات کا اگر بالتفصیل جائزہ لیا جائے تو ہمارے لیے ان میں بہت سے اسباق اور نصیحتیں موجود ہیں۔ ذیل میں ہم ان اہم واقعات کو بیان کرتے ہیں:
 بنی اسرائیل کی آزادی:
بنی اسرائیل محکومی کی زندگی گزار رہے تھے‘ وقت کے فرعون نے انہیں اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ ان کی غلامی اور ذلت کا عالم یہ تھا کہ ان کے ہاں پیدا ہونے والا لڑکا فرعون کے دربار میں جمع کروا دیا جاتا جسے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا‘ اگر کوئی لڑکی پیدا ہوتی تو اسے فرعون اور آل فرعون کی خدمت کے لیے زندہ رکھا جاتا۔ فرعون انہیں دردناک قسم کی تکلیفیں اور اذیتیں دیتا۔ انہیں اپنے امور زندگی خود نبٹانے کا اختیار نہ تھا۔ ان کی یہ اذیت ناک داستان ایک طویل عرصے پر محیط ہے۔ اس محکومی اور ذلت کا پس منظر یہ تھا کہ اس وقت کے کاہن اور جادوگروں نے فرعون کے ایک خواب کی تعبیر یہ بیان کی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا ایسا پیدا ہو گا جس کے ہاتھوں فرعون اور آل فرعون کی سلطنت کا خاتمہ ہو گا۔ فرعون نے اس لڑکے سے محفوظ رہنے کا طریقہ یہ سوچا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی بچہ پیدا ہو اسے ذبح کر دیا جائے۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ یہ وہ سبب تھا جس بنا پر بے دریغ بچوں کا قتل کیا جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اس ذلت بھری حالت اور کیفیت کو یوں بیان کیا ہے:
{یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآئَکُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآئَکُمْ۱ وَ فِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآئٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ٭} (البقرہ)
’’وہ تمہیں برا عذاب دیتے تھے‘ تمہارے بیٹوں کو بری طرح ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔‘‘
غلامی کے اس دور میں بنی اسرائیل میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی‘ والدہ کی نظر جب بچے کے نورانی چہرے پر پڑی تو وہ بڑی پریشان ہوئیں کہ اسے فرعون کے ظلم سے کیسے محفوظ رکھے؟ اللہ تعالیٰ نے اس بچے کی ماں کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ اس بچے کو ایک صندوق میں ڈال کر سمندر کے سپرد کر دو‘ پھر سمندر سے نکل کر یہ بچہ فرعون کے دربار میں پہنچا اور اللہ تعالیٰ نے فرعون کی بیوی کے دل میں بچے کی محبت ڈال دی۔ فرعون کے ہاں اس بچے کی پرورش ہوئی اور بڑا ہو کر یہ بچہ اللہ کا پیغمبر کہلایا۔ اللہ تعالیٰ کے یہ پیغمبر سیدنا موسیٰu تھے۔ فرعون اس وقت اپنے آپ کو ’’رب الاعلیٰ‘‘ کہلاتا تھا۔
سیدنا موسیٰu نے اسے وحی الٰہی کی طرف دعوت دی مگر وہ اپنی سرکشی پر قائم رہا۔ سیدنا موسیٰu کی بعثت کے دو اہم مقاصد تھے:
1         فرعون اور آل فرعون کو اللہ کی توحید کی طرف دعوت دینا۔
2         بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے آزادی دلانا۔
اللہ تعالیٰ نے ان مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سیدنا موسیٰu کو فرعون کے پاس بھیجا اور کہا کہ اسے یہ پیغام پہنچا دو:
{اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآء ِیْلَ٭} (الشعراء)
’’بلاشبہ ہم رب العالمین کا پیغام پہنچانے والے ہیں‘ یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔‘‘
فرعون نے اس دعوت پر لبیک کہنے کی بجائے اپنے احسانات جتلانے شروع کر دیئے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کی تدبیر غالب آئی اور سیدنا موسیٰu خفیہ منصوبے کے تحت بنی اسرائیل کو وہاں سے لے کر چل نکلے‘ جب فرعون اور اس کے لشکر کو علم ہوا تو فرعون نے اپنے لشکر سمیت ان کا پیچھا کیا۔ سیدنا موسیٰu جس راستے پر بنی اسرائیل کو لے کر نکلے تھے وہ راستہ ساحل سمندر پر ختم ہو رہا تھا اور اس وقت کسی دوسرے راستے کا رخ کرنا بھی ناممکن تھا۔ اس لیے کہ اس وقت فرعون اسی راستے پر اپنے لشکر سمیت ان کا پیچھا کر رہا تھا۔ ایسے عالم میں کہ جب آگے جانے کا راستہ نہ ہو ا ور پیچھے دشمن قریب پہنچ چکا ہو تو جو حالت اور کیفیت ہوتی ہے اس کا اندازہ ہر شخص کر سکتا ہے۔
پریشانی کے اس عالم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی خاص مدد کی اور انہیں سمندر کے پانی میں اپنی لاٹھی مارنے کا کہا۔ سیدنا موسیٰu نے جب اپنی لاٹھی سمندر میں ماری تو درمیان سے خشک راستہ بن گیا اور سمندر کا پانی دونوں جانب ایسے رک گیا جیسے پانی کی دیواریں ہوں۔ سیدنا موسیٰu اپنی قوم کو لے کر سمندر سے پار ہو گئے۔
فرعون نے جب سمندر میں خشک راستہ دیکھا تو اپنے لشکر کو اسی راستے پر ڈال دیا۔ فرعونی لشکر کے تمام افراد جب سمندر میں اتر گئے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کے پانی کو بہنے کا حکم دے دیا اور فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت اس میں غرق ہو گیا۔ یوں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون سے آزادی دی اور اسے قرآن مجید میں ایک نعمت کے طور پر یوں ذکر کیا:
{وَ اِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَ اَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ٭} (البقرہ)
’’اور جب ہم نے تمہارے لیے سمندر کو پھاڑ دیا‘ پھر ہم نے تمہیں نجات دی اور ہم نے آل فرعون کو غرق کر دیا جبکہ تم دیکھ رہے تھے۔‘‘
بنی اسرائیل کو جب آزادی کی نعمت حاصل ہوئی تب محرم کا مہینہ اور اس کی دس تاریخ تھی۔ احادیث میں اس کی وضاحت یوں بیان ہوئی ہے:
رسول اللہe جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کہ وہ دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں‘ آپe نے ان سے اس روزے سے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا‘ یہ وہ عظیم دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو آزادی عطا کی تھی اور فرعون وآل فرعون کو غرق کیا تھا۔ سیدنا موسیٰu اس د ن اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے روزہ رکھتے تھے‘ اس لیے ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ (بخاری: ۲۰۰۴-۳۳۹۷)
نبی کریمe نے فرمایا کہ
’’(یہود کی نسبت) ہم سیدنا موسیٰu کے زیادہ حقدار ہیں۔ پس آپ نے روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (مسند احمد) … اس روزے کا تعلق شہادت سیدنا حسینa سے قطعا نہیں۔
 شہادتِ عمر فاروقؓ:
سیدنا عمر فاروقt کا شمار جلیل القدر صحابہ کرام] میں ہوتا ہے‘ آپt ان دس صحابہ کرام میں سے ہیں جنہیں نبی کریمe نے اس دنیا میں جنت کی خوشخبری دی۔ (ابوداؤد: ۴۶۴۹)
نبی کریمe نے فرمایا تھا: ’’اگر میرے بعد کسی نبی نے آنا ہوتا تو وہ عمر بن الخطابt ہوتے۔‘‘ (ترمذی: ۳۶۸۶)
آپt کا رعب ودبدبہ اس قدر تھا کہ جہاں سے گذرتے شیطان اس راستے کو چھوڑ کر بھاگ جاتا۔ (بخاری: ۳۶۸۳)
آپt کی حق گوئی کا یہ عالم تھا کہ بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی رائے کو قرآن بنا کر نازل فرما دیا۔ (ترمذی: ۳۶۸۲)
سیدنا ابوبکر صدیقtکی وفات کے بعد آپt کو بالاتفاق خلیفہ نامزد کر دیا گیا۔ خلافت سے قبل آپt بہت سخت مزاج تھے‘ مگر جب خلافت کا بوجھ کندھوں پر آن پڑا تو آپ کے مزاج میں بہت زیادہ نرمی آگئی تھی۔ نرمی کا عالم یہ تھا کہ کوئی بھی شخص آپt سے کسی بھی قسم کا سوال کر سکتا تھا۔ حتی کہ اگر آپt نے کوئی نیا سوٹ پہنا ہوتا تو لوگ اس بارے میں بھی استفسار فرماتے کہ آپ نے یہ سوٹ کہاں سے لیا ہے؟
آپt کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت ایک وسیع رقبے پر پھیل چکی تھی۔ آپt کے بے شمار فضائل ومناقب احادیث میں مذکور ہیں۔ آپt اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتے تھے:
[اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِیْ شَہَادَۃً فِیْ سَبِیْلِکَ وَاجْعَلْ مَوْتِیْ فِیْ بَلَدِ رَسُوْلِکَ] (بخاری: ۱۸۹۰)
’’اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت کی موت عطا فرما اور میری موت تیرے پیارے پیغمبر کے شہر مدینہ میں واقع ہو۔‘‘
رسول اللہe نے بھی سیدنا عمر فاروقt کے بارے میں پیش گوئی فرمائی تھی۔ آپ e نے سیدنا عمرt کو فتنوں کے آگے ایک دروازہ قرار دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’’اسے توڑ دیا جائے گا۔‘‘ (مسلم: ۱۴۴)
اس حدیث میں رسول اللہe نے سیدنا عمرt کی شہادت کی طرف اشارہ فرمایا تھا‘ بعض احادیث میں سیدنا عمرt کی شہادت پر وضاحت بھی موجود ہے۔ آپt کے دور خلافت میں دشمن آپt سے بہت خفا تھا‘ حتی کہ بڑی بڑی سلطنتوں کے بادشاہ بھی آپt کا نام سن کر لرز جاتے تھے۔ خلیفہ ہونے کے ناطے آپt نماز کی امامت خود کراتے تھے۔
ایک روز آپ فجر کی نماز کے لیے مسجد میں تشریف لے گئے اور صفیں درست کروا کر نماز شروع کی‘ ابھی آپ پہلی رکعت کی قراء ت فرما رہے تھے کہ مسجد میں چھپے ایک ایرانی مجوسی غلام ابولؤلؤ فیروز نے دو دھاری خنجر سے آپt پر حملہ کر دیا اور آپ گہرا زخم لگنے پر وہیں گر پڑے۔ اس مجوسی غلام نے فرار ہونے کی خاطر دیگر صحابہ کرام] پر بھی حملہ کیا‘ اندھیرے کی وجہ سے پچھلی صفوں میں موجود صحابہ کرام] کو اس واقعے کی خبر نہ ہوئی۔ ایک صحابی نے آگے بڑھ کر جماعت کروائی۔ نماز کے بعد صحابہ کرام] سیدنا عمرt کے ارد گرد جمع ہو گئے‘ انہوں نے پوچھا کہ مجھ پر حملہ کس نے کیا ہے؟ جب انہیں مجوسی غلام کا بتایا گیا تو انہوں نے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ میری موت کسی مسلمان کے ہاتھوں نہیں ہوئی۔ آپ کو لگنے والے زخم اس قدر گہرے تھے کہ آپt ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش فرما گئے۔
جس روز یہ دلخراش واقعہ پیش آیا وہ یکم محرم الحرام ۲۴ھ کا دن تھا‘ گویا یہ ایک ایسا دن تھا کہ جب ایرانی مجوسی غلام نے آدھی دنیا کے فاتح امیر المؤمنین‘ خلیفۃ المسلمین عمر بن الخطابt کو شہید کر دیا۔ ماہ محرم کی نسبت سے یہ ایک اہم المناک واقعہ ہے جو محرم کی پہلی تاریخ کو پیش آیا۔
 ماہ محرم کے چند دیگر اہم واقعات:
\          شہادت سیدنا حسینt ۶۱ھ میں پیش آیا جو تاریخ اسلامی کا ایک نہایت دلخراش سانحہ ہے جو بعد میں امت مسلمہ میں فتنوں کا سبب بنا۔
\          محرم ۱۰ نبوت میں شعب ابی طالب میں مسلمانوں کی محصوری کے متعلق ظالمانہ صحیفہ چاک کیا گیا۔
\          محرم ۳ ہجری / جون ۶۲۴ء میں رسول اللہe کی بیٹی سیدہ ام کلثومr کا نکاح سیدنا عثمانt سے ہوا۔
\          یکم محرم ۷ھ /۱۱ مئی ۶۲۸ء کو نبی کریمe نے مختلف بادشاہوں اور امراء کے نام خطوط روانہ کیے۔
\          محرم ۷ھ/مئی ۶۲۸ء میں غزوۂ خیبر ہوا۔
\          ۱۶ محرم ۱۹ھ / ۱۵ جنوری ۶۴۰ء بروز جمعۃ المبارک نہاوند فتح ہوا۔ سیدنا نعمان بن مقرنt نے ۱۵ ہزار مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے ڈیڑھ لاکھ ایرانیوں کے جم غفیر کو شکست دی اور جام شہادت نوش کیا۔
\          محرم ۳۷ھ/جون ۶۵۷ء میں سیدنا علیt اور سیدنا امیر معاویہt کے ما بین جنگ صفین برپا ہوئی۔
\          محرم ۳۵۲ھ / جنوری ۹۶۳ء میں معز الدولہ نے نوحہ‘ ماتم اور مراسم محرم کی ابتداء کی۔
\          ۲۷ محرم ۱۴۲۰ھ / ۱۳ مئی ۱۹۹۹ء بروز جمعرات مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ عبدالعزیز بن بازa نے وفات پائی۔


No comments:

Post a Comment