اسلامی سنہ کی ابتداء 33-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, September 07, 2019

اسلامی سنہ کی ابتداء 33-2019


اسلامی سنہ کی ابتداء

تحریر: جناب مولانا عبیدالرحمن اثری
قومی زندگی کی بنیادی مقومات میں سے ایک نہایت اہم چیز سنہ اور تاریخ ہے۔ جو قوم اپنا قومی سنہ نہیں رکھتی وہ گویا اپنی بنیاد کی ایک اینٹ نہیں رکھتی۔سنہ اس کی پیدائش اور ظہور کی تاریخ ہوتا ہے اور صفحہ عالم پر اس کے عروج کا عنوان ثبت کر دیتا ہے۔ یہ قومی ظہور وعروج کی ایک جاری اور قائم یادگار ہے۔ ہر طرح کی یادگاریں مٹ سکتی ہیں لیکن یہ نہیں مٹ سکتی کیونکہ سورج کے طلوع وغروب سے اور چاند کی غیر متغیر گردش سے اس کا دامن بندھ جاتا ہے اور دنیا کی عمر کے ساتھ اس کی عمر بھی بڑھتی جاتی ہے۔ ہر روز ہمارے سامنے آگسٹس‘ بکر ماجیت‘ جلال الدین ملک شاہ اور اکبر اعظم کے نام ان کے سنین کے اندر آتے ہیں لیکن ہمارا حافظہ کبھی ان سے انکار نہیں کر سکتا۔
جب سنہ اور تاریخ کو قومی زندگی میں یہ اہمیت اور درجہ حاصل ہے تو غیر ممکن تھا کہ ہمارے اسلاف اس سے غفلت برتتے اور کوئی معقول سنہ مقرر نہ کر جاتے۔ اسلام سے پہلے دنیا کی متمدن قوموں میں متعدد سنہ رائج تھے‘ زیادہ تر مشہوری سنین یہودیوں‘ ایرانیوں کے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں چونکہ عربوں کی زندگی اس قدر متمدن نہیں تھی کہ حساب وکتاب کی کسی وسیع پیمانے پر ضرورت ہوتی‘ اس لیے اوقات وموسم کی حفاظت اور یادداشت کے لیے ملک کا کوئی مشہور واقعہ ہی لے لیتے اور اسی سے وقت کا حساب لگا لیتے۔ منجملہ سنین جاہلیت کے عام الفیل بھی تھا۔ یعنی شاہ حبش کے حجاز پر حملہ کرنے کا سال۔
عرصہ تک یہی واقعہ عرب کے حساب وکتاب میں بطور سنہ کے مستعمل رہا‘ لیکن جب اسلام کا ظہور ہوا تو خود عہد اسلام کے واقعات کو یہ اہمیت حاصل ہو گئی۔ صحابہ کرام] کا دستور تھا کہ اسلامی واقعات میں سے کوئی ایک واقعہ لے لیتے اور اسی سے حساب لگاتے‘ مثلاً جب ہجرت مدینہ کے بعد وہ آیت نازل ہوئی جس میں قتال کی اجازت دی گئی تھی تو اسی کو سنہ کا درجہ دے دیا تھا۔ لوگ اسے سنہ اذن سے تعبیر کرتے تھے۔ اسی طرح سورۂ براء ت کے نزول کے بعد بول چال میں سنہ براء ت کا رواج پاتا ہے۔ حجۃ الوداع کے واقعہ کو بھی کچھ دنوں تک بطور ایک سنہ کے استعمال کیا جاتا تھا۔ بعض روایتوں میں صاف تصریح آچکی ہے کہ صحابہ کی بول چال میں دس سنہ زیادہ تر مشہور تھے۔ انہی میں سنہ تمحیص‘ سنہ الترخیہ‘ سنہ الزلزال‘ سنہ الاستناس بھی ہیں۔ آنحضرتe کی وفات کے بعد کچھ عرصہ تک یہی حالت رہی لیکن جب سیدنا عمرt کی خلافت کا عہد شروع ہوا تو ممالک مفتوحہ کی وسعت اور دفاتر حکومت کے قیام سے حساب وکتاب کے معاملات زیادہ وسیع ہو گئے تھے۔ اس لیے ضرورت پیش آئی کہ سرکاری طور پر کوئی ایک سنہ قرار دیا جائے۔
میمون بن مہران روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا عمرt کے سامنے ایک کاغذ پیش کیا گیا جس میں شعبان کا مہینہ درج تھا۔ سیدنا عمرt نے کہا کہ شعبان سے کونسا شعبان مراد ہے؟ اس برس کا یا آئندہ برس کا؟ پھر آپt نے برآوردہ صحابہ کرام] کو جمع کیا‘ انہوں نے کہا کہ اب حکومت کے مالی وسائل بہت زیادہ ہو گئے ہیں اور جو کچھ ہم تقسیم کرتے ہیں وہ ایک ہی وقت میں ختم نہیں ہو جاتا‘ اس لیے ضروری ہے کہ حساب وکتاب کے لیے کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے اوقات ٹھیک طور پر منضبط ہو سکیں۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ اس سے متعلق ایرانیوں سے مشورہ کرنا چاہیے کہ ان کے یہاں ان کے کیا طریقے تھے؟
اسی طرح ایک روایت طبریa نے امام شعبیa سے کی ہے کہ سیدنا ابوموسیٰ اشعریt نے سیدنا عمرt کو لکھا کہ آپ کی جانب سے ہمارے خطوط آتے ہیں مگر ان پر کوئی تاریخ نہیں ہوتی۔ یہ وہ وقت تھا جب سیدنا عمرt نے حکومت کے مختلف دفاتر قائم کر دیئے تھے اور خراج کے اصول وقواعد طے پا گئے تھے۔ اس لیے محسوس کر رہے تھے کہ ضبط اوقات کے لیے ایک خاص تاریخ قرار دی جائے۔ پرانی تاریخیں موجود تھیں لیکن وہ  پسند نہیں کرتے تھے کہ انہیں اختیار کریں۔
سیدنا ابوموسیٰ اشعریt کے لکھنے سے سیدنا عمرt کی اور زیادہ اس کی طرف توجہ ہو گئی تھی۔ اس لیے صحابہ کرام] کو پھر جمع کر کے مشورہ کیا تو بعض نے رائے دی کہ ایرانیوں کے ہاں آخری سنہ یزدگرد کا سنہ ہے اور رومیوں کا مشہور سنہ سکندر کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے۔ انہی دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر لیا جائے۔ لیکن سیدنا عمرt اور دیگر صحابہ نے (جن کی دینی ذہنیت کی آبیاری آنحضورe کے ذریعہ ہوئی تھی) اس تجویز سے اتفاق نہ کیا‘ پھر خیال ہوا کہ آنحضرتe کے مبعوث ہونے کے وقت سے سنہ کا حساب شروع کیا جائے اور بعض نے رائے دی کہ آپe کی وفات سے شروع ہو لیکن کوئی بات پاس نہ ہو سکی تھی۔ آخر میں سیدنا علیt نے مشورہ دیا کہ واقعہ ہجرت سے سنہ کی ابتداء کی جائے تو بہتر ہے۔ جب لوگوں نے اس کو سنا تو اس طرح اس پر اتفاق کیا جیسے کہ اس کو بھولے ہوئے تھے اور اب ان کو یاد آگیا ہو۔ اس وقت ہجرت پر سولہ برس گزر چکے تھے۔
 واقعہ ہجرت کا اختصاص:
پچھلی تحریر سے یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ سنہ ہجری کا تقرر کیوں عمل میں آیا لیکن اب سب سے زیادہ ضروری اور اہم پہلو ایک اور رہ جاتا ہے وہ یہ کہ سیدنا عمرt اور تمام صحابہ کرام] کی نظریں اسلامی سنہ کے مبدا کے لیے واقعہ ہجرت ہی پر کیوں مرکوز ہوئیں دیگر رائج الوقت سنین کو کیوں اختیار نہ کیا گیا؟ اگر ہ چاہتے تو جس طرح انہوں نے اپنے دفاتر کے لیے مفتوحہ ممالک کی زبانیں اختیار کر لی تھیں اسی طرح ان کے سنوں کو بھی اختیار کر لیتے۔ لیکن ایسا نہیں کیا اور مسلمانوں کا ملی سنہ قرار دینے کے لیے قدرتی طور پر جو چیزیں سامنے تھیں وہ اسلام کا ظہور تھا‘ داعی اسلام کی پیدائش تھی‘ نزول وحی کی ابتداء تھی‘ بدر کی تاریخی فتح تھی‘ مکہ کا فتحمندانہ داخلہ تھا‘ حجۃ الوداع کا اجتماع تھا جو اسلام کی ظاہری اور معنوی تکمیل اور فتح کا آخری اعلان تھا۔ لیکن ان تمام واقعات میں سے کسی ایک کو بھی اختیار نہ کیا گیا اور نظر گئی تو ایسے واقعہ کی طرف جو نہ تو کسی پیدائش کا جشن تھا‘ نہ کسی شوکت کا ظہور نہ کسی غلبہ اور تسلط کا شادیانہ تھا بلکہ ایک ایسے زمانے کی یاد تھی جبکہ آغاز اسلام کی بے سروسامانیاں اس حد تک پہنچ گئی تھیں کہ داعی اسلام کے لیے اپنے وطن میں زندگی بسر کرنا بھی ناممکن ہو گیا تھا۔ بیچارگی اور مظلومیت کی انتہا تھی کہ اپنا وطن‘ اپنے گھر‘ اپنے عزیز واقارب اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر صرف ایک رفیق غمگسار کے ہمراہ رات کی تاریکی میں دشت پیماء غربت ہو گئے تھے۔ تاریخ کا یہ مبدا دنیا کی تمام تاریخوں اور قومی یادگاروں کے خلاف تھا‘ صرف خلاف ہی نہیں بلکہ صریح الٹا تھا۔ دنیا کی تمام قومیں فتح واقبال سے ہی اپنی تاریخ شروع کیا کرتی ہیں لیکن صحابہ کرام] نے بیچارگی اور درماندگی سے اپنی تاریخ شروع کی۔ دنیا کی تمام قومیں خیال کرتی ہیں کہ ان کی شان وشوکت کی بنیاد اس وقت پڑتی ہے جبکہ وہ ملکوں اور سلطنتوں پر قبضہ کر لیا کرتی ہیں لیکن صحابہ کرام] کا یہ یقین تھا کہ ان کی شان وشوکت کا دروازہ اس دن کھلا جب ملکوں پر انہوں نے قبضہ نہیں کیا بلکہ اپنا ملک ووطن ترک کر دیا۔ بلا شبہ ان کی یہ سمجھ دنیا کی ساری قوموں سے الٹی تھی لیکن اس سمجھ سے عین مطابق تھی جو اسلام کی تربیت نے ان کے اندر پیدا کر دی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی نظریں معنی اور روح کی طرف نہیں جاتیں بلکہ وہ الفاظ اور اجسام کی پوجا کرتی ہیں۔ صحابہ کرام] ناکامی اور نامرادی کے طلبگار نہ تھے اور ان کی دور رس نگاہیں واقعہ ہجرت میں وہ چیز دیکھ رہی تھیں جس کو ظاہر بین نظریں نہیں پا سکتی تھیں۔ ان پر یہ حقیقت کھل چکی تھی کہ اسلام کی پیدائش وظہور اور فتح واقبال کی اصلی بنیاد ان واقعات میں نہیں جو نظر آتے ہیں بلکہ ہجرت مدینہ اور اس کے اعمال وحقائق میں ہے۔ اس لیے جو اہمیت دنیا کی نگاہیں پیدائش‘ بعثت‘ بدر اور فتح مکہ کو دیتی تھیں وہ ان کی نظروں میں ہجرت مدینہ کو حاصل تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کامرانیوں اور فتح مندیوں کا خمیر ہجرت اور اس کے دور کے اعمال ہی میں تیار ہو گیا تھا اس لیے بنیادی طور پر اولیت واقعہ ہجرت کو حاصل ہے۔ جیسا کہ ایک بیج کے اندر آفتاب کی حرارت قبول کرنے کی صلاحیت اور آبیاری سے متمتع ہونے کی استعداد اور زمین سے غذا حاصل کرنے کی قوت موجود ہوتی ہے تو برگ وبار کا ظہور ہوتا ہے اسی طرح ہجرت اور اس کے اعمال اور وقائع میں داخلی استعداد کی تکمیل بدرجہ اتم ہو چکی تھی‘ اس لیے بطور برگ وبار کے جنگ بدر‘ فتح مکہ وغیرہ کا ظہور ہوا۔ اگر مدینہ کی معنوی فتح نہ ہوتی تو مکہ کی فتح کی راہ کیونکر کھل سکتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے واقعہ ہجرت کو اس اسلوب سے بیان کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بے سروسامانی وغربت کے اس عمل ہی میں فتح ونصرت الٰہی کی سب سے بڑی معنویت پوشیدہ تھی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا۱ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَــہٗ عَلَیْہِ وَ اَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْہَا وَ جَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی۱ وَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الْعُلْیَا۱ وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ}
یہ آیت سورۂ توبہ کی ہے۔ سورۂ توبہ بالاتفاق اس وقت نازل ہوئی جبکہ اسلام کی ظاہری فتح مندیاں تکمیل کو پہنچ چکی تھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کی تمام فتح مندیوں کے ظہور کے بعد بھی اس کی ضرورت باقی تھی کہ واقعہ ہجرت کی معنوی فتح مندی یاد دلائی جائے۔ اسی حقیقت کی بناء پر صحابہ کرام] نے قومی واسلامی سنہ کا مبدا واقعہ ہجرت کو قرار دیا تا کہ نہ صرف آغاز سال پر ماہ محرم ہی میں اس کی یاد تازہ ہوا کرے بلکہ جب بھی یہ سنہ نظر سے گذرے تو اس معنوی فتح مندی کی یاد دہانی ہوتی رہا کرے۔


No comments:

Post a Comment