منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل 33-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, September 07, 2019

منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل 33-2019


منزل کی تمنا ہے تو کر جہد مسلسل

سینئر نائب ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان مولانا محمد نعیم بٹ مظفر آباد آزاد کشمیر میں

سینئر نائب ناظم اعلی مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان مولانا محمد نعیم بٹ نے کہا ہے کہ دھرتی کشمیر کے ساتھ غداری کرنا کفر کے مترادف ہے ،اہلیان پاکستان کسی کو بھی کشمیریوں کے ساتھ دھوکہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اورآزادی کشمیر کے لیے تمام سیاسی و مذہبی و لسانی اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر اپنی آواز بلند کریں گے ۔ اہلیان کشمیر بہت قربانیاں دے چکے اب حکومت پاکستان کو چاہیے کہ کشمیریوں کی مدد اور ان کی آزادی کے لیے عملی اقدامات کرے۔ یوم آزادی پاکستان کے موقع پر اہلیان پاکستان نے کشمیر کے پرچم کو پاکستان کے پرچم کے ساتھ بلند کر کے دنیا کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ کشمیر و پاکستان لازم و ملزوم ہیںاور پاکستان کے عوام اہلیان کشمیر کے لیے ہر قربانی دینے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دورہ مظفرآباد کے دوران مرکز اہل حدیث جامعہ محمدیہ مظفرآباد میں مرکزی جمعیت اہل حدیث آزاد جموںوکشمیر کے ناظم اعلیٰ دانیال شہاب مدنی کی زیر صدارت مرکزی جمعیت اہل حدیث مظفرآباد کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سینئر نائب ناظم اعلیٰ مولانا محمد نعیم بٹ نے کہا کہ کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے بھارتی ظلم و ستم نے ہمارے دلوں پر ضرب لگائی ہے ، جو حالات و واقعات مقبوضہ کشمیر کے معلوم ہو رہے ہیں ان کو سن کر ہی دل کانپ اٹھتا ہے۔ خواتین کی عصمت دری، نوجوانوں کو رات کے وقت ہندوستانی فوج کا اٹھا کر لے جانا اور انہیں ٹارچر کرنا اور ان کی اس تکلیف کی آواز کو لائوڈ سپیکر کے ذریعے اردگرد کے رہنے والوں کو سنانا اور کشمیریوں کا کھاناپیناو دوائیں بند کرنااور ان کے ذرائع آمدورفت و ابلاغ کے تمام ذرائع کو بند کرنا یقینا جہاں کشمیر ی قوم کے لیے تکلیف دہ ہے تو دوسری جانب اہلیان پاکستان بھی اس تکلیف و کرب کو محسوس کرتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اقوام متحدہ میںکشمیر پر پاس شدہ قراردادیں کشمیریوں کو صرف تسلی دینے کے لیے ہی رکھی گئی ہیں، حقیقت میں ان گمنا م قراردادوں نے کشمیریوں کے لیے تکلیف و مظالم کا دروازہ کھولا ہے ۔ حکومت پاکستان نے کشمیر پر ہندوستان کے ساتھ جو معاہدات کیے ہیں،اگر ان معاہدوں کی وجہ سے کشمیریوں کو آزادی اور کوئی ریلیف حاصل نہیں تو پھر یہ معاہدات کس لیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندرا مودی نے کشمیریوں کے تشخص کو ختم کر نے کی کوشش کی اور یہ اس کی بہت بڑی غلطی ہے ،مودی کے ان اقدامات کی بدولت کشمیریوں کی آواز کو عالمی سطح پر پزیرائی ملی ہے اور دنیا اس وقت کشمیریوں کا موقف سن رہی ہے اور ہندوستانی وزیر اعظم کے اقدامات کی مذمت کر رہی ہے ۔ اجلاس سے نائب ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان حافظ محمد یونس آزاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مظفرآباد میں صرف کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں ، انہوںنے کہا کہ کشمیر کے نام پر منافقت کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ کشمیریوں کی آزادی کی راہ میں تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہم اگر عملی اقدامات نہیں کر رہے تو اسے ہم منافقت قرار دیں گے۔ حکومت پاکستان کشمیر پر اپنی واضح پالیسی کا اعلان کرے، ہم ابھی تک حکومت پاکستان کی کشمیر پالیسی سے مطمئن نہیں ہیں۔ ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث آزاد جموںوکشمیر دانیال شہاب مدنی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دھرتی پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کو محبت ہے اور اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کشمیر ی پاکستانی پرچم میں دفن ہو رہے ہیں،کشمیری دو قومی نظریے پر پہرہ دے کر ہندوستان کے اندر کروڑوں کی تعداد میں بسنے والے مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کا کردار ادا کررہے ہیں، کشمیریوں نے حقیقی معنوں میں پاکستان و ہندوستان میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کی بقاء کی جنگ ایک بڑی قوت سے شروع کر رکھی ہے اور کم و بیش ۹ لاکھ ہندوستانی فوج کو کشمیر میں مصروف کر رکھا ہے اور اس وقت ہندوستان بھرپور قوت کے ساتھ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو کچلنے کے لیے کوششوں میں مصروف عمل ہے ، ایسے میں اگر دھرتی پاکستان سے کشمیریوں کے لیے منظم آواز بلند نہ ہوئی تو اس کا برا اثر تحریک آزادی کشمیر پر پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ہی پاکستان میں ایک ایسا نقطہ ہے جس پر پوری قوم ،تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ۳۱ اگست کو مرکزی جمعیت اہل حدیث آزاد جموں و کشمیر تحریک آزادی کے بیس  کیمپ مظفرآباد میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے سلسلہ میں یکجہتی کشمیر ریلی کا انعقاد کرے گی اور اس ریلی کے انعقاد سے سیز فائر لائن کے پار مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے کشمیری بھائیوں کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ تحریک آزادی کشمیر کی جدوجہد میں وہ تنہاء نہیں ہیں بلکہ آزاد کشمیر میں بسنے والا ہر کشمیری ان کی آواز ہے اور مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں کے لیے آزاد کشمیر کے باشندے اپنا سب کچھ قربا ن کرنے کو تیار ہیں، مرکز اہل حدیث جامعہ محمدیہ مظفرآباد میں منعقدہ اجلاس میں مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سرپرست محی الدین اثری، رئیس جامعہ محمدیہ مولانا زاہد الاسلام اثری ، عبدالشکور آزاد، مولانا محمد یونس صدیقی، مولانا عبدالرشید محمود ، حاجی عبدالرحمن مغل،مولانا نصیر احمد شیرازی ، مولانا فضل الرحمن عثمانی ، مولانا فضل الرحمن ، مولانا محمد عرفان محمدی، مولانا محمد ادریس عتیق ،مولانا سجاد قدوسی ، محمد مشتاق خان ابو حمزہ، مولانا خلیل الرحمن بٹ، مولانا محمد حنیف واسطی ،قاری محمد ندیم ،قاری محمد اشرف جانباز،قاری منظور احمد، مولانا محمد عظیم کوہاٹی، مولانا خالد سلفی سمیت دیگر مقررین نے اجلاس میں شرکت کی۔


No comments:

Post a Comment