شرعی سیاست 34-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Friday, September 13, 2019

شرعی سیاست 34-2019


شرعی سیاست

خطبہ جمعہ: جناب امیر محترم سینیٹر پروفیسر ساجد میر﷾
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ۰۰۴۱﴾ (الحج)
’’یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کے پاؤں جمادیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں ادا کریں اور زکوتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔‘‘
سیاست کا مفہوم
سیاست کسے کہتے ہیں، عوام کو چلانا، ان کی رہنمائی کرنا، یعنی ملکی اور اجتماعی معاملات چلانے کے لیے عوام کو رہنمائی مہیا کرنا، سیاست ہے، عام دنیاوی اور شرعی سیاست میںفرق ہے ۔
دنیاوی سیاست یہ کہتی ہے کہ اگر حکمران پر کوئی ذمہ داری یا جوابدہی عائد ہوتی ہے تو وہ براہ راست عوام کی طرف سے عائد ہوتی ہے۔ آمریت اور بادشاہت میں ذمہ داری صرف ذات تک محدود ہوتی ہے، اچھا بادشاہ یہ سمجھتا ہے کہ چونکہ وہ حکمران ہے، اس لیے اس کی کچھ ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ عوام کی بھلائی کا کام کرے اور     عدل و انصاف سے کام لے۔ اگر وہ اچھا اورذمہ دار نہیں تو پھر وہ اپنی مرضی سے آمر یا مطلق العنان بادشاہ کی طرح حکمرانی کرتا ہے ۔
اس کے بر عکس موجودہ جمہوری نظام میں یہ کہا جاتا ہے کہ اقتدار ذاتی نہیں جس طرح ایک آمر اسے ذاتی سمجھتا ہے۔ جمہوری نظام کہتا ہے کہ اقتدار اس کا ذاتی نہیں بلکہ عوام کی طرف سے آیا ہے اور عوام کی ملکیت ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری عام آدمی تک محدود ہے، لیکن شرعی سیاست یہاں سے شروع ہوتی ہے اور اس کی سب سے پہلی بنیاد یہ ہے کہ اقتدار اعلیٰ، بادشاہ، آمر اور حاکم کا ذاتی نہیں اور نہ عوام کی ملکیت ہے، اقتدار اعلیٰ صرف رب العالمین کا ہے، اصل حکمران او ر قانون ساز وہ ہے، قانون دینے والا بھی وہی ہے اور حکمران بھی وہی ہے۔ زمین اس کی ہے، اس زمین پر حکم بھی اسی کا چلنا چاہیے اور قرآن پاک نے اس کو مختصر مگر جامع اور زور دار الفاظ میں اس طرح واضح فرمایا :
﴿اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ﴾ (الاعراف)
’’سن لو پیدا کرنے وا لا بھی وہی ہے، حکم بھی اسی کا چلتا ہے اور چلنا چاہیے۔‘‘
اصل قانون ساز کون؟
یہ شرعی سیاست کی پہلی بنیاد ہے کہ اصل حکمران اور اسی طرح قانون، دستور اور لائحہ عمل دینے والا اللہ رب العالمین ہے۔ اس کے ساتھ دوسری بنیاد یہ ہے کہ وہ رب العالمین جو اقتدار اعلیٰ کا اصل مالک اور قانون ساز ہے، جس کا قانون، حکم اور فرمان اس زمین پر چلنا چاہیے، اس کے سامنے ہم سب (عوام اور حکمران )جوابدہ ہیں، ذمہ دار ہیںاور ایک دن آنے والا ہے کہ جب ہم سے (عوام سے بھی اور حکمرانوںسے بھی) پوچھا جائے گا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری کو کہاں تک ادا کیا ہے، جوابدہی اور ذمہ داری کا یہ احساس اجاگر کرنا، بالخصوص حکمرانوں کو کہ اگر وہ حکمران ہیں تو ان کو یہ اقتدار ان کی آزمائش کے لیے ملا ہے اور اس کی انتہا ء یہ ہو گی کہ ان لوگوں سے پوچھا جائے گا،اقتدار ان کی ملکیت نہیں بلکہ یہ ان کو ملا ہے اورجوابدہی کے لیے ملا ہے ۔
قرآن کریم نے شرعی سیاست کی بنیادوں کو ان الفاظ میں واضح فرمایا:
﴿تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١ٞ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِيَدِكَ الْخَيْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۰۰۲۶﴾ (ال عمران)
کہ اقتدار اور حکمرانی دینے والا رب العالمین ہے، عزت، ذلت، بلندی، پستی اسی کے ہاتھ میں ہے اور اسی کے سامنے تم نے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے ۔
شرعی سیاست کا تیسرا بڑا نکتہ
تیسری بات جو شرعی سیاست کو عام طرز حکمرانی اور سیاست سے ممتاز کرتی ہے، وہ کیا ہے کہ اس کی بنیاد اخلاقی ہوتی ہے،حکمرانوں اور عوام کے اخلاق اور عمل کی بنیاد اصلاح پر ہوتی ہے، اس کی طرف خصوصی توجہ دی جاتی ہے،اس لیے کہ اس کی کامیابی اسی بات میں مضمر ہے اور یہ طریق سیاست کامیابی سے تبھی چلتا ہے جب احساس ذمہ داری ہو، جوابدہی اور قیامت کی باز پرس کا احساس ہو،اور دوسرا پھر اس کے نتیجے میں عملی طور پہ اصلاح ہو، اخلاق اور اعمال اچھے ہو ں۔
آپ اندازہ فرمائیں کہ نبی e کے دور میں جب تعلیمات اسلامی کو عملی طور پر نافذ کیا گیا،معاشرے نے انہیں اپنے اوپر نافذ کیااور نبی اکرم e نے نافذ فرمایا تو کیا ہوا، کوئی باقاعدہ پولیس بھی نہیں تھی، کوئی خفیہ اور ایجنسیوں والے بھی نہیں تھے، جیل خانے اور حکومت گاہیں بھی نہیں تھے، اس کے باوجود جرم نہ ہونے کے برابر تھا، اس کی وجہ اخلاقی اصلاح اور عملی تزکیہ، کہ تعلیمات صرف تعلیمات کی حد تک نہیں بلکہ وہ رو بعمل آچکی تھیں، اسلامی و شرعی سیاست کی کامیابی کی بنیاد تب پڑتی ہے، جب جوابدہی  کے احساس کے ساتھ ساتھ اس کی بنیاد پر لوگوں اور حکمرانوں کی بالعموم اصلاح ہو۔ کالی بھیڑیں معاشرے میں ہوتی ہیں اور حکمرانوں میں بھی لیکن علی العموم حکمران اور عوام اسلامی تعلیمات کی طرف متوجہ، ان کو اپنائے اور ان پر چلنے والے ہوں۔
آج بھی ہمارا دینی جماعتوں اور ایک عام آدمی جو موجودہ صورتحال(بد امنی، کرپشن اور لوٹ مار )سے تنگ آیا ہوا ہے،کا نعرہ ہے اور ہمیشہ سے رہا ہے کہ ہمارا بچائو اور ہماری بہتری سچے اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آج اعلان بھی کر دیا جائے کہ اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسولe کی سنت، اس ملک کا اصل قانون ہے، پھر سوال یہ ہے کہ اس کو نافذ کس نے کرنا ہے؟ اسی حکومت نے، انتظامیہ اور پولیس نے، انہی عوام، تاجروں، افسروں اور انہی عام لوگوں پر جن کی روز مرہ زندگی میں عملی اسلام اگر نظر آتا ہے تو بہت کم (خال خال)نظر آتا ہے،اسی لیے صرف قانون بنا دینا کافی نہیں بلکہ اس کے نفاذ کے لیے ماحول مہیا کرنا بھی ضروری ہے، اسی لیے اس آیت میں فرمایا گیا:
﴿اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ ﴾ (الحج)
نماز سے بات شروع ہوئی ،شرعی سیاست اور طرز حکمرانی کی بات ہے اور نماز سے شروع ہوتی ہے، اس لیے کہ عملی اصلاح کے بغیر یہ نظام نہ آسکتا ہے، نہ چل سکتا ہے اور نہ کامیاب ہو سکتا ہے۔
عوام کے اخلاق کا درست ہونا بھی تو شرعی سیاست کا حصہ ہے
نبیe کے دور مبارک میں جیل خانے اور پولیس نہیں تھی تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ نہیں ہونی چاہیے، کبھی نہیں ہوئی، یا اسلامی دور میں کبھی نہیں بنائی گئی بلکہ خلافت راشدہ میں اس کی ضرورت محسوس ہوئی تو یہ سلسلہ شروع ہوا، اس کی نفی نہیں لیکن اس آئیڈیل اور مثالی دور کی مثال میں نے اس لیے پیش کی کہ جب عملی اصلاح انتہا ء تک پہنچے ،لوگوں اور حکمرانوںکے دلوں میں جوابدہی کا احساس جاگزیں ہوا تو پھر ان سہاروں کے بغیر بھی یہ نظام چلا اور بہترین طریقے سے چلا۔
یہ کیسے ہوا،کیوں ہوا، اتنی آسانی سے بظاہر اس مشکل حکم پر کس طرح عمل ہوا، اس لیے کہ لوگوں کے ذہن تیار ہوئے، لوگ عملی طور پر درست ہو چکے تھے ،جوابدہی، اللہ کے سامنے جانے اور باز پرس کا احسا س بھی تھااور اس کے نتیجے میں عملی طور پہ ان کی زندگیوں میں انقلاب آچکا تھا، اس لیے ایسے احکام پر عمل کرنا ان کے لیے مشکل نہیںرہا ۔
 شرعی سیاست کا خاص امتیاز
ان بنیادی باتوں کے بعد شرعی سیاست کا ایک اور خاصہ یہ ہے کہ اس میںمشورہ اور رائے کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ،قرآن پاک نے اس بات کو ان مختصر مگر جامع الفاظ میں واضح فرمایا :
﴿وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ﴾ (الشورٰی)
مسلمانوں سے کہا کہ ان کے اجتماعی کام باہمی مشورے سے چلتے ہیں ۔
جب پوچھا جاتا ہے کہ اگر اس نے مشورے پر عمل نہیں کرنا تومشورہ کیوں لے، کہتے ہیں لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے، لوگ مطمئن کیسے ہوں گے جب ان سب کے مشورے کے بر عکس یا ان میں سے زیادہ لوگ جن سے مشورہ لیا گیا، ان میں سے زیادہ لوگوں کی رائے یا سب کی رائے کے بر عکس کرے، اسے اختیار کرے، پھر وہ مطمئن کیسے ہوں گے کہ ہم سے بات تو پوچھی گئی لیکن مانی نہیں گئی ۔
یاد رکھیں !حکمران اسی وقت مشورے اور رائے کو (خواہ وہ رائے پوری پارلیمنٹ کی ہو ،خواہ وہ رائے پورے ملک کی ہو) نظر انداز کر سکتا ہے، اسے نظر انداز کرنا چاہیے اور نظر انداز کرنا اس پر فرض ہوتا ہے جب یہ بات اللہ اور رسول e کے کسی صریح اور واضح حکم کے مخالف ہو، پھر اول تو ایسی رائے بنے گی ہی نہیں اور اگربنے گی تو حکمران دے گا،کہے گا کہ کتاب و سنت کی فلاں صریح آیت، حدیث اور حکم کے خلاف ہے اس لیے میں اسے قبول نہیں کرتا ۔
دیکھو!نبی اکرمe تک کا اپنا طریق کیا ہے، وہ جن پر وحی آتی تھی، وہ جن پر براہ راست اللہ تعالیٰ کے احکام آتے تھے،جن کی مخاطبت اللہ تعالیٰ سے تھی، ان کا طریقہ بھی یہ تھا کہ اللہ کا جو حکم ہے اس پر تو کوئی مشورہ کی ضرورت ہی نہیں اور جیسے میں نے کہا کہ اگر ساری قوم، شوریٰ اور پارلیمنٹ مخالفت کرے تو پھر بھی وہی حکم نافذ ہو گا کیونکہ اقتدار اعلیٰ اور حکم اس کا ہے، اصل حکمرانِ اعلیٰ وہ ہے،باقی تو نام کے ہیں، آپ کا طریقہ کیا تھا؟
نبی اکرمﷺ کی نظر میں مشورہ کی اہمیت
جنگ بدرکے موقع پر رسول اکرم e نے حکم دیا کہ فلاں مقام پر کیمپ لگا کر پڑائو کرو، مجاہدین نے کیمپ لگاناشروع کئے،ایک صحابی نے آگے بڑھ کرادب سے عرض کیا :
’’اے اللہ کے رسول! آپ نے یہ جگہ اللہ کے حکم (وحی) سے تجویز فرمائی ہے یا اپنی رائے سے ؟‘‘
آپe نے فرمایا:
اس سلسلے میں مجھے کوئی حکم نہیں ملا، میں نے اپنے طور پر منتخب کیا ہے،عرض کیا ہے پھر اگر آپ اس کو بدل لیں تو بہتر ہو گا، جنگی اعتبار سے وہ فلاں جگہ ہمارے لیے بہتر ہے، وہ ذرا اونچی ہے، یہاں بارش کاپانی آئے گا، کچھ بھی ہو گا، دفاعی نقطۂ نظر سے وہ جگہ ہمارے لیے زیادہ موزوں ہے ۔
آپe نے اس رائے کو قبول کیا اور اپنی رائے کو واپس لیا اور فرمایا کہ اس جگہ کو چھوڑ دو اور اس جگہ پر چلے جائو۔ (سبل الہدیٰ)
مشورے کا مطلب ہے کہ پھر اس کی روشنی میں ایک رائے بناؤ۔ اوراگر حکمران کی رائے اس کے برعکس ہے تو پھر قائل کر کے بتاؤ کہ اس وجہ سے میں یہ کہہ رہا ہوں اورپھر ان کو ساتھ لے کر چلو۔ ایک درمیانی اورتوازن کی راہ اختیار کرناپڑتی ہے کہ حکمران بالکل آمر بھی نہ بن جائے ۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ وہ عوام کی رائے کا بالکل پابند ہو ،سیاست کا مطلب تویہی ہے کہ قائد بنے ان کو چلائے لیکن صرف اپنی رائے پر نہیں بلکہ ان کو مجموعی مصلحت پر چلائے‘ ان کی مانے بھی اورجہاں منوانے کی ضرورت ہو ان کو منوائے بھی۔
شرعی سیاست میں حکمران کا انتخاب کیسے ہوگا؟
حکمران کا انتخاب کیسے ہوگا۔ وہ کیسے چنا جائے گا؟ اس کے بارے میں ہمارا دین یا شریعت کیا رہنمائی دیتی ہے۔ بعض معاملات میں اسلام اورکتاب وسنت کی رہنمائی تفصیلات کے ساتھ ہوتی ہے اوربعض معاملات میں مصلحتاً صرف بنیادیں اور اصول واضح کر دیے جاتے ہیں اورتفصیلات آنے والے زمانوں تک کے لیے چھوڑ دی جاتی ہیںکیونکہ اسلام اللہ تعالیٰ کاوہ پسندیدہ دین ہے جوقیامت تک باقی رہے گا‘ اس کی رہنمائی ہمیشہ کے لیے ہے ۔ ایک وقت تک کے لیے محدود نہیں۔
سابقہ شریعتیں جو انبیائے کرامo  پہلے لائے وہ وقت کے لحاظ سے ایک خاص وقت تک کے لیے محدود تھیں لیکن یہ شریعت محدود نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ دوسری بات بھی آپ نے بارہا سنی کہ یہ دین اوراس کے احکام جامع ہیں۔زندگی کے ہر میدان کے بارے میں اس میں رہنمائی ہے اور ہر طبقے کے ہر فرد کے حقوق وفرائض اورذمہ داریاں بھی ہیں۔
اس لحاظ سے بعض اوقات بنیاد کو واضح کر دیا جاتا ہے اورتفصیل کو چھوڑ دیاجاتا ہے کہ اس بنیاد پر چلتے ہوئے حالات کے مطابق کچھ گنجائش دے دی جاتی ہے اوراسی بنیاد پر قائم رہتے ہوئے طریق کار کی تفصیل طے کرتے ہیں۔
اسی انداز سے اسلامی شرعی سیاست میں بعض باتیں تو بالکل دو اوردوچار کی طرح واضح ہیں۔ پھر اسلام کے دوراولین اورمبارک دور میں جس کو ’’خیرالقرون‘‘ کہا گیا۔ نبی اکرمe کے اپنے اور آپ کے خلفائے راشدین کے دورمیں یہ طریق کار اصولوں سے بھی اوران کے عمل سے بھی واضح ہوا کہ ایک حکمران کے انتخاب میںلوگوں کی رائے کا کتنادخل ہوتا ہے۔
حکمران متعین کرنے کے لیے رسول اللہaاورصحابہ کا طریقہ کار
نبی اکرمe نے سیاسی حوالے سے حکمرانی کے لیے کسی کو براہ راست اپنا جانشین نامزد نہیں فرمایا لیکن سیدنا ابوبکر tکے اشارات موجود تھے ۔نماز کا امام انہیں
بنایا۔ اپنا جانشین بنانے کے کچھ اشارے آپ نے دیے لیکن واضح نہیں فرمایا‘ اگر واضح فرماتے توپھر یہی طریقہ شرعی سمجھا جاتا۔ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا بلکہ کھلا چھوڑ دیا آپ نے مصلحت کے لیے کچھ اشارے کر دیے تاکہ بالکل اس طرح نہ ہو کہ کوئی ایسا آدمی آجائے جو مسلمانوں کی عمومی یا مجموعی مصلحت کے خلاف ہو، اورپھر اہل رائے ان کے رائے اورمشورے سے بات طے کرے۔
پہلے یہ بحث چلی کہ خلیفہ انصار میں سے ہویا مہاجرین میں سے ہو، ہو تو کون ہو؟ پھر کچھ رسول اللہeکے ارشادات کی روشنی میں لوگوں نے ایک رائے بنائی۔ اس رائے کے نتیجے میں سیدنا ابوبکرt منتخب ہوئے اورپھر یہ ہوتا تھا کہ اہل رائے کے انتخاب کے بعد عام لوگ اس پر اعتماد کا اظہار کرتے تھے‘ عام آدمی بھی بیعت عامہ کی شکل میں اعتماد کا ووٹ حکمران کو دیتا تھا۔ انتخاب ہوا ،خاص لوگوں کی بیعت خاص ہوئی، اس کے بعد عام لوگوں کی بیعت عام ہوئی۔ اسی لیے سیدنا علیtکے ساتھ جب اختلاف کیا گیا۔ نہج البلاغہ میںآپ کا خطبہ موجود ہے‘ انہوں نے اپنی خلافت کے حق میں جو دلیل دی وہ کیا تھی:
[اِنَّہُ بَایَعَ عَنِ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا اَبَابَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ]
مجھے ان لوگوں نے منتخب کیا ہے‘ میری بیعت اورمیرے ساتھ حلف وفاداری ان لوگوںنے باندھا، جنھوں نے مجھ سے پہلے ابوبکر، عمر اورعثمانeسے یہ عہد باندھا تھا یعنی وہ انتخابی ادارہ کوئی رسمی نہیں تھا کہ اس کی کوئی فہرست یا رجسٹر ہو۔ تو وہی لوگ قوم کے سردار ، امیر اور قوم کے اعتماد کے حامل لوگ منتخب ہوتے ۔ا ور ان میں پھر یہ بھی تھا کہ اسلامی خدمات معاشرے، قوم، دنیاوی، اخروی، فلاح وبہبود کا کام کرنے اوراس کی نگرانی کرنے والے، ان میں یہ عوامی خدمت کا معیار تھا۔ انصار ومہاجر اوران کے سرداروں کو اسلامی یا عوامی خدمات کے حوالے سے خصوصیت یا امتیاز حاصل تھا۔
سیدنا علی t نے آگے چل کر اسی خطبے میں یہ فرمایا:
[اِنَّمَا الشُّوْرٰی لِلْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ]
یہ شوری کا حق ہے‘ یہ انصار اورمہاجرین یعنی ان کے نمائندوں اورسرداروں کے لیے ہے کہ انہوں نے جس کو منتخب کیا۔ اس کی خلافت پر تم کیسے اعتراض کر سکتے ہو۔
معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو عوام کے اعتماد کے حامل ہیں اس کے بعد عوام خود بھی اعتماد کرتے ہیں اور اگر اسے یہ شکل دی جائے کہ عوام براہ راست اعتماد کریں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔
سیدنا عثمانؓ کا انتخاب کیسے ہوا؟
سیدنا عمرt نے ایک کمیٹی بنا دی تھی اور اس کمیٹی نے ابتدائی غوروخوض کے بعد، کچھ لوگ انہی میں سے امیدوار تھے کچھ نے نام واپس لیا۔ کچھ نے دستبرداری اختیار کی۔ باقی سیدنا علیt اور سیدنا عثمانtرہ گئے ۔ سیدنا عبدالرحمن بن عوفt جو اس کمیٹی میں نمایاں تھے۔ انہوں نے اختیار ملنے کے بعد یہ کہا کہ میںلوگوں کی رائے معلوم کروں گا۔ تاریخ بتلاتی ہے کہ پھر پورے ملک میں آنے جانے اورلوگوں کی رائے معلوم کرنے کے وسائل تو اس زمانے میں ان کے پاس نہیں تھے۔ نہ اتنا وقت تھا اورنہ وہ حالات تھے لیکن جہاں تک ممکن ہوا انہوں نے بڑے بڑے اہل رائے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے جذبات اورخیالات بھی معلوم کیے۔
تاریخ میں لکھا ہے کہ انہوں نے گلی کوچوں میں چل پھر کر گھروں میں رہنے والے لوگوں سے معلوم کیا کہ زیادہ لوگ کس کے حامی ہیں وہ بطور حکمران کس کوپسند کریں گے۔
کہتے ہیں جی ہم تو اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرtکو خلیفہ بنایا۔اسی لیے بنایا اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ آپ نماز کے امام بنائے گئے لیکن آپ اندازہ کریں یہ بات کہ دس، بیس آدمی مشورے سے نماز کے لیے ایک امام بناتے ہیں وہ کہاں، اورپورے ملک کے لیے اگر یہی طریقہ ہے توکوئی طریقہ تووضع کریں نا۔ دس بیس آدمی توآپ کے سامنے ہیں۔ انہوں نے اپنی رائے دے دی کہ فلاں صاحب امامت کروائیں‘ اگر اس طرح چھوڑ دیا جائے پھر توعجیب وغریب صورتحال پیدا ہو جائے گی جو کہ کسی بھی طرح درست نہیں کہ جس کو مرضی بنالو۔ نہیں ، اس کا کوئی طریقہ کار ہونا چاہیے۔ خاص طور پر اس زمانے میں جبکہ طریقہ کار وضع کرنا آسان ہے ۔ وسائل ہیں، ظروف ہیں، حالات ایسے ہیں کہ لوگوں سے پوچھا جا سکتا ہے۔ بہرحال یہ دونوں طریقے بالواسطہ بھی اور بلاواسطہ بھی صحیح ہیں۔ یہ بالواسطہ طریقے سے جو عوام کے نمائندے ہیں یا سمجھے جاتے ہیں جن کو عوام کا اعتماد حاصل ہے ۔ ان سے پوچھنا یا براہ راست عوام سے پوچھنا یہ طریقہ اختیار کیا گیا۔ اس کے اختیار کرنے میں آج بھی شرعی سیاست کے اندر کوئی حرج والی بات نہیں لیکن صرف اسی کو جمہوریت سمجھنا کافی نہیں ہے کہ جی عوام کی رائے لے لی اور ووٹ کا حق دے دیا۔ اس کے کچھ اور بھی تقاضے ہیں ۔ان تقاضوں یا شرعی سیاست کے باقی کوائف اورشرائط پران شاء اللہ آئندہ بات ہو گی۔ 


No comments:

Post a Comment