خطبۂ حرم ... رحمت الٰہی کی ضرورت اور اعمال کی اہمیت 34-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Friday, September 13, 2019

خطبۂ حرم ... رحمت الٰہی کی ضرورت اور اعمال کی اہمیت 34-2019


خطبۂ حرم ... رحمت الٰہی کی ضرورت اور اعمال کی اہمیت

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر فیصل الغزاوی d
ترجمہ: جناب محمد عاطف الیاس
حمد و ثناء کے بعد!
امام بخاری نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں سیدنا ابوہریرہt سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’کوئی شخص صرف اپنے اعمال کے ذریعے نجات نہیں پا سکے گا‘ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسولe! کیا آپ بھی نہیں؟ آپe نے فرمایا: نہیں مجھے بھی نہیں! الّا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی رحمت نچھاور کرے۔ احکام الٰہی پر مکمل طرح قائم رہنے یا کم از کم ان کے قریب قریب رہنے کی کوشش کرو، صبح وشام محنت کرو اور رات کے وقت بھی عبادت کرو۔ میانہ روی اختیار کرو، میانہ روی اختیار کرو گے تو منزل مقصول تک پہنچ پاؤ گے۔‘‘
دوسری روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں:
’’یہ دین سراسر آسانی ہے۔ جو سختی اپنا کر اس دین کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا، یہ دین اس پر غالب آ جائے گا۔ تو احکام الٰہی پر مکمل طرح قائم رہنے یا کم از کم ان کے قریب قریب رہنے کی کوشش کرو اور خوش ہو جاؤ۔ صبح اور شام کے وقت سے فائدہ اٹھاؤ اور رات کی عبادت سے بھی کام لو۔‘‘
اسی طرح امام بخاریa نے سیدہ عائشہr سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
’’احکام الٰہی پر مکمل طرح قائم رہنے یا کم از کم ان کے قریب قریب رہنے کی کوشش کرو، یاد رکھو کہ کسی کو صرف اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کر سکتا۔ اللہ کو وہ اعمال پسند ہیں جو مستقل مزاجی کے ساتھ کیے جائیں چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘
یہ حدیث ایک عظیم اصول اور بہترین قاعدہ ہے۔ انسان کی نیکی چاہے بہت بڑی ہی کیوں نہ ہو اور اس کی ادائیگی کتنی شاندار اور حسین ہی کیوں نہ ہو، بہر حال محض اس کی نیکی ہی اسے جنت میں داخل ہونے کا حقدار نہیں بنا سکتی اور نہ اسے آگ سے بچا سکتی ہے۔ جنت کا حصول اور آگ سے بچاؤ تو اللہ کی مغفرت اور رحمت ہی سے ہو سکتا ہے۔
ایک حدیث میں آپe کا فرمان ہے: کوئی شخص صرف اپنے عمل سے جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن پاک میں ارشاد ہے:
’’جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے۔‘‘ (النحل: ۳۲)
اس آیت اور اس حدیث کے مفہوم کو اس طرح ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے کہ جنت میں اللہ کی رحمت ہی سے داخل ہوا جا سکتا ہے، مگر جنت کے درجوں اور منزلوں کا اختلاف انسان کے اعمال کے مطابق ہو گا۔ جس کی نیکیاں زیادہ اور بہتر ہوں گی، جنت میں اس کا مقام بھی زیادہ بلند ہو گا۔
اسی طرح یہ بھی جان لینا چاہیے کہ نیکی جنت میں داخلے کا ذریعہ تو ہے مگر اسے ذریعہ بنانا بھی اللہ کی کرم نوازی ہے۔ معلوم ہوا کہ جنت اور نیکی، دونوں اللہ کی رحمت اور کرم نوازی ہے جو اس نے اپنے مومن بندوں کو عطا فرمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جنت والے جنت میں داخل ہوں گے تو یہی کہیں گے:
’’تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پا سکتے تھے اگر اللہ ہماری رہنمائی نہ کرتا۔‘‘ (الاعراف: ۴۳)
تو جب انہوں نے یہ اعتراف کر لیا کہ انہیں جنت بھی اور اس میں داخل ہونے کے اسباب پر عمل کی توفیق بھی اللہ ہی نے دی ہے۔ جب انہوں نے ان ساری نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی تو انہیں یہ انعام ملا کہ اللہ نے انہیں یوں مخاطب کیا:
’’یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں اُن اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے۔‘‘ (الاعراف: ۴۳)
اس طرح ان کے اعمال ان ہی کی طرف منسوب کیے گئے اور انہیں اعمال کی جزا بھی مل گئی۔
اللہ کے بندو! یہاں اس بات کا ذکر بھی مناسب ہے کہ نیکیوں کے اجر میں اضافہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم اور احسان ہی ہے۔ وہ ایک نیکی کے بدلے دس نیکیوں کا اجر دیتا، اور پھر اسے سات سو گنا بڑھا دیتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ کر دیتا ہے۔ جبکہ بندے کوتاہی کا شکار رہتے ہیں، اپنے پروردگار کے عفو ودرگزر کے محتاج رہتے ہیں۔ کوئی شخص ایسا نہیں جس کے ایسے گناہ نہیں جن کی مغفرت اور جن سے درگزر کا وہ متمنی نہ ہو تاکہ وہ جنت میں داخل ہو جائے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو دعوت دی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اور اللہ اپنے اذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔‘‘ (البقرۃ: ۲۲۱)
ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بندۂ مؤمن کو اپنے اعمال سے امید مکمل طور پر چھوڑ دینی چاہیے۔ ان پر اعتماد نہ کرے، چاہے اس کی نیکیاں بہت زیادہ اور بہترین کیوں نہ ہوں۔ کوئی فرماں برداری، عبادتوں اور ان کی قبولیت پر بھروسہ نہ کرے۔ کیونکہ ان کی قبولیت تو ایسا معاملہ ہے کہ جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہر شخص کو چاہیے کہ و ہ اپنی نظر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور احسان پر جمائے رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام] اپنی فضیلت، نیکی میں سبقت اور بھلے کاموں میں مسابقت کے باوجود خود کو دوسروں سے بہتر نہیں سمجھتے تھے، بلکہ ہمیشہ نعمت دینے اور عطائیں کرنے والے پروردگار کو یاد کرتے تھے جس نے انہیں نیکیوں اور قرب الٰہی کے ذرائع اپنانے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ وہ نعمت اسی کی طرف منسوب کرتے اور اسی کے فضل وکرم کے قائل رہتے۔ وہ سب سے آگے یوں پہنچ گئے تھے کہ انہوں نے بہترین اعمال بھی کیے تھے اور عدم قبولیت سے ڈرتے بھی رہتے تھے۔ سیدہ عائشہr نے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا:
’’اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے۔‘‘ (المؤمنون: ۶۰)
اے اللہ کے رسول! کیا اس آیت سے مراد وہ لوگ ہیں جو چوری کرتے ہیں، زنا کرتے ہیں اور شراب نوشی کرتے ہیں، پھر اللہ کی سزا سے ڈرتے ہیں؟ آپe نے فرمایا: نہیں! اے ابو بکر کی بیٹی! نہیں اے بنتِ صدیق! بلکہ یہاں ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں اور صدقہ خیرات کرتے ہیں اور پھر اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان کی نیکیاں قبول نہ ہوں۔
اس حدیث میں فرماں برداری کرنے اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے اور ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی ترغیب بھی دلائی گئی ہے۔ دیکھیے صحابہ کرام] جیسے نیک، پرہیزگار اور پاکیزہ لوگوں کو جب برے خاتمے کا خیال آتا تو ان کی نیندیں اڑ جاتیں۔ سزا کے خوف سے ان کیدل ڈرے رہتے تھے، عدمِ قبولیت کے ڈر سے وہ بے چین رہتے۔
روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا ابن مسعود  سے کہا: میں یہ پسند نہیں کرتا کہ میں دائیں جانب والوں میں سے ہوں، بلکہ میں تو مقربین میں ہونا چاہتا ہوں۔ اس پر سیدنا ابن مسعودt نے فرمایا: لیکن یہاں ایک بندہ ہے جس کی تمنا ہے کہ مر جائے اور پھر اسے اٹھایا ہی نہ جائے۔ آپ کا اشارہ اپنی طرف تھا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سچا مومن نیکی میں خوب محنت کرتا اور فرمان برداری کرنے میں خوب جان لگاتا ہے اور اطاعت میں اپنی تمام تر توانائی لگا دیتا ہے، مگر اس کے باوجود وہ خود پسندی کا شکار نہیں ہوتا، نہ اپنے اعمال پر بھروسہ کرتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ان نیکیوں کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اور انہیں سرانجام دینے میں بھی اسی کی مدد شامل حال رہی ہے۔ نیکی کی راہ میں ہر قسم کی رکاوٹیں اور مشکلات اسی نے دور کی ہیں۔ اس کی زبان یہ کہہ رہی ہوتی ہے:
’’اللہ کی قسم! اگر وہ نہ ہوتا تو نہ ہم ہدایت پاتے، نہ صدقے دیتے اور نہ نمازوں کو جانتے۔‘‘
مومن کو چاہیے کہ وہ اپنی ہمت اور استطاعت کے مطابق ہر ممکنہ نیکی کرنے کی کوشش کرے۔ کسی نیکی کو چھوٹا نہ سمجھے۔ کیا معلوم! ہو سکتا ہے کہ کوئی چھوٹا عمل اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے اور وہ اس کی مغفرت اور جنت میں داخلے کا ذریعہ بن جائے۔
سیدنا ابو ہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے روایت کیا کہ ایک شخص اپنے راستے میں جا رہا تھا کہ اسے سخت پیاس محسوس ہوئی۔ پھر اسے ایک کنواں ملا، وہ اس میں اترا، پانی پیا اور پھر باہر نکل آیا۔ دیکھا کہ ایک کتا انتہائی پیاسا ہے اور پیاس کی وجہ سے گیلی مٹی چاٹ رہا ہے۔ اس نے سوچا: اس کتے کو بھی اتنی ہی پیاس لگ گئی ہے جتنی مجھے لگی تھی۔ وہ کنویں میں پھر سے اترا، اپنے موزے کو بھرا، اسے اپنے دانتوں سے پکڑ کر اوپر آیا اور وہ پانی کتے کو پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر کی اور اسے معاف کر دیا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمیں جانوروں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے پر بھی اجر ملے گا؟ آپe نے فرمایا: ہر جاندار میں اجر ملتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
امام مسلم کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اس عمل کی قدر کی اور اسے جنت میں داخل کر دیا۔ دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے اس عمل کی قدر کی اور اسے معاف کر دیا اور یہ عمل جنت میں داخلے کا ذریعہ بن گیا۔
اسی طرح جہنم سے نجات کے طالب اور جنت کے امید وار مومن کو چاہیے کہ وہ رحمتِ الٰہی، اس کی مغفرت، خوشنودی اور محبت کے اسباب پر عمل کرے۔ اللہ کو وہ اعمال پسند ہیں جو مستقل مزاجی کے ساتھ کیے جائیں۔ چاہے وہ چھوٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ رسول اللہe نیک اعمال کو چھوڑنے سے منع کرتے تھے۔
آپ نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصt سے فرمایا:
’’فلاں کی طرح مت کرنا جو پہلے تہجد گزار تھا اور اب تہجد چھوڑ چکا ہے۔‘‘
اسی طرح اللہ ان اعمال کو بھی پسند کرتا ہے جن میں استقامت، میانہ روی اور آسانی پائی جائے۔ جن میں کوئی تکلف یا مشکل نہ ہو۔ اللہ کا فرمان ہے:
’’اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا۔‘‘ (البقرۃ: ۱۸۵)
اسی طرح رسول اللہe نے ان لوگوں کو منع کیا جنہوں نے شادی نہ کرنے اور اپنے اندر سے شادی کی صلاحیت کو ختم کر دینے کا فیصلہ کیا تھا، جنہوں نے ہمیشہ روزہ رکھنے اور ساری رات تہجد اور تلاوت قرآن میں گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان تین لوگوں کی رہنمائی فرمائی جنہوں نے رسول اللہe کے طریقے کو چھوڑ کر ایک نیا طرز عمل اپنانا چاہا تھا۔ انہیں درست راستے اور اعتدال کی طرف لوٹنے کا کہا۔ فرمایا: میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور شادی بھی کرتا ہوں۔ جو میری سنت کو ناپسند کرتا ہے اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔
رسول اللہe کے اس فرمان کا مطلب بھی یہی ہے کہ احکام الٰہی پر مکمل طرح قائم رہنے یا کم از کم ان کے قریب قریب رہنے کی کوشش کرو یعنی ٹھیک طریقہ اپنانے کی کوشش کرو، عبادت میں میانہ روی اختیار کرو۔ نہ کوتاہی برتو اور نہ مبالغہ کرو۔ نہ عبادت کرنے میں کمی کرو اور نہ حد سے تجاوز کرو۔
اسی طرح آپe نے فرمایا: یا کم از کم ان کے قریب قریب رہنے کی کوشش کرو یعنی نیکی کے معاملے میں خود کو مشکل میں نہ ڈالو تاکہ اس کی وجہ سے تم اکتاہٹ کا شکار نہ ہو جاؤ اور پھر نیکی کو چھوڑ ہی دو یا کوتاہی کرنے لگو۔
امام ابن تیمیہa فرماتے ہیں:
’’یہ بھی جان لینا چاہیے کہ محض خود کو عذاب میں مبتلا کرنا اور اذیت میں رہنا، یا مشکل کاموں میں خود کو دھکیلنا اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور محبت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں۔ یہ بات بھی غلط ہے کہ عبادت جتنی مشکل ہو گی، اتنی ہی افضل بھی ہو گی جیسا کہ بہت سے جاہل لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر معاملے میں جتنی مشقت ہو گی اتنا ہی اجر بھی ملے گا؟ نہیں ایسا نہیں‘ بلکہ اجر اتنا ہوتا ہے جتنا نیکی کا فائدہ، مصلحت اور نفع۔ جتنا نیکی میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہو گی۔ اس طرح جو عمل زیادہ بہتر ہو گا اور جس میں زیادہ اخلاص اور پیروی پائی جائے گی، وہ زیادہ افضل ہو گا۔ کیونکہ نیکیاں کثرت کی بنیاد پر افضل نہیں ہوتیں، بلکہ نیکی کے وقت دل کی حالت سے افضل بنتی ہیں۔
اس حدیث میں رسول اللہe نے یہ بھی فرمایا: خوش ہو جاؤ جب تم کوشش کر کے نیکی کو کما حقہ ادا کر لو یا قریب قریب بہترین نیکی کر لو اور عبادت میں میانہ روی اپنا لو، یوں نیکی کر گزرو کہ جس میں نہ کوتاہی ہو اور نہ مبالغہ، تو پھر بہترین جزا اور شاندار اجر سے خوش ہو جاؤ۔
غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بشارت عمومی ہے۔ یعنی اس میں دنیا وآخرت کی ہر طرح کی خیر، خیر کثیر اور بے شمار عطائیں شامل ہیں۔
اللہ کے بندو! ہمیں یہ بھی جان لینا چاہیے کہ فضیلت والی نیکیاں صرف سخت جسمانی نیکیاں ہی نہیں۔ بلکہ زیادہ فضیلت ان کاموں کی ہے جو اللہ کے لیے خالص ہوں۔ درست طریقے پر ہوں اور سنت کے مطابق کیے جائیں۔
صحابہ کرام] بعد میں آنے والوں سے آگے اس لیے نہیں نکلے کہ ان کی نمازیں اور روزے زیادہ تھے، بلکہ اس لیے کہ ان کے دل پاک ہوتے تھے۔ وہ ساری امت کے لیے مخلص تھے۔ ان کی نیت سچی ہوتی تھی۔ ان کے دل آخرت سے جڑے رہتے تھے۔ اسی کی امید میں رہتے تھے۔ دنیا سے بیزار رہتے تھے۔ رسول اللہe کی صحبت کی وجہ سے، ایمان اور رسول اللہe کے ساتھ جہاد میں شریک ہونے کی وجہ سے انہیں ایسا ایمان اور یقین نصیب ہو گیا تھا جس طرح کا ایمان بعد میں آنے والوں میں سے کسی کو نصیب ہو ہی نہیں سکا۔
اے مسلمانو! بہترین لوگ وہ ہیں جو جسمانی عبادت میں میانہ روی اور حالِ دل کی درستی میں رسول اللہe کا اور آپe کے قریبی صحابہ] کا راستہ اپنا لیتے ہیں۔ کیونکہ آخرت کا سفر دلوں سے طے ہوتا ہے، جسموں سے نہیں۔ اس حدیث میں ان اوقات کو بھی ذکر کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سفر کرنے کے ہیں۔ یہ اوقات رات کا آخری پہر، دن کا پہلا اور آخری حصہ۔ یہ مفہوم رسول اللہe کے اس فرمان سے لیا گیا ہے: صبح اور شام کے وقت سے فائدہ اٹھاؤ اور رات کی عبادت سے بھی کام لو‘ اللہ تعالیٰ نے بھی ان اوقات کا اپنی کتاب کریم میں ذکر فرمایا ہے۔ فرمایا:
’’اپنے رب کا نام صبح و شام یاد کرو‘ رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو، اور رات کے طویل اوقات میں اُس کی تسبیح کرتے رہو۔‘‘(الانسان: ۲۵-۲۶)
دن کا پہلا اور آخری حصہ دو ایسے اوقات ہیں جن میں ایک فرض عمل اور ایک نفل نیکی اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ فرض تو فجر کی اور عصر کی نماز ہیں۔ یہی وہ دو نمازیں جن کے متعلق بتایا گیا ہے کہ جو باقاعدگی سے انہیں ادا کرے گا، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ نفل عبادت فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور عصر کے بعد غروب آفتاب تک اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ تیسرا وقت رات کا وقت ہے۔ حدیث میں رات کا آخری پہر مراد ہے۔ یہ وقت استغفار کا وقت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں۔‘‘ (آل عمران: ۱۷)
اے ایمانی بھائیو! کوئی شخص صرف اپنے اعمال کی بدولت جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ اس بات سے کبھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ عمل کا کوئی فائدہ نہیں، چنانچہ عبادت کو چھوڑ دینا چاہیے۔ نہیں! ایسا نہیں بلکہ عمل ضروری ہے۔ اس کا بہت بڑا فائدہ ہے۔ نیکی کرنا رحمتِ الٰہی کی موجودگی کی علامت ہے جس کی بدولت انسان جنت میں داخل ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ نیکی کرو اور کوشش کرو کہ ٹھیک طرح نیکی ادا ہو جائے۔ یعنی سنت کے عین مطابق کرو، اخلاص اپناؤ اور دیگر لوازمات پورے کرو۔ تاکہ آپ کے اعمال قبول ہو جائیں اور آپ پر رحمت نازل ہو جائے۔
اگرچہ عمل ضروری ہے اور انسان کو ساری زندگی نیکی کو چھوڑنا نہیں چاہیے، بلکہ انسان جتنی زیادہ نیکی کرے گا، اتنا ہی وہ بھلا ہو جائے گا، کمال کے راستے میں آگے نکل جائے گا اور اللہ کے یہاں اس کا درجہ بلند ہو جائے گا۔ مگر پھر بھی جنت میں جانے کے معاملے میں عمر پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔
حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ محض سبب کا موجود ہونا نتیجے کی موجودگی کی ضمانت نہیں۔ جب بارش نازل ہو جائے اور بیج بو دیے جائیں تو صرف یہ کام نباتات کے اگنے کے لیے کافی نہیں ہوتے۔ بلکہ ہوا اور مٹی کا ہونا بھی لازمی ہے، اسی طرح فصلیں ہلاک کرنے والی بیماریوں کو دور کرنا بھی ضروری ہے۔ یعنی شروط کا پورا ہونا اور رکاوٹوں کا ختم ہونا ضروری ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کی تقدیر اور مشیئت کے مطابق ہوتی ہیں۔ آخرت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ صرف نیکی کے ذریعے انسان سعادت حاصل نہیں کر سکتا، بلکہ یہ تو صرف اسباب ہیں۔ نیکی کے ساتھ ساتھ انسان کو رحمتِ الٰہی اور فضل ربانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیکی چاہے بہت بڑی ہی کیوں نہ ہو، وہ اکیلی انسان کی نجات کی ضامن نہیں اور صرف اسی کی بنا پر وہ جنت کا اور جہنم سے بچنے کا مستحق نہیں بنتا۔
رسول اللہe نے میانہ روی اختیار کرنے کی تلقین بار بار فرمائی۔ اس میں مستقل مزاجی کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ جب مشکل اپناتے ہوئے تیز رفتاری سے چلا جائے تو اکتاہٹ کی توقع زیادہ ہو جاتی ہے۔ میانہ روی سے مستقل مزاجی آسان ہو جاتی ہے۔
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اے اللہ کے بندو! اللہ کی طرف جانے والا راستہ صراط مستقیم ہے جس کی نشان دہی اس نے رسول اللہe کے ذریعے فرمائی ہے اور جس کا ذکر اپنی کتاب میں فرمایا ہے اور جس پر چلنے اور قائم رہنے کی ہدایت سارے لوگوں کو کی ہے۔ اس پر چلنے سے انسان بالآخر اللہ تک پہنچ جاتا ہے۔ جو اپنے پروردگار کی طرف جانے والا راستہ ہی نہیں جانتا، وہ گمراہ ہو جاتا ہے اور راہ راست سے بھٹک جاتا ہے۔
اللہ کے پاس پہنچنا بھی دو طرح کا ہے۔ ایک دنیا میں اور ایک آخرت میں۔ دنیا میں اللہ کے پاس پہنچنے سے مراد یہ ہے کہ دل اسے پہچان لیں۔ جب وہ اسے پہچان لیتے ہیں تو اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر وہ  اسے اپنے سے قریب اور دعا سننے والا پاتے ہیں۔ آخرت میں اللہ کے پاس پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں داخلہ نصیب ہو جائے جو اولیاء کے لیے اللہ کا تیار کردہ عزت والا گھر ہے۔ جس میں بڑی منزلیں ہیں۔
اللہ کی طرف چلتے ہوئے چند چیزوں سے خبردار رہنا ضروری ہے جن سے انسان کا عمل ضائع ہو جاتا ہے اور بے قیمت بن جائے گا۔ یعنی انسان نے کچھ ایسی نیکیاں کی ہوں جن سے وہ بڑی امید لگائے بیٹھا ہو مگر وہ بے قیمت بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اڑا دیں گے۔‘‘ (الفرقان: ۲۳)
ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ انسان کوئی گناہ کرے اور اسے بہت چھوٹا اور بے قیمت سمجھے، مگر وہ اس کی ہلاکت کا سبب بن جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی۔‘‘ (النور: ۱۵)
اس سے بھی زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ انسان کے لیے برے اعمال مزین کر دیے جائیں اور وہ انہیں اچھا سمجھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟ وہ یہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔‘‘ (الکہف: ۱۰۳-۱۰۴)
ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ انسان نے بہت سے نیک اعمال کیے ہوں مگر لوگوں کے حقوق غصب کیے ہوں اور مظلوم لوگ اس سے اپنا حق وصول کرنے کے لیے اس سے سارے نیک اعمال لے جائیں۔ پھر بھی ان کے حقوق پورے نہ ہوں تو ان کی برائیوں کو اس کے کھاتے میں ڈال دیا جائے اور پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے۔
اللہ تعالیٰ کی طرف جانے کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ اعمال کا دار ومدار ان کے آخری حصے اور نتیجے پر ہوتا ہے۔ اس لیے بندۂ مومن کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اچھے خاتمے کا سوال کرے اور برے خاتمے سے  اس کی پناہ مانگے۔ اس سے دعا کرے کہ وہ اسے موت تک ثابت قدمی نصیب فرمائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے‘ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (آل عمران: ۱۰۲)
علامہ ابن کثیرa فرماتے ہیں:
یعنی صحت اور سلامتی کے وقت اپنے دین پر قائم رہو تاکہ موت کے وقت بھی آپ کو ثابت قدمی نصیب ہو جائے، کیونکہ اللہ کریم کا طریقہ یہ ہے کہ جو کسی چیز میں اپنی ساری زندگی لگا دیتا ہے وہ اسی پر مرتا ہے اور جو کوئی کام کرتے ہوئے مرتا ہے وہ اسی کام پر قبر سے اٹھایا جاتا ہے۔
اے مسلمانو! اپنے مستقبل کی فکر انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں اپنے آگے دیکھنا چاہیے۔ اپنے نفس کا محاسبہ کرنا چاہیے قبل اس کے کہ موت کا حملہ ہو جائے۔
فضیل بن عیاض علیہ رحمۃ اللہ نے ایک شخص سے کہا: تمہاری عمر کتنی ہے؟ اس نے کہا: ساٹھ برس۔ انہوں نے کہا: تم ساٹھ سال سے اللہ کی طرف سفر کر رہے ہو۔ قریب ہے کہ تم پہنچ جاؤ۔ اس شخص نے کہا: اے ابوعلی! ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ فضیلa نے اس سے کہا: تمہیں پتا ہے کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ اس نے کہا: ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ فضیلa نے کہا: کیا اس کی تفسیر بھی معلوم ہے؟ اس شخص نے کہا: اے ابوعلی! آپ اس کی تشریح بیان کر دیجیے! ہم اللہ ہی کے ہیں کا معنیٰ یہ ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور مجھے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ جو یہ جان لیتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہے اور یہ بھی جان لیتا ہے کہ اس نے اسی کی طرف لوٹنا ہے تو اسے یہ بھی جان لینا چاہیے کہ اسے روکا جائے گا۔ اور جو یہ جان لے کہ اسے روکا جائے گا وہ یہ بھی جان لے کہ اس سے سوال وجواب بھی کیے جائیں گے۔ اور جسے معلوم ہو جائے کہ اس سے سوال وجواب ہو گا تو وہ سوال کے جواب تیار کر لے۔ اس شخص نے کہا: اس کا طریقہ کیا ہے؟ فضیلa نے کہا: آسان ہے۔ اس نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اپنی بقیہ زندگی میں احسان پر قائم رہو تاکہ اللہ آپ کے گزشتہ اور مستقبل کے گناہ معاف فرما دے ۔ اگر تو نے اگلی زندگی بھی برائی میں گزار دی تو پچھلی برائیوں کی سزا بھی ملے گی اور بعد والی برائیوں کی بھی ملے کی۔
علامہ ابن قیمa فرماتے ہیں: اللہ کے ساتھ ملاقات کی سچی تیاری تمام نیکیوں ایمان افروز جذبات اور اللہ کی طرف جانے والوں کی پیروی کی کنجی ہے۔ اسی سے بیداری نصیب ہوتی ہے، توبہ نصیب ہوتی ہے، رجوع کی توفیق ملتی ہے، اللہ سے محبت ملتی ہے، اسی سے امید نصیب ہوتی ہے، اسی سے خوف نصیب ہوتا ہے، اسی پر بھروسہ نصیب ہوتا ہے، اسی کی فرمان برادری نصیب ہوتی ہے اور دل اور دیگر اعضاء کی ساری نیکیاں نصیب ہو جاتی ہیں۔
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت ووقار عطا فرما‘ ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما۔ جہاں جہاں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے ان کی مدد فرما۔ آمین!


No comments:

Post a Comment