ابوحفص عثمانی اور جامعہ سلفیہ 34-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Friday, September 13, 2019

ابوحفص عثمانی اور جامعہ سلفیہ 34-2019


ابوحفص عثمانی اور جامعہ سلفیہ

(دوسری قسط)   تحریر: جناب مولانا محمد خالد سیف
مولانا اثری صاحب ’’ابکار المنن‘‘ کے مطالعہ سے اس قدر شدید متأثر ہوئے کہ انہوں نے بعض رفقاء کرام کے سامنے اس کتاب کی طباعت نو کی تجویز پیش کی اور اسے جامعہ کی جمعیۃ الطلبہ کے زیر اہتمام زیر طباعت سے آراستہ کرانے کا پروگرام بنا لیا گیا۔ یہ ۱۹۶۶ء کی بات ہے لیکن بعض ناگزیر حالات کے پیش نظر یہ پروگرام ۱۹۶۸ء میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
کتاب کی اس طبع دوم کے لیے پیلے رنگ کے کاغذ پر لیتھو کی کتابت کروائی گئی تھی‘ کتابت کی تکمیل کے بعد اس کی پروف ریڈنگ کا مرحلہ پیش آیا‘ جمعیۃ الطلبہ کی طرف سے کسی کتاب کی طباعت کا یہ پہلا تجربہ تھا‘ پروف ریڈنگ وغیرہ کی کسی بھی ساتھی کو واقفیت نہ تھی‘ بہرحال رفقاء کرام نے باہمی مشاورت کے بعد پروف ریڈنگ کے لیے خاکسار کی ڈیوٹی لگا دی تو میں نے حضرت الاستاذ مولانا ثناء اللہ ہوشیار پوریa کے ساتھ مل کر اس کی پروف خوانی کا کام پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ وہ اس طرح کہ حضرت الاستاذ اصل کتاب سامنے رکھتے اور میں کتابت شدہ مسودہ پڑھتا اور جہاں کتابت کی غلطی ہوتی اس کی پنسل کے ساتھ حاشیہ پر نشان دہی کر دی جاتی‘ میں تو تھا ہی طفل مکتب حضرت الاستاذ کا بھی یہ پہلا تجربہ تھا۔ ایک بار فرمانے لگے کہ مولانا ابوالکلام آزادa کی بعض کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوئے پروف خوانی وغیرہ کا ذکر پڑھا تھا لیکن بات سمجھ نہیں آتی تھی کہ پروف خوانی کیا ہوتی ہے۔ الحمد للہ! اس کام سے جہاں دیگر فوائد حاصل ہوئے وہاں پروف خوانی کے بارے میں بھی نہ صرف معلوم ہو گیا بلکہ اس کا عملی تجربہ بھی ہو گیا۔ بحمد اللہ یہ تجربہ بعد میں بھی کافی کام آیا۔
یاد رہے کہ ’’ابکار المنن‘‘ کی طرح مولانا ابویحییٰ امام خاں نوشہرویa کی کتاب ’’تراجم علمائے حدیث‘‘ حصہ اول کی طباعت جدید کا بھی جمعیۃ الطلبہ کی طرف سے اہتمام کیا گیا تھا اور جلد دوم کی جو ابھی تک زیور طباعت سے آراستہ ہی نہیں ہو سکی تھی‘ کی طباعت کا پروگرام بن رہا تھا۔ اس کے مسودہ کے حصول کے لیے غالبا مولانا محمد ادریس فاروقیa نے سوہدرہ میں مصنف مرحوم کے وارثوں سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ میں نے مصنف کے ہاتھ کا لکھا ہوا مسودہ دیکھا ہے‘ اس کی حالت بے حد خراب اور برے طریقے سے کرم خوردہ ہے‘ جس کی وجہ سے وہ ناقابل اشاعت ہے۔ افسوس ہے کہ جلد دوم طبع نہ ہو سکی۔
بہرحال مولانا عثمانی صاحب مزاج میں سختی کے باوجود طلبہ کی رہنمائی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرتے‘ وہ ہمیشہ طلبہ کو محنت‘ لگن‘ جستجو اور شوق کے ساتھ علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔
جیسا کہ برادرم اثری صاحب نے ذکر فرمایا ہے کہ جب مولانا حافظ عبداللہ محدث روپڑیa کا ۲۰ اگست ۱۹۶۴ء کو انتقال ہوا تو انہوں نے نماز عصر کے بعد اساتذہ وطلبہ کو اس افسوس ناک خبر سے مطلع کیا۔ وہ منظر اب تک آنکھوں کے سامنے ہے۔ حضرت محدث روپڑیa کی کتاب ’’الکتاب المستطاب‘‘ ان کے ہاتھ میں تھی‘ انہوں نے مرحوم کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ شخصیت تھی کہ جن کے دیگر علمی کارہائے نمایاں سے صرف نظر بھی کر لیا جائے تو ان کی یہ کتاب ان کی عظمت‘ ان کے علمی رسوخ اور ان کے غزارت علم کا بین ثبوت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نماز میں سورۂ فاتحہ کے موضوع پر علامہ انور شاہ کشمیریa نے اپنی کتاب ’’فصل الخطاب‘‘ میں دعویٰ کیا کہ اہل حدیث کی طرف سے اس کتاب کا جواب تو کجا کوئی اہل حدیث اس کتاب کو سمجھ ہی نہ سکے گا۔ حضرت محدث روپڑیa نے ان کی اس کتاب کا ’’الکتاب المستطاب فی جواب فصل الخطاب‘‘ کے نام سے نہ صرف نا قابل تردید دلائل کے ساتھ جواب لکھا بلکہ انور شاہ کی ساٹھ علمی وادبی اور زبان وبیان کی غلطیوں کی بھی نشاندہی فرمائی۔
اس عظیم المرتبت شخصیت اور ان کے اس  بے مثل شاہکار کے تعارف کے بعد انہوں نے طلبہ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا‘ افسوس کہ ارباب علم وفضل ایک ایک کر کے رخصت ہورہے ہیں‘ ہم برے طریقے سے قحط الرجال کا شکار ہیں‘ ہماری درسگاہیں بنجر ہو گئی ہیں اور اب محدث روپڑیa جیسے لوگ پیدا نہیں ہو رہے۔ انہوں نے گلوگیر لہجے میں طلبہ کی توجہ مبذول کراتے ہوئے فرمایا کہ ان لوگوں کی عظمت اور ہماری پستی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ حصول علم کے لیے ان میں جس قدر تڑپ‘ ولولہ اور حوصلہ تھا اور جس قدر محنت وریاضت سے وہ کام لیتے تھے‘ آج کے طلبہ میں وہ بات نہیں۔ انہوں نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے حضرت محدث روپڑیa کے طلب علم کے شوق فراواں اور بے مثال محنت وریاضت اور استقامت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ جب طلب علم کے لیے دہلی گئے تو کئی سال تک گھر ہی نہیں آئے۔ انہوں نے عزم مصمم کر لیا تھا کہ تکمیل سے پہلے گھر واپس نہیں آئیں گے اور اس پر مستزاد یہ کہ گھر والوں‘ اعزہ واقارب اور دوست واحباب کی طرف سے اس دوران میں انہیں جو خطوط موصول ہوئے انہوں نے پڑھے ہی نہیں تا کہ وہ ان کی پڑھائی میں خلل انداز نہ ہوں۔ غالب کو تو شکوہ تھا:
کھلے گا کس طرح مضمون میرے مکتوب کا یا رب
قسم کھائی ہے اس ظالم نے کاغذ کے جلانے کی
لیکن محدث روپڑی نے خطوط کو جلایا نہیں‘ انہیں محفوظ رکھا‘ تعلیم سے فراغت کے بعد گھر واپس آکر پڑھا‘ کسی خط میں خوشی کی کوئی خبر تھی تو مکتوب نگار کو جا کر مبارکباد دے دی اور اگر کسی مکتوب میں کسی عزیز وغیرہ کی وفات کی خبر تھی تو ان کے وارثوں سے جا کر تعزیت کر لی۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ!
اس طرح کے واقعات سنا کر وہ طلبہ کو محنت کی تلقین کرتے اور مطالعہ کا شوق دلاتے۔ حضرت الامیر مولانا محمد اسماعیل سلفیa کا بھی یہی معمول تھا کہ وہ جب بھی جامعہ کو قدوم میمنت لزوم سے نوازتے تو طلبہ سے خطاب ضرور فرماتے اور اپنے خطاب میں اسلاف کی محنت وریاضت‘ اخلاص‘ کثرت مطالعہ اور احیاء وتجدید دین کے لیے جد وجہد کا ذکر کر کے ترغیب وتشویق کا سامان فراہم کرتے۔ ’’سیرۃ البخاری‘‘ کے مصنف مولانا عبدالسلام مبارکپوریa کے کثرت مطالعہ کے ذکر میں یہ بات پہلی دفعہ انہی سے سنی تھی کہ وہ رستے پر چلتے ہوئے بھی ایک کتاب کے مطالعے میں مستغرق تھے کہ بگٹٹ دوڑتے ہوئے ایک سرکش گھوڑے کی زد میں آکر جام شہادت نوش فرما گئے۔ اسی طرح ایک دفعہ اسلاف کے اخلاص اور بے لوث خدمت دین کے جذبے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت حافظ عبدالمنان محدث وزیر آبادیa کی وفات کے بعد ان کی مسند کے جانشین ان کے تلمیذ رشید مولانا محمد عمر a تھے‘ مولانا محمد عمر a کا نچلا دھڑ مفلوج تھا‘ جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھے۔ اس معذوری کے باوجود وہ تدریس وتعلیم اور تبلیغ کا فریضہ فی سبیل اللہ انجام دیتے اور چاندی کے ورق کوٹنے کے مشغلے کو انہوں نے ذریعہ معاش بنا رکھا تھا۔ حضرت سلفیa بڑے درد دل کے ساتھ اس طرح کے واقعات سناتے ہوئے اشکبار ہو جاتے اور سامعین دل فگار اور پھر بلا ساختہ ان کی زبان پر یہ شعر آ جاتا   ؎
اُولٰٓئِکَ اٰبَآئِیْ فَجِئْنِیْ بِمِثْلِہِمْ
اِذَا جَمَعَتْنَا یَا جَرِیْرُ الْمَجَامِعُ
حضرت عثمانیa کے بارے میں ذکر ہو رہا تھا کہ طبیعت میں قدرے شدت اور اشتعال کے باوصف وہ طلبہ کی تعلیم وتربیت کی طرف بھی توجہ مبذول کرتے اور اچھی کارکردگی پر تحسین اور حوصلہ افزائی بھی فرماتے۔ جامعہ کے امتحانات میں اچھی پوزیشن لینے پر حوصلہ افزائی کے لیے انہوں نے کوفی دھرم کے ’’موتی انمول‘‘ اور اپنی کئی دوسری کتابیں اپنے دستخطوں کے ساتھ عطا فرمائیں۔ اسی طرح ایک دفعہ اپنے دفتر سے باہر کھڑے طلبہ کو کچھ وعظ ونصیحت فرما رہے تھے‘ بعض طلبہ پر انہوں نے اپنی افتاد طبع کے مطابق تبصرے بھی کیے اور پھر بڑے سنجیدہ سے ہو کر فرمانے لگے کہ جامعہ میں دو طالب علم ایسے ہیں جن سے کوئی شکایت نہیں‘ میرے پاس ان کی کبھی کوئی شکایت نہیں آئی اور نہ ہی انہوں نے کبھی کسی کی کوئی شکایت کی۔ اور وہ ہیں عبدالسلام ہزاروی -- مولانا عبدالسلام ہزارویd بحمد اللہ حیات ہیں اور آج کل اسلام آباد کی ایک مسجد میں خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں-- اور دوسرا انہوں نے اس فقیر کا نام لیا۔ حاشا وکلا! اس سے خود ستائی مقصود نہیں بلکہ ان کی شخصیت کے اس پہلو کی طرف اشارہ مطلوب ہے جس کا سطور بالا میں ذکر ہوا۔
اس طرح کے نرم اور گرم حالات میں روز وشب بسر ہو رہے تھے کہ ۱۹۶۶ء میں ایک ایسی ناگفتہ بہ صورت حال پیدا ہو گئی‘ جس کی حکایت سے بھی سر شرم سے جھک جاتا ہے‘ یہ صورت حال ان کی طبیعت کی شدت اور اشتعال کا رد عمل تھا یا محض غلط فہمی کا نتیجہ‘ واللہ اعلم!بہرحال اس کے نتیجے میں عثمانی صاحب سبکدوش ہو گئے یا کر دیئے گئے اور اس طرح جامعہ اور طلبہ نا قابل تلافی نقصان سے دو چار ہو گئے۔
{وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقْدُوْرًا}
عثمانی صاحب کے سبکدوش ہونے کے بعد استاذ گرامی منزلت حضرت مولانا پیر محمد یعقوب قریشی a کو جامعہ کا ناظم مقرر کیا گیا۔ حضرت پیر صاحبa اس وقت جامعہ میں نائب شیخ الحدیث تھے‘ بحمد اللہ میں نے ان سے بہت سی کتابوں کا درس لیا ہے۔ ان کا اسلوب تدریس بے حد مؤثر اور دل نشین تھا‘ میرے جامعہ سے فراغت کے سال ۱۹۶۸ء تک وہی نظامت کے فرائض انجام دیتے رہے تھے۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔
جامعہ سے تشریف لے جانے کے بعد قریبا چھ سال تک ان سے ملاقات نہ ہو سکی اور پھر غالباً ۱۹۷۲ء میں ادارہ علوم اثریہ‘ فیصل آباد میں ان کی خدمات سے استفادہ کی تجویز سامنے آئی تو راقم الحروف کو ان کے پاس ڈیرہ غازیخاں بھیجا گیا۔ میں نے انہیں ناظم ادارہ علوم اثریہ مولانا محمد اسحاق چیمہ اور استاذ گرامی منزلت مولانا محمد عبداللہa کا سلام اور پیغام پہنچایا کہ آپ کسی دن ادارہ میں تشریف لائیں‘ انہوں نے ایک دن آنے کا وعدہ فرمایا اور پھر مقررہ دن تشریف بھی لے آئے۔ بڑی خوشی ہوئی کہ اب ادارے میں ان سے استفادے کا بھر پور موقعہ ملے گا لیکن    ؎
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور وہ اسی دن واپس تشریف لے گئے‘ اس کا سبب کیا تھا کہ کوئی پروگرام طے نہ ہو سکا‘ اس وقت یاد نہیں‘ ممکن ہے رفیق مکرم مولانا ارشاد الحق اثریd کو یاد ہو۔
غالبا ۱۹۷۶ء یا ۱۹۷۷ء میں انہیں ایک بار پھر جامعہ سلفیہ کا ناظم مقرر کر دیا گیا۔ اس دوران میں انہوں نے ایک دن یاد فرمایا‘ میں نے حاضری دی تو فرمانے لگے کہ نیا تعلیمی سال شروع ہوئے قریبا ایک مہینہ ہو چکا ہے اور مختلف جماعتوں کے چار پانچ اسباق ابھی شروع ہی نہیں ہو سکے‘ کوئی استاد یہ اسباق لینے کے لیے تیار نہیں‘ طلبہ کا حرج ہو رہا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ اسباق آپ لے لیں‘ آپ نے جامعہ سے پڑھا ہے۔ جامعہ کا آپ پر حق بھی ہے۔ آپ یہ تعلیمی سال مکمل کروا دیں۔ آگے سلسلہ جاری رکھیں تو بے حد خوشی ہو گی ورنہ بتا دینا ہم سالانہ چھٹیوں میں کوئی اور انتظام کر لیں گے۔ میں نے عرض کیا: آپ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن مجھے تدریس کا زیادہ تجربہ نہیں۔ انہوں نے فرمایا: یہ فکر نہ کرو‘ میرے ہاتھوں میں پلے بڑھے ہو‘ مجھے امید ہے کہ بہت اچھے طریقے سے یہ کتابیں پڑھا سکو گے۔ میں نے اگلے دن سے ہی تدریس شروع کر دی اور بحمد اللہ کافیہ‘ تلخیص المفتاح‘ اصول الشاشی‘ مسلم الثبوت اور العبرات جیسی کتابوں کو پڑھایا۔ ان کتابوں کے پڑھنے والے تلامذہ کرام میں سے قاری محمد ابراہیم میر پوری‘ قاری محمد حنیف بھٹی‘ مولانا محمد ادریس --حال مدرس جامعہ سلفیہ-- اور حافظ محمد داؤد --برادر اصغر قاری محمد ایوب مندر گلی والے-- کے نام یاد ہیں‘ باقی کے نام یاد نہیں رہ سکے۔
میں نے مولانا عثمانی صاحب a کے حسب ارشاد جامعہ میں تدریس شروع کر دی لیکن وہ خود چند دنوں بعد ضعف وناتوانی اور پیرانہ سالی کے باعث مستعفی ہو کر واپس ڈیرہ غازیخاں چلے گئے۔ مولانا عثمانی صاحب کے مستعفی ہونے کے بعد جامعہ کی نظامت کا چارج مولانا محمد صدیق کرپالویa کے سپرد کر دیا گیا جو ان دنوں مرکزی جامع مسجد اہل حدیث امین پور بازار میں خطابت کے فرائض انجام دینے کے ساتھ جامعہ میں شیخ الحدیث کے منصب پر بھی فائز تھے۔
میں نے عثمانی صاحبa کے کہنے سے تدریس شروع تو کر دی لیکن دل میں یہ احساس ضرور تھا کہ یہ کتابیں قدرے دقیق ہیں‘ معلوم نہیں میں تدریس کا حق ادا کر رہا ہوں یا نہیں؟ کہیں طلبہ کی حق تلفی نہ ہو رہی ہو لیکن اس دن مجھے قدرے اطمینان ہو گیا جب مولانا محمد صدیقa نے پیغام بھیجا کہ آج واپسی پر میرے ساتھ چلیں۔ مولانا مرحوم اپنی گاڑی میں آیا جایا کرتے تھے جبکہ میں پبلک ٹرانسپورٹ سے استفادہ کرتا تھا۔ میں نے ان کی پیشکش کو قبول کیا اور واپسی پر ان کی رفاقت کا شرف حاصل کیا۔ رستے میں باتیں کرتے ہوئے فرمانے لگے: ایک بات بتائیں‘ میں بھی پڑھاتا ہوں‘ دوسرے اساتذہ بھی تدریس کرتے ہیں‘ ہمارے اور تمہارے اسلوب تدریس میں کیا فرق ہے؟ میں نے عرض کیا: میں آپ کی بات سمجھا نہیں؟ آپ کچھ وضاحت فرمائیں۔ فرمانے لگے: بات یہ ہے کہ مختلف جماعتوں کے طلبہ بہت اصرار کرتے ہیں کہ ان کے اسباق بھی تمہارے پاس رکھ دیں تو میں انہیں بڑی مشکل سے سمجھاتا ہوں کہ ہم نے انہیں چند اسباق کے لیے بلایا ہے‘ سارے اسباق کا بوجھ تو ان پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ بہرحال مولانا کی اس بات سے مجھے خوش گوار حیرت بھی ہوئی اور قدرے اطمینان بھی لیکن افسوس کہ اپنی لا ابالی طبیعت کے باعث تدریس کے اس مقدس کام سے اپنی وابستگی برقرار نہ رکھ سکا۔
مولانا عثمانیa سے متعلق یہ سطور لکھتے ہوئے ۱۹۶۱ء سے ۱۹۶۸ء تک کا وہ سارا دور آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے جو درس نظامی کی تکمیل کے لیے بندہ عاجز نے جامعہ میں گزارا تھا۔ ان حضرات اساتذہ کرام کے مقدس نورانی چہرے اس طرح آنکھوں کے سامنے ہیں جیسے پردۂ سکرین پر کوئی منظر دیکھا جا رہا ہو‘ جن اساتذہ کرام سے تلمذ کا شرف حاصل ہوا اور جن سے کسب فیض کیا ان میں سے حافظ عبداللہ محدث بڈھیمالوی‘ مولانا محمد شریف اللہ خان سواتی‘ مولانا سید پیر محمد یعقوب قریشی‘ مولانا محمد عبداللہ امجد چھتوی‘ مولانا حافظ بنیامین طور‘ مولانا علی محمد حنیف سلفی‘ مولانا محمد صادق خلیل‘ مولانا ثناء اللہ ہوشیارپوری‘ مولانا عبدالمنان افغانی‘ مولانا محمد بن عبداللہ شجاع آبادی اور محترم جناب شیخ عمر فاروق وغیرہم۔ مؤخر الذکر دونوں حضرات کے سوا سب راہگیرائے ملک جاوداں ہو چکے ہیں رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین۔ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے ایک عرصہ ہو گیا ہے لیکن ان کے تاروں کی طرح دمکتے ہوئے چہرے تصور کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں۔
مرنے والوں کی جبیں روشن ہے ان ظلمات میں
جس طرح تارے چمکتے ہیں اندھیری رات میں
اسی طرح یارانِ مکتب اور رفقاء کرام کے معصوم چہرے بھی آنکھوں کے سامنے ہیں کہ جنہیں میں نے اپنے سامنے جامعہ میں اکتساب ضیاء کرتے ہوئے دیکھا۔ ان میں سے درج ذیل حضرات کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں:
حضرت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید‘ مولانا محمد ابراہیم خلیل بلتستانی‘ مولانا بشیر الرحمن‘ مولانا عبدالرحمن واصل‘ مولانا محمد بشیر سیالکوٹی‘ مولانا عبدالحکیم سیف --ان کے والد گرامی مولانا عبدالقدوس کی بھی ایک دفعہ جامعہ میں زیارت ہوئی تھی-- مولانا حافظ عبدالسلام بھٹوی --ان کے والد گرامی مولانا حافظ محمد بھٹوی جامعہ میں ۱۹۶۲ء تک تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے-- مولانا صوفی محمد اکبر‘ مولانا حبیب الرحمن یزدانی شہید‘ مولانا عبدالرحمن لدھیانوی‘ مولانا محمود احمد غضنفر‘ مولانا حافظ محمد عبداللہ شیخوپوری‘ مولانا حافظ عبدالستار حسن‘ مولانا سید احمد حنیف --برادر اصغر مولانا مفتی محمد عبیداللہ عفیف-- مولانا محمد ادریس فاروقی‘ مولانا محمد اکرم جمیل -- مجھے چھ سال تک ان کے ہم جماعت ہونے کا شرف حاصل رہا-- مولانا عبدالکریم ثاقب -- آج کل شاید برمنگھم میں ہیں-- محب مکرم مولانا ارشاد الحق اثری وسواھم کثیر۔
{وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ}
ان میں سے کچھ حضرات مجھ سے بہت آگے تھے‘ کچھ پیچھے تھے اور کچھ ہم سبق اور ہم نوالہ وہم پیالہ‘ ان کے تذکار جمیل سے عجب سی کیفیت محسوس ہو رہی ہے۔ بس یوں سمجھیے   ؎
ہوا کے دوش پہ آئی ہے دور کی خوشبو
پرانی یادوں سے در ودیوار دھک اٹھے
ان میں سے جو حضرات اپنے رب تعالیٰ کے پاس پہنچ چکے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اعلیٰ علیین میں بلند وبالا اور ارفع واعلیٰ درجات سے سرفراز فرمائے اور جو بقید حیات ہیں ان کے علم‘ عمل اور عمر میں برکت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!
افسوس کہ مولانا عثمانی صاحب جو ایک جید اور ثقہ عالم‘ مناظر ومحقق‘ مصنف ومترجم اور خطیب ومنتظم تھے‘ ان کے حالات وواقعات احباب جماعت میں سے کسی نے قلمبند کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہم سب کو شکر گذار ہونا چاہیے کہ محب مکرم‘ محقق عصر مولانا ارشاد الحق اثریd (متعنا اللہ بطول حیاتہ) کا کہ انہوں نے بڑی محنت اور کوشش سے ان کے حالات وواقعات اور خدمات کا سراغ لگایا اور انہیں نہایت سلیقے کے ساتھ مرتب فرما دیا ہے۔ انہوں نے
’’خرمن خرمن اور گلشن گلشن تمتع زہر گوشہ یا فتم‘‘
کا شرف حاصل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس سعی وکوشش کو قبولیت سے نوازے اور ساری جماعت کی طرف سے اس فرض کفایہ کے ادا کرنے پر اجر جزیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین! وصلی اللہ علی خیر خلقہ محمد وآلہ وصحبہ اجمعین!


No comments:

Post a Comment