طب وصحت ... نیم، عجیب وغریب کمالات 34-2049 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Friday, September 13, 2019

طب وصحت ... نیم، عجیب وغریب کمالات 34-2049


طب وصحت ... نیم، عجیب وغریب کمالات

تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی
انسان ہمیشہ سے درخت دوست رہا ہے۔ جب انسان نے کرۂ ارضی پر اولین قدم رکھا تو اس کے استقبال کے لیے نباتات میں درخت بھی شامل تھے۔ یہی درخت اور ان کے پھل اس کی غذا بنے‘ ان درختوں کی چھال اور پتے جسم ڈھانپنے کا کام دیتے۔ بیماری کی صورت میں یہی درخت پھل اور پتے مداوا کا کام کرتے۔ ایسے ہی درختوں میں ایک نیم کا درخت ہے۔ شروع زمانے میں انسان جب سائنسی علوم سے نا آشنا تھا تب بھی درختوں سے استفادہ کرتا۔ نیم کی شفا بخشی کو ۳۲۰ء قبل مسیح میں تسلیم کیا گیا تھا۔ ابومنصور نے ۹۷۰ء میں نیم کا حوالہ دیا تھا۔ البیرونی نے ’’کتاب الابدان‘‘ میں مصنف یوحنا بن ماسویہ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بعض درخت ایسے ہیں جن کے پھول زہریلے ہیں مگر ان کی شاخیں تریاق کا کام دیتی ہیں۔ نیم بھی ایسے درختوں میں سے ایک ہے جس کے پھول کڑوے مگر شاخیں تریاقی حیثیت کی حامل ہیں۔
برصغیر پاک وہند کے لوگ ۲۰۰۰ سال سے بھی پہلے اس درخت کی مسواک استعمال کرتے چلے آرہے ہیں۔ نیم کو معجزاتی درخت بھی کہا جاتا ہے۔ نیم ہمارے ہاں ایک خوبصورت سدا بہار درخت ہے اور بکثرت پایا جاتا ہے۔ اس کا وطن چین اور ہندوستان ہے لیکن اب پاکستان‘ ملائشیا‘ سری لنکا‘ برما‘ ملایا‘ تھائی لینڈ‘ افریقہ‘ گھانا‘ تنزانیہ‘ نائیجیریا اور سعودی عرب میں بھی لگایا جاتا ہے۔ اس کے فوائد کے پیش نظر دنیا اس کو اہمیت دے رہی ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق بھارت میں نیم کے چودہ ملین درخت ہیں جبکہ پاکستان‘ بنگلہ دیش اور سری لنکا میں بھی اسی قدر ہیں۔ نیم کا درخت بکائن کی طرح گھنا اور کڑوا ہوتا ہے لیکن اس کا درخت اس سے بڑا ہوتا ہے۔ پتیاں لمبی‘ نصف انگلی سے کچھ زیادہ اور کنگرہ دار ہوتی ہیں۔ مارچ اپریل میں پتے شگوفے نکالتے ہیں اور ساتھ ہی لا تعداد چھوٹے چھوٹے سفید رنگ کے‘ اور پھر پھل آتا ہے۔ ماہ جون میں اس کا پھل نمو لی پک جاتا ہے اور میٹھا ہوتا ہے۔ ان ایام میں اس کی مخصوص رنگ کی خوشبو سے گرد ونواح مہک جاتے ہیں۔ قدرت نے اس میں بہت سی خوبیاں رکھی ہیں‘ اس کا ہر جز پتے‘ چھال‘ لکڑی‘ پھول اور پھل سب کار آمد ہیں۔ اس کی گھنی اور وسیع چھاؤں میں گرمی سے نجات اور طبیعت کو سکون ملتا ہے اس لیے لوگ اسے صحنوں‘ حویلیوں اور باغات میں لگاتے ہیں۔
اطباء نیم کا استعمال خوب جانتے ہیں‘ قدیم اطباء اور جدید تحقیق نیم کے اجزاء کو یکساں طبی اہمیت دیتے ہیں۔ نامور طبی مصنف حکیم نجم الغنی نے ’’خزائن الادویہ‘‘ میں نیم کو مصفی خون قرار دے کر فساد خون اور خارش میں مفید قرار دیا ہے۔ حکیم کبیر الدین نے بھی مصفی خون قرار دیا ہے۔ حکیم محمد عبدالحکیم اور حکیم صفی الدین نے اپنی کتب ’’بستان المفردات‘‘ اور ’’یونانی ادویہ مفردہ‘‘ میں نیم کو خون صاف کرنے والا قرار دیا ہے۔ خرابی خون فساد خون کے عوارضات خارش‘ پھوڑے پھنسیوں میں اطباء اسے زمانہ قدیم سے ہی استعمال کر رہے ہیں۔ فساد خون اور سودائی امراض میں مفید وشافی ہونے کے باعث شرطان کا مقابلہ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ نیم دانتوں اور مسوڑھوں کا محافظ ہے‘ اس کے استعمال سے مسوڑھوں کا ورم نہیں ہوتا اور جرمن میں اس سے ٹوتھ پیسٹ تیار ہو رہا ہے جو بہت کامیاب ہے۔
نیم کے پتے کپڑوں‘ بستروں‘ صندوقوں اور کتابوں کو محفوظ رکھنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر ان کو ابال کر بھپارہ  دیا جائے تو درد کان جاتا رہتا ہے۔ اس کے پتوں کو جوش دے کر اس کے پانی سے زخموں کو دھویا جائے تو ہر قسم کے تعفن سے محفوظ رکھتا ہے۔ نیم کے پتوں کی پُلٹس بنا کر زخموں پر باندھنا اس میں موجود مواد کو زائل کر کے زخم جلد بھر لاتا ہے۔ اگر نیم کے پتوں کو جوش دے کر اس پانی سے آنکھوں کو دھویا جائے تو آنکھ کئی ایک امراض سے محفوظ رہتی ہے اور خاص کر آشوب چشم کی تکلیف جاتی رہتی ہے۔ نیم کی ٹہنیاں بطور مسواک استعمال ہوتی ہیں جن سے دانتوں کا ورم جاتا رہتا ہے۔ تیز وافر بلغم نکل کر سینہ صاف ہو جاتا ہے اور آواز صاف ہو جاتی ہے۔ اس کی لکڑی اور چھال کو جلا کر راکھ بنا لینے سے دانتوں اور مسوڑھوں کے لیے مفید ہے۔ جرمنی میں تیار ہونے والے ٹوتھ پیسٹ کا بنیادی عنصر فلورائیڈ کی جگہ نیم کو دی جاتی ہے۔ الغرض نیم دافع وائرس‘ دافع عفونت اور جراثیم کش ہے۔ جدید تحقیقات نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے اور بتایا ہے کہ نیم کا تیل تولیدی جرثومے ہلاک کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے جس کی وجہ سے دیگر اجزاء شامل کر کے مانع حمل گولیاں بنائی جاتی ہیں۔
نیم کا بطور دوا استعمال اس وقت شروع ہو جاتا ہے جب کونپلیں پھوٹتی ہیں‘ پتے نکلتے ہیں‘ پکی پکی نمولیاں گرتی ہیں۔ نمولی کا مغز فلین (قبض کشا) قاتل کرم شکم اور بواسیر میں مفید ہے۔ سر کی جوؤں کو مارنے کے لیے پانی میں  پیس کر سر میں لگاتے ہیں۔ نیم کے پتوں سے روغن/مرہم بنا کر جلدی امراض میں بیرونی طور پر استعمال کرایا جاتا ہے۔ پتوں کا جوشاندہ دافع عفونت (انٹی سیپٹک) ہے۔ نیم کی چھال بخار کے لیے مفید ہے اور پیٹ کے کیڑے مارنے میں فائدہ ہوتا ہے۔
نیم کے قدیم درخت سے تنے میں سے ایک گاڑھا مادہ خارج ہوتا ہے جسے نیم کا سدہ کہتے ہیں۔ یہ کڑوا نہیں میٹھا ہوتا ہے۔ ٹھنڈے پانی میں حل ہو جاتا ہے‘ قدرے بدبودار مگر خون صاف کرتا ہے۔ نیم سے ایک ایسا جراثیم کش (انٹی بائیوٹک) مادہ دستیاب ہے جو فضا کو آلودہ بنائے بغیر دو سو سے زیادہ اقسام کے کیڑے ختم کرتا ہے۔ یوں یہ اہم درخت آلودگی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اپنی خوبیوں کے باعث دنیا بھر میں موضوع تحقیق ہے۔ واشنگٹن کی بین الاقوامی اکیڈمی آف سائنس کے ڈائریکٹر نوٹل ڈی دیت مائر تسلیم کرتے ہیں کہ نیم اپنی خصوصیات کے باعث ایک ہوش ربا درخت بن گیا ہے۔ ان کے مطابق نیم میں جراثیم اور کیڑوں کی ہلاکت کی جو صلاحیت ہے وہ زمین کے لیے دیگر جراثیم کش دواؤں کی طرح مہلک ومضر نہیں۔ یہ درخت جہاں سر سبز شادابی میں اضافہ کرتا ہے وہاں فصلوں کا کیڑا ختم کرنے اور امراض میں مفید ہے۔ ویدک طریقہ علاج میں اس درخت کا سایہ بھی بیماری کو دور کرتا ہے بلکہ جہاں نیم ہو وہاں وبائی امراض کم ہوتے ہیں۔ طب یونانی میں نیم کے پتوں کے استعمال سے ذیابطیس میں کمی آجاتی ہے۔ طب یونانی کی متعدد ادویہ میں نیم کا استعمال ہوتا ہے۔
دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی نیم پر کام ہو رہا ہے۔ ڈاگٹر سلیم الزمان صدیقی مرحوم نے نیم کے کیمیائی اجزاء پر عالمی معیار کا کام کیا تھا۔ ۶۵ سال تک تحقیقات کے بعد نیم میں ایک سو سے زیادہ کمپاؤنڈ نکالے تھے۔
 نیم کے چند نسخے:
بالوں کو گھنا‘ سیاہ اور ملائم بنانے کے لیے:
نیم اور ناریل کا تیل ملا کر رکھ لیں اور روزانہ سر پر لگائیں۔ نیم کا تیل اس کے بیج کے مغز سے کولہو میں نکلوایا جا سکتا ہے۔ نیم کے مغز سے ۳ فی صد تک روغن برآمد ہوتا ہے۔
مفید سرمہ:
سرمہ کی ڈلی کو نیم کے درخت کے تنے میں سوراج کر کے اوپر سے نیم کے برادے سے بند کر دیں۔ چھ ماہ تک اسی طرح رہنے دیں‘ بعد ازاں نکال کر لیموں کے پانی میں دو تین روز تک کھرل کریں‘ سرمہ تیار ہے۔
منجن:
نمولی یا نیم کی لکڑی کا کوئلہ‘ نمک سادہ‘ پھٹکڑی بریاں ہم وزن لے کر خوب پیس لیں۔ رات سونے سے قبل دانتوں کو صاف کریں‘ پھر یہ منجن استعمال کریں۔ دانتوں کی زردی‘ میل کچیل دور ہو کر صاف ہو جائیں گے۔
ناک کا بند رہنا:
اکثر لوگوں کی ناک بند ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے سانس منہ سے لینا پڑتا ہے اور مشکل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ ناک کی ہڈی کا بڑھ جانا اور ورم ہوتا ہے۔ جدید طب میں ناک کی ہڈی کے ورم میں سلائی مار کر ہلکا آپریشن کیا جاتا ہے مگر دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگوں نے تین تین بار یہ آپریشن کروایا مگر مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہو سکے۔ جبکہ مندرجہ ذیل تدبیر بڑی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ یہ تدبیر شہید حکیم محمد سعید کا معمول مطب رہی ہے۔
نیم کے تازہ پتے دو تولے لے کر ایک کلو پانی میں جوش دے کر پھر چٹکی برابر نمک ملا کر اس نیم گرم پانی سے وضو کی طرح ناک میں تین چار بار ڈالیے‘ دس پندرہ روز یہ عمل باقاعدگی سے سہ پہر یا رات کو کر لیا کریں‘ ناک کھل جائے گی۔ ان شاء اللہ!
ایک اہم خوبی:
نیم کی ایک اور بڑی خصوصیت یہ ہے کہ رات کو تمام پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑتے ہیں مگر نیم یہ گیس نہیں خارج کرتا۔ نیم کا درخت اب مشرق وسطیٰ اور افریقہ پہنچ چکا ہے۔ سعودی عرب میں منیٰ وعرفات کے مقام پر پچاس ہزار نیم کے درخت لگائے گئے ہیں۔ حال ہی میں نیم پر جو جدید تحقیقات کی گئی ہیں اس کے بارے میں ایک صحتی رسالے ہیرالڈ آف ہیلتھ نے فیچر شائع کیا ہے جس کے مندرجات ذیل ہیں:
طبی افادیت:
\          برصغیر کے لوگ دیہی علاقوں میں موسم گرما کے آغاز پر اس کے پتے امراض سے تحفظ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے تازہ پتوں کو چبانے سے ملیریا نہیں ہوتا۔
\          نیم کا گوند یرقان اور ملیریا کے لیے مفید ہے۔
\          نیم کے تیل کی مالش گٹھیا کے لیے مفید ہے۔
نیم اور زراعت:
\          اناج کے ساتھ نیم کے پتے شامل کرنے سے کیڑے نہیں لگتے۔
\          جس مٹی میں نیم کے پتے شامل رہتے ہیں‘ اس میں پیٹ کے کیڑوں کے انڈے ختم ہو جاتے ہیں۔
\          نیم میں دو قسم کے کیڑوں کو مارنے کی صلاحیت ہے۔ نیم سے کیچوؤں کے علاوہ دیمک‘ پھپھوندی اور بیکٹیریا ہلاک ہو جاتے ہیں۔
\          نیم کیڑوں کو بانجھ کر دیتا ہے۔
تجارتی استعمال:
\          اون کے کپڑے‘ کتابیں اور کاغذ نیم کے پتوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
\          نیم کی لکڑی مضبوط پائیدار اور کیڑے سے محفوظ رہتی ہے۔
\          اس سے زرعی آلات‘ گاڑیاں‘ فرنیچر اور کھلونے تیار ہوتے ہیں۔
\          نیم کے پتے اونٹوں اور بکریوں کا اچھا چارہ ہیں۔


No comments:

Post a Comment