اداریہ ... پاکستان اور کشمیر لازم وملزوم 34-2049 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Friday, September 13, 2019

اداریہ ... پاکستان اور کشمیر لازم وملزوم 34-2049


پاکستان اور کشمیر لازم وملزوم!

اس وقت دنیا میں مسلمان نہایت مجبور ومقہور ہیں۔ کم وبیش ڈیڑھ ارب افرادی قوت ہونے کے باوجود بے شمار مصائب وآلام اور ظلم وستم کا شکار ہیں۔ قدرتی وسائل کا ستر فیصد رکھتے ہیں مگر ان سے مستفید ہونے کی اجازت نہیں جبکہ کفار ان کے وسائل پر قابض اور بھر پور استفادہ کر رہے ہیں۔ افغانستان‘ عراق‘ شام‘ لیبیا‘ فلسطین‘ برما اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ ہو چکا ہے۔ ابھی حال ہی میں بھارتی صوبہ آسام میں مسلمانوں سے وہاں کے حقوق شہریت چھین لیے گئے ہیں اور وہ در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔
اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے مسلمان ۷۲ سال سے ظلم وستم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ایک عرصہ سے ہندو کی سات لاکھ ظالم فوج کے جبر واستبداد میں تھے کہ موذی دہشت گرد حکومت نے ۵ اگست کو مزید ایک لاکھ فوج داخل کر کے سخت کرفیو نافذ کر دیا۔ حریت قیادت کو نظر بند کر دیا اور ایک بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت والے قوانین کو یکسر ختم کر د یا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ وہاں کرفیو لگے ایک ماہ مکمل ہو چکا ہے۔ نہ باہر سے کوئی چیز اندر جا سکتی ہے اور نہ ہی اندر سے کوئی باہر آ سکتا ہے۔ اشیاء خورد نوش کے ساتھ ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ غزہ کی طرح کشمیر بھی دوسری بڑی جیل بن چکا ہے۔ ۸۰ لاکھ کشمیری اس وقت قید وبند کی صعوبت میں ہیں۔ اگر یہی صورت حال مزید کچھ عرصہ جاری رہی تو کشمیری اپنی موت آپ مر جائیں گے۔
یہ حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں نے پاکستان میں شمولیت کے لیے اپنے رجحان اور فیصلے کو کبھی پوشیدہ نہیں رکھا۔ ۱۴ اگست ہو‘ ۲۳ مارچ ہو‘ کرکٹ میچ ہو‘ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے کشمیر گونج اٹھتا ہے اور پاکستان کے پرچم لہرائے جاتے ہیں۔ حالیہ کرفیو کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ دیدنی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کشمیری عوام کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ وہ کسی صورت میں بھی جموں وکشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو تسلیم نہیں کرتے۔ کشمیری مسلمان اپنی جد وجہد آزادی اور اسلامی تشخص کی بقاء کے لیے تنہا نہیں بلکہ حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام دل وجان کے ساتھ ان کی مدد وحمایت کرتے ہیں۔ کیونکہ پاکستان اور کشمیر لازم وملزوم ہیں۔ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ جب تک یہ مسئلہ کشمیری عوام کی رائے سے حل نہیں ہو جاتا ملک پاکستان نظریاتی اور جغرافیائی طور پر تشنۂ تکمیل رہے گا۔
تاریخ شاہد ہے کہ خود بھارت ہی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا۔ چنانچہ ۵ جنوری ۱۹۴۹ء کو اقوام متحدہ نے یہ قرار داد منظور کی تھی جس کی رو سے ریاست جموں وکشمیر کے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کا معاملہ جمہوری طریقے سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں منعقد ہونے والی رائے شماری کے ذریعے طے کیا جائے گا۔ چنانچہ بھارت کے سابق وزیر اعظم آنجہانی جواہر لعل نہرو نے دنیا کے سامنے اس کی تائید کی کہ کشمیر کا فیصلہ خود اہل کشمیر کریں گے۔ پھر انہوں نے ۲۶ جنوری ۱۹۵۲ء کو بھارتی پارلیمنٹ میں بھی اس کا اعادہ کیا کہ ہم کشمیری عوام کے فیصلے کے پابند ہوں گے۔ لیکن ہر بھارتی حکومت نے اسے نظر انداز کیے رکھا۔ دھونس اور جبر کے ذریعے کشمیری عوام کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ حریت پسندوں کی تحریک آزادی کو دہشت گردی قرار دیا گیا۔ اب موذی حکومت نے ظلم وستم کی انتہا کر دی ہے۔ قوت وطاقت کے بل پر کشمیر کو بھارت میں ضم کر لیا ہے۔ لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے‘ اسے پاکستان سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہی قابل قبول ہے۔ پائیدار امن کے لیے مسئلے کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔
گذشتہ دنوں مالدیپ میں سپیکرز کانفرنس میں پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر اور بھارتی جارحیت کو اجاگر کرنے پر بھارتی سپیکر نے ہنگامہ آرائی کی کوشش کی جس پر شرکائے کانفرنس نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ کانفرنس کے دوران پاکستانی ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے بھارتی شور شرابے اور ہنگامے کے باوجود کشمیریوں کے لیے بھر پور آواز اٹھائی۔ پاکستانی وفد نے مؤثر انداز میں مسئلہ کشمیر اٹھایا اور بھارت کو ناک آؤٹ کر دیا۔ بھارتی مخالفت کے باوجود صدر کانفرنس نے پاکستانی سپیکر کو بات کرنے کا موقع دیا اور شرکائے کانفرنس نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ گھمبیر صورتحال پر نہایت تشویش کا اظہار کیا۔ ادھر اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب نے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اجاگر کیا۔ جنوبی ایشیا کے اس سلگتے ہوئے مسئلے کی طرف توجہ دلائی کہ اگر اسے فوری حل نہ کیا گیا تو خطے کا امن کسی بھی وقت شعلۂ جوالا بن کر عالمی امن کو خطرات سے دو چارکر سکتا ہے۔
مسئلہ کشمیر پر اس وقت پاکستان کی سول اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔ ایسے حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دیرینہ حل طلب مسئلہ کو مزید بین الاقوامی فورمز پر بھر پور دلائل کے ساتھ پیش کرنے میں کسی تساہل سے کام نہ لیا جائے۔ کشمیر کمیٹی کو بھی متحرک کیا جائے تا کہ اقوام عالم کو اس مسئلہ سے آگاہ کیا جا سکے‘ اس کے پر امن حل کی کوئی سبیل پیدا ہو جائے اور کشمیری عوام آزادی سے سکھ کا سانس لے سکیں۔


No comments:

Post a Comment