شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ ... ایک انقلابی مجدّد 35-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, September 21, 2019

شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ ... ایک انقلابی مجدّد 35-2019


شیخ الاسلام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ ... ایک انقلابی مجدّد

تحریر: جناب مولانا صفی الرحمن مبارکپوری
یہ بارہویں صدی ہجری کے نصف اول کی بات ہے۔ عالم اسلام کی فضا عموما اور جزیرۃ العرب وسرزمین نجد کی فضا خصوصاً تیرہ وتار اور گردشِ دوراں کا شکار بنی ہوئی تھی۔ روئے زمین کا یہ ٹکڑا جو کبھی وحدت عالم کا داعی رہ چکا تھا‘ خود چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم ہو کر انارکی ولا قانونیت کا نمونہ بنا ہوا تھا۔ ہر دو چار آبادیوں کا مجموعہ ایک مستقل اور خود مختار ’’ریاست‘‘ تھا۔ ان کے حکمران ہر ضابطہ اور قانون سے بالا تر‘ ان کی آپس میں ہمہ وقت ٹھنی ہی رہتی تھی اور طاقتور کمزور کو کھانے کے لیے پر تولتا رہتا تھا۔ بدوؤں کے طائفے لوٹ مار‘ قتل وغارتگری اور دور جاہلیت کی دیگر تمام خصوصیات کے ساتھ نجد کے دشت وجبل میں گردش کناں رہتے تھے۔
کہتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمان تھے مگر انہیں اسلامی تعلمیات سے دور کا بھی واسطہ نہ رہ گیا تھا۔ توہم پرستی نے ان کے دل ودماغ پر اپنے پنجے پوری طرح گاڑ رکھے تھے اور شرک وبت پرستی کا چہار سو دور دورہ تھا۔ صحابہ کرام] اور بزرگان دین کی طرف منسوب قبریں حاجت روائی ومشکل کشائی کے لیے آنے والوں کی آماجگاہ بنی ہوئی تھیں۔ حد یہ کہ کھجور کا ایک نر درخت غیر شادی شدہ عورتوں کی بھیڑ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ یہ عورتیں اس ’’شہنشاہ نر‘‘ کے ساتھ چمٹ کر شوہر مہیا کرنے کی درخواست کرتی تھیں۔ مردوں کے لیے حریر ودیباج کی پوشش‘ بھنگ وچرس اور دیگر نشہ آور اشیاء کا استعمال معمول بن چکا تھا۔ بدکاری وبے حیائی معاشرہ پر مسلط تھی۔ اسلامی فرائض سے تغافل اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا اور دینی شعائر ایک بے جان ڈھانچہ بن کر رہ گئے تھے جن سے چشمۂ حیات اُبلنے کی بجائے مفاسد کی سڑاند پھوٹ رہی تھی۔
حالات کی اس تیرگی میں نجد کی وادئ بنو حنیفہ کے ایک غیر معروف مقام‘ درعیہ سے روشنی کی ایک کرن پھوٹی‘ ہلکی اور باریک سی کرن جسے پہلی نظر میں دیکھ کر اس کی حقیقی اور غیر معمولی قوت کا اندازہ کوئی بھی نہ کر سکا۔ لیکن یہ سہانی کرن بڑی تیزرفتاری کے ساتھ ایسی تند وتیز شعاع میں تبدیل ہوتی چلی گئی کہ دیکھنے والوں کی نگاہیں خیرہ ہو گئیں۔
ظلمت شب کے پرستاروں نے گرد وپیش سے یلغار کر دی اور چاہا کہ اس ابھرتی ہوئی روشنی کو ہمیشہ کے لیے گل کر دیں۔ مگر اس کی راہ کوئی نہ روک سکا جو راہ میں آیا زوال وفنا سے دو چار ہو کر ہمیشہ کے لیے پردۂ گمنامی میں چلا گیا۔
یہ روشنی کیا تھی؟ تجدید دین اور احیائے اسلام کی ایک انقلابی دعوت تھی۔ عزیمت واستقامت کی بنیادوں پر دعوت‘ جسے نجد کے ریگزاروں میں پلے ہوئے ایک فولادی عزائم کے مالک انسان محمد بن عبدالوہاب نے برپا کیا تھا‘ جو اس دعوت کے خاکوں میں اپنے خون جگر سے رنگ بھرنے کا حوصلہ رکھتا تھا۔
آئیے چند لفظوں میں اس مرد مجاہد ومجدد کے نقوش حیات اور زندۂ جاوید کارناموں کا مطالعہ کرتے چلیں۔
محمد بن عبدالوہاب قبیلہ بنو تمیم سے تعلق رکھتے تھے‘ باپ کا نام عبدالوہاب تھا۔ دادا کا سلیمان اور پردادا کا علی‘ ساتویں پشت پر جو بزرگ پڑتے تھے ان کا نام راشد تھا۔ اس بناء پر آلِ راشد بھی کہلاتے تھے۔ علم وفضل‘ زہد وتقویٰ اور منصب قضاء پر فائز ہونے کے لحاظ سے یہ خاندان نجد میں ایک امتیازی حیثیت رکھتا تھا۔ گویا   ؎
ایں سلسلہ از طلائے تاب نیست
ایں خانہ تمام آفتاب است
محمد بن عبدالوہاب نجدی ۱۱۱۵ھ میں نجد کے ایک شہر عینیہ میں پیدا ہوئے۔ یہ شہر نجد کے موجودہ پایہ تخت ریاض سے قریب ہی شمال میں واقع ہے۔ والد فقہ حنبلی کے زبردست عالم اور قاضیٔ شہر تھے۔ اس لیے ابتدائی تعلیم وتربیت انہوں نے فرمائی۔ ذہانت خدا داد تھی۔ دس سال کی عمر میں حافظ قرآن ہو گئے اور جلد حدیث وتفسیر اور فقۂ حنبلی میں دسترس حاصل کر لی۔ عبقریت نمایاں تھی۔ والد اپنے صاحبزادے کے اتنے قدر داں ہوئے کہ بارہ سال کی عمر میں انہیں امامت کے لیے آگے بڑھانا شروع کر دیا۔ محمد بن عبدالوہاب کی جسمانی نشو ونما بھی غیر معمولی زود رفتار تھی۔
بارہ سال کی عمر میں ہی بالغ ہو گئے تھے اور شادی بھی ہو گئی تھی۔ پھر فریضۂ حج سے مشرف ہوئے‘ دو ماہ مدینہ منورہ میں قیام فرمایا‘ پھر واپس آکر اپنے والد سے تحصیل علم میں مصروف ہو گئے۔ ابن تیمیہؒ اور ابن قیمؒ کی کتابوں سے انہماک فزوں تر ہو گیا۔
کوئی بیس سال کی عمر میں تحصیل علم کے لیے رہ نوردی کی ٹھانی اور بادیہ پیمائی کرتے ہوئے تقریبا ۱۱۳۵ھ میں حجاز پہنچے اور وہ دوبارہ حج بیت اللہ اور مسجد نبوی کی زیارت سے مشرف ہو کر علماء کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ حرم نبوی کے جن اساتذۂ علم وفن سے استفادہ کیا ان میں شیخ عبداللہ بن ابراہیم بن یوسف نجدی خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں جن کی بے لاگ رہنمائی وسرپرستی نے شیخ محمد بن عبدالوہاب کو اپنی آئندہ زندگی کے دوران اپنی تحریک کا رخ متعین کرنے پر بڑی مدد دی۔ ان کے علاوہ آپ کے شیوخ میں شیخ محمد حیات سندھیؒ ‘ شیخ علی (غسان)‘ شیخ اسماعیل‘ شیخ عبداللطیف عقالقی احسائی اور شیخ محمد عقالقی احسائی کے نام بھی ملتے ہیں جن میں سے بعض کے ساتھ آپ کے تلمذ کا ثبوت محل نقل ہے۔
مدینہ سے نجد آکر آپ نے بصرہ کا رخ کیا‘ بصرہ میں شیخ محمد مجموعی اپنے علمی کمالات کے اعتبار سے امتیازی حیثیت رکھتے تھے‘ ان سے حدیث اور لغت کا درس لیا اور وہیں سے اصلاحی دعوت کا آغاز بھی فرمایا۔
اہل بصرہ کے کانوں میں جب بدعات وخرافات کے خلاف پہلی بار توحید خالص کی ایک نامانوس صدا گونجی تو وہ چونک پڑے۔ جھجکے‘ ٹھٹھکے‘ پھر آگے بڑھے۔ آواز دینے والے کی طرف لپکے‘ تکذیب کی‘ ایذا رسانی سے پیش آئے اور بالآخر اسے عین دوپہر کے وقت چلچلاتی دھوپ میں شہر سے باہر نکال دیا۔ استاذ بھی اذیتوں کا نشانہ بننے سے نہ بچ سکے۔
اللہ کے اس بندے نے بصرہ سے نکل کر قصبۂ زبیر کا رخ کیا‘ اثناء راہ میں پیاس کی شدت سے حلق میں کانٹے پڑ گئے۔ حالت غیر ہو گئی اور نیم مردنی کی کیفیت میں ڈھانچہ زمین پر آ رہا۔ موت کا خونچکاں منظر نگاہوں کے سامنے تھا اور زبان پر دعا جاری تھی۔ دعاء مقبول ہوئی‘ ابوحمیدان نامی ایک با خدا انسان جو کرائے کے گدھے رکھتا تھا ادھر آنکلا‘ پانی پلایا‘ گدھے پر سوار کیا اور منزل پر پہنچا۔
آپ نے کچھ دن زبیر میں اقامت فرمائی‘ ارادہ ملک شام کا تھا لیکن زادِ راہ کی کمی آڑے آگئی۔ اس لیے نجد کا رخ کیا اور احساء کے بیابانوں سے گزر کر حریملا (نجد) آگئے‘ کیونکہ آپ کے والد ۱۱۳۹ھ میں عینیہ سے منتقل ہو کر یہیں آچکے تھے۔
حریملا میں پہنچ کر آپ نے دعوت حق کا آغاز کر دیا‘ ہر قسم کی بدعات وخرافات کو مٹا کر توحید خالص اور دین خالص کا احیاء وتجدید اور ہر غلط روش کو پاش پاش کر کے خالص اسلامی اخلاق وکردار کی تعمیر وتشکیل کوئی آسان بات نہ تھی۔ مخالفت کا ایک ریلا تھا جو امڈ پڑا۔ اعزہ واقرباء درپے آزار ہوئے‘ بھائی بند برہم‘ باپ بھی ناخوش۔ مگر جو قدم اُٹھ چکا تھا رک نہ سکا۔ جو صدائے حق بلند ہو چکی تھی وہ دب نہ سکی۔ نجد کے دوسرے شہر وقصبات عینیہ وغیرہ میں بھی اس آواز کی گونج پہنچ چکی تھی اور حق آشنا دلوں نے ان تعلیمات کا خیر مقدم کیا۔
۱۱۵۳ھ میں شیخ کے والد عبدالوہاب کا انتقال ہو گیا تو دعوت میں گرمی پیدا ہو گئی۔ تبلیغ کا دائرہ پھیل گیا‘ خود حریملا میں تحریک کے پرجوش معاونوں کی ایک جماعت تیار ہو گئی۔ حلقۂ درس وسیع ہو گیا‘ شیخ نے کتاب التوحید لکھی جس میں اسلامی توحید کی تمام بنیادوں کو نہایت دو ٹوک انداز میں منقح کر کے اپنی دعوت اور تحریک کے بنیادی خط وخال نمایاں کیے۔ لیکن شہر کی اکثریت مخالف تھی۔ شہر انارکی کا شکار تھا‘ دو خاندان حکمرانی کے لیے دست بہ گریباں تھے۔ اس لیے ہر ایک دوسرے کے اخلاقی اور معاشرتی مجرموں کا پشت پناہ تھا۔ شیخ محسوس کر رہے تھے کہ ان حالات میں کوئی تعمیری کام مشکل ہے۔ اسی اثناء میں ایک خاندان کے غلاموں نے شیخ کی اصلاحی نصیحتوں پر برانگیختہ ہو کر آپ کے قتل کی سازش کی۔ سرد اور تاریک رات میں آپ کے مکان پر حملہ کیا لیکن ابھی ایک دوسرے کے کندھے پر سوار ہو کر بیرونی فصیل کی بلندی تک رسائی کا عمل جاری ہی تھا کہ بدوؤں کی ایک ٹولی ادھر آنکلی‘ انہوں ا نے چور سمجھ کر شور کیا اور تیس مار خانوں کی یہ جماعت سر پر پاؤں رکھ کر چمپت ہو گئی۔
شیخ جانتے تھے کہ کسی معاشرے میں ہمہ گیر اسلامی انقلاب کا تصور فضول ہے جب تک کہ اس کے نفاذ کے لیے کوئی سیاسی غلبہ وتفوق حاصل نہ ہو مگر حریملا میں جو کچھ تھا اس کے برعکس تھا۔ وہاں اقتدار کے نمائندے دعوت اور داعی دونوں کا گلا گھونٹنے پر تلے ہوئے تھے اس لیے کامیابی کی بے جا توقع میں مزید وقت اور قوت صرف کرنا دانشمندی کے تقاضوں سے بعید تھا   ؎
زمیں شور سنبل بر نیارد
در وتخم عمل ضائع مگر داں
آپ نے عینیہ کے حاکم سے خط وکتابت کی اور اسے قبول حق پر آمادہ پا کر عیینہ منتقل ہو گئے۔ یہ ۱۱۵۷ھ کا واقعہ ہے۔ حاکم عیینہ نے بڑی قدر افزائی کی‘ خاندان کی ایک لڑکی جوہرہ بنت عبداللہ شیخ کو بیاہ دی اور تحریک کی حمایت کا وعدہ کیا۔ پھر کیا تھا کہ دین خالص کی دعوت کھلم کھلا شروع ہو گئی اور اہل عیینہ کے دل قبول حق کی طرف مائل ہونے لگے۔ بدعات کے اڈوں پر تیشے چلائے گئے ’’مقدس‘‘ درختوں کا صفایا کیا گیا۔ جنگ یمامہ کے شہید سیدنا زید بن خطابt کا قبہ تھا اسے زمین بوس کیا گیا۔ نماز باجماعت کا احیاء کیا گیا اور صرف زکوٰۃ کا اجراء ہوا۔ حاکموں کے عائد کیے ہوئے ظالمانہ ٹیکس ختم کیے گئے۔ ان کوششوں کے ساتھ ساتھ تبلیغی رسائل کی تالیف بھی جاری رہی اور بیرون شہر کے لوگوں سے رابطہ بھی قائم رہا جس کے نتیجہ میں درعیہ کے کچھ افراد آپ کے مؤید اور حامی ہو چکے تھے۔
اسی اثناء میں ایک حادثہ پیش آیا‘ ایک شادی شدہ عورت فحش کاری کی مرتکب ہوئی۔ اس نے اعتراف جرم کیا‘ طرح طرح سے جرح کی گئی مگر وہ اپنے اعتراف پر قائم رہی۔ شیخ نے سنگساری کا حکم دیا اور حاکم شہر نے مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ اسے سنگسار کر دیا۔
اس حادثے نے گرد وپیش میں تہلکہ مچا دیا۔ جرائم پیشہ افراد میںکھلبلی مچ گئی۔ بات احساء و قطیف کے رنگین مزاج حاکم تک پہنچی‘ اس نے حاکم عینیہ کو تہدید آمیز خط لکھا۔ حکم تھا کہ شیخ کو قتل کرو ورنہ تمہاری بھی خیر نہیں۔ حاکم عینیہ متردد ہوا۔ شیخ نے تسلی دی کچھ ٹھٹھکا لیکن جرأت کردار سے محروم تھا اس لیے ثابت قدم نہ رہ سکا۔ شیخ کو عینیہ کی حدود سے نکل جانے کا حکم دے دیا اور اخراج کے لیے ایک سپاہی فرید الظفیری کو ہمراہ کرا دیا۔ ریگ زار عرب کی سخت دھوپ میں شیخ نکلے‘ سپاہی پیچھے پیچھے‘ آپ آگے آگے۔ سپاہی سوار آپ پیادہ‘ ہاتھ میں صرف ایک پنکھا اور زبان پر
{مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبْ}
کا ورد تھا۔ عصر کے وقت شیخ درعیہ پہنچے‘ عبداللہ بن عبدالرحمن بن سویلم عرینی کے مکان پر نزول فرما ہوئے۔ پھر اپنے ایک شاگرد احمد بن سویلم کے ہاں منتقل ہو گئے۔ میزبانوں کو کچھ سکون ہوا۔
شیخ کی اقامت خفیہ تھی مگر اہل دل سے پوشیدہ نہ رہی۔ ابن سویلم کا مکان دعوت وتوحید کا مرکز بن گیا اور پس پردہ تحریک جاری رہی۔ ایک روز آپ کے ایک شاگرد نے جرأت رندانہ سے کام لیا‘ اپنے رفقاء کے ہمراہ حاکم شہر محمد بن سعود کے بھائی ثنیان کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔ ثنیان بڑا نیک سیرت‘ پرہیز گار اور خیر پسند انسان تھا۔ اس نے مسرت وشادمانی کا اظہار کیا۔ یہ حضرات محمد بن مسعود کی بیوی موضی بن تابی وصطان کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے۔ یہ خاتون عقل ودانش میں ممتاز‘ متدین اور علماء وطلبہ نواز تھی۔ اس نے بھی شادکامی کا اظہار کیا۔ بات آگے بڑھنے لگی… امیر محمد بن سعود کو اپنی بیوی اور بھائی سے یکساں قسم کی خبریں اور مشورے ملے۔ محمد بن سعود خود بھی کریم الاخلاق‘ نرم خو‘ دور اندیش‘ انجام بین‘ خیر پسند اور بلند حوصلہ حکمران تھا۔ وہ بیوی اور بھائی کی گفتگو سنتے ہی معاملہ کی تہہ تک پہنچ گیا۔ بذات خود شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ شیخ نے توحید کی دعوت دی۔ نجد کے دشت وجبل میں پھیلی ہوئی خستہ حالی‘ بد نظمی‘ کشت وخون‘ لوٹ مار اور قتل غارت گری کی طرف متوجہ کیا اور حاکمانہ اختیارات سے کام لیتے ہوئے شرعی آئین کے دائرہ میں ان کی اصلاح کا مطالبہ کیا۔
شیخ کی باتیں محمد بن سعود کے دل میں اتر گئیں۔ اس نے مکمل یگانگت اور تعاون کی شرط کے ساتھ شیخ کے ہاتھ پر بیعت کی اور نجد کے اندر مکمل اسلامی انقلاب کا داعی بن گیا۔ اب درعیہ میں کھلے میدان دین کی خالص دعوت دی جانے لگی۔ اسلامی ضوابط کا نفاذ ہو گیا اور دیکھتے دیکھتے ایک چھوٹا سا اسلامی معاشرہ اپنی تمام تر خوبیوں اور جلوہ آرائیوں کے ساتھ وجود پذیر ہو گیا۔ نجد کے صدیوں تاریکی کے اندر پڑے ہوئے صحرا میں یہ روشنی کا مینارہ تھا جس کی بدولت اتھاہ تاریکیوں میں بھٹکنے والا کاروان اسلام اپنی منزل مقصود کا راستہ دیکھ رہا تھا۔ دور ونزدیک کی بستیوں سے حق کے متلاشی درعیہ کا رخ کر رہے تھے اور آئے دن درعیہ میں خدا پرستوں کا نیا نیا گروہ ڈیرے ڈال رہا تھا۔ پھر قرب وجوار کی بستیوں نے درعیہ کی تقلید کی۔ شیخ کی دعوت مختلف قبائل کے سرداروں اور شہر کے حکمرانوں کو بھی پہنچ رہی تھی اور ان کی طرف سے حوصلہ افزا رد عمل کا ظہور ہو رہا تھا۔ دوسرے ہی سال عینیہ کا حاکم ابن معمر حاضر ہوا اور شیخ کو واپس لے جانا چاہا۔ ابن سعود راضی نہ ہوا۔ اس لیے ابن معمر نے شیخ سے بیعت کی اور عینیہ میں اسلامی ضوابط کے نفاذ کا عہد کر کے واپس ہوا۔ اہل حریملا حاضر ہوئے اور انہوں نے بھی بیعت کی۔ چھوٹی چھوٹی اکائیاں درعیہ کے مرکز سے وابستہ ہو رہی تھیں اور جدید اسلامی سلطنت کی حدود میں وسعت ہو رہی تھی۔ خوگرانِ ظلم وتیرگی کے لیے یہ صورتحال بڑی صبر آزما تھی۔ انہوں نے تاریکی کے سمٹتے ہوئے سایوں کو پھیلانے کا عہد کیا۔ شمشیر وسناں‘ تیر وتفنگ اورطبل وعلم لے کر اس دعوت حق کو کچلنے کے لیے آگے بڑھے اور نجد کے صحراء اور بیاباں ایک بار پھر حق وباطل کے درمیان خونریز جنگ کا نظارہ دیکھ رہے تھے۔ جن حکمرانوں کے جذبہ باطل پرستی نے انہیں حق کے خلاف آمادۂ پیکار کیا تھا ان میں ریاض کا حاکم‘ وہام بن دواس‘ احساء کا امیر سلیمان اور اس کے خلفاء‘ قطیف کا امیر ابن مغلق اور بصرہ کا امیر ثوینی خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔
وہام بن دواس اپنی سفاکی وچیرہ دستی کی نظیر نہیں رکھتا تھا۔ یہ وقفہ وقفہ سے کئی برس تک درعیہ کے خلاف لڑتا رہا جب اس کی طاقت پیکار جواب دے جاتی‘ صلح کر لیتا اور جب صلح سے ملی ہوئی مہلت میں اپنی فوجی طاقت میں تنظیم نو کر لیتا تو بلا جھجک سارے عہد وپیمان توڑ کر میدان جنگ میں آدھمکتا۔ آخر کار ۱۱۵۷ھ میں سعودی افواج نے ایک فیصلہ کن جنگ کے لیے ریاض کا رخ کیا لیکن ابھی یہ فوج راستہ ہی میں تھی کہ دہام اپنے اہل وعیال اور اعوان وانصار سمیت ریاض سے بھاگ نکلا۔ پہلے الخرج کی راہ لی پھر مارا مارا قطیف پہنچا اور وہاں اپنی حیات مستعار کے باقی ماندہ ایام گزار کر راہی ملک عدم ہوا۔ سعودی افواج بلا مزاحمت ریاض پر قابض ہو گئیں۔
وہام بن دواس ہی کی طرح اس وقت کے احساء کے امیر عریعر بن دجین کی شخصیت تھی۔ یہ شخص بڑا ہی سفاک اور ماہر جنگجو تھا۔ حملہ اور دفاع کے لیے نئے نئے ڈھنگ سوچتا اور ایجاد کرتا تھا۔ اہل درعیہ کے خلاف اس نے بہت سی جنگیں لڑیں اور ایک طویل عرصہ تک ان کے لیے درد سر بنا رہا۔ جن اہل توحید پر قابو پاتا تھا بے دریغ انہیں قتل کر دیتا تھا۔ اس طرح احساء کے علاقہ میں دعوت کے پنپنے کے آثار معدوم تھے۔ اس شخص نے درعیہ پر بڑی زبردست اور خوفناک فوج کشی کی۔ یہ بے پناہ لشکر کے ساتھ دشت وجبل کی وسعتیں طے کرتا ہوا درعیہ کے گردا گرد خیمہ زن ہوا اور اس کا محاصرہ کر لیا۔ اسے توقع تھی کہ چند گھنٹوں میں سعودی لشکر کو زیر وزبر کر کے رکھ دیا جائے گا لیکن ایک ماہ کے شدید محاصرہ کے باوجود اسے کامیابی نہ ہوئی۔ ساری حکمتیں اور تدبیریں صرف کر دینے کے بعد اسے خالی ہاتھ واپس ہونا پڑا لیکن وہ ہار مان کر واپس نہ ہوا تھا کہ اس نے پچھلے تجربات کی روشنی میں نئی اور مکمل تیاریوں کے بعد اپنے بیٹے سعدون کو لشکر کشی پر مامور کیا۔ لیکن بیٹے کی کارروائیوں کا انجام بھی باپ سے مختلف نہ نکل سکا۔ اب زیادہ جوش وغضب میں آکر اس نے بریدہ پر حملہ کیا اور وہاں سخت تباہی مچائی۔ قتل عام کیا اور کھجور کے باغات جلا دیئے۔ اس کے دبدبہ وجبروت سے قبائل خوف زدہ ہو گئے اور اس کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع کر دیا۔ پھر کیا تھا اس نے ایک لشکر جرار کے ساتھ درعیہ پر فوج کشی کی تیاری شروع کر دی لیکن ابھی وہ تیاری ہی کر رہا تھا کہ اچانک اس کا انتقال ہو گیا اور اس کے بعد اس کا لشکر بکھر گیا۔ یہ ربیع الاول ۱۱۸۸ھ کا واقعہ ہے۔
عریعر کی وفات کے بعد اس کی اولاد میں رسہ کشی شروع ہو گئی اور انہیں درعیہ کی طرف نگاہ اُٹھانے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔
ان دونوں کے علاوہ نجد واطراف نجد کے اکثر دوسرے چھوٹے بڑے حکمران بھی انہی کے نقش قدم پر رواں دواں تھے۔ یہ لوگ ایک طرف درعیہ کی حکومت کے خلاف برسر پیکار تھے۔ دوسری طرف اپنی حدود کے اندر پائے جانے والے اہل توحید‘ شیخ کے متبعین ظلم وجور‘ جبر وقہر اور چیرہ دستی وتشدد کا نشانہ بنائے ہوئے تھے۔
یہ بھی یاد رہے کہ مفاد پرست علماء کا ایک گروہ ان امراء کی پشت پر تھا۔ یہ ’’تقدس مآب‘‘ گروہ شیخ کو کاہن‘ جادوگر‘ جاہل‘ دروغ گو‘ شعبدہ باز‘ دجال‘ کافر وزندیق کہہ کر ان امراء کے ناپاک اور سفاکانہ حملوں کو مقدس جہاد قرار دیتا تھا اور ان کی چیرہ دستیوں کو تقاضائے حکمت ومصلحت بتلاتا تھا۔
لیکن حق بہرحال حق ہی ہے۔ چند برس کی مسلسل کوشش‘ دعوتی سرگرمیوں‘ پیہم تگ ودو اور لگاتار جہاد نے حقائق کے رخ تاباں سے پردہ ہٹا دیا۔ بساط الٹ گئی اور بارہویں صدی کی آخری چوتھائی میں صحرائے نجد ایک نئے انقلاب کے اُبھرتے ہوئے سورج کی روشنی سے منور وتابناک ہو گیا۔ یہ تابناکی بڑھتی اور پھیلتی گئی۔ یہاں تک کہ تیرہویں صدی کے اوائل تک اس نے پورے جزیرۃ العرب کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ واللہ متم نورہ ولو کرہ المشرکون۔
شیخ محمد بن عبدالوہاب نے جس ہمہ گیر اسلامی انقلاب کا بیڑہ اٹھایا تھا وہ محکم بنیادوں پر استوار ہو چکا تھا۔ آپ اور آپ کے خدا پرست ووفا شعار شاگردوں کی تگ ودو‘ کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہو چکی تھی۔ آپ نے اپنی آنکھوں سے ان کوششوں کو بار آور ہوتے دیکھ لیا تھا اور عمر عزیز کی نوے سے زیادہ منزلیں طے کر چکے تھے۔ چنانچہ اب وقت موعود آگیا اور آپ ذی قعدہ ۱۲۰۶ھ میں داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ وجزاہ احسن ما یجز بہ عبادہ الصالحین!
محمد بن عبدالوہابa کے بعد اس دعوت کے حاملین پر مصائب وآلام کے ایام آتے اور جاتے رہے۔ آل سعود کے اقتدار کا سورج غروب ہوتا اور نکلتا رہا۔ آل الشیخ قتل وغارت اور قید وبند کا نشانہ بنتے اور منصب عز وجاہ پر فائز ہوتے رہے۔ نجد کے صحرا وبیاباں مایوس کن اور مسرت انگیز انقلابات کا مشاہدہ کرتے رہے۔ لیکن محمد بن عبدالوہاب نے اپنی دعوت اور تحریک سے دل ودماغ‘ عقائد وخیالات اور کردار وعمل کی دنیا میں جو انقلاب برپا کر دیا تھا وہ زندۂ وپائندہ رہا۔ کوئی مادی انقلاب اس کی نورانی شعاعوں کو دبا نہ سکا اور کوئی بڑی سے بڑی کوشش اس کی تابانی وجمال آرائی کو زیر پردہ نہ کر سکی۔ آج سعودی عرب اس انقلاب کی پوری تابش وجمال اور خیر وبرکت کے ساتھ صفحۂ ہستی پر جلوہ گر ہے۔ خدائی ہدایت ورہنمائی اور شریعت وقانون کو انسانی فلاح سے بے تعلق پانا کافی یا غیر ضروری قرار دینے والوں کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔ اللہ اسے کمال اور تمام وتسلسل ودوام بخشے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment