خطبۂ حرم ... دین اسلام میں حُبُّ الوطنی کی اہمیت 35-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, September 21, 2019

خطبۂ حرم ... دین اسلام میں حُبُّ الوطنی کی اہمیت 35-2019


خطبۂ حرم ... دین اسلام میں حُبُّ الوطنی کی اہمیت

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حسین آل شیخ d
ترجمہ: جناب محمد عاطف الیاس
حمد و ثناء کے بعد!
اے مسلمانو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ پرہیز گاری سے بھلائیاں کمائی جا سکتی ہیں اور برکتیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
اے مسلمانو! جن لوگوں کی فطرت ابھی سلامت ہے ان کے نزدیک دنیا کی بیش قیمت ترین چیز اُس سرزمین کی محبت ہے کہ جس میں وہ پیدا ہوئے، جس میں وہ پلے بڑھے اور جس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
اس حقیقت کو ہمارے دین نے بھی تسلیم کیا ہے اور ہر مسلمان پر اپنے ملک کے حقوق اور فرائض عائد کیے ہیں، تاکہ ایک ساتھ اس کے دین اور اس کی دنیا کی اصلاح ہو سکے۔ لوگوں کے نزدیک اپنی مٹی کی محبت نفس کی محبت سے جڑی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی فرمایا:
’’اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ اپنے آپ کو ہلاک کر دو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو ان میں سے کم ہی آدمی اس پر عمل کرتے۔‘‘ (النساء)
ابن العربیa‘ سیدنا موسیٰu کی مصر واپسی پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اپنے ملک میں واپس لوٹنے کے لیے مشکلات کا سامنا کیا جاتا ہے، خطرات مول لیے جاتے ہیں اور نفس کو بہلایا جاتا ہے۔
حب الوطنی کے اسی جذبے کی وجہ سے نبی کریمe مکہ مکرمہ سے نکلتے وقت مکہ کی سرزمین کو مخاطب کرتے ہوئے بڑے جذبے اور بے تابی سے فرما رہے تھے:
’’تو کتنا پاکیزہ شہر ہے! تو مجھے کتنا پیارا ہے! اگر تیری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں کسی دوسری جگہ ہر گز نہ رہتا۔‘‘ (ترمذی)
جب آپe ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور اسی سرزمین پر رہنے لگے تو وہ آپe کی رسالت سے روشن ہو گئی، پھر چونکہ آپe کی یہی رہائش گاہ بن گئی تھی تو آپe نے فرمایا:
’’اے اللہ! مجھے مدینہ منورہ کی بھی اتنی ہی محبت نصیب فرما جتنی تو نے مجھے مکہ کی نصیب فرمائی تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ۔‘‘ (بخاری)
اللہ تعالیٰ نے انبیا کے بعد افضل ترین مرتبے پر فائز ہونے والے صحابہ، مہاجرین کرام کے بارے میں فرمایا:
’’اُن غریب مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور جائیدادوں سے نکال باہر کیے گئے، یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اُس کے رسولe کی حمایت پر کمر بستہ رہتے ہیں، یہی راستباز لوگ ہیں۔‘‘ (الحشر)
اے مسلمان معاشرے کے لوگو! اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنے ملک میں سکون نصیب ہو جائے، جان، مال اور آبرو کی حفاظت نصیب ہو جائے اور اپنے پروردگار کی بندگی نصیب ہو جائے۔
رسول اللہe کا فرمان ہے:
’’جو تم میں سے اس حال میں صبح کرے کہ اسے اپنے گھر میں امن نصیب ہو، جسم صحت مند ہو اور اس کے پاس ایک دن کی روزی ہو تو گویا کہ اسے دنیا کی ساری نعمتیں نصیب ہو گئی ہیں۔‘‘ (ترمذی)
اے مسلمان معاشرے کے لوگو! دین اسلام میں حب الوطنی کا مفہوم یہ ہے کہ بھلے اخلاق اور بہترین اقدار پر قائم رہا جائے۔ یعنی ملک کی فلاح وبہبود، بھلائی اور اصلاح کے لیے کمربستہ رہا جائے، فساد، مشکلات اور پریشانیاں ملک سے نکال باہر کرنے کے لیے اور ملک وقوم کی حفاظت کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جائے۔
فرمانِ الٰہی ہے:
’’جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔‘‘ (المائدہ)
حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ملک میں اپنے بھائیوں کے درمیان محبت، مودت، الفت، رحم اور پیار کے ساتھ رہا جائے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔‘‘ (الحشر)
اسی طرح رسول اللہe نے فرمایا:
’’اہل ایمان کے باہمی پیار، مودت اور محبت کی مثال ایسی ہے جیسے ایک جسم ہو، جس کا ایک حصہ شکایت کرے تو سارا جسم اس کے دکھ میں بخار اور بے خوابی میں رہے۔‘‘ (بخاری ومسلم)
اس حدیث میں اس محبت کا ذکر ہے جس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کو نیکی اور پرہیز گاری کی نصیحت کرنے لگتے ہیں، ہر اس چیز کی تلقین کرتے ہیں کہ جس میں ملک اور قوم کی فلاح وبہبود ہو۔
فرمانِ الٰہی ہے:
’’انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے۔ سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔‘‘ (العصر)
اسی طرح رسول اللہe نے فرمایا:
’’دین خلوص ہی ہے۔‘‘ نبی کریمe نے اسے تین مرتبہ دہرایا۔ صحابہ کرام] نے عرض کی: اللہ کے رسول! کس کے لیے؟ آپe نے فرمایا: ’’اللہ کے لیے، اللہ کی کتاب کے لیے اور مسلمان عوام اور حکمران کے لیے۔‘‘ (مسلم)
اے مسلمان بھائیو! حب الوطنی کا یہ بھی ایک تقاضا ہے کہ ملک کے دین، منہج، اصول اور اس کے مقامات مقدسہ کی حفاظت کی جائے۔ ہر شخص اپنی قدرت، ذمہ داری اور ہمت کے مطابق اس کام میں حصہ لے۔ قرآن کریم بھی اسی طرف اشارہ کرتا ہے، فرمایا:
کہنے لگے: بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم راہ خدا میں نہ لڑیں، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کر دیے گئے ہیں۔‘‘ (البقرۃ)
نبی کریمe بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’جو اپنے مال کا دفاع کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے، جو اپنی عزت اور آبرو کا دفاع کرتا ہوا مارا جائے وہ بھی شہید ہے، جو اپنے دین کا دفاع کرتا ہوا مارا جائے وہ بھی شہید ہے اور جو اپنے نفس کا دفاع کرتے ہوئے مارا جائے وہ بھی شہید ہے۔‘‘ (ترمذی)
حب الوطنی سے معاشرے کے افراد ہر اس سازش کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو ان کے ملک کی دینی اور دنیاوی ترجیحات پر حملہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
رسول اللہe کا فرمان ہے:
’’تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدلنے کی کوشش کرے، اگر نہ کر سکے تو اپنی زبان سے بدلنے کی کوشش کرے اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو اپنے دل میں اسے برا ضرور سمجھے اور یہ ایمان کا کم ترین درجہ ہے۔‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ برائی کی ایک شکل یہ ہے کہ عقیدہ، ملک اور دینی اصولوں کے خلاف سازشیں کی جائیں اور ملک کی طے شدہ اقدار اور روایات کو نشانہ بنایا جائے یا اس کے امن وامان پر حملہ کرنے کی کوشش کی جائے۔
اے اللہ کے بندو! حب والوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ملک کے لیے اور اس کے حکمرانوں کے لیے بھی وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ وہ خود ملک کی یوں حفاظت کرے جیسے وہ اپنے ذاتی مفادات کی حفاظت کرتا ہے۔
رسول اللہe کا فرمان ہے:
’’تم میں کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ (بخاری)
اے مسلمان بھائیو! دین اسلام میں حب الوطنی کا مفہوم یہ ہے کہ معاشرے کا ہر فرد ملک اور قوم کو للکارنے والے ہر خطرے کا مقابلہ کرے۔
صحیح حدیث میں راستے کے حقوق کا ذکر کیا گیا ہے کہ اس سے اذیت دینے والی چیزیں ہٹائی جائیں۔ صحیح احادیث میں لوگوں کے صحنوں، راستوں اور کارآمد جگہوں پر اذیت ناک چیزیں پھینکنے پر شدید وعید آئی ہے۔
دین اسلام مسلمان سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ نبی کریمe کے اس ارشاد پر عمل کرے کہ ’’مسلمان وہ ہے، جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘
اسلام کے بڑے اصولوں میں ایک اصول یہ بھی ہے کہ نہ دوسروں کو نقصان دو اور نہ دوسرے تمہیں نقصان دیں! اے مسلمان معاشرے کے لوگو! ملک کا اور معاشرے کا مسلمان افراد پر یہ حق ہے کہ وہ ملک، قوم اور حکمرانوں کی خیانت نہ کریں۔ خیانت کی بد ترین شکل یہ ہے کہ نوکریوں اور عہدوں کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے۔ اسی طرح فساد کی غلیظ ترین مثال مالی معاملات میں فساد ہے کہ جس سے متعدد آیات اور احادیث میں روکا گیا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہو جائے گا۔‘‘ (آل عمران)
اسی طرح رسول اللہe نے فرمایا:
’’کچھ لوگ اللہ کے مال پر ناجائز طور پر قبضہ کرتے ہیں اور اس میں تصرف کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے قیامت کے دن آگ ہی ہو گی۔‘‘ (بخاری)
اے مسلمان بھائیو! وطن کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ اس کے حکمرانوں کے ساتھ تعاون کیا جائے، ظاہر اور پوشیدہ طور پر ان کے لیے خلوص اپنایا جائے، کیونکہ حکمران کی طاعت ہمارا دینی فریضہ ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ گناہ کا حکم نہ دے۔ ہم میں سے ہر ایک کی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ اتحاد اور اتفاق کی حفاظت کرے اور سب لوگ ہر خطرے سے اپنے ملک کی حفاظت کے لیے اکٹھے ہو جائیں۔ تو اللہ سے ڈرو اور ملک کے حوالے سے اپنا فرض ادا کرو، تاکہ امن وسلامتی قائم ہو سکے۔
               دوسرا خطبہ              
حمد وثناء کے بعد:
اے مسلمانو! حب الوطنی تو ایک فطری چیز ہے، جس کا احترام دین اسلام نے بھی کیا ہے، تو بھلا اس وطن سے محبت کی کتنی فضیلت ہو گی کہ جس میں حرمین شریفین اور اللہ کے عظیم ترین گھر ہیں۔ یہ ملک سرزمین حرمین ہے اور دین اسلام پر قائم ہے۔ اس نے دین اسلام کو دستور اور منہج کے طور پر اپنایا ہے۔ یہ اندرونی اور بیرونی طور پر عقدہ توحید پر قائم ہے۔ اس کی عدالتیں شریعت اسلامی کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔
یہ وہ ملک ہے کہ جو سنت پر چلتا اور سنت کا احترام کرتا ہے۔ یہ بدعتوں کا انکار کرتا ہے اور ان کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس میں رہنے والوں کا فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وافر نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اس ملک کی سلامتی، امن وامان کی حفاظت اور تخریب کاروں کی مخالفت پر اکٹھے ہو جائیں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ سنگین حالات میں اغیار کے مقاصد کے خلاف اکٹھے ہو جائیں۔
اللہ آپ کی نگہبانی فرمائے! اپنے ملک کے امن وامان کی حفاظت کیجیے۔ فتنوں کی موجوں سے اپنے ملک کی حفاظت کیجیے۔ برائی اور فساد کی طرف بلانے والوں سے چوکنے رہیے۔ تفرقہ بازی پھیلانے، اتحاد واتفاق ختم کرنے اور بکھیرنے والے اسباب سے دور رہیے۔فرمانِ الٰہی ہے:
’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘ (آل عمران)
اے اس ملک کے نوجوانو! ان چیزوں پر قائم رہو جن پر یہ ملک قائم ہے اور جن کی وجہ ہمارا ملک دنیا میں پہچانا جاتا ہے، سنت کے واضح اور پاکیزہ منہج پر قائم رہو۔ اُس منہج پر کہ جس میں انتہا پسندی ہے اور نہ غلو، جس میں بدعتی راہ ہے نہ ٹیڑھی سوچ ہے۔ وہ منہج کہ جس میں ان دینی اقدار اور اخلاق کی بڑی اہمیت ہے کہ جن پر ہمارا یہ ملک قائم ہے۔ اِسی منہج کی وجہ سے لوگ اتحاد واتفاق کی زندگی جی رہے ہیں، بھلائی کے کاموں میں تعاون کر رہے ہیں، نفع بخش اور ملک کے لیے فائدہ مند چیزوں پر اکٹھے ہیں، سچائی اور اخلاص کے ساتھ ایک دوسرے کی اور حکمرانوں کی معاونت کرتے ہیں، تاکہ مطلوبہ فوائد حاصل ہو جائیں اور مصیبتوں سے نجات مل جائے۔
تو ان نعمتوں کو خود اپنے ہاتھوں سے تبدیل نہ کرو، ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ آپ کا حال بھی تبدیل کر ڈالے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے‘ وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کر دیا تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزا چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھا گئیں۔‘‘ (النحل)
یہ بھی جان رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسا حکم دیا کہ جس پر عمل سے ہمارے دل پاکیزہ ہو جاتے ہیں اور ہمیں دنیا وآخرت کی خوشیاں نصیب ہو جاتی ہیں۔ یہ عمل ہے: کثرت سے نبی کریمe پر درود وسلام بھیجنا۔
اے اللہ! جو ہمارے ملک کے بارے میں یا مسلمان ممالک کے بارے میں برا ارادہ رکھے، تو اسے خود ہی میں مشغول فرما دے۔ اے اللہ! جو ہمارے ملک کے دین یا دنیا کے معاملات بگاڑنے کا ارادہ رکھے، تو اسے خود ہی میں مشغول فرما دے۔ اے پروردگارِ عالم! اس کی تدبیر ہی میں اسے ہلاک کر دے۔ اے اللہ! جو مسلمان ممالک کے بارے میں برا ارادہ رکھے، تو اسے خود ہی میں مشغول فرما دے، اے اللہ! اس کی چالیں ناکام بنا دے! اے پروردگارِ عالم! اس کی چالوں میں ہی اسے تباہ وبرباد فرما دے۔


No comments:

Post a Comment