احکام ومسائل 35-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Saturday, September 21, 2019

احکام ومسائل 35-2019


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

ہبہ اور اس کی شرائط
O میں شادی شدہ اور صاحب حیثیت ہوں‘ میرا ایک چھوٹا بھائی معذور ہے۔ میں نے ایک مکان تعمیر کر کے اس کے نام ہبہ کر دیا ہے۔ فی الحال وہ کرایہ پر دیا ہوا ہے۔ جس کا کرایہ میں خود وصول اور استعمال کرتا ہوں۔ کیا شرعی طور پر ایسا کرنا درست ہے؟!
P ہبہ یا ہدیہ‘ ضرورت مند حضرات سے تعاون کا ایک بہترین ذریعہ ہے‘ کتاب وسنت میں اس کے متعلق بہت ترغیب اور فضیلت آئی ہے۔ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’آپس میں تحائف وہدایا کا تبادلہ کیا کرو‘ ایسا کرنے سے محبت بڑھتی اور دلوں سے نفرت وکدورت دور ہوتی ہے۔‘‘ (الادب المفرد‘ حدیث نمبر ۵۹۴)
زندگی میں اپنے اختیارات سے کسی شخص کو بلا عوض کسی چیز کا مالک بنا دینا ہبہ کہلاتا ہے۔ واضح رہے کہ ہبہ کرنے والے کو واہب‘ جسے ہبہ کیا جائے اسے موہوب لہ اور جو چیز ہبہ کی جائے اسے موہوب کہا جاتا ہے۔ ہبہ کے لیے ایجاب وقبول اور قبضہ ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر واہب نے اپنی رضا مندی سے موہوب لہ کو کوئی چیز دی اور وہ موہوبہ چیز خوشی سے قبول کر کے اس پر قبضہ کر لے تو ایسا کرنے سے ہبہ مکمل ہو جاتا ہے۔ اس طرح ہبہ کی ہوئی چیز واہب کی ملکیت سے نکل کر موہوب لہ کی ملکیت میں آجاتی ہے اور اسے مکمل طور پر اس میں تصرف کا اختیار مل جاتا ہے۔ بے تکلف دوستوں سے ہبہ کا مطالبہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ امام بخاریa نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’جو شخص اپنے ساتھیوں سے ہبہ وغیرہ طلب کرے۔‘‘ (بخاری‘ الہب‘ باب نمبر ۳)
پھر چند احادیث سے اس عنوان کو ثابت کیا ہے‘ اگرچہ احادیث میں بلاوجہ سوال کرنے کی مذمت بیان کی گئی ہے لیکن امام بخاریa یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ دوستوں کے بے تکلفانہ ماحول میں کسی چیز کی فرمائش کرنا کار دیگر است‘ یہ اس وعید کی زد میں نہیں آتا جو احادیث میں سوال کرنے کے متعلق آئی ہے۔ ہمارے ہاں دوست واحباب میں تحائف لینے دینے اور بعض اوقات خود فرمائش کرنے کا عام دستور ہے۔ امام بخاریa نے اس کا جواز ثابت کیا ہے۔
صورت مسئولہ میں سائل نے اپنے چھوٹے معذور بھائی کو مکان تعمیر کر کے ہبہ کیا ہے جو شرعا جائز اور مستحسن اقدام ہے۔ لیکن مکان کا کرایہ خود استعمال کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ابھی تک یہ ہبہ زبانی کلامی ہے‘ بھائی کے نام منتقل نہیں ہوا۔ سائل کو چاہیے کہ وہ قانونی طور پر اس مکان کی رجسٹری معذور کے نام کر دے بلکہ محکمہ مال میں اس کے نام انتقال کروا دے تا کہ وہ مکان کے جملہ داخلی اور خارجی حقوق کا مالک بن جائے اور اس کا کرایہ بھی خود وصول کرے۔ اگر وہ اپنی خوشی سے اس کا کرایہ سائل کو دیتا ہے تو اس میں چنداں حرج نہیں۔ بہرحال ابھی ہبہ نامکمل ہے اس کی تکمیل اس وقت ہو گی جب وہ مکان معذور بھائی کے نام کرنے کے بعد اسے قبضہ دے دیا جائے تا کہ وہ مکمل طور پر مالکانہ حقوق کا حقدار ہو جائے۔ پھر وہ کرایہ بھی خود وصول کرے گا اور وہ اس پر جملہ تصرفات کا مالک ہو گا۔ واللہ اعلم!
عقیدہ نزول مسیح اور امین احسن اصلاحی
O قیامت کی کئی ایک علامتیں ہیں‘ ان میں سے ایک سیدنا عیسیٰu کی آمد بھی ہے۔ اس کے متعلق قرآن وحدیث سے دلائل درکار ہیں۔ نیز شنید ہے کہ مولانا امین احسن اصلاحی نے اس عقیدے کا انکار کیا ہے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟!
P قرآن مجید میں سیدنا عیسیٰu کے ذکر کے بعد ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور کوئی بھی اہل کتاب ایسا نہیں ہو گا جو سیدنا عیسیٰu کی وفات سے پہلے ان پر ایمان نہ لے آئے اور قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے۔‘‘ (النساء: ۱۵۹)
اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے قریب جب سیدنا عیسیٰu نازل ہوں گے اس وقت جو اہل کتاب موجود ہوں گے وہ سب ان پر ایمان لے آئیں گے اور وہ دین اسلام کو قبول کر لیں گے۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہt جب نزول عیسیٰu سے متعلق حدیث بیان کرتے تو اس آیت کو بطور استشہاد پڑھتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب سیدنا عیسیٰ u تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے‘ وہ صلیب کو توڑ ڈالیں گے۔ خنزیر کو قتل کریں گے۔ نیز جزیہ موقوف کر دیں گے۔ اس وقت مال ودولت کی فراوانی ہو گی حتی کہ اسے کوئی بھی قبول نہیں کرے گا۔ اس وقت ایک سجدہ دنیا اور اس کی ساری نعمتوں سے قیمتی ہو گا۔‘‘ … اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد سیدنا ابوہریرہt فرماتے: ’’تم اگر چاہو تو مذکورہ آیت کو پڑھو۔‘‘
قرب قیامت کے وقت سیدنا عیسیٰu کے آسمان سے نازل ہونے پر امت اسلامیہ کا اجماع ہے جیسا کہ مشہور امام حضرت ابوالحسن اشعریa نے اس کی صراحت کی ہے۔ (الابانہ: ص ۳۴)
سیدنا عیسیٰu کے اترنے کی کیفیت احادیث میں بایں الفاظ بیان ہوئی ہے: ’’آپ ہلکے زرد رنگ کی چادریں پہنے ہوئے‘ دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے سفید مینار کے پاس مشرقی دمشق میں نازل ہوں گے۔ جب اپنا سر نیچا کریں گے تو موتیوں کی طرح قطرے ٹپکتے نظر آئیں گے اور جب اپنا سر اٹھائیں گے تو بھی یہی کیفیت ہو گی۔ کافر ان کے سانس کی ہوا پاتے ہی مر جائے گا اور ان کی سانس حد نظر تک پہنچے گی۔ پھر وہ دجال کو تلاش کریں گے تو اسے باب لد پر پائیں گے۔ پھر وہاں اسے قتل کریں گے۔‘‘ (صحیح مسلم‘ الفتن: ۷۳۷۳)
قرب قیامت کے وقت سیدنا عیسیٰu کے نازل ہونے میں یہ حکمت ہے کہ اس میں یہودیوں کی تردید ہے جنہوںنے دعویٰ کیا تھا کہ ہم نے انہیں قتل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس طرح ان کے دعوے کو جھوٹا کرے گا کہ انہوں نے سیدنا عیسیٰu کو قتل نہیں کیا۔ بلکہ خود سیدنا عیسیٰu انہیں قتل کریں گے اور ان کے ہاتھوں وہ ذلیل وخوار ہوں گے۔ نیز عیسائیوں کے باطل دعوؤں کے بطلان کا اظہار کریں گے۔ امام بخاریa نے ایک عنوان بایں الفاظ ذکر کیا ہے: ’’سیدنا عیسیٰu کا آسمان سے نزول فرمانا۔‘‘ (بخاری‘ احادیث الانبیاء‘ باب نمبر ۴۹)
پھر اس عنوان کے تحت متعدد احادیث ذکر کی ہیں‘ ہم نے صحیح بخاری کی شرح ہدایۃ القاری میں اس عنوان پر شرح وبسط سے گفتگو کی ہے جو لائق ملاحظہ ہے۔ قارئین کرام اس کا ضرور مطالعہ کریں۔ بہرحال جملہ اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ سیدنا عیسیٰu آسمان پر زندہ ہیں‘ قرب قیامت کے وقت وہ نازل ہوں گے اور شریعت محمدیہ نافذ کریں گے۔
لیکن امین احسن اصلاحی نے اس موقع پر بھی دجل سے کام لیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’نصاریٰ کی یہ روایت ہمارے ہاں بھی آگئی ہے۔ قرآن میں کہیں نہیں ہے کہ مسیح u دوبارہ آئیں گے۔ اتنا بڑا عقیدہ قرآن میں ہونا چاہیے تھا‘ اخبار آحاد پر ہم کوئی عقیدہ قائم نہیں کر سکتے۔‘‘ (تدبر حدیث: ج۱‘ ص ۵۰۹)
اصلاحی صاحب نے ان احادیث کی سند پر بھی بحث کی ہے‘ لکھتے ہیں کہ ’’ان روایات میں ایک راوی تو ابن شہاب زہری ہیں جن کے متعلق میں اپنی رائے کا اظہار کرتا رہتا ہوں‘ دوسرے راوی جناب سعید بن مسیب ہیں‘ ان سے مجھے پہلے بہت حسن ظن رہا ہے کہ مدینہ کے جید علماء میں سے ہیں‘ میں ان کی تعریف کرتا کہ فقہ میں ان کا بڑا مقام ہے لیکن میں نے جب ان کے بارے میں ائمہ جرح وتعدیل کی رائے پڑھی تو معلوم ہوا کہ یہ شیعوں کے ساتھ شیعہ اور سنیوں کے ساتھ سنی ہیں تو میں بڑا مایوس ہوا۔‘‘ (تدبر حدیث: ج۱‘ ص ۵۰۷)
ہمارے نزدیک اس سے بڑا کوئی جھوٹ نہیں جو اس ’’امام‘‘ نے لکھا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق جرح وتعدیل کے کسی امام نے بھی حضرت سعید بن مسیبa کے متعلق ایسا نہیں لکھا۔ واللہ اعلم!
تجارتی پلاٹ پر زکوٰۃ
O میں پراپرٹی کا کاروبار کرتا ہوں اور اپنے سرمایہ سے تجارتی پلاٹ خریدتا ہوں۔ ان پر زکوٰۃ دینے کا کیا طریقہ ہے؟ کیا ہر سال زکوٰۃ دینا ہو گی یا جب فروخت ہوں گے تو اس وقت ان کی حاصل شدہ قیمت پر زکوٰۃ دینا ہو گی؟
P تجارتی پلاٹ‘ مال تجارت ہے اور ہر وقت ان کی مالیت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے ان کی بازاری قیمت فروخت کے اعتبار سے ہر سال زکوٰۃ واجب ہو گی۔ اگر پلاٹ نہ خریدنے ہوتے اور سرمایہ سائل کے پاس پڑا رہتا تو بھی ہر سال زکوٰۃ دینا تھی۔ اب اس نے اس سرمایہ سے پلاٹ خرید کر اپنے سرمایہ کو زمین میں دفن کر دیا ہے جو دن بدن بڑھ رہا ہے۔ لہٰذا اس پر مارکیٹ کی حیثیت کے مطابق قیمت پر ہر سال زکوٰۃ دینا ہو گی۔ ہاں اگر کسی نے اپنی ذاتی ضرورت کے لیے پلاٹ خریدا ہے کہ میں اس پر رہنے کے لیے اپنا مکان تعمیر کروں گا تو اس صورت میں پلاٹ پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment