فضائل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین 36-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

Breaking

Wednesday, October 02, 2019

فضائل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین 36-2019


فضائل صحابہ کرام ]

تحریر: جناب پروفیسر سید ابوبکر غزنوی
صحابہ کرام] کے سینوں پر انوار رسالت براہ راست پڑے تھے۔ انہوں نے اپنا گھر بار‘ اپنا مال و منال اور اپنا سب کچھ نبی محترمe کی خاطر لٹا دیا۔
سیدناصدیق اکبرt کو دیکھئے ابھی اسلام کا آغاز تھا۔ مکے کی بستی کافروں سے بھری ہوئی تھی‘ سیدنا ابوبکرt، آپe کی محبت سے سرشار تھے۔ آپe سے التجا کی کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں لوگوں کو علانیہ آپe کی رسالت کی اطلاع دوں اور آپ سے فیضیاب ہونے کی دعوت دوں‘ آپ نے فرمایا: اے ابوبکر! ذرا صبر سے کام لو ابھی ہم تعداد میں کم ہیں۔ سیدناابوبکرt پر غلبہ حال طاری تھا انہوں نے پھر اصرار کیا حتیٰ کہ رسول اللہe نے اجازت دے دی‘ سیدنا ابو بکرt نے بے خوف وخطر لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دی۔ البدایہ والنہایہ میں حافظ ابن کثیرa لکھتے ہیں:
[فَکَانَ اَوَّلُ خَطِیْبٍ دَعَا اِلَی اللّٰہِ وَالِیَ رَسُوْلِہ۔]
’’آپe کی بعثت کے بعد سیدنا ابوبکرt پہلے خطیب ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولe کی طرف بلایا۔‘‘
مشرکین مکہ آپt پر ٹوٹ پڑے‘ آپ کو سخت پیٹا اور روندا، عتبہ بن ربیعہ نے آپt کے چہرے پر بے تحاشا تھپڑ مارے۔ آپ قبیلہ بنو تمیم سے تھے‘ آپ کے قبیلے کے لوگوں کو خبر ہوئی تو وہ دوڑے ہوئے آئے‘ مشرکین سے انہیں چھڑا کر ان کے گھر چھوڑ آئے۔ سیدنا ابوبکرt بے ہوش تھے اور لوگوں کا خیال تھا کہ وہ جانبر نہ ہو سکیں گے‘ وہ دن بھر بے ہوش رہے جب شام ہوئی تو آپ کو ہوش آیا آپ کے والد ابو قحافہ اور آپ کے قبیلے کے لوگ آپ کے پاس کھڑے تھے‘ ہوش آتے ہی پہلی بات انہوں نے یہ کہی کہ رسول اللہe کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ ان کے قبیلے کے لوگ سخت برہم ہوئے اور انہیں ملامت کی کہ جس کی وجہ سے یہ ذلت ورسوائی اٹھانا پڑی اور یہ مار پیٹ تمہیں برداشت کرنا پڑی ہوش میں آتے ہی تم پھر اسی کا حال پوچھتے ہو۔ ان اندھوں کو کیا خبر تھی کہ ان کی خاطر سختیاں جھیلنے میں جو لذت ہے وہ دنیا داروں کو پھولوں کی سیج پر اور بستر سنجاب پر بھی حاصل نہیں ہوتی۔
اے جفا ہائے تو خوشتر زوفائے دیگراں
ان کے قبیلے کے لوگ مایوس ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور ان کی ماں ام الخیر سے کہہ گئے کہ جب تک محمدe کی محبت سے یہ باز نہ آجائے اس کا بائیکاٹ کرو اور اسے کھانے پینے کو کچھ نہ دو‘ ماں کی مامتا تھی جی بھر آیا کھانا لا کر سامنے رکھ دیا اور کہا کہ دن بھر کے بھوکے ہو کچھ کھا لو ، سیدنا ابو بکر صدیقt نے کہا:
’’ماں! اللہ کی قسم! میں کھانا نہیں چکھوں گا اور پانی کا گھونٹ تک نہ پیوں گا جب تک آپe کی زیارت نہ کر لوں۔‘‘
سیدنا عمرt کی بہن ام جمیلr آ گئیں اور بتایا کہ آپe بخیریت ہیں اور دار ارقم میں تشریف فرما ہیں۔ سیدنا ابو بکرt زخموں سے چور اور چلنے کے قابل نہ تھے۔ اپنی ماں کے سہارے سے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے‘ حضورe ان پر جھک پڑے اور انہیں چوما آپe پر سخت گریہ طاری تھا۔ آپe نے دیکھا کہ صدیق اکبرt رسول اللہe کی محبت میں اپنے جسم اور اپنی جان کی سب کلفتیں بھول گئے ۔
صحابہ کرام] رسول اللہe کی زیارت کو ترستے تھے‘ آپ نے مرض الموت میں جب پردہ اٹھا کر دیکھا اور صحابہ کرام] کو نماز کی حالت میں دیکھ کر مسکرائے تو صحابہ کرام] میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ سیدنا انسt فرماتے ہیں:
’’ہم نے رسول اللہe کے مکھڑے سے زیادہ حسین منظر نہیں دیکھا۔ کچھ محبانِ رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام ایسے بھی تھے جن کو اپنی آنکھیں محض اس لیے عزیز تھیں کہ ان سے رسول اللہe کی زیارت ہو تی ہے۔‘‘
نازم بچشم خود کہ جمال تو دیدہ است
ایک صحابی کی آنکھیں جاتی رہیں‘ لوگ عیادت کو آئے تو کہنے لگے: یہ آنکھیں تو مجھے اس لیے عزیز تھیں ان سے آپe کی زیارت ہوتی تھی جب وہی نہ رہے تو اب ان آنکھوں کے جانے کا غم کیا ہے۔
کچھ صحابہ] ایسے بھی تھے جنہوں نے روز روز کا جھگڑا ہی چکا دیا تھا ۔ زندگی کا سب کاروبار چھوڑ کر آپe کی خدمت کے لیے وقف ہو گئے تھے ۔
سیدنا بلالt کو یہ سعادت نصیب ہوئی آپe کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا‘ آپ کے گھر کا سب کام کاج سیدنا بلالt ہی کیا کرتے تھے‘ دنیا کے سب دھندوں کو خیر باد کہہ چکے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعودt کی محبت کا یہ عالم تھا کہ جب بھی آپe سفر کے لیے تشریف لے جاتے آپe کے ساتھ ہو لیتے، آپ کو جوتیاں پہناتے‘ آپe کی جوتیاں اتارتے‘ سفر میں آپ کو بچھونا، مسواک، جوتا اور وضو کا پانی ان کے ہی پاس ہوتا تھا۔ اسی لیے آپ کو صحابہ کرام] سواد رسولe کہتے تھے یعنی رسول اللہe کے میر ساماں تھے۔
سیدناربیعہ اسلمیt سارا دن آپ ہی کی خدمت میں رہتے تھے‘ جب آپ عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر کاشانہ نبوت میں تشریف لے جاتے تو آپ باہر دروازے پر بیٹھے رہتے کہ شاید آپ کو کوئی کام پڑ جائے
اور میرے بھاگ جاگ اٹھیں اور آپe کی خدمت کی سعادت نصیب ہو جائے۔ ایک دن رسول اللہe نے سیدنا ربیعہt سے فرمایا: ربیعہ! تم شادی کیوں نہیں کرتے؟ کہنے لگے، شادی کی تو یارسول اللہ! آپ کا آستانہ مجھ سے چھوٹ جائے گا ، مگر حضور نے بار بار اصرار سے کہا اور وہ مجبور ہو گئے ۔
سیدناعقبہ بن عامرt آپ کے مسلسل خدمت گزار تھے‘ آپ سفر پر جاتے تو پید ل آپ کے ساتھ چلتے اور آپ کی اونٹنی ہانکتے تھے۔
سیدنا انسt کو ان کی والدہ حضور اقدس کی خدمت کے لیے بچپن ہی میں وقف کر گئی تھیں ۔ سیدنا ابوہریرہt بھی بارگاہِ رسالت میں ہمیشہ حاضر رہتے۔
محبت و شیفتگی کی یہی کیفیت تھی جس کی وجہ سے وہ اللہ اور اس کے رسولe کی خاطر سخت سے سخت مصیبت جھیلتے رہے‘ وہ صرف مصیبت ہی نہ جھیلتے تھے بلکہ ان مصیبتوں میں ایک لذت اور سرور حاصل کرتے تھے محبت کا یہ جذ بہ ان میں ایسی سرشاری پیدا کرتا تھاکہ جسم کی کوئی کلفت اور ذہن کی کوئی اذیت انہیں محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔ صحابہ] میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جن کی عمر اتنی نہ ہوئی کہ وہ اسلام کی غربت کے ساتھ اسلام کے عروج و اقبال کا زمانہ بھی دیکھتے اور عدی بن حاتمt کی طرح کہہ سکتے:
کنت فی من فتح کنوز کسری
’’میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے کسریٰ کے خزانوں کو فتح کر لیا۔‘‘
تاہم جب دنیا سے گئے تو اس عالم میں گئے کہ ان سے زیادہ عیش و خوشحالی میں شاید ہی کسی نے دنیا چھوڑی ہو۔
بدر واحد کے شہیدوں کا حال پڑھو۔ ایمان لانے کے بعد جو کچھ بھی ان کے حصے میں آیا وہ دن رات کی کاوشوں اور مصیبتوں کے سوا کیا تھا۔ وہ اسلام کی فتح یابیوں اور کامرانیوں سے پہلے ہی دشمنوں کی تیغ و سناں سے چور میدان جنگ میں دم توڑ رہے تھے مگر دیکھو کہ پھر بھی ان کے دل کی شادمانیوں کا کیا حال تھا۔
جنگ احد میں سیدناسعدبن ربیعt کو لوگوں نے دیکھا کہ زخمیوں میں پڑے دم توڑ رہے ہیں۔ پوچھا: کوئی وصیت اگر کرنا چاہتے ہو تو کردو۔ کہا ، اللہ کے رسولe کو میر اسلام پہنچا دینا اور میری قوم سے کہہ دینا کہ راہ خدا میں اپنی جانیں نثار کرتے رہیں۔ سیدنا عمارہ بن زیادt زخموں سے چور جانکنی کی حالت میں تھے کہ خود آپe سرہانے پہنچ گئے اور سیدنا عمارہt کے بھاگ جاگ اٹھے۔ فرمایا: عمارہ! کوئی آرزو ہو تو کہو ، عمارہ نے اپنا زخمی جسم گھسیٹ کر آپ کے قدموں کے قریب کر دیا اور درد بھری آواز میں بولے: میری یہ آرزو ہے کہ جان نکلتے وقت آپe کے چہرے پر میری نظریں جمی ہوئی ہوں اور میری نظروں میں آپ کے سوا کچھ نہ ہو۔ عورتوں تک کا یہ حال تھا کہ بیک وقت انہیں ان کے شوہر، بھائی اور باپ کے شہید ہو جانے کی خبر سنائی جاتی تھی اور وہ کہتی تھیں کہ یہ تو ہوا ، مگر بتلاؤ اللہ کے رسولe کا کیا حال ہے؟
مسند امام احمد میں سیدنا عبد اللہ بن مسعودt سے مروی ہے کہ جو شخص اقتداء کرنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اصحاب رسولe کی اقتداء کرے۔ اس لیے کہ ان کے دل ساری امت سے زیادہ نیک اور پاک تھے‘ ان کے علم میں سب سے زیادہ گہرائی تھی ۔ وہ سب سے کم تکلف کرنے والے تھے۔ وہ سب سے زیادہ سیدھی راہ پر تھے۔ ان کے حالا ت سب سے بہتر تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبرu کی صحبت کے لیے چن لیا تھا، پس تم ان کی قدر و منزلت کو پہچانواور ان کے نقش قدم پر چلو‘ اس لیے کہ سیدھی راہ پر گامزن یہی لوگ تھے۔
صحابہ کرام] وہ نفوس قدسیہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سید الاولین والآخرین کی صحبت کے لیے چن لیا تھا۔ جن کے بارے میں اللہ کی یہ مشیت ہوئی کہ وہ خاتم النبیین سے براہ راست فیض حاصل کریں اور رسول اللہe خود ان کا روحانی تزکیہ کریں ، اور خود کتاب وحکمت کی انہیں تعلیم دیں ۔ ان کی شان میں گستاخی سراسر موجب حرماں ہے ۔ ان کے بارے میں دل میں بغض رکھنا سراسر باعث خسراں ہے ، آخر میں اختصار کے ساتھ عرض یہ ہے کہ صحابہ کرام] کا ادب و احترام ملحوظ رکھنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔
1          اس لیے کہ آفتاب نبوت کی شعاعیں براہ راست ان کے سینوں پر پڑی تھیں اور اس سعادت عظمیٰ میں کوئی طبقہ امت ان کا سہیم و شریک نہیں۔
2          صحابہ کرام] نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولe کی خاطر اپنا مال‘ اپنا گھر بار‘ اپنی جانیں، اپنی اولاد سب کچھ نچھاور کر دیا۔
3          رسول اللہe اور امت کے درمیان صحابہ کرام ہی وہ واسطہ اور رابطہ ہیں جن کے ذریعے اطراف عالم میں کتاب و سنت کی تمام تعلیمات کا ابلاغ ہوا‘ اگر ان کی ثقاہت بے داغ نہ ہوتی تو دین کی حفاظت کا کوئی امکان نہ تھا۔


No comments:

Post a Comment